پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ کی چیف ٹریفک آفیسر عائشہ بٹ ان دنوں خبروں میں ہیں کیونکہ انہیں انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف ویمن پولیس نامی ایک عالمی تنظیم نے سال 2025 کے ایکسیلینس ایوارڈ کے لیے منتخب کیا ہے۔ یہ تنظیم دنیا بھر میں پولیس کے محکمے میں کام کرنے والی خواتین کے لیے ہر برس اس ایوارڈ کا اہتمام کرتی ہے۔ویسے تو اس ایوارڈ کی کئی کیٹیگریز ہیں جن میں سے ایک ٹریفک کے معاملات میں کوئی غیرمعمولی کارنامہ سر انجام دینے پر بھی ملتا ہے، اور یہی ایوارڈ پاکستان کی پولیس آفیسر عائشہ بٹ کے حصے میں اس برس آیا ہے۔اپنی زندگی اور کیریئر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سٹی ٹریفک آفیسر گوجرانولہ عائشہ بٹ نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’میں ایک ایسی خاتون پولیس افسر ہوں جس نے نا صرف اپنی مرضی سے اس کیریئر کا انتخاب کیا بلکہ مجھے جو بھی ڈیوٹی دی گئی اس کو پوری ذمہ داری کے ساتھ نبھایا۔ اور تاثر قائم کیا کہ ایک پولیس افسر اگر اپنی توانائی کا استعمال کرے تو معاشرے پر اپنا اثر ڈال سکتا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میں نے یہ کیا اور اس کی پذیرائی عالمی سطح پر ہوئی ہے۔‘
ایس پی عائشہ بٹ گوجرانوالہ میں پیدا ہوئیں اور اپنی ساری تعلیم بھی اسی شہر سے حاصل کی۔ انہوں نے گریجویشن سوشل ورک جبکہ ماسٹرز انگلش لٹریچر میں کیا۔
اپنی کہانی بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’گریجویشن کے بعد ہی میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ میں نے مقابلے کا امتحان دینا ہے، اور پھر میں اس پر ڈٹ گئی۔ ماسٹرز کرنے کے بعد میں نے امتحان دیا اور کامیاب رہی۔‘انہوں نے سنہ 2014 میں پولیس سروس کو جوائن کیا اور ابتدائی ٹریننگز کے بعد ان کی پہلی تعیناتی لاہور کے علاقے گارڈن ٹاون میں بطور اے ایس پی ہوئی۔ بعد ازاں ڈالفن فورس کی پہلی خاتون سربراہ بھی رہیں۔ جبکہ اینٹی رائٹس فورس کی پہلی خاتون کمانڈر کے طور پر بھی انہوں نے خدمات انجام دیں۔ پولیس کے شعبہ آپریشن اور انویسٹیگیشن میں کئی مختلف شہروں میں ذمہ داری ادا کرنے کے بعد گذشتہ ڈیڑھ برس سے گوجرانوالہ میں بطور سٹی ٹریفک پولیس آفیسر کام کر رہی ہیں۔عالمی ایکسیلینس ایوارڈ کیوں ملا؟عالمی ایوارڈ ملنے کے حوالے سے ایس پی عائشہ بٹ نے کہا کہ ’دنیا بھر میں پولیس کے شعبے میں خواتین کے غیرمعمولی کارناموں پر دیے جانے والے اس ایوارڈ کا ایک پراسیس ہے جس میں امیدواروں کو خود اپنی کارکردگی جمع کروانی پڑتی ہے۔ تو میں نے بھی اپنی گذشتہ دو برس کی کارکردگی جمع کروائی۔ جس کی جانچ پڑتال کے بعد مجھے اس ایوارڈ سے نوازا جا رہا ہے۔‘’میں جب گوجرانوالہ میں آئی تھی تو یہاں صرف ایک ڈرائیونگ لائسنس سینٹر تھا، اور 70 لاکھ کے شہر میں کل 28 ہزار ٹریفک لائسنس تھے۔ اب ڈیڑھ برس بعد سینٹرز کی تعداد آٹھ ہے اور 10 لاکھ سے زائد لائسنس بن چکے ہیں۔ ہم نے ڈرائیونگ سکھانے کے لیے سینٹرز بنائے جو پہلے تھے ہی نہیں۔ اسی طرح مقامی سطح پر سائیمولیٹرز تیار کروائے۔ اسی طرح خواتین کے لیے موٹر سائیکل چلانے کی تربیت کا سینٹر الگ سے بنایا گیا ہے۔‘عائشہ بٹ نے سنہ 2014 میں پولیس سروس کو جوائن کیا اور ابتدائی ٹریننگز کے بعد ان کی پہلی تعیناتی لاہور میں بطور اے ایس پی ہوئی۔ (فائل فوٹو: عائشہ بٹ فیس بک)گوجرانوالہ میں کی گئی ٹریفک اصلاحات کے حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ ’اس سے زیادہ کام ہم نے لوگوں کے مائنڈ سیٹ پر کیا ہے۔ عوامی پارکوں کو ٹریفک تھیم پارکس میں تبدیل کیا۔ شہر میں جگہ جگہ ہیلمٹ والے مجسمے لگائے حتیٰ کہ سکولوں میں بچوں کو ٹریفک قوانین سے متعلق سٹریشنری دی اور سب سے بڑی بات کہ ٹریفک قوانین کا سلیبس بنایا اور اسے سکولوں میں تقسیم کیا۔ ہمارے کافی سارے کام اب دوسرے اضلاع میں بھی شروع ہو چکے ہیں۔‘گوجرانوالہ پولیس نے مقامی سطح پر تیار کی گئی ایک نوپارکنگ ڈیوائس بھی شہر کے مختلف حصوں میں لگائی ہے۔ اس سے متعلق بتاتے ہوئے سی ٹی او عائشہ بٹ کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک میٹل ڈیٹیکٹر کی طرح کام کرتی ہے۔ جن جگہوں کو ہم نے پارکنگ کے لیے منع کر رکھا ہے وہاں کوئی بھی گاڑی دو منٹ سے زیادہ کھڑی ہوتی ہے تو الارم بج جاتا ہے اور ہمارے کنٹرول روم میں بھی جگہ کی نشاندہی ہوتی ہے کہ کہاں غلط پارکنگ ہوئی ہے۔ اور یہ سب ہم نے اپنے بجٹ اور وسائل کے اندر رہ کر کیا ہے۔‘ایس پی عائشہ بٹ کے گوجرانوالہ میں کیے گئے ٹریفک اور روڈ سیفٹی کے شعبے یں غیرمعمولی کام کے اعتراف میں انہیں رواں برس ستمبر میں سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں منعقد ہونے والی 62 ویں سالانہ کانفرنس میں ایکسیلینس ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔عائشہ بٹ کے مطابق انہوں نے اپنی مرضی سے اس کیریئر کا انتخاب کیا۔ (فائل فوٹو: عائشہ بٹ فیس بک)پولیس میں بھرتی کے بعد انہوں نے اپنا آبائی شہر گوجرانوالہ مستقل رہائشی کے طور پر چھوڑ دیا ہے اور اب وہ لاہور میں مقیم ہیں تاہم ان دنوں وہ اپنے آبائی شہر میں خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔