امریکی حکومت نے چین میں موجود سرکاری حکام اور ان کے رشتہ داروں کو چینی شہریوں کے ساتھ رومانوی اور جنسی تعلق قائم کرنے سے روک دیا ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس معاملے سے براہ راست واقفیت رکھنے والے چار افراد میں سے دو نے اے پی سے بات کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی امریکی سفیر نکولس برنز کے چین سے روانہ ہونے سے کچھ دیر پہلے نافذ کی گئی تھی۔ اس پالیسی میں یہ بھی شامل ہے کہ اس نئے ہدایت نامے کی تفصیلات کے حوالے سے جو بھی بات کرے گا وہ اپنی شناخت ظاہر نہیں کرے گا۔
اگرچہ بعض امریکی ادارے رومانوی تعلق کے حوالے سے سخت ضوابط رکھتے تھے جس کو ایک غیر قربتی پالیسی کے طور پر دیکھا جاتا ہے تاہم سرد جنگ کے بعد سے عوامی سطح پر اس پر بات نہیں ہوتی۔
دوسرے ممالک میں امریکی سفارت کاروں کی مقامی لوگوں کے ساتھ ڈیٹنگ یا شادی کرنا معمول کی بات نہیں ہے۔
ایسی ہی پابندی کا نسبتاً محدود ورژن پچھلے موسم سرما میں بھی نافذ کیا گیا تھا جس میں امریکی سفارت خانے اور پانچ قونصلیٹس میں کام کرنے والے گارڈز اور عملے کے دیگر افراد کو چینی شہریوں کے ساتھ رومانوی یا جنسی تعلقات بنانے سے روکا گیا تھا تاہم موجودہ پالیسی سفیر نکولس برنز کی رخصتی کے وقت لاگو کی گئی۔
رپورٹ میں اے پی کی جانب سے یہ وضاحت بھی شامل کی گئی ہے کہ وہ یہ وضاحت کرنے سے قاصر ہے کہ رومانوی یا جنسی تعلقات کی تعریف کن بنیادوں پر ہے۔
اس معاملے سے واقفیت رکھنے والے چار افراد میں سے دو نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ نئی پالیسی کے حوالے سے پچھلے موسم سرما میں اس وقت تبادلہ خیال کیا گیا تھا جب کانگریس کے ارکان نے نکولس برنز سے رابطے میں تشویش کا اظہار کیا تھا کہ رومانوی تعلقات قائم کرنے کے حوالے سے پابندی زیادہ سخت نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس معاملے پر جب چینی کمیونسٹ پارٹی کے حکام سے رابطہ کیا گیا تو وہاں سے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا۔