شادی کی تاریخ 3 بار بدلنی پڑی کیونکہ۔۔ شہرت کے باوجود پرانے محلے میں کیوں رہتے ہیں؟ سرفراز احمد کے نجی زندگی سے متعلق دلچسپ حقائق

ہماری ویب  |  Apr 03, 2025

"2015 میں جب زمبابوے کی ٹیم پاکستان آئی تو میری شادی کی تاریخ تین بار بدلی۔ لیکن میں نے شادی کے ساتھ ساتھ میچ بھی کھیلا اور پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کا حصہ بھی بنا!"

پاکستان کے سابق کپتان سرفراز احمد نے عید کے موقع پر "باخبر سویرا" میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے کئی دلچسپ پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اپنی شادی کی تاریخ میں ہونے والی بار بار تبدیلی، اپنے والد کی سختی، بفر زون سے محبت اور کرکٹ کے میدان میں اتار چڑھاؤ پر کھل کر بات کی۔

یہی نہیں، سابق کپتان نے اپنی رہائش کے حوالے سے بھی ایک دلچسپ راز کھولا۔ "دوستوں نے کہا، ڈیفنس میں گھر لے لو، لیکن بفر زون سے میرا دل جڑا ہوا ہے۔ یہاں کے گلی کوچے، محلے والے، سب میرے اپنے ہیں۔ جہاں میں بچپن میں کرکٹ کھیلتا تھا، آج میرا بیٹا بھی وہیں کھیلتا ہے!"

مگر کرکٹ کے سفر کا آغاز سرفراز کے لیے آسان نہیں تھا۔ ان کے والد سختی سے کھیلنے کے خلاف تھے اور اگر وہ کھیلنے نکل جاتے تو سزا یقینی تھی۔ سرفراز احمد نے بچپن کا ایک واقعہ سناتے ہوئے ہنستے ہوئے کہا، "ابا ہمیں گراؤنڈ سے مارتے ہوئے گھر لاتے تھے! ایک دن امام صاحب کے بیٹے کے ساتھ ان کے گھر میں کرکٹ میچ دیکھنے چلا گیا۔ ابا ناشتے کے لیے وہاں پہنچے اور ہمیں ٹی وی کے سامنے بیٹھے پایا۔ امام صاحب نے لاعلمی میں ہی میری شکایت کر دی۔ پھر کیا تھا، سیدھا گھر پہنچا، وہ بھی مار کھاتے کھاتے!"

سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے حوالے سے بھی سرفراز نے اپنی رائے دی۔ "یہ کہنا کہ ہمیں فرق نہیں پڑتا، بالکل جھوٹ ہوگا! باہر میچ کھیلنے جائیں اور موبائل نہ دیکھیں، ایسا ممکن نہیں۔ جب اچھا پرفارم کرتے ہیں تو لوگ ہیرو بنا دیتے ہیں، اور برا دن آ جائے تو وہی لوگ سخت تنقید کرنے لگتے ہیں!"

میدان میں اپنے تجربے کی روشنی میں سرفراز نے موجودہ کھلاڑیوں کے لیے خاص پیغام بھی دیا۔ "شاہین آفریدی کو مشورہ دوں گا کہ وہ غصہ کم کریں اور اپنی توانائی بچائیں، کیونکہ ایک فاسٹ بولر کے لیے یہ بہت ضروری ہوتا ہے۔ بابر اعظم کو لمبے عرصے تک پاکستان کے لیے کھیلتے دیکھنا چاہتا ہوں۔ فخر زمان اور صائم ایوب جلد صحت یاب ہو کر ٹیم میں واپس آئیں، کیونکہ ٹیم کو ان کی سخت ضرورت ہے!"

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More