پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کا پانچواں روز: مظاہرین راولاکوٹ کے قریبی علاقے عیدگاہ تک محدود

بی بی سی اردو  |  Jun 13, 2026

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم جموں و کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے احتجاج پانچویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔

پونچھڈویژن کے کمشنر وحید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنان کو راولاکوٹ کے قریب عید گاہ کے علاقے میں ہی محدود کردیا گیا ہے۔ اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ اب وہاں دو ہزار کے قریب ہی مظاہرین موجود ہیں۔

کمشنر پونچھ کا مزید کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مخلتف مقامات پر چھاپے مار کر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے ایک درجن سے زائد کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی جانی والی جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کال پر ہونے والے لانگ مارچ کے شرکا راولاکوٹ میں جمع ہو رہے ہیں جہاں سے وہ مظفر آباد کی طرف جانا چاہتے ہیں لیکن سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انھیں وہیں روک کر رکھا ہوا ہے۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے سے متعلق اپنے مطالبے کے حق میں کشمیر بھر میں 9 جون سے احتجاجاور لانگ مارچ شروع کر رکھا ہے۔

حکام نے اس گروپ پر بغاوت کا الزام لگا کر اس پر پابندی لگا دی ہے اور اس کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا اور روپوش ہونے والے رہنماؤں کے بارے میں معلومات دینے پر ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان بھی کیا۔

یاد رہے کہ اس احتجاج کے دوران جھڑپوں میں اب تک چار سکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم 15 افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب وزارتِ داخلہ نے کالعدم تنظیم کی کور کمیٹی اور متحرک کارکنوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کی درخواست بھی متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دی ہے۔

AFP via Getty Imagesمختلف مقامات پر عارضی چیک پوسٹیں اور حفاظتی بنکرز

پونچھڈویژن کے کمشنر وحید خان کا کہنا ہے کہ کہوٹہ سے راولا کوٹ آنے والی شاہراہ کو مظاہرین نے پتھر اور درختوں کے تنے رکھ کر بند کر رکھا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پونچھ ڈویژن کے علاقوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی ایک حکمتِ عملی کے تحت ابھی تک معطل ہے۔

دوسری جانب مظفر آباد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر کے مختلف مقامات پر عارضی چیک پوسٹیں اور حفاظتی بنکرز بھی بنا لیے ہیں۔

مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق مظفر آباد کے ٹانگہ سٹینڈ اور دیگر علاقوں میں پولیس نے ریت کی بوریوں کی عارضی دیوار بنا کر چیک پوسٹیں بنا لی ہیں۔

تھانہ سٹی میں تعینات ایک پولیس اہلکار کے مطابق یہ اقدامات کالعدم جماعت جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کی طرف سے ممکنہ طور پر مظفر آباد میں دھرنا دینے کی کال کے پیشِ نظر کیا گیا۔

فرحان طارق کے مطابق پولیس نے کالعدم تنظیم کی کور کمیٹی کے رکن راجہ صہیب جاوید کے گھر پر چھاپہ مارا۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ راجہ صہیب اپنے گھر آئے ہوئے ہیں جس پر پولیس انھیں گرفتار کرنے گئی تاہم وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

فیصل ممتاز راٹھور کی مظاہرین کو مذاکرات کی دعوت: ’جن کے پاس شواہد ہیں انھوں نے ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیا‘پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں کشیدگی پر برطانوی اراکینِ پارلیمنٹ کا خط اور دفتر خارجہ کا جواب: ’بہتر ہوگا وہ اپنے ملک میں مثبت کردار ادا کریں‘’منظم کارروائی کرتے ہوئے راولا کوٹ سی ایم ایچ کا محاصرہ ختم کروا لیا‘: چار پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد ہلاک ہوئے، کشمیر پولیس’انڈیا گہری نظر رکھے ہوئے ہے‘: پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ’عوامی ایکشن کمیٹی‘ کو کالعدم قرار دینے کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟مارکیٹس اور کاروباری مراکز کی صورتحال

مقامی صحافی فرحان طارق نے بتایا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مارکیٹیں اور دکانیں پانچویں روز بھی بند ہیں اور مظفر آباد میں پھلوں اور سبزیوں اور دیگر اشیائے خورد ونوش کی سپلائی نہیں ہو رہی۔

فرحان طارق کا کہنا ہے کہ لوگ صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے گڑھی حبیب اللہ اور مانسہرہ سے سامان خرید کر مظفر آباد لا رہے ہیں۔

مقامی صحافی جمیل صدیقی کے مطابق ضلع حویلی میں بازاروں میں آٹا دستیاب ہے نہ پیٹرول اور شہری اشیائے خورد ونوش کی تلاش میں نکلیں بھی تو پیٹرول دستیاب نہیں جس کے باعث وہ پیدل کئی کئی میل کا سفر طے کرنے پر مجبور ہیں۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر مظفر آباد منیر قریشی کا کہنا ہے کہ شہر کی طرف آنے والے تمام راستے کھلے ہیں اور کسی کو بھی سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں۔

انھوں نے کہ شہر میں سبزی اور فروٹ کے علاوہ اشیائے خوردو نوش کی دکانیں کھلی ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن شوکت نواز میر کی دکان کو سیل کردیا ہے۔

منیر قریشی کے مطابق جمعے کی شام طارق آباد اور سبزی منڈی میں دکانیں کھلی رہیں جبکہ دودھدہی کی دکانیں بھی کھلی ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کسی بھی دکان دار کو زبردستی اپنی دکان پر کھولنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔

منیر قریشی کا مزید کہنا تھا کہ نیلم ویلی سے کالعدم تنظیم کے کارکنان مظفر آباد کی طرف مارچ کر رہے تھے تاہم وہاں موجود قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی وجہ سے مظاہرین واپس اٹھمقام کی طرف لوٹ گئے۔

Getty Imagesکالعدم تنظیم کے کارکنوں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی تجویز

پاکستانی وزارت داخلہ نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے چیف سیکریٹری کی طرف سے کالعدم تنظیم کی کور کمیٹی اور سرکردہ کارکنوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی تجویز متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دی ہے۔

وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کمیٹی ایک دو روز میں ان سفارشات کے بارے میں فیصلہ کرکے وفاقی حکومت کے علاوہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت کو بھی آگاہ کرے گی۔

کشمیر میں احتجاج کیوں ہو رہا ہے؟

کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ کشمیر اسمبلی میں ’مہاجرین مقیم پاکستان‘ کی اِن 12 نشستوں پر منتخب ہونے والے نمائندوں کو متعدد بار کشمیر میں حکومت گرانے اور وزرائے اعظم کی تبدیلی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ ’مقامی وسائل کے بے دریغ ضیاع میں مہاجرین کے نام پر پاکستان میں موجود 12 حلقوں کا ایک بڑا کردار ہے۔‘

ایکشن کمیٹی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ’ان حلقوں کو حکومت پاکستان ایک ٹول کے طور پر استعمال کرتی ہے اور ان حلقوں کے ممبران کو عدم استحکام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے ان حلقہ جات کو فوری ختم کیا جائے اور وہ مہاجرین جو خطے کے اندر رہائش پذیر ہیں انھیں ہی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے۔‘

جوائنٹ ایکشن کمیٹی ان سیٹوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتی ہے تاہم کشمیر میں موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ سیٹوں کا خاتمہ آئینی ترمیم ہی کے ذریعے ممکن ہے جس کے لیے دو تہائی اکثریت چاہیے اور یہ کہ اب یہ کام آئندہ منتخب ہونے والی اسمبلی ہی کر سکتی ہے۔

یاد رہے کہ کشمیر میں اسمبلی الیکشن جولائی 2026 میں منعقد ہوں گے۔ کشمیر کی سپریم کورٹ بھی اس معاملے پر اسی رائے کا اظہار کر چکی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم فیصل ممتاز نے گذشتہ دنوں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تسلیم کیا تھا کہ کشمیر کے فنڈز کے باہر جانے اور (ان سیٹوں کے ذریعے) پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا کشمیر کی سیاست پر اثر انداز ہونے جیسے الزامات کسی حد تک درست ہیں، تاہم اُن کا کہنا تھا کہ اِن شکایات پر بات ہو سکتی ہے اور اِن کا حل نکالا جا سکتا ہے مگر سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے یہ کام ممکن نہیں۔

کشمیر حکومت کا الزام ہے کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی عوامی مسائل کے نام پر عوام میں گمراہ کُن اور بے بنیاد بیانیہ پھیلا رہی ہے جس کا ہر صورت تدارک کیا جائے گا اور کسی کو قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیا جائے گا۔

’ایک آئینی، قانونی مسئلے کو جذباتی مسئلہ بنا دیا گیا‘: پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ’مہاجرین مقیم پاکستان‘ کی 12 نشستوں کا تنازع کیا ہے؟’انڈیا گہری نظر رکھے ہوئے ہے‘: پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ’عوامی ایکشن کمیٹی‘ کو کالعدم قرار دینے کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟8.7 کلومیٹر طویل ٹنل کے ذریعے چناب کا پانی بیاس میں موڑنے کا انڈیا کا اربوں روپے کا منصوبہ کیا ہے اور پاکستان کو اس پر کیوں اعتراض ہے؟فیصل ممتاز راٹھور کی مظاہرین کو مذاکرات کی دعوت: ’جن کے پاس شواہد ہیں انھوں نے ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیا‘پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں احتجاجی مظاہرے کیوں ہو رہے ہیں؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More