پاکستان کے سابق اوپنر بلے باز ناصر جمشید اور ان کے ساتھیوں محمد اعجاز اور یوسف انور کو پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ کیس میں سزا سنادی گئی جس کے بعد انہیں کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا۔
ابتداء میں پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کے سامنے آنے والے اسپاٹ فکسنگ کیس میں شرجیل خان، خالد لطیف، شاہ زیب حسن اور محمد عرفان ملوث پائے گئے تھے، ناصر جمشید پر سہولت کاری کا الزام تھا، اوپنر کو برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی نے اسی کیس میں گرفتار کرنے کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔
سابق کرکٹر ناصر جمشید اور ان کے ساتھیوں نے بنگلا دیش پریمئیر لیگ 2016 اور پی ایس ایل2017 کے دوران اسپاٹ فکسنگ کی کوشش کی۔
ناصر جمشید نے 2016 میں خفیہ اہلکار کو بتایا کہ بی پی ایل کے 6 کھلاڑی ان کے لیے کام کر رہے ہیں اور فی میچ 30 ہزار پاؤنڈ کی رقم کھلاڑیوں میں تقسیم ہوئی۔
پی سی سی بی اینٹی کرپشن ٹربیونل نے اپنی کارروائی میں تمام کرکٹرز کو مختلف سزائیں جبکہ ناصر جمشید پر 10سال کیلیے پابندی عائد کردی تھی۔
برطانیہ کے مانچسٹر کورٹ میں کیس کی سماعت میں ناصر جمشید اور ان کے دو ساتھیوں یوسف انور اور محمد اعجاز نے اعترافِ جرم کرلیا تھا اور آج برطانوی عدالت نے ناصر جمشید کو 17 ماہ جب کہ ان کے ساتھیوں یوسف انور کو ساڑھے 3 سال اور محمد اعجاز کو ڈھائی سال قید کی سزا سنادی جس کے بعد تینوں ملزمان کو کمرہ عدالت سے گرفتار کر کے جیل روانہ کر دیا گیا۔