"اگر احسان فراموشی اور جھوٹ کا کوئی چہرہ ہوتا، تو وہ یہی ہوتا۔ سچ بتا دوں؟"
یہ الفاظ ہیں ڈاکٹر بشریٰ اقبال کے، جو انہوں نے سیدا طوبیٰ انور کے حالیہ وائرل انٹرویو پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہے۔ عامر لیاقت حسین کی سابقہ اہلیہ نے اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے طوبیٰ انور کو جھوٹا اور احسان فراموش قرار دے دیا۔
چند دن پہلے ایک انٹرویو میں طوبیٰ انور نے کہا کہ وہ شوبز انڈسٹری میں غیر متوقع طور پر آئیں اور انہیں اس کا بالکل شوق نہیں تھا۔ ان کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ برپا کر دیا، کیونکہ عامر لیاقت حسین اپنی زندگی میں واضح کر چکے تھے کہ انہوں نے ہی طوبیٰ انور کو میڈیا میں متعارف کروایا تھا۔ عامر لیاقت کے قریبی حلقے بھی اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے کہ ان کی دوسری بیوی میڈیا کی چکاچوند میں انہی کی بدولت قدم رکھنے میں کامیاب ہوئیں۔
ڈاکٹر بشریٰ اقبال نے طوبیٰ انور کے بیان کو سراسر جھوٹ قرار دیتے ہوئے ان پر احسان فراموشی کا الزام عائد کیا، جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین بھی اس معاملے میں کود پڑے۔ بہت سے لوگ اس بات سے متفق نظر آئے کہ طوبیٰ انور آج خود کو عامر لیاقت حسین سے الگ کرنے کی جتنی بھی کوشش کریں، حقیقت یہی ہے کہ ان کا میڈیا کی دنیا میں آنا اتفاقیہ نہیں بلکہ عامر لیاقت کی محنت کا نتیجہ تھا۔
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب صارفین نے بھی طوبیٰ کے انٹرویو کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے ان پر تنقید شروع کر دی۔ کچھ نے کہا کہ وہ ماضی کو دفن کرنا چاہتی ہیں، لیکن سچائی کو بدلنا ممکن نہیں۔ کچھ صارفین نے تو یہاں تک لکھا کہ عامر لیاقت حسین کی زندگی کے آخری دنوں میں جس ذہنی دباؤ نے انہیں توڑ کر رکھ دیا، اس میں سب سے بڑا ہاتھ انہی رشتوں کا تھا جو مشکل وقت میں ساتھ چھوڑ گئے۔
یہ معاملہ صرف ایک تبصرے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے ایک بار پھر وہ زخم تازہ کر دیے جو عامر لیاقت حسین کی زندگی کے آخری دنوں سے جڑے ہیں۔ ان کی وفات کے بعد بشریٰ اقبال نہ صرف ان کے لیے آواز اٹھا رہی ہیں بلکہ ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو بھی سب کے سامنے لا رہی ہیں۔