ٹیرف کے اعلان کے بعد امریکی مارکیٹ 5 سال کی کم ترین سطح پر، عالمی منڈی میں بھی بھونچال

اردو نیوز  |  Apr 04, 2025

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئے ٹیرف کے اعلان کے بعد امریکی مارکیٹ پانچ سال کی کم ترین سطح تک گر گئی ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ملک کی بڑی کمپنیوں کے ٹریلین ڈالر بے وقعت ہو کر رہ گئے ہیں اور ماہرین نے شدید کسادبازاری کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔

جمعرات کو ملک کے تمام شعبہ جات ہی نقصان میں جاتے دیکھے گئے اور کووڈ 19 کے بعد سے پانچ سال میں پہلی بار امریکہ کی تجارتی مارکیٹس ایک روز میں سب سے بڑے ڈراپ کے ساتھ بند ہوئیں۔

امریکہ سمیت دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی دیکھی گئی۔ ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں 4.8 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی جو 2020 کے بعد سب سے بڑی کمی ہے۔ جبکہ ٹیکنالوجی کمپنیوں پر مبنی نیس ڈیک میں چھ فیصد اور ڈاؤ جونز میں چار فیصد کی گراوٹ رہی۔

جمعے کو کاروبار کے آغاز پر جاپان کا نکی 225 انڈیکس 1.8 فیصد گر گیا ہے۔

خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے تمام ممالک پر 10 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کی ہے جبکہ متعدد مخصوص ممالک سے درآمدات پر بہت زیادہ ٹیکس عائد کیے ہیں جن میں اعلی تجارتی شراکت دار چین اور یورپی یونین بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب امریکہ میں بینک، اشیائے خورد و نوش، ملبوسات، فضائی اور ٹیکنالوجی کمپنیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

متعدد ماہرین نے ٹیرف کو متوقع سے بھی زیادہ بدترین قرار دیا ہے اور سرمایہ کار ان کمپنیوں میں سے اپنے شیئرز نکال رہے ہیں جن کے بارے میں خدشات ظاہر کیے گئے ہیں کہ وہ نئے ٹیکسوں سے زیادہ متاثر ہوں گی۔

صارفین کا سفری بجٹ متاثر ہونے سے ایئرلائنز کی مانگ میں کمی آئی ہے (فوٹو: روئٹرز)

بہت سے معاملات ایسے ہیں جن میں یہ ٹیکس براہ راست صارف تک منتقل ہو گا، اگر صارفین قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے اپنے اخراجات میں کمی کرتے ہیں تو کمپنیوں کی پیداوار کم ہو گی، جس سے معاشی ترقی رک سکتی ہے۔

صارفین کی جانب سے خرچ کیے جانے والے پیسے امریکی معشیت کا تقریباً 70 فیصد بنتے ہیں۔

فچ ریٹنگز کے سربراہ اولو سونولا کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک گیم چینجر ہے، صرف امریکی نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے اور بہت سے ممالک ممکنہ طور پر کساد بازاری کا شکار ہوں گے۔‘

ڈاؤ جانز میں ایک سینیئر مبصر کا کہنا ہے کہ ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں 4.8 فیصد کے ڈراپ کے ساتھ 2 کروڑ ڈالر کی قدر بے وقعت ہو کر رہ گئی ہے۔

نئے ٹیرفز سے متاثر ہونے والی ایئر لائنز

اگرچہ ایئرلائنز معاشی لحاظ سے ایک مضبوط سال کی منصوبہ بندی کر رہی تھیں تاہم موجودہ حالات میں ایسا دکھائی نہیں دے رہا کیونکہ کساد بازاری کے پیش نظر لوگ اپنے سفری بجٹ میں کمی لائے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یونائیٹڈ ایئرلائنز کے کاروبار میں 15.6 فیصد کمی آئی ہے جبکہ امریکن ایئرلائنز کو 10.2 فیصد اور ڈیلٹا ایئرلائنز کو 10.7 فیصد کی کمی آئی۔

کپڑے اور جوتوں کے برانڈز پر ٹیرف پالیسی کے اثرات

کپڑے اور جوتے بنانے والی کمپنیوں کا سامان زیادہ تر امریکہ سے باہر تیار ہوتا ہے اور نئے اقدام کا مطلب یہ ہے کہ ان کو ان کو اس سامان پر محصول یا درآمدی ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔

جوتے اور کپڑے بنانے والی کمپنیوں کا کاروبار بھی مندی کا شکار ہوا ہے (فوٹو: روئٹرز)

جوتوں کے مشہور برانڈ نائیکی کا کاروبار 14.4 فیصد تک کم ہوا ہے۔ اسی طرح انڈر آرمر کے کاروبار میں 18.8 فیصد کی کمی آئی ہے جبکہ لولومن، رالف لورن اور لیوی سٹراس کے کاروبار بھی متاثر ہوئے ہیں۔

ایمازون کے کاروبار میں 9 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ ٹارگٹ، بیسٹ بائے، ڈالر ٹری اور کوہل کا کاروبار بھی متاثر ہوا ہے۔

ٹیکنالوجی کمپنیوں پر اثرت

کمپیوٹرز بنانے اور بیچنے والی کمپنیوں کے علاوہ سمارٹ فون اور ٹیکنالوجی سے جڑی دوسری مصنوعات تیار کرنے والے ایسے ادارے ہیں جو دوسرے ممالک سے پرزے اور دیگر سامان منگواتے ہیں جبکہ بعض کمپنیاں تو اپنی پوری پروڈکٹ ہی ملک سے باہر تیار کرتی ہیں اور بعد میں اسے درآمد کرتی ہیں۔ ایسی کمپنیوں کے لیے نئے ٹیرف کا مطلب یہ ہے کہ وہ جب بھی سامان امریکہ لائیں گے تو ان کو ٹیرف ادا کرنا پڑے گا۔

رپورٹ کے مطابق ایپل کے منافع میں 9.2 فیصد کی کمی آئی ہے جبکہ ایچ پی، ڈیل اور نویڈیا بھی متاثر ہوئی ہیں۔

مالیاتی ادارے اور بینکس پر اثرات

کساد بازری کے پیش نظر عام لوگ اپنے اخراجات میں کمی لا رہے ہیں اور سروسز کا استعمال بھی کم کر رہے ہیں جس کی وجہ سے بینکس بھی کافی متاثر ہوئے ہیں اور ویلز فارگو کے کاروبار میں 9.1 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے جبکہ بینک آف امریکہ اور جے پی مورگن بھی کافی متاثر ہوئے ہیں۔

نئے ٹیرف سے اشیائے خوردونوش سمیت بہت سی چیزیں متاثر ہوئی ہیں (فوٹو: گیٹی امیجز)

ریستورانوں پر ٹیرف کے اثرات

اپنے معاشی مستقبل کے حوالے سے پریشان امریکیوں میں پہلے سے ہی ریستورانوں میں کھانے پینے کے رجحان میں کمی دیکھی گئی تھی۔ نئے ٹیکسز کے بعد سے سٹاربکس، کریکر بیرل، چیز کیک فیکٹری سمیت دوسری کمپنیوں کو منافع میں شدید کمی کا سامنا ہے۔

 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More