قبل از وقت پیدا ہونے والی بچیاں: ’جب وہ پیدا ہوئی تو میری ہتھیلی سے بھی چھوٹی تھی اور وزن آدھا کلو سے بھی کم‘

بی بی سی اردو  |  Jan 18, 2023

BBCشیوانیا اور جیانا

جب میری بیٹی پیدا ہوئی تو وہ میری ہتھیلی سے بھی چھوٹی تھی۔ جب میں نے اپنی بیٹی کو پہلی بار دیکھا تو اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور اسی سے مجھ میں یہ امید پیدا ہوئی کہ وہ زندہ رہے گی۔

یہ بات اس بچی شیوانیا کی ماں اجوولا نے کہی جبکہ اسی طرح جیانا کی ماں دینل نے یہ بات کہی کہ ’ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ جیانا زندہ نہیں بچ سکے گی لیکن اس کی عمر چار سال ہے اور ڈاکٹروں کے مشورے کے مطابق میں اسے عام بچے کی طرح پال رہی ہوں۔‘

یہ ان دو لڑکیوں کی کہانی ہے جو دو مختلف ماؤں کی کوکھ سے قبل از وقت پیدا ہوئیں اور ان کا زندہ رہنا کسی معجزے سے کم نہیں سمجھا جاتا ہے۔

دراصل گذشتہ سال مئی میں ممبئی کی رہنے والی اجوولا پوار نے حمل کے 22 ویں ہفتے میں شیونیا کو جنم دیا تھا۔

ڈاکٹر سچن شاہ نے ممبئی سے بی بی سی کو بتایا کہ اجوولا پوار کی بچہ دانی بائیکورنیٹ تھی۔ ان کی بچہ دانی میں بچہ بڑھنے کے قابل نہیں تھا جس کی وجہ سے انھیں قبل از وقت درد زہ شروع ہو گیا۔

اجوولا کا ایک بیٹا اور بھی ہے اور انھیں اس کی پیدائش میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا لیکن جب وہ دوسری بار حاملہ ہوئیں یعنی جب شیونیا ان کے رحم میں آئی تو انھیں پریشانیاں ہونے لگیں۔

بچہ دانی میں بچی کی مکمل نشوونما نہیں ہو رہی تھی، اس لیے اجوولا کو نو ماہ مکمل ہونے سے پہلے ہی درد زہ کی تکلیف ہونے لگی۔

اگر بائیکورنیٹ یوٹرس کو آسان الفاظ میں سمجھا جائے تو بچہ دانی دو گڑھوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ یہ بے ضابطگی کی ایک نادر قسم ہے۔

اگر کسی عورت کی بچہ دانی بائیکورنیٹ ہو تو بہت سے معاملات میں عورت حمل کے نو ماہ مکمل نہیں کر پاتی۔ یا تو اس کا اسقاط حمل ہو جاتا ہے یا ایسی خواتین کو قبل از وقت دردِ زہ ہونا شروع ہو جاتا ہے اور قبل از وقت بچے کی پیدائش ہو جاتی ہے۔

اگر کسی خاتون کی ڈیلیوری 28 ہفتوں سے پہلے ہو تو ایسی حالت کو قبل از ولادت کہا جاتا ہے۔

ممبئی کے سوریا ہسپتال کی نیونیٹل اینڈ پیڈیاٹرک انٹینسیو کیئر سروس سے وابستہ ڈاکٹر سچن شاہ کا کہنا ہے کہ اجوولا کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا اور الٹراساؤنڈ میں پتہ چلا تھا کہ بچے کا وزن تقریباً 500 گرام ہے۔

امید کی دو کہانیاں

جب ڈیلیوری ہوئی تو بچی کا وزن صرف 400 گرام تھا۔ وہ ہتھیلی کے سائز سے بھی چھوٹی تھی اور والدین چاہتے تھے کہ کسی طرح بچی کو بچایا جائے۔

شیوانیا کی ماں اجوالا کہتی ہیں: ’جب میں نے اپنی بیٹی کو دیکھا، تو صرف اس کا چہرہ ہی دکھائی دے رہا تھا اور اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور اس بات سے مجھے امید ہوئی کہ وہ زندہ رہے گی۔ میں نے ایک بھی منفی احساس کو اپنے دل میں داخل نہیں ہونے دیا۔‘

بچی کے والد ششی کانت پوار کہتے ہیں: ’شیونیا کی پیدائش کے بعد، جب مجھے اس کے قریب جانے دیا گیا، تو اس کی چھوٹی انگلی نے مجھے چھو لیا۔ میں نے کیا محسوس کیا، میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا اور اس سے مجھے یہ احساس ہوا کہ میری بیٹی سلامت رہے گی۔‘

دوسری جانب چار سال پہلے گجرات کے معروف شہر سورت میں جیانا کی پیدائش 22ویں ہفتے میں ہوئی تھی۔ پیدائش کے وقت جیانا کا وزن 492 گرام تھا۔

جیانا اکتوبر سنہ 2018 میں پیدا ہوئی تھی۔

احمد آباد میں واقع ارپان نیوبورن کیئر سینٹر کے ڈائریکٹر اور چیف نیونیٹولوجسٹ ڈاکٹر آشیش مہتا نے بی بی سی کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا: ’جب دینل کا کیس میرے پاس آیا، اس وقت ان کا سیک یا پانی کا بیگ لیک کر رہا تھا۔

وہ جڑواں بچوں کی ماں بننے والی تھیں اور ان میں سے ایک کا پانی ٹپک رہا تھا۔‘

وہ کہتے ہیں: ’دینل 21 ہفتوں کی حاملہ تھیں۔ ایسے میں جڑواں بچوں کا زندہ رہنا بہت مشکل تھا۔ اس کے ساتھ ہی ماہرینِ زچگی نے بھی ہاتھ اٹھا لیے تھے کیونکہ 21 ویں ہفتے میں ڈیلیوری کروانے کے بعد میڈیکل ہسٹری میں کسی بچے کے زندہ رہنے کا کوئی کیس نہیں تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

73 سالہ انڈین خاتون کے ہاں جڑواں بچیوں کی پیدائش

قدرتی طریقے اور سیزیرین سے پیدا ہونے والے بچوں کے بیکٹریا میں کیا فرق ہوتا ہے؟

انھوں نے مزید کہا کہ میں نے بھی کئی سٹڈیز کیں اور اس طرح کی ڈیلیوری کے بعد بچے کے زندہ رہنے کے کم امکان کو ظاہر کیا۔

دینل کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا اور اسی دوران اس کا 22 واں ہفتہ مکمل ہو گیا۔ گھر والے چاہتے تھے کہ دینل بچے کو جنم دے۔

تاہم ڈاکٹروں نے بتایا کہ اگر ڈیلیوری 24 ویں ہفتے سے پہلے ہو جائے تو بچے میں خرابی پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

دینل کہتی ہیں: ’ہم نے ڈاکٹروں سے کہا کہ وہ ہمارے بچے کو کسی طرح سے بچائیں۔ حالانکہ وہ صرف ایک کو بچا سکتے تھے۔ ایسے میں ہمیں بہت ہمت اور تحمل کی ضرورت تھی۔‘

ممبئی اور سورت دونوں صورتوں میں بچوں کی پیدائش 24 ویں ہفتے سے پہلے ہوئی تھی۔

ان بچوں کو کیا خطرہ ہے؟

ڈاکٹر سچن شاہ اور آشیش مہرا بتاتے ہیں کہ قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کے زندہ رہنے کے امکانات پانچ سے دس فیصد ہوتے ہیں۔

اگر ایسے بچوں کے دماغ کی سونوگرافی میں خون بہہ رہا ہو تو مستقبل میں معذوری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔بچے کی پیدائش کے بعد تین سے چار ہفتوں میں اس بات کا اندازہ لگایا جاتا ہے کہ بچے میں کیا مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔اگر آنکھوں کی نشوونما نہ ہوئی تو بینائی ضائع ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔بہرے پن کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔ایسے بچوں میں اعضاء پوری طرح تیار نہیں ہوتے اس لیے قوت مدافعت بھی نہیں ہوتی۔سیپسس ہونے کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔انفیکشن ہو سکتا ہے۔گردے کے فیل ہونے کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔

دونوں ڈاکٹر بتاتے ہیں کہ جب بھی ڈلیوری 24ویں ہفتے سے پہلے ہوتی ہے یا وقت سے پہلے ہوتی ہے تو بچہ نہیں روتا اور ٹھنڈا پڑ جاتا جسے ہائپوتھرمیا کہا جاتا ہے۔

ہائپوتھرمیا کی حالت اس وقت ہوتی ہے جب جسم میں وزن کے مطابق چربی نہ ہو۔ ایسے بچے کمزور ہوتے ہیں کیونکہ ان کا جسم پوری طرح تیار نہیں ہوتا ہے۔

ایسی حالت میں بچے کو انکیوبیٹر میں رکھا جاتا ہے اور درجہ حرارت ایسا رکھا جاتا ہے کہ بچے کا جسم گرم رہے۔

ڈاکٹر آشیش مہرا کے مطابق: 'ایسے بچوں کے اعضاء جیسے پھیپھڑے، گردے، آنتیں، دل مکمل طور پر تیار نہیں ہوتے، پھر ان کی ناک (CPAP) پر ماسک لگا کر پھیپھڑوں تک آکسیجن پہنچائی جاتی ہے، کیونکہ وہ خود سانس نہیں لے سکتے ہیں۔'

وہ مزید بتاتے ہیں: 'کیونکہ بچہ منہ سے دودھ نہیں پی سکتا، اس لیے ناف میں موجود نال کیتھیٹر کے ذریعے پروٹین، چکنائی، کاربوہائیڈریٹس، وٹامنز اور منرلز بچے تک پہنچائے جاتے ہیں تاکہ تمام غذائی اجزاء بچے تک پہنچ سکیں۔

'اس کے ساتھ منہ سے پیٹ تک ایک رائلس ٹیوب ڈال کر دودھ پلایا جاتا ہے اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ بچہ کس طرح کا رد عمل ظاہر کر رہا ہے، جیسے پیٹ پھولنا، قے آنا یا یہ دونوں عمل کہیں ایک ساتھ تو نہیں ہو رہے ہیں۔'

ڈاکٹر آشیش مہرا کے مطابق: 'جب وہ بچے میں نشوونما دیکھتے ہیں اور ڈاکٹر مطمئن ہوتے ہیں کہ وہ دودھ ہضم کرنے کے قابل ہے، تو اس کے ناف کیتھیٹر کو ہٹا دیا جاتا ہے۔'

اس کے بعد بچے کا وزن بڑھانے پر کام کیا جاتا ہے۔ ایسی حالت میں بچے کو 11-12 ہفتوں تک انکیوبیٹر میں رکھا جاتا ہے۔

34ویں ہفتے میں بچے کی نشوونما کا جائزہ لینے کے بعد یہ دیکھا جاتا ہے کہ آیا وہ خود ماں کا دودھ پی سکتا ہے یا نہیں۔ اگر وہ ایسا کرنے پر قادر ہے تو اسے ہسپتال سے رخصت کرکے گھر بھیج دیا جاتا ہے۔

بچے کا تین، چھ اور آٹھ ماہ میں باقاعدہ چیک اپ کیا جاتا ہے۔

یہ دونوں بچیاں اب کیسی ہیں؟

شیونیا اب تقریباً چار ماہ کی ہے جبکہ جیانا نے حال ہی میں اپنی چوتھی سالگرہ منائی۔

شیونیا کے والد ششی کانت کہتے ہیں کہ وہ ہاتھ پاؤں مار رہی ہے، خوب چیختی ہے اور مسکراتی ہے اور خاندان والے بہت خوش ہیں کہ وہ بڑی ہو رہی ہے۔

دینل نے بتایا: ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ میں جیانا کے بعد دوسری بار ماں بنی اور میں نہیں بتا سکتی کہ میں نے وہ نو مہینے کس خوف میں گزارے۔ ہمیں ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ جیانا کی پرورش ایک عام بچے کی طرح کریں۔ ہم ایسا ہی کر رہے ہیں۔ جیانا اب بڑی بہن بن چکی ہے اور چھوٹی بہن کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ میں صرف اتنا کہنا چاہوں گی کہ ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More