چوتھی کی جگہ بھی بن سکتی ہے۔۔ رمضان شو میں خاتون شیف کے ساتھ اتنا بیہودہ مذاق؟ صارفین نے اقرار الحسن اور وسیم بادامی کو شو چھوڑنے کا مشورہ دے دیا

ہماری ویب  |  Mar 05, 2025

سوشل میڈیا پر وائرل ایک کلپ میں اقرار الحسن تیل میں چکن کے ٹکڑے تل رہے ہیں۔ جب وہ تیسرا ٹکڑا فرائنگ پین میں ڈالتے ہیں تو ہنستے ہوئے کہتے ہیں، "یہ دیکھیں، تیسری بھی آرام سے آ گئی!"

یہ سنتے ہی وسیم بادامی مسکرا کر جواب دیتے ہیں، "ہاں، آپ تو ہمیشہ تیسری کے لیے جگہ بنا ہی لیتے ہیں!"

وسیم کی یہ بات بظاہر چکن کے ٹکڑوں کے حوالے سے تھی، لیکن ان کے الفاظ میں ایک چھپا ہوا طنز بھی محسوس کیا جا سکتا تھا۔

اقرار الحسن بھی یہ نکتہ سمجھ گئے اور مزید چٹکلا چھوڑتے ہوئے بولے، "چوتھی کی جگہ بھی بن سکتی ہے!"

یہ سن کر وسیم بادامی نے مسکراتے ہوئے ہاتھ اٹھایا اور کہا، "ارے ارے! پہلے ان تین کو ہی سنبھال لیں!"

یہ جملے سن کر کچھ لوگ ہنسے، لیکن سوشل میڈیا پر ناظرین نے ناراضی کا اظہار کیا۔

رمضان شو میں بے جا مزاح یا اخلاقی حدوں کی پامالی؟

ہر سال رمضان میں ’شاہِ رمضان‘ کے نام سے ہونے والی خصوصی نشریات میں وسیم بادامی اور اقرار الحسن کا ہلکا پھلکا مزاح لوگوں کو پسند آتا ہے۔ ’شانِ دسترخوان‘ کے سیگمنٹ میں دونوں میزبان ایک خاتون شیف کے ساتھ افطار اور سحری کے پکوان تیار کرتے ہیں۔ لیکن اس بار ان کی نوک جھونک نے ناظرین کو محظوظ کرنے کے بجائے ناراض کر دیا۔

سوشل میڈیا پر شدید ردِ عمل

یہ معاملہ اس وقت سنگین ہوگیا جب وسیم بادامی نے شیف کے ہاتھ میں موجود کریم کے ڈبے پر بھی ایسا ہی طنز کیا۔ ناظرین نے اسے غیر ضروری اور نازیبا مذاق قرار دیا۔

سوشل میڈیا پر ایک صارف نے تبصرہ کیا، "یہ رمضان ٹرانسمیشن ہے یا کامیڈی شو؟ خواتین کی عزت کے ساتھ مذاق کرنے کا حق کسی کو نہیں!" ایک اور نے کہا، "اگر ایسا ہی تفریح مقصود ہے تو کم از کم رمضان ٹرانسمیشن کا حصہ نہ بنیں!"

مذاق اور بدتمیزی میں فرق؟

یہ پہلا موقع نہیں کہ رمضان نشریات میں میزبانوں کے غیر سنجیدہ رویے پر سوالات اٹھے ہوں، مگر اس بار بات حد سے بڑھتی نظر آئی۔ ناظرین کا کہنا ہے کہ رمضان جیسے مقدس مہینے میں ٹی وی اسکرین پر اخلاقی حدود کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وسیم بادامی اور اقرار الحسن اس تنقید کے بعد کوئی وضاحت دیتے ہیں یا نہیں!

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More