کورونا وائرس دنیا بھر میں پھیل چکا ہے جبکہ پاکستان میں بھی اس وائرس نے اپنا خوف بٹھا دیا ہے۔
دنیا بھر کے سائنسدان اس وائرس کی ویکسین تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں کم از کم 62 اقسام کی ویکسینز کی تیاری پر کام ہو رہا ہے جبکہ ماہرین کو امید ہے کہ ان میں سے کوئی ایک لازمی کامیاب ہوگی۔
ویکسین کی تیاری کن بنیادوں پر ہو رہی ہے اس کے کچھ شواہد ملے ہیں جس کے مطابق وائرس میں مبتلا شخص میں اینٹی باڈیز خون میں ایسے پروٹینز بن جاتے ہیں جو وائرسز پر حملہ کر کے انہیں ناکارہ کر دیتے ہیں۔ اسی سلسلے میں امریکہ کی ایک کمپنی موڈرینا تھیراپیوٹکس بہت تیزی سے کام کر رہی ہے۔
بلا شبہ اسے ہم ریکارڈ بریکنگ پیشرفت کہیں تو غلط نہ ہو گا، اس ویکسین کے پیچھے جو بائیو ٹیکنالوجی کام کررہی ہے وہ تقریباً 30 سال سے موجود ہے۔ ماضی کو دیکھتے ہوئے بات کی جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کورونا وائرس کے خلاف ایک یا ڈیڑھ سال سے پہلے ویکسین کی تیاری ممکن نہیں بلکہ زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔
بیلور یونیورسٹی کے نیشنل اسکول آف ٹروپیکل میڈیسین کے پروفیسر پیٹر ہوٹز کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ایک سال سے 18 ماہ میں بھی ویکسین کی تیاری بے مثال کامیابی ہوگی، ہوسکتا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی، بہت زیادہ سرمائے سے ایسا ممکن ہوجائے، مگر وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ہمیں بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
واضح رہے ویکسینز کے کلینیکل ٹرائلز 3 مراحل میں مکمل ہوتے ہیں۔ کووڈ 19 کی ویکسینز کا پہلا مرحلہ اس سال خزاں، اگلے سال موسم بہار یا اس کے بعد تک مکمل نہیں ہوگا، کیونکہ اس کے حفاظتی اثرات کے لیے وقت دیا جائے گا۔