تھائی لینڈ کی نہایت نازک اور خوش لباس شہزادی بجرکیتیابھا 47 برس کی عمر میں تین سال سے زیادہ عرصہ کومے میں رہنے کے بعد وفات پا گئی ہیں۔ ان کی موت سے ممکنہ طور پر جانشینی سے متعلق سوالات جنم لیں گے۔
اگرچہ بادشاہ وجیرا لونگ کورن نے کسی جانشین کا اعلان نہیں کیا تھا لیکن بہت سے لوگ شہزادی کو تخت کے تین ممکنہ امیدواروں میں سب سے زیادہ قابل سمجھتے تھے۔
برطانوی سکولوں اور تھائی لینڈ اور امریکی یونیورسٹیوں سے بیچلرز، ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریوں پر مشتمل تعلیم حاصل کرنے کے بعد، شہزادی بجرکیتیابھا کو اُس وقت تھائی لینڈ کی ’پرنسس لائر‘ کہا جانے لگا جب انھوں نے سرکاری استغاثہ کے طور پر خدمات انجام دیں۔
Getty Imagesشہزادی بجرکیتیابھاجدید دور کی شہزادی
شہزادی بجرکیتیابھا 44 برس کی تھیں جب ایک روشن، تیز دھوپ والے دن دارالحکومت کے شمال مشرق میں دو گھنٹے سے کچھ زیادہ فاصلے پر واقع پاک چونگ میں گرنے کے بعد ان کا دل دھڑکنا بند ہو گیا۔ واقعے کے تقریباً تین ہفتے بعد محل کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وہ مائی کوپلازما انفیکشن کے بعد ہونے والی سوزش کے نتیجے میں دل کی دھڑکن انتہائی تیز ہونے کے باعث بے ہوش ہو گئی تھیں۔
شاہی خاندان نے اعلان کیا کہ رواں سال مئی سے وہ پیٹ کے انفیکشن، کم بلڈ پریشر اور خون جمنے کی خرابیوں میں مبتلا تھیں۔ وہ 11 جون کو چولالونگ کورن ہسپتال میں پُرسکون انداز میں وفات پا گئیں۔
دنیا کے سخت ترین توہینِ شاہی قوانین میں سے کچھ پر قائم رہنے والے تھائی لینڈ میں بادشاہت کے لیے انتہائی احترام پایا جاتا ہے لیکن ان معیارات کے باوجود شہزادی بجرکیتیابھا کا نقصان گہرائی سے محسوس کیا جا رہا ہے۔
مردوں کے غلبے والے معاشرے میں، بادشاہ وجیرا لونگ کورن کی سب سے بڑی اولاد نے ایک جدید تھائی شہزادی کی شبیہ پیش کی اور 240 سالہ شاہی خاندان کی نمایاں شخصیت بن گئی تھیں۔ شہزادی ہمیشہ غیر معمولی دکھائی دیتی تھیں اور وہاں کامیاب ہوتی تھیں جہاں ان کے بہت سے مرد ہم منصب جدوجہد کرتے نظر آتے تھے۔
اپنی مغربی تعلیم کی بدولت وہ ایک غیر معروف نوجوان شہزادی سے ایک باصلاحیت خاتون میں تبدیل ہوئیں جن کا کریئر کئی جہتوں پر مشتمل تھا۔ ان کی مقبولیت ان کی ناگہانی موت تک مسلسل بڑھتی ہوئی سمجھی جاتی تھی۔
Reutersشہزادی بجرکیتیابھااستغاثہ کے دفتر سے کنگز گارڈ تک
شہزادی بجرکیتیابھا 7 دسمبر 1978 کو بینکاک میں پیدا ہوئیں۔ وہ بادشاہ وجیرا لونگ کورن اور ان کی پہلی اہلیہ شہزادی سومساوالی کی سب سے بڑی اولاد تھیں۔ انھوں نے برطانیہ کے ایسکاٹ میں ہیته فیلڈ سکول سے ثانوی تعلیم حاصل کی۔
اگرچہ وہ کئی دہائیوں میں بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے والی پہلی تھائی شہزادی تھیں، لیکن انھوں نے دو تھائی جامعات سے قانون اور بین الاقوامی تعلقات میں ڈگریاں بھی حاصل کیں۔ بعد ازاں انھوں نے امریکہ کی کارنیل یونیورسٹی سے قانون میں ایک اور ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
انتہائی تعلیم یافتہ شہزادی نے اپنے کریئر اور شاہی فرائض کو نہایت مہارت سے نبھایا، مبصرین کا کہنا تھا۔ وہ کئی برسوں تک بینکاک سے باہر مختلف صوبوں میں پراسیکیوٹر کے طور پر کام کرنے کے بعد پیار سے ’پرنسس لائر‘ کہلاتی تھیں۔
ایک حسینہ سے بدسلوکی، باقیوں کا احتجاجی واک آؤٹ: مس یونیورس مقابلے کو متنازع بنانے والے نوات اِتسراگریسل کون ہیں؟بینکاک میں مشہور سیاستدان کا قتل جس میں ایک ہمسایہ ملک بھی ملوث ہو سکتا ہےبادشاہ نے ’بدتمیز‘ ساتھی سے شاہی اعزازات چھین لیےہوٹل کا بند کمرہ، زہر ملی چائے اور چھ لاشیں: وہ پراسرار واردات جس میں قاتل بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا
سنہ 2012 سے 2014 تک وہ آسٹریا، سلووینیا اور سلوواکیہ میں اعلیٰ سفارتی عہدے پر فائز رہیں۔ بجرکیتیابھا نے اقوام متحدہ کے کمیشن برائے جرائم کی روک تھام اور فوجداری انصاف میں سفیر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں اور عدالتی نظام میں خواتین کے ساتھ سلوک میں خصوصی دلچسپی لی۔
ان کے فلاحی منصوبوں نے تھائی خواتین قیدیوں، بشمول حاملہ خواتین اور ان کے بچوں، کو رہائی کے بعد معاشرے میں دوبارہ شامل ہونے کی تیاری میں مدد فراہم کی۔
سنہ 2021 میں بجرکیتیابھا کے کریئر نے ایک اور بڑا موڑ لیا، وہ کنگز گارڈ کمانڈ میں چیف آف سٹاف بن گئیں اور انھیں جنرل کا عہدہ دیا گیا۔ عملی طور پر اس نئے کردار نے انھیں ایلیٹ گارڈ یونٹس کے افسران کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کا موقع دیا، جو مستقبل میں اثر و رسوخ کا ذریعہ بن سکتا تھا۔
Getty Images شہزادی بجرکیتیابھا، بینکاک میں 2015 میںروایات شکن
نہایت نازک اور خوش لباس، شہزادی بجرکیتیابھا نے وکیل، سفارتکار، خواتین کے حقوق کی علمبردار اور فوجی کے طور پر اپنے متعدد کردار نہایت ذمہ داری سے ادا کیے۔ شاہی تقریبات میں وہ خوبصورت روایتی تھائی لباس پہنتی تھیں۔ کنگز گارڈ میں جنرل کی حیثیت سے وہ سفید فوجی یونیفارم یا کیموفلاج وردی میں نظر آتی تھیں۔ فارغ وقت میں وہ عام لباس یا ٹریک سوٹ پہنتی تھیں۔
ان کی فوجی ٹوپی کے نیچے چھوٹے، لڑکوں جیسے بال ہوتے تھے۔ انھوں نے اعتراف کیا تھا کہ کوڈ لاک ڈاؤن کے دوران ملنے والی نجی زندگی نے انھیں اپنے بھاری، لمبے بالوں کو کاٹ کر وہ کریو کٹ کرانے کا موقع دیا جس کی وہ خواہش رکھتی تھیں۔ ان کی یہ نئی شکل تھائی عوام کے لیے حیران کن تھی جبکہ ری پبلکن حلقوں نے اسے محض تشہیری حربہ قرار دیا۔
ان کے مداحوں کا کہنا تھا کہ سادہ مزاج ہونے کے باوجود انھوں نے ثابت کیا کہ وہ غیر تحریری شاہی قواعد کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
سنہ 2016 میں نکّی ایشیا نے لکھا کہ شہزادی کو ’اپنے خاندانی پس منظر اور زندگی کے تجربات کی وجہ سے تھائی لینڈ میں ایک منفرد مقام حاصل ہے‘۔ اس تحریر میں ایک نامعلوم سینیئر سفارتکار کا 2009 کا بیان بھی شامل تھا جس میں کہا گیا تھا کہ شہزادی ’تیزی سے نمایاں ہوتی جا رہی ہیں اور شاہی خاندان کے شاید سب سے ذہین فرد کے طور پر شہرت حاصل کر رہی ہیں‘۔
شہزادی بجرکیتیابھا کی موت کے بعد ملک کی توجہ شہزادہ دیپانگ کورن پر مرکوز ہو گی، جو ان کے واحد وارث ہیں جنھیں بیرونِ ملک نہیں بھیجا گیا، اگرچہ ان کی حکمرانی کی صلاحیت سے متعلق سوالات اب بھی موجود ہیں۔
ملک کی فوج پر تنقید اور ’دشمن ملک‘ کے رہنما کو ’انکل‘ پکارنا: لیکڈ فون کال جس کی وجہ سے تھائی لینڈ کی وزیر اعظم کو عہدے سے ہاتھ دھونا پڑے تھائی لینڈ: ’شاہی کنسورٹ‘ کی نادر تصاویر نے تہلکہ مچا دیاتھائی لینڈ کے شاہی خاندان کو چیلنج کرنے والی طالبہتھائی لینڈ کے بادشاہ نے اپنی شاہی ساتھی کی حیثیت بحال کر دیچارلس سوبھراج کی رہائی کا حکم: 'بکنی کِلر' جس کی کئی ممالک کی پولیس کو برسوں تلاش رہیسائبر غلاموں کی فوج: تھائی لینڈ سے سرمایہ کاری کے پیغامات کیسے امیروں کو دیوالیہ بنانے کا باعث بنتے ہیں؟