صدر پاکستان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم حسین نے آصف علی زرداری کی صحت سے متعلق افواہوں پر ردعمل کا اظہار کردیا۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عاصم حسین نے بتایا کہ کورونا کا کم اثرات والا ویرینٹ اب بھی پھیل رہا ہے، سیاسی مخالفین جو بھی بات کریں، کسی بھی بات کو ٹوئسٹ کرتے رہیں، افواہیں نہیں پھیلانی چاہئیں، بھارتی میڈیا ہمارے سوشل میڈیا سے باتیں اٹھا کر مین اسٹریم میڈیا پر پروپیگنڈا کرتا ہے، اس لیے ہمیں احتیاط کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ صدر مملکت سے متعلق آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے بنائی گئی ویڈیوز پھیلا کر صحت کی افواہیں پھیلائی گئیں، کورونا اب بھی پاکستان میں موجود ہے، اینٹی وائرس دوائیاں اب آگئی ہیں، سوشل میڈیا پر جو خبریں چل رہی ہیں وہ مناسب نہیں، صدر مملکت کو بلڈ پریشر اور شوگر ہے۔
ذاتی معالج نے کہا کہ صدر مملکت کی صحت بالکل ٹھیک ہے، آصف زرداری کی ملاقاتوں پر پابندی ہے، صرف ڈاکٹرز کو ہی ان تک رسائی حاصل ہے، ماہر ڈاکٹرز کا پینل آصف زرداری کی صحت کو مانیٹر کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری کے اہل خانہ کو روزانہ کی بنیاد پر صحت سے متعلق آگاہی دے رہے ہیں۔
قبل ازیں صدر مملکت آصف علی زرداری کے کورونا میں مبتلا ہونے اور انہیں آئیسولیشن میں رکھنے کی تصدیق کی گئی تھی۔
صدر کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم حسین نے بتایا تھا کہ مختلف ٹیسٹوں کے بعد اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ صدر مملکت کورونا میں مبتلا ہیں، اور انہیں اس وقت آئیسولیشن میں رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا تھا کہ ماہرین کی ٹیم ان کی دیکھ بھال کر رہی ہے اور صدر مملکت کی حالت پہلے سے بہتر ہے۔
آصف زرداری کی طبیعت ناساز ہونے پر انہیں نواب شاہ سے کراچی منتقل کیا گیا تھا، انہیں کلفٹن میں واقع نجی ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا، جہاں ان کا طبی معائنہ کرنے کے بعد انہیں داخل کرلیا گیا تھا۔