بجلی کی قیمت میں کمی کے بعد نئے نرخ کیا ہوں گے؟ جانیے تفصیلات

سچ ٹی وی  |  Apr 04, 2025

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں کمی کے اعلان کے بعد نیا ٹیرف کیا ہوگا؟ بجلی کے نئے نرخ کیا ہوں گے؟ تفصیلات سامنے آگئیں۔

رپورٹ کے مطابق لائف لائن صارفین کے لیے بجلی کا ٹیرف 4 روپے 78 پیسے مقرر کردیا گیا، سویونٹ تک استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لیے بجلی نرخ 9 روپے 37 پیسے فی یونٹ مقرر کیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ 100 یونٹ استعمال کرنے والے پروٹیکٹیڈ صارفین کے لیے 8 روپے 52 پیسے مقرر کیے گئے، دوسو یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹیڈ صارفین کے لیے 11 روپے 51 پیسے فی یونٹ مقرر کیے گئے۔

تین سو یونٹ استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹیڈ صارفین کے لیے بجلی کا ٹیرف 34 روپے 3پیسے فی یونٹ،

تین سو یونٹ استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹیڈ ٹی او یوصارفین کے لیے بجلی کے نرخ 48 روپے 46 پیسے فی یونٹ مقرر ہوئے ہیں۔

گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی اوسط قیمت 31 روپے 63 پیسے فی یونٹ، کمرشل صارفین کے لیے بجلی کے نرخ 62 روپے 47 پیسے اورجنرل سروسز کے لیے بجلی کے نرخ 49 روپے 48پیسے فی یونٹ مقرر ہوگئے۔

اسی طرح صنعتوں کے لیے بجلی کے یونٹ 40 روپے 51 پیسے فی یونٹ، زرعی صارفین کے لیے بجلی کا ٹیرف 34 روپے 58 پیسے فی یونٹ مقرر کیا گیا ہے۔

آزاد کشمیر اور پبلک لائٹنگ کے لیے بجلی کا ٹیرف 32 روپے 69 پیسے فی یونٹ مقرر کیا گیا، بجلی کا اوسط قومی ٹیرف 37 روپے64 پیسے فی یونٹ مقرر ہوگئے۔

مختلف صنعتی صارفین کی کیٹگریز کیا ہوں گی؟ تفصیلات سامنے آگیئں

بی ون صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی نرخ 40 روپے 3پیسے فی یونٹ مقرر کردیے گئے، بی ون صنعتی صارفین آن پیک کیٹگریز کے لیے بجلی کے نرخ44 روپے 59 پیسے فی یونٹ، بی ون آف پیک صارفین کے لیے بجلی کے نرخ 37 روپے 47 پیسے فی یونٹ مقرر کیے گئے۔

اس کے علاوہ بی ٹو صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخ42 روپے 37 پیسے فی یونٹ، بی ٹو آن پیک صارفین کے لیے 44 روپے 51 پیسے فی یونٹ اور بی ٹو آف پیک صارفین کے لیے بجلی کے نرخ 41 روپے 5 پیسے فی یونٹ مقرر ہوگئے۔

اعلان کے بعد بی تھری صارفین کے لیے بجلی کے نرخ44 روپے 51پیسے فی یونٹ، بی فور صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخ 44 روپے51 پیسے فی یونٹ اور صنعتوں کے لیے عارضی بجلی سپلائی کے لیے نئے نرخ 51روپے 92 پیسے فی یونٹ مقرر کیے گئے ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More