جج شاکر حسن نے انسداد منشیات کی عدالت میں رانا ثناء اللہ کے خلاف کیس کی سماعت کی جس میں ان کے وکیل فرہاد علی شاہ نے عدالت میں ان پر فرد جرم عائد نہ کرنے کی درخواست کی۔
ذرائع کے مطابق منشیات اسمگلنگ فورس عدالت میں ضمنی چالان جاری کرچکی ہے، جس کے مطابق رانا ثناء اللّٰہ کے خلاف سی این ایس اے 1997ء کی دفعات 9 سی، 15 اور 17 کے تحت کیس درج کیا گیا تھا۔
کیس کی سماعت کے دوران کمرہ عدالت کے باہر پولیس کی بھاری فورس تعینات تھی جس نے میڈیا کے نمائندوں کو عدالت میں داخلے سے روک دیا۔
کمرہ عدالت سے باہر آکر رانا ثناﺀ اللہ نے میڈیا سے گفتنگو کے دوران حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کیس کے اصل حقائق عوام کے سامنے نہیں لانے دینا چاہتی، اس کیس کا اوپن ٹراںل ہونا چاہئے۔
رانا ثناﺀ ﷲ کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی جانب ثبوت کے طور پر ویڈیو فراہم نہیں کی جارہی اور عدم ثبوت کی بنا پر عدالت فردِ جرم عائد نہیں کرسکتی-
واضح رہے کہ رانا ثنااللہ کو اینٹی نارکوٹکس فورس نے 1 جولائی کو منشیات اسمگلنگ کیس میں گرفتار کیا تھا، تاہم عدالت نے کیس کی سماعت 18 جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے رانا ثناء اللّٰہ کو اگلی سماعت پر دوبارہ پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔