Getty Imagesدُنیا بھر میں وزن کم کرنے والی ادویات کا استعمال بڑھ رہا ہے
سارہ لی بروک کو وزن میں کمی کے لیے لی جانے والی ادویات کی وجہ سے ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات کا بخوبی علم ہے۔
اُنھوں نے بلوغت کے بعد اپنی زیادہ تر زندگی موٹاپے کے ساتھ گزاری ہے اور وزن میں کمی کے لیے متعدد غذائیں بھی آزمائی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’وزن کم کرنے کا کوئی بھی طریقہ میرے سامنے آیا تو میں نے سوچا کہ میں اسے ضرور آزماؤں گی۔‘
بی بی سی انسائیڈ ہیلتھ سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے تمام طریقے استعمال کرنے کے باوجود میرا وزن دوبارہ بڑھ جاتا تھا۔
لگ بھگ دو سال سے زائد عرصے تک وزن کم کرنے کی ادویات لینے کے بعد وہ 51 کلو وزن کم کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔
اچانک ’مجھے لگا کہ مجھے کچھ بھی کھانے کی ضرورت نہیں ہے، ایسا لگا کہ جیسے اس نے مجھے نئے سرے سے زندگی جینے کی اُمید دے دی ہو۔‘
سارہ جیسے لاکھوں لوگ اب وزن کم کرنے کے لیے semaglutide اور tirzepatide جیسی ادویات حاصل کر رہے ہیں۔ جو اپنے مشہور برانڈ ناموں Ozempic اور Mounjaro سے مشہور ہیں۔
وزن کم کرنے والی دوائیوں کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے کیونکہ مارکیٹ میں ٹیبلیٹس کی صورت میں نئی دوائیں بھی نمودار ہو رہی ہیں۔
یونیورسٹی آف واشنگٹن میں پروفیسر آف میڈیسن ڈیوڈ کمنگز کہتے ہیں کہ یہ واضح ہے کہ یہ ادویات موٹاپے کے علاج میں ایک نئے دور کا آغاز کر رہی ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ماضی میں موٹاپے کو کنٹرول کرنا ایک مشکل کام تھا، تاہم اب یہ ادویات ایک طرح سے ’معجزہ‘ دکھا رہی ہیں۔
تو وزن کم کرنے والی دوائیوں کا استعمال شروع کرنے سے پہلے کن چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
Getty Images یہ ادویات کیسے کام کرتی ہیں؟
وزن کم کرنے والی دوائیں ایسے ہارمونز پر اثرانداز ہوتی ہیں جو کسی بھی فرد کی بھوک مٹانے کا کام کرتی ہیں۔ یہ ہارمونز ہمارے جسم کو یہ بتاتے ہیں کہ یہ کب بھرا ہوا ہے اور کب اسے بھوک لگ رہی ہے۔
ادویات ہمارے خلیات کی سطح پر مخصوص مالیکیولز سے منسلک ہوتی ہیں جنھیں GLP-1 اور GIP ریسیپٹرز کہا جاتا ہے، جو ہمارے جسم کو یہ بتانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں کہ اس نے کب کافی کھانا کھایا ہے۔
ان ادویات کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ یہ انتہائی موثر ہیں اور 72 ہفتوں میں وزن میں 14 سے 20 فیصد کمی ہوتی ہے۔ تاہم 10 سے 15 فیصد افراد ایسے بھی ہیں، جن پر یہ دوا بھی کام نہیں کرتی۔
جینز یا قوتِ ارادی کا کھیل: وزن کم کرنے کے پیچھے سائنس کیا ہے؟مونجارو: بھوک اور وزن کم کرنے والا انجیکشن لیکن کیا یہ ایک مستقل حل ہے؟توند: عزت اور مرتبے کی علامت سمجھے جانے والا بڑھا ہوا پیٹ صحت کے لیے بڑا خطرہ کیسے بنا اور اس سے چھٹکارہ کیسے ممکن ہے؟چربی جلانے کا سست عمل اور وزن کم کرنے کا نہ ختم ہونے والا انتظار جس کا حل صرف ورزش ہی نہیں
گلاسگو یونیورسٹی میں کارڈیو میٹابولک میڈیسن کے پروفیسر نوید ستار کہتے ہیں کہ GLP-1s ’ایک کیمیائی ڈھال‘ ہے جو ہمیں آج کے دور کی سستی اور کیلوریز سے بھرپور خوراک کے اثرات سے بچاتی ہے۔
نوید ستار ایسی دوائیں تیار کرنے والی دوا ساز کمپنیوں کے ساتھ بطور کنسلٹنٹ کام بھی کرتے ہیں۔
کمنگز کہتے ہیں کہ اگر آپ ان دواؤں کا استعمال روکدیتے ہیں تو آپ کا وزن دوبارہ بڑھنا شروع ہو جائے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی ان دواؤں کا استعمال کر رہا ہے تو اسے لمبے عرصے تک ایسا کرنا ہو گا۔
کمنگز خود بھی موٹاپے کا شکار افراد ایسے افراد کی رہنمائی کرتے ہیں جن کا بی ایم آئی (باڈی ماس انڈیکس) 50 سے زیادہ ہوتا ہے۔
وزن کم کرنے والی دوائی لینا شروع کرنے سے پہلے ان کے مریضوں سے ایک عام سوال پوچھا جاتا ہے کہ وہ اس پر کب تک رہیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ عام طور پر، وہ تقریباً ایک سال کے بعد دوا لینا چھوڑ دیتے ہیں۔
نو ہزار افراد پر کی جانے والی ریسرچ سے پتہ چلتا ہے کہ علاج کی اوسط مدت 39 ہفتے تھی۔ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ اپنی قوت ارادی کا استعمال کرتے ہوئے وزن کم کرنا جاری رکھ سکتے ہیں، لیکن شواہد بتاتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔
کمنگز کے مطابق لوگ مختلف وجوہات کی بنا پر رک جاتے ہیں یا تو علاج کے اخراجات، ان کی انشورنس کے معاملات یا وہ افراد جو طویل عرصے تک دوا استعمال نہیں کرنا چاہتے۔
وہ کہتے ہیں کہ جب لوگ دوا کا استعمال چھوڑ دیتے ہیں تو ان کا وزن دوبارہ بڑھ جاتا ہے۔
ایک حالیہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ وزن کم کرنے والی دوائیں روکنے کے بعد وزن میں چار گنا زیادہ تیزی سے اضافہ ہوتا ہے اس کے مقابلے میں کسی ایسے شخص کے مقابلے میں جو وزن کم کرنے کے پروگرام کو ختم کرتا ہے جو اپنے رویے کو تبدیل کرنے پر توجہ دیتا ہے۔
ایک اور تحقیق سے پتا چلا ہے کہ وزن کم کرنے والی دوائیں لینے والوں نے دوائی بند کرنے کے آٹھ ہفتوں بعد 1.5 کلوگرام (3.3 پونڈ) کا اضافہ کیا اور ان کا وزن زیادہ وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتا چلا گیا۔
اسی مطالعے میں یہ بھی سامنے آیا کہ دیگر صحت کے خدشات، جیسے بلڈ پریشر بڑھنے کے خدشات بھی ہوتے ہیں۔نئی تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ جو لوگ وزن کم کرنے والی دوائیں لینا چھوڑ دیتے ہیں وہ ایک سال بعد کم ہونے والے وزن کا 60 فیصد واپس حاصل کر لیتے ہیں۔
ہارمونز بھی ایک کردار ادا کرتے ہیں۔ جب کوئی فرد اپنا وزن کم کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو یہ ایک طاقتور ہارمونل ردعمل کو متحرک کرتا ہے جو آپ کے جسم کو بتاتا ہے کہ آپ اپنا کھویا ہوا وزن دوبارہ حاصل کریں۔
کمنگز بتاتے ہیں کہ اس کی وجہ سے دماغ کیلوریز میں کمی کو توانائی کی کمی سے تعبیر کرتا ہے، لہٰذا وزن کم کرنے والی ادویات کو روکنے کے بعد، بھوک بڑھانے والے ہارمونز بڑھ جاتے ہیں۔
Getty Images طرزِ زندگی میں تبدیلی
نوید ستار کہتے ہیں کہ لوگ کم مقدار میں اس دوا کے ساتھ اپنے طرز زندگی میں کچھ تبدیلیاں کر کے بھی فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ یعنی دوا کو مسلسل لینے کے بجائے وقفے وقفے سے لینا بھی سود مند ہو سکتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ واقعی اپنی خوراک میں تبدیلی کرتے ہیں اور پھر انھیں کوئی دوا لینے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔
لیکن اکثریت کو شاید اب بھی دوائی کی کچھ خوراک کی ضرورت ہو گی کیونکہ آج کل کے دور میں جب جنک فوڈ اور دیگر اس نوعیت کی خوراک اتنی عام ہو چکی ہے کہ بعض لوگوں کے لیے ہاتھ روکنا مشکل ہوتا ہے۔
یہ تشویش بھی بڑھ رہی ہے کہ لوگ طرز زندگی میں تبدیلیاں لانے کے متبادل کے طور پر وزن کم کرنے والی دوائیں لے رہے ہیں، حالانکہ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ طرز زندگی کو وزن کم کرنے والی دوائیوں کے ساتھ مل کر تبدیل کرنے سے وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ وزن کم کرنے کی کوشش میں بعض اوقات افراد جسم کے لیے ضرورت پروٹین یا اس نوعیت کے دیگر اجزا کی کمی کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔
کیمبرج یونیورسٹی میں غذائیت اور لائف سٹائل ایکسپرٹ میری سپریکلے کہتی ہیں کہ ’ہمیں یہ یقینی بنانا ہو گا کہ لوگوں کو کافی پروٹین مل رہے ہیں اور وہ تمام وٹامنز اور معدنیات حاصل کر رہے ہیں جن کی انھیں ضرورت ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ وزن کم کرنے کی کوشش کے بدلے میں آپ طویل مدتی غیر ارادی نتائج نہیں چاہتے، جیسا کے کمزوری، پٹھوں کا درد اور اس طرح کی دیگر بیماریاں جو صحت کے مسائل کو جنم دیں۔
چونکہ یہ دوائیں بھوک میں ڈرامائی کمی کا باعث بنتی ہیں، میری سپریکلے کہتی ہیں کہ مریض مجموعی طور پرکم کھاتے ہیں۔ اگر مریضوں کو طویل مدتی مدد نہیں دی جاتی ہے اور ان کے کھانے کے انتخاب ناقص رہتے ہیں تو یہ ایک ’چھوٹ جانے والا موقعے‘ کا باعث بن سکتا ہے۔
کوئی فوری حل نہیں
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) ان ادویات کے استعمال کے بارے میں اپنی ہدایات میں کہتا ہے کہ صرف ادویات ہی موٹاپے کے چیلنج کو دُور نہیں کریں گی، بلکہ اس کے لیے مناسب سکریننگ اور صحت مند ماحول پیدا کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
نوید ستار کہتے ہیں کہ جب لوگ ادویات لے رہے ہوں تو ان کے لیے اپنی غذا کے بارے میں سوچنے کا زیادہ وقت ہوتا ہے۔
برطانیہ کی لافبورو یونیورسٹی کی پروفیسر امانڈا ڈیلی کہتی ہیں کہ رویے میں تبدیلی انتہائی چیلنجنگ ہے اور اس سلسلے میں مریضوں کے ساتھ رابطے میں رہنے کی ضرورت ہے کہ اگر وہ یہ ادویات چھوڑ دیتے ہیں تو وہ کتنی جلدی دوبارہ اپنا وزن بڑھا لیتے ہیں۔
Getty Images
وہ کہتی ہیں کہ موٹاپا ایک دائمی مسئلہ ہے اور صرف ایک دوا سے اس کا علاج نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے اضافی مدد اور دیگر معاملات درست کرنے کی ضرورت ہے۔
اُن کے بقول ورزش اور اچھی خوراک بھی اس سے نمٹنے کے لیے اہم ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ بہت سے افراد بغیر کسی ڈاکٹر یا کلینک سے رجوع کے بغیر ہی یہ دوا استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے طور پر دوا کا استعمال کرتے ہیں اور فالو اپ معائنہ نہیں کرواتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چھوٹی غذائی تبدیلیاں، جسمانی سرگرمی، نیند اور تناؤ میں کمی جیسے اقدامات سے کافی مدد ملتی ہے۔ جیسے میٹھے مشروبات کے بجائے پانی پینا، دوپہر کے کھانے کے بعد کافی نہ پینا، دباؤ کے وقت لمبے سانس لینا اور پانچ منٹ کے لیے باہر نکلنا۔
Getty Imagesمضر اثرات
ڈیلی کہتی ہیں کہ کسی بھی دوا کے استعمال کے مضر اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔ اُن کے بقول ان دواؤں کے استعمال سے معدے کے مسائل، لبلبے کی سوزش اور پتھری میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پٹھوں کی تکلیف بھی ایک منفی پہلو ہے۔
خاص طور پر ان افراد میں جو ورزش نہیں کر رہے ہیں۔ حال ہی میں ایک تحقیق میں ہڈیوں اور جوڑوں کے درد کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔
ایک اور تحقیق میں ان دواؤں کے استعمال سے دل کی صحت میں بہتری، کم انفیکشن، منشیات کے استعمال کا کم خطرہ اور ڈیمنیشا کے کم واقعات کا بھی بتایا گیا ہے۔
اگرچہ اب ہمارے پاس GLP-1 ادویات کی تاثیر کے بارے میں کئی سالوں کا ڈیٹا موجود ہے، لیکن ہم ابھی تک یہ نہیں جانتے کہ طویل مدتی نقطہ نظر کیا ہو گا۔ اس بارے میں بھی ڈیٹا کی کمی ہے کہ یہ دوائیں حمل کے نتائج یا آنے والی نسلوں کو کیسے متاثر کرتی ہیں، کیونکہ مشورہ یہ ہے کہ حمل کے دوران وزن کم کرنے والی دوائیں نہ لیں۔
لیکن ستار اور کمنگز دونوں کا کہنا ہے کہ موٹاپے کے ساتھ رہنے والوں کے لیے صحت کے منفی نتائج کو دیکھتے ہوئے، اس کے مقابلے میں ضمنی اثرات ہلکے پڑ جاتے ہیں۔
یہ خاص طور پر ان افراد کے لیے ہے جن کے وزن سے متعلق متعدد حالات ہیں۔ دل کی بیماری، کینسر اور فالج دنیا بھر میں موت کی سب سے بڑی وجوہات ہیں اور ان سب کا تعلق موٹاپے سے ہے۔
ہیڈونک ایٹنگ: جب پیٹ بھر جائے مگر دل نہ بھرے تو کیا کریںچربی جلانے کا سست عمل اور وزن کم کرنے کا نہ ختم ہونے والا انتظار جس کا حل صرف ورزش ہی نہیںتوند: عزت اور مرتبے کی علامت سمجھے جانے والا بڑھا ہوا پیٹ صحت کے لیے بڑا خطرہ کیسے بنا اور اس سے چھٹکارہ کیسے ممکن ہے؟ذیابیطس کی نئی قسم جو کم وزن والے افراد کو بھی متاثر کرتی ہے موٹاپے اور وزن کم کرنے سے متعلق چند غلط مفروضے