’دہلی نہیں، ڈھاکہ‘: بنگلہ دیش کی نوجوان نسل میں ’انڈیا مخالف جذبات‘ کیوں بڑھ رہے ہیں؟

بی بی سی اردو  |  Feb 09, 2026

Reutersڈھاکہ میں مظاہرین معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جو انڈیا میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں

ڈھاکہ یونیورسٹی کے درودیوار پھر سے گونج رہے ہیں۔ راہداریوں کی دیواروں پر لکھی گئی تحریروں اور نقش و نگار میں غصہ بھی ہے، طنز بھی اور شاعری بھی۔

یہ جولائی 2024 میں جین زی (نوجوان نسل) کی قیادت میں برپا کی گئی اس بغاوت کی بازگشت ہے جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کے 15 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوا تھا۔ شیخ حسینہ واجد کبھی بنگلہ دیش میں جمہوریت کی علامت سمجھی جاتی تھیں، لیکن ناقدین کے مطابق اُن کا رویہ آمرانہ ہوتا گیا اور پھر ایک طویل احتجاج کے بعد وہ انڈیا فرار ہو گئیں۔

طلبہ چھوٹے چھوٹے گروپوں میں جمع ہو کر سیاست پر بحث کرتے ہیں۔ نئے چینی سال کی تقریبات کے لیے ایک بے ترتیب سے گھاس کے قطعے پر سرخ لالٹینیں جھول رہی ہیں۔

یہ ایک چھوٹی مگر معنی خیز علامت ہے، ایسے ملک میں جہاں اثر و رسوخ کے لیے بیجنگ اور دہلی سخت مقابلہ کر رہے ہیں۔ 12 فروری کو جو انتخابات ہونے جا رہے ہیں، ان میں بہت سے لوگ پہلی بار حقیقی طور پر ووٹ ڈالیں گے۔

شیخ حسینہ کے زوال کے چند دن بعد نوبیل امن انعام حاصل کرنے والے محمد یونس نے اقتدار سنبھالا۔ اقوام متحدہ کے مطابق سنہ 2024 کی ظالمانہ سکیورٹی کارروائیوں میں تقریباً 1400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ زیادہ تر ہلاکتیں سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں ہوئیں۔

ان ہلاکتوں پر شیخ حسینہ کو اُن کی غیرحاضری میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ لیکن شیخ حسینہ اب دہلی میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہی ہیں اور انڈیا نے انھیں واپس بھجوانے سے انکار کر دیا ہے۔

ان کی عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے جو ملک کی سب سے پرانی سیاسی جماعت ہے اور تقریباً 30 فیصد عوامی ووٹ حاصل کرتی تھی۔ نظریاتی طور پر عوامی لیگ ایک آزاد خیال معتدل جماعت تھی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب حزب مخالف کی مرکزی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) عوامی لیگ کا چھوڑا گیا نظریاتی خلا پُر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسلام پسند جماعتوں میں جماعت اسلامی نمایاں ہے، جس نے طلبہ کی بغاوت سے جنم لینے والی ایک نئی جماعت کے ساتھ اتحاد کر لیا ہے۔

لیکن جامعہ کی حدود میں اور حدود سے باہر لگنے والے نعرے صرف بنگلہ دیش میں جمہوریت کے بارے میں نہیں ہیں۔ ان نعروں میں سرحد پار کی طرف اشارے بڑھتے جا رہے ہیں۔

’دہلی نہیں، ڈھاکہ‘ کے نعرے دیواروں پر بکھرے ہیں اور ساڑھیوں پر بھی کاڑھے گئے ہیں۔ انڈیا کا ایک طویل عرصے تک بنگلہ دیش پر اثر و رسوخ رہا ہے۔ اس غلبے کے اظہار کے لیے نوجوان روز مرہ کی گفتگو میں ’چودھراہٹ‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔

Anahita Sachdev/BBCفاطمہ تسنیم جمعہ کہتی ہیں کہ ’اختلاف انڈیا کی ریاست سے ہے، عوام سے نہیں‘

سماجیات کے 24 سالہ طالب علم مشرف حسین کہتے ہیں کہ ’نوجوان نسل سمجھتی ہے انڈیا کئی برس تک ہمارے ملک میں مداخلت کرتا رہا۔ خاص طور پر سنہ 2014 کے انتخابات کے بعد، جو کہ بنیادی طور پر ایک جماعت کا انتخاب تھا۔‘

بنگلہ دیش میں انڈیا مخالف جذبات تیزی سے بڑھے ہیں اور ان جذبات کی بنیادی وجہ یہی شکایت ہے کہ دہلی نے بنگلہ دیش میں جمہوریت کو کمزور کیا۔ انڈیا بنگلہ دیش تعلقات کو پڑوسی ملکوں کی سفارت کاری کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، لیکن یہی تعلقات اب کئی دہائیوں کی نچلی ترین سطح پر ہیں۔

اویناش پالیوال لندن کی ایس او اے ایس یونیورسٹی میں سیاسیات اور بین الاقوامی علوم پڑھاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’بنگلہ دیش میں شدید انڈیا مخالف جذبات ہیں اور خود انڈیا کی اندرونی سیاسی گفتگو میں اپنے پڑوسی ملک کے خلاف جارحیت بڑھتی جا رہی ہے۔ اس وجہ سے دہلی کو ڈھاکہ میں مشکلات کا سامنا ہے۔‘

بہت سے لوگ دہلی کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں کہ آخری برسوں میں جب حسینہ کی آمریت بڑھتی جا رہی تھی تو انھیں سہارا دیا گیا۔ وہ انڈیا کو ایک جابر پڑوسی سمجھتے ہیں۔ انھیں یاد ہے کہ دہلی نے سنہ 2014، 2018 اور 2024 کے متنازع عام انتخابات کی ’تائید‘ کی تھی۔

مشرف حسین کا کہنا ہے کہ ’انڈیا پر حسینہ کی حکومت کو سہارا دینے کے لیے کوئی دباؤ نہ تھا، پھر بھی اس نے کوئی سوال پوچھے بغیر ایسا کیا۔ لوگ سمجھتے ہیں بنگلہ دیش میں جمہوریت تباہ کرنے میں انڈیا ملوث ہے۔‘

بنگلہ دیش کے عوام انڈیا کے رویے کو غداری سمجھتے ہیں اور اس سوچ سے ان کے پرانے زخم بھی تازہ ہو جاتے ہیں۔ سرحدی ہلاکتیں، پانی کی تقسیم کے تنازعات، تجارتی پابندیاں اور انڈین سیاستدانوں اور ٹی وی چینلز کی اشتعال انگیز تقریریں، یہ سب مل کر بنگلہ دیشی عوام کے خیال کو اس یقین میں بدلتے ہیں کہ انڈیا ان کے ملک کو ایک خود مختار اور برابر کے ملک کی حیثیت نہیں دیتا۔

مقامی میڈیا میں یہ رپورٹس عام ہیں کہ بنگلہ دیش کو بجلی فراہم کرنے والی ایک انڈین کمپنی ملک کو دھوکا دے رہی ہے۔ وہ کمپنی اس الزام کو رد کرتی ہے۔ سیاسی تحریک کے لیے اہم پلیٹ فارم فیس بک پر مہمات چل رہی ہیں کہ ایک بڑے اخبار پر پابندی لگائی جائے کیوں کہ وہ ’انڈین ایجنٹ‘ ہے۔ دونوں ممالک نے زیادہ تر ویزا خدمات معطل کر دی ہیں۔

انڈیا نے ایک بنگلہ دیشی کرکٹر کو انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) سے باہر رکھا اور بنگلہ دیش کے ٹی20 ورلڈ کپ میچز انڈیا سے سری لنکا منتقل کرنے سے انکار کیا۔ ان باتوں سے بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

بنگلہ دیش کی طاقتور وزیراعظم سے سزا یافتہ مجرم تک: شیخ حسینہ کے سیاسی سفر کی کہانی’گھر کے اطراف آباؤاجداد کی قبریں ہیں، مودی آ کر دیکھ لیں‘: کیا انڈیا کے سرحدی علاقوں میں مسلم آبادی غیرمعمولی طور پر بڑھی ہے؟بنگلہ دیش پاکستان کی جانب سے ماضی میں مانگی گئی ’معافی‘ کو ناکافی کیوں سمجھتا ہے؟شیخ مجیب الرحمان اپنے قتل کے 50 برس بعد بنگلہ دیش کی تاریخ میں کیسے متنازع ہوئےREUTERSانڈیا کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ڈھاکہ کا دورہ کیا اور بی این پی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان سے ملاقات کی

اویناش پالیوال کا کہنا ہے: ’یقیناً انڈیا کے تمام متعلقہ فریقوں سے رابطے ہیں لیکن موجودہ سیاسی ماحول میں ایسے روابط کو مثبت سیاسی نتائج میں بدلنا ایک مشکل کام ہے۔‘

دہلی واقعی اپنی رسائی کو وسعت دے رہا ہے۔

سابق وزیراعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی رہنما خالدہ ضیاء کے جنازے میں شرکت کے لیے گذشتہ ماہ انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر ڈھاکہ گئے۔ اس موقع پر وہ پارٹی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان سے بھی ملے جو ضیا خاندان کے 60 سالہ وارث ہیں اور لندن میں 17 سالہ جلا وطنی ختم کر کے حال ہی میں واپس لوٹے ہیں۔ طارق رحمان بنگلہ دیش کے تاریخی انتخابات میں نمایاں امیدوار ہیں۔

انڈیا نے اسلامی قوتوں کے ساتھ بھی روابط قائم کیے ہیں۔ جماعتِ اسلامی کے ایک سینئر رہنما نے مجھے بتایا کہ انڈین حکام نے گذشتہ سال کے دوران چار مرتبہ پارٹی کی قیادت سے رابطہ کیا ہے۔ انڈین ہائی کمیشن نے حال ہی میں ڈھاکہ کے ایک ہوٹل میں یوم جمہوریہ کی تقریب منعقد کی تو اس میں بھی جماعت اسلامی کو دعوت دی گئی۔

اس کے باوجود یہ حکمت عملی تعلقات کا بگاڑ روکنے میں زیادہ مدد نہیں دے رہی۔ روزنامہ سٹار اخبار کے کنسلٹنگ ایڈیٹر کمال احمد کہتے ہیں کہ جو سرد مہری اب ہے ویسی پہلے کبھی نہ تھی۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’اس میں کوئی شک نہیں کہ دو طرفہ تعلقات سب سے نچلی سطح پر ہیں۔‘

شیخ حسینہ کے دور کے مقابلے میں یہ منظر بالکل مختلف ہے۔

کمال احمد کے مطابق 17 برس تک بنگلہ دیش نے سکیورٹی، تجارت، تجارتی سامان کی نقل و حمل کے لیے راستوں کی فراہمی، ثقافتی تبادلوں اور عوامی رابطوں تک، ’ہر شعبے میں انڈیا کے ساتھ تعاون کیا۔‘ احمد کہتے ہیں کہ آج ’کچھ بھی آگے نہیں بڑھ رہا، نہ لوگ، نہ ہی خیر سگالی۔‘

Anahita Sachdev/BBC’دہلی نہیں ڈھاکہ‘ کے نعرے دیواروں پر لکھے گئے ہیں اور ساڑھیوں پر بھی کاڑھے گئے ہیں

شک کو جس چیز نے غصے میں بدلا، وہ گذشتہ سال اگست میں شیخ حسینہ کو ہٹائے جانے کے بعد دہلی کا ردعمل تھا۔ بہت سے بنگلہ دیشیوں نے کہا کہ انھیں توقع تھی انڈیا اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے گا، ایسی پالیسی جو صرف ایک ہی جماعت کی حمایت پر کھڑی تھی۔

لیکن اس کے برعکس حسینہ کو پناہ اور ویزا اور تجارتی پابندیوں سے یوں لگا جیسے انڈیا نے اپنا موقف مزید سخت کر لیا ہے۔ احمد کہتے ہیں ڈھاکا میں یہ پیغام گیا کہ بنگلہ دیشیوں کو ’پڑوسی کی حیثیت سے اہمیت نہیں دی جا رہی۔‘

بیانات نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔

احمد کا کہنا ہے کہ ’جب انڈین سیاستدان بنگلہ دیشی تارکین وطن کو ’دیمک‘ کہیں گے یا بنگلہ دیش کو ویسا سبق سکھانے کی بات کریں گے جیسا ’اسرائیل نے غزہ میں کیا‘ تو 'آپ کی توقع میں بنگلہ دیشی عوام کا رد عمل کیسا ہونا چاہیے؟‘

اس کے بعد ثقافتی ردعمل سامنے آیا۔ بڑھتی ناراضی کے سبب انڈین مصنوعات کا استعمال بند کرنے کی اپیلیں کی گئیں، آئی پی ایل کی نشریات معطل کی گئیں۔ احمد کہتے ہیں: ’ثقافت، تجارت، احترام ۔۔۔ یہ سب یک طرفہ نہیں چلتا لیکن بد قسمتی سے موجودہ انڈین قیادت ایسا ہی کر رہی ہے۔‘

پھر بھی ڈھاکہ کے حکام خبردار کرتے ہیں کہ تعلقات کو صرف بحران کے زاویے سے دیکھنا درست نہیں۔

محمد یونس بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر ہیں۔ ان کے پریس سیکریٹری شفیق العالم انڈیا کے ساتھ تعلقات کو ’کثیرالجہتی‘ قرار دیتے ہیں جو جغرافیہ اور سیاست دونوں سے جڑے ہیں۔ انڈیا کے ساتھ تجارت اور چار ہزار 96 کلومیٹر طویل سرحد کے آر پار روزانہ کی آمد و رفت کا حوالہ دیتے ہوئے شفیق العالم نے کہا: ’ہمارے 54 دریا سانجھے ہیں، ہماری زبان سانجھی ہے، ہماری تاریخ سانجھی ہے۔‘

اس کے باوجود، عالم تسلیم کرتے ہیں کہ عوامی جذبات میں شدت نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ بنگلہ دیشیوں سے پوچھیں کہ وہ 15 برس سے آزادانہ ووٹ کیوں نہیں ڈال سکے تو اکثر کا ایک ہی جواب ہوتا ہے: شیخ حسینہ کے آمرانہ طرز حکمرانی اور انڈیا کی جانب سے اس کی ’حمایت‘ کی وجہ سے۔‘

شفیق العالم کے مطابق بنگلہ دیش کے عوام ’یہ بھی کہتے ہیں کہ حسینہ کو ہمیشہ انڈیا نے سہارا دیا۔‘

سنہ 2024 کے تشدد کے بعد حسینہ کا انڈیا فرار ہونا آج بھی خاص طور پر تکلیف کا باعث ہے۔

Reutersانڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان 4096 کلومیٹر (2545 میل) طویل سرحد ہے

عالم کہتے ہیں ’سینکڑوں نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد وہ انڈیا بھاگ گئیں۔‘ تاثر پایا جاتا ہے کہ انڈیا میں انھیں ایک معزول رہنما کے بجائے ’سربراہ حکومت‘ جیسا برتاؤ ملا۔ اس سے عوامی غم و غصہ مزید بڑھا۔

انڈین میڈیا دعویٰ کرتا ہے کہ بنگلہ دیش میں اقلیتی ہندو برادری کو منظم انداز میں ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ شفیق العالم ان دعووں کو انڈین میڈیا کی ’گمراہ کن مہم‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسے واقعات انفرادی سطح پر تو ضرور ہوئے ہیں لیکن انھیں مذہبی تشدد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ شفیق العالم نے انڈین صحافیوں سے کہا: ’آئیں، دیکھیں، لوگوں سے ملیں اور جانیں کہ اصل میں ہوا کیا۔‘

اس دوران انڈیا کا کہنا ہے کہ آزاد ذرائع نے عبوری حکومت کے دور میں اقلیتوں کے خلاف تشدد کے 2900 سے زیادہ واقعات کو دستاویزی شکل میں فراہم کیا ہے۔ ان میں قتل، آگ لگانے اور زمینوں پر قبضے کرنے کے واقعات شامل ہیں۔

انڈیا کے مطابق یہ سب واقعات محض ’میڈیا کی مبالغہ آرائی یا سیاسی تشدد‘ قرار دے کر رد نہیں کیے جا سکتے۔

علی ریاض ایک ماہر تعلیم ہیں جو یونس کے خصوصی معاون کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ دراڑ غلط فہمیوں سے کہیں زیادہ گہری ہے۔

ANAHITA SACHDEV/BBC’ہم دہلی کی بالادستی قبول نہیں کریں گے‘ ڈھاکہ میں دیوار پر لکھا گیا نعرہ

علی ریاض کے مطابق دونوں ملکوں کے تعلقات ’کم ترین سطح پر‘ پہنچ چکے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ رشتہ ’بنگلہ دیش اور انڈیا کے درمیان تعلق کے بجائے ایک جماعت یا ایک فرد اور انڈین اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلق‘ بن کر رہ گیا۔

دیرینہ تنازعات نے نقصان کو مزید بڑھا دیا۔ علی ریاض کے مطابق پانی کی تقسیم بھی ایک درجہ بندی پیدا کرتی ہے ’اگر آپ پانی کو کنٹرول کرتے ہیں تو تعلق کی برابری اسی وقت ختم ہو جاتی ہے۔‘

سرحدوں پر ہونے والی ہلاکتیں اس سے بھی گہرا زخم چھوڑتی ہیں۔ ’یہ اس بات کا اظہار سمجھا جاتا ہے کہ انڈین اسٹیبلشمنٹ کی نظروں میں بنگلہ دیشیوں کی جان کی کیا وقعت ہے۔‘

انڈیا اس بات کی تردید کرتا ہے کہ سرحدوں پر ہلاکتوں کے مخصوص واقعات میں اس کے اہلکار ملوث ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ مسائل وقتی جھنجھلاہٹ نہیں بلکہ عدم توازن کی علامت ہیں۔

نقادوں کے مطابق یہ عدم توازن شیخ حسینہ کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد مزید بڑھا۔ یونس کے مشیر برائے خارجہ امور محمد توحید حسین کہتے ہیں کہ انڈیا نے عبوری حکومت کے ساتھ تعلقات از سر نو ترتیب دینے کا موقع گنوا دیا۔

ان کے مطابق: ’ہم نے کئی مواقع پر آگے بڑھنے کی کوشش کی لیکن انڈیا ٹال مٹول سے کام لیتا رہا۔‘

انڈیا بنگلہ دیش میں ’امن و امان کی بگڑتی صورتحال‘ پر تشویش کا اظہار کرتا ہے اور ’آزادانہ، منصفانہ، اور قابل اعتبار انتخابات‘ کے پرامن انعقاد کا مطالبہ کرتا ہے۔

سیاسی کشیدگی اب معاشی تعلقات میں بھی سرایت کر رہی ہے۔ سینٹر فار پالیسی ڈائیلاگ (سی پی ڈی) سے وابستہ فہمیدہ خاتون کہتی ہیں کہ محصولاتی اور غیر محصولاتی رکاوٹیں کم کر دی جائیں اور سفارتی تعلقات بہتر ہو جائیں تو دونوں ملکوں کی تجارت 13.5 ارب ڈالرز سے بھی بڑھ سکتی ہے۔ ’سیاسی کشیدگی کی وجہ سے معاشی تناؤ بھی پیدا ہو گیا ہے۔‘

تاہم ریاستی سطح پر جو سختی پائی جاتی ہے عوام میں اس کا درجہ مختلف ہے۔

انقلاب منچ ایک ثقافتی پلیٹ فام ہے جو قوم پرستی اور انڈیا مخالفت کے لیے جانا جاتا ہے۔ اس سے وابستہ فاطمہ تسنیم جمعہ کہتی ہیں: ’جب بھی میں انڈیا کا نام سنتی ہوں مجھے لگتا ہے کہ وہ میرا دشمن ہے لیکن جب لوگوں کی بات آئے تو ایسا نہیں ہوتا۔‘

فاطمہ بتاتی ہیں کہ وہ ہندو اکثریتی علاقے میں پلی بڑھی ہیں۔ ان کے رشتہ دار آسانی سے سرحد پار آتے جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ہمارا اختلاف انڈیا کی حکومت یا اس کی پالیسیوں سے ہے۔ انڈیا کے لوگوں سے نہیں۔‘

Hindustan Times via Getty Imagesدہلی میں ہندو تنظیمیں بنگلہ دیش میں ہندو اقلیتوں کے لیے تحفظ کے مطالبے کے ساتھ احتجاج کر رہی ہیں

انڈیا مخالف جذبات انتخابی مہم کے دوران نمایاں طور پر دبے ہوئے نظر آئے۔ اس لیے نہیں کہ انڈیا مخالف جذبات ختم ہو گئے ہیں، بلکہ اس لیے کہ ہر سیاسی امیدوار جانتا ہے انڈیا کے ساتھ تعلقات از سر نو ترتیب دینا ضروری ہے۔

اس کے باوجود انڈیا بنگلہ دیش تعلقات کی بحالی نہ تو جلد ممکن ہے اور نہ ہی محض ظاہری اقدامات سے ہو گی۔

شفیق العالم کہتے ہیں کہ ’صرف اس لیے کہ بنگلہ دیش میں انتخابات ہو رہے ہیں یا نئی حکومت آ رہی ہے تو انڈیا کے ساتھ تعلقات بحال کر لیے جائیں، یہ آسان نہیں ہو گا۔ پس منظر میں جو مسائل ہیں وہ اپنی جگہ موجود رہیں گے۔‘

علی ریاض کے خیال میں جو دراڑ پیدا ہو چکی اسے بھرنا ممکن نہیں، ’کسی ریاستی تعلق میں ایسا نہیں ہوتا۔‘

لیکن ان کے خیال میں تعلقات بحال کرنے کی اصل ذمہ داری دہلی پر ہے، اس لیے ضروری ہو گا کہ ڈھاکہ کو پسندیدہ ثالثوں کے ذریعے چلانے کی پرانی عادت سے آگے بڑھا جائے۔

کمال احمد کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش تعلقات معمول پر لانے کے لیے تیار ہے مگر انڈیا کو ایسی پالیسی اپنانا ہو گی جو ہر اس فریق کے ساتھ کام کرے جسے بھی ڈھاکہ میں اقتدار ملے۔

سیاسی شخصیات کے خیال میں اس پالیسی کی بنیاد اخلاقی بھی ہونی چاہیے اور سٹریٹیجک بھی۔

بی این پی رہنما رحمان کے اہم مشیر مہدی امین لگی لپٹی رکھے بغیر کہتے ہیں: ’جتنا بڑا ملک، اتنی ہی زیادہ ذمہ داری۔‘

وہ دلیل دیتے ہیں کہ عوام سے عوام کے تعلقات اسی وقت مضبوط ہو سکتے ہیں جب انڈیا کی پالیسی حکومتوں کی ترجیحات نہیں بلکہ عوامی امنگوں کے مطابق ہو۔

جماعت اسلامی کے نائب سیکریٹری جنرل احسن الحق محبوب زبیر محتاط انداز میں اس بات کی تائید کرتے ہیں: ’اگر دونوں ملکوں کے ذمہ دار لوگ اخلاص کے ساتھ کام کریں، موجودہ حقائق کو قبول کریں، اور ایک دوسرے کے ساتھ باہمی احترام اور وقار کا برتاؤ کریں، تو تعمیری تعلق ممکن ہے۔‘

اصلاح کی گنجائش اب بھی موجود ہے اور نئی حکومت فرق ڈال سکتی ہے۔

اویناش پالیوال نوٹ کرتے ہیں کہ ’موجودہ صورتحال سفارتی سرد مہری سے زیادہ ہے اور ڈھانچے کی مکمل ٹوٹ پھوٹ سے کم۔‘

’جغرافیہ، تاریخ اور مشترکہ ثقافتی ورثے کا مطلب ہے انڈیا اور بنگلہ دیش ایک دوسرے کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔‘

بنگلہ دیش میں نوجوانوں کے انقلاب کے بعد پہلے عام انتخابات: جین زی کا خواب اب بھی ادھورا کیوں؟انڈیا نے اپنے سفارتکاروں کے اہلخانہ کو بنگلہ دیش سے واپس بُلا لیا: ’اگر وہ ہمیں پاکستان کے زمرے میں رکھنا چاہتے ہیں تو یہ اُن کا فیصلہ ہے‘ضیا الرحمان: جب فوجی افسروں کے ہاتھوں قتل ہونے والے بنگلہ دیش کے سابق صدر کی لاش قبر سے نکالی گئی بنگلہ دیش اور انڈیا کے تعلقات میں ’تاریخی بحران‘ شدید تر کیوں ہو رہا ہے؟’سیون سسٹرز‘ الگ کرنے کی دھمکی: بنگلہ دیش میں انڈین ہائی کمشنر کی ملک بدری کا مطالبہ’جب تک وہ زندہ ہیں ہماری لیڈر ہیں‘: سزائے موت کے فیصلے کے بعد شیخ حسینہ کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More