عمان کے قریب آئل ٹینکر پر حملے میں تین انڈین ملاح ہلاک، انڈیا نے امریکی سفارتکار کو طلب کر لیا

بی بی سی اردو  |  Jun 11, 2026

انڈیا نے عمان کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر پر امریکی حملے میں تین انڈین ملاحوں کی ہلاکت کے معاملے پر سینیئر امریکی سفارت کار کو طلب کر لیا گیا ہے۔

انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے کے قائم مقام نائب سربراہ جیسن میکس کو طلب کیا تاکہ ’شدید احتجاج‘ ریکارڈ کرایا جائے۔

بدھ کے روز پالاؤ پرچم بردار جہاز سیٹبیلو پر حملے میں ہلاکت انڈین ملاحوں کی شناخت ڈیک کیڈٹ، آدتیہ شرما اور انجن فِٹر شیوانند چورسیا کے ناموں سے ہوئی ہے۔

انڈیا کے وزیرِ جہاز رانی نے ان ہلاکتوں کو ’ناقابلِ تلافی نقصان‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ اس ’افسوسناک واقعے‘ کی خبر سن کر ’گہرے صدمے‘ میں ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ان کی لاشیں جلد از جلد انڈیا واپس لائی جائیں گی۔

گذشتہ روز امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا تھا کہ اس نے خلیجِ عمان سے گزرنے والے ایک آئل ٹینکر کو غیر فعال بنا دیا ہے اور اس پر الزام عائد کیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہا تھا۔

انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے اس حملے کی مذمت کی ہے لیکن اپنے بیان میں امریکہ کا نام نہیں لیا۔ تاہم سوموار کو آئل ٹینکر ایم ٹی میریویکس پر امریکی حملے کے برعکس انڈیا نے بدھ کے حملے کی کھل کر مذمت کی۔ میریویکس پر موجود 24 انڈین ملاحوں کو عمانی فوج نے بچا لیا تھا۔ امریکہ اس جہاز پر پہلے ہی پابندی عائد کر چکا تھا۔

انڈیا میں امریکہ کے سفیر سرجیو گور قازقستان کے دورے پر تھے اس لیے امریکی سفارت خانے کے قائم مقام سربراہ کو طلب کیا گیا۔

’تین جہازوں پر حملے کیے گئے جن پر انڈین ملاح سوار تھے‘

انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ اس نے آج صبح عمان کے شِناس بندرگاہ کے قریب انڈین ملاحوں کو لے جانے والے ایک تیسرے جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔

گنی بِساؤ کے پرچم بردار جہاز ایم ٹی جَلویئر پر 20 انڈین ملاح سوار تھے جن کے بارے میں انڈیا کی وزارتِ جہاز رانی کے مطابق اطلاع ہے کہ وہ محفوظ ہیں۔ تاہم ان کے انخلا کا عمل جاری ہے۔

نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وزارتِ خارجہ نے کہا کہ سیٹبیلو، میریویکس اور جَلویئر پر ہونے والے تینوں حملے ’امریکی بحریہ‘ کی جانب سے کیے گئے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے سیٹبیلو اور میریویکس پر حملوں کی تصدیق کی ہے۔ تاہم جَلویئر پر مبینہ حملے کے بارے میں اب تک کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

وزرا نے مزید کہا کہ خلیجی خطے میں 13 انڈین پرچم بردار جہاز اور 18 ہزار سے زائد انڈین ملاح اب بھی پھنسے ہوئے ہیں جن میں 562 ملاح انڈین پرچم بردار جہازوں پر موجود ہیں۔

@FSUIINDIAتین روز کے اندر یہ دوسری بار ہے جب امریکہ نے انڈین عملے والے جہاز پر حملہ کیا ہےامریکہ نے عمان کے قریب آئل ٹینکر کو نشانہ کیوں بنایا؟

’سیٹبیلو‘ نامی آئل ٹینکر پر موجود 21 ملاحوں کو بچا لیا گیا ہے، یہ جہاز امریکی فوج کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کی زد میں آیا تھا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا کہ آئل ٹینکر سیٹبیلو نے ایران سے تیل لے جاتے ہوئے جاری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی تھی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’امریکی افواج کی جانب سے بار بار وارننگ دینے کے باوجود جہاز کے عملے نے اسے نظرانداز کیا۔ اس کے بعد ایک امریکی طیارے نے جہاز کے انجن کو نشانہ بناتے ہوئے درست ہتھیاروں سے حملہ کیا۔‘

امریکی فوج نے اس کارروائی کی ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے۔

یہ واقعہ ایک بار پھر خلیجی خطے میں جاری کشیدگی اور سمندری تجارتی راستوں کی سلامتی پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے، خاص طور پر جب اس حملے میں انڈین ملاحوں کی جانیں گئیں۔

آئل ٹینکر سیٹبیلو پر حملے کے بعد انڈیا نے امریکہ کے ساتھ سخت احتجاج کیا ہے۔

انڈین حکومت نے نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے کے نائب سربراہ جیسن میکس کو طلب کیا اور اس واقعے پر اعتراض کیا۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب صرف دو دن قبل ہی عمان کے ساحل کے قریب امریکی افواج نے ایک اور آئل ٹینکر میریویکس کو نشانہ بنایا تھا۔ اس میں سے 24 انڈین ملاحوں کو نکال لیا گیا تھا۔

ٹرمپ کی خواہش کے راستے میں تہران اور نیتن یاہو کیسے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں؟نئے حملے، پاکستان کی پیچیدہ سفارت کاری اور ٹرمپ کی مشکل: امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ ہونے جا رہا ہے یا دوبارہ جنگ چھڑ سکتی ہے؟روسی تیل نہ خریدنے کی شرط: امریکہ کا انڈیا کے ساتھ تجارتی معاہدہ جو نئی امیدیں اور خدشات پیدا کر رہا ہےپاکستان کو ملنے والی امریکی فوجی امداد جس نے انڈیا کو روسی ہتھیاروں کی جانب راغب کیا

انڈین وزارت خارجہ نے بدھ کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’عمان میں انڈین سفارت خانہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ تلاش اور بچاؤ کی کارروائی کے لیے عمانی حکام کے ساتھ فعال رابطہ برقرار ہے۔‘

سمندری انٹیلیجنس ویب سائٹ لائیڈز لسٹ کے مطابق، سیٹبیلو ان کئی جہازوں میں شامل تھا جو حالیہ دنوں میں عمان کے دُقْم بندرگاہ کے قریب رکے ہوئے تھے اور بظاہر امریکی بحریہ کی نگرانی میں تھے۔

اس سے قبل یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے ایک الرٹ جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ عمان کے سوحر سے تقریباً 20 سمندری میل شمال مشرق میں ایک ٹینکر کے انجن روم میں آگ لگ گئی ہے اور مقامی حکام عملے کو نکالنے میں مدد کر رہے ہیں۔

انڈین وزارتِ خارجہ نے کہا کہ خطے میں تجارتی جہازوں پر مسلسل حملے شدید تشویش کا باعث ہیں۔ انڈیا نے زور دیا کہ خطے میں تجارتی جہازوں اور سول انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا سلسلہ رُکنا چاہیے۔

@CENTCOM فوجی تصادم کا خدشہ

جہازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹس کے مطابق، سیٹبیلو اس سے قبل چین جا چکا تھا۔ اس نے مارچ اور اپریل میں دو بار چین کا سفر کیا تھا۔ اپریل کے آخر سے مئی کے آغاز تک اس نے لیانیونگانگ بندرگاہ پر سامان اتارا تھا اور 12 مئی کو سنگاپور سے روانہ ہوا تھا۔

13 اپریل سے امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کی تھی، جب تہران نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت پر پابندیاں اور کنٹرول سخت کر دیا تھا۔

اس واقعے نے خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی، سمندری تجارت کے تحفظ اور بیرونی تنازعات میں پھنسے انڈین ملاحوں کی سلامتی کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔

اس دوران ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ امریکہ نے ایران پر دوبارہ حملے شروع کر دیے ہیں۔

ٹرمپ نے الزام لگایا ہے کہ ایران امن معاہدے پر دستخط کرنے میں ’بہت زیادہ وقت‘ لے رہا ہے اور ’امریکہ کو بیوقوف بنا رہا ہے۔‘

یہ جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی تھی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فوجی حملے کیے تھے۔ ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت ہوئی تھی۔

اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے اتحادی خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے۔

جلد ہی یہ تنازع تیزی سے پورے خطے میں پھیل گیا اور مارچ میں لبنان بھی اس کی زد میں آ گیا۔

اپریل میں امریکہ اور ایران جنگ بندی پر متفق ہوئے تھے، جسے ابتدائی طور پر دو ہفتوں کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔

تاہم مسلسل الزامات، نئے حملوں اور بڑھتے عدم اعتماد نے اس جنگ بندی کو انتہائی نازک بنا دیا ہے جس کے باعث خطے میں دوبارہ بڑے فوجی تصادم کا خدشہ برقرار ہے۔

@FSUIINDIA امریکہ کا نشانہ بننے والا آٹھواں جہاز

سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایرانی ساحلوں کی امریکی ناکہ بندی کے آغاز سے اب تک ایم ٹی سیٹّبیلو امریکی افواج کی جانب سے ناکارہ بنایا جانے والا آٹھواں جہاز ہے۔

امریکہ نے 13 اپریل کو آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کی تھی اور اس کے بعد سے ایران کے ساحل کی طرف یا وہاں سے آنے جانے والے جہازوں کو روکنے یا واپس بھیجنے کا عمل جاری ہے۔

سینٹ کام کا کہنا ہے کہ 134 جہاز امریکی افواج کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اپنا رخ تبدیل کر چکے ہیں جبکہ آٹھ ایسے جہاز جو ہدایات پر عمل نہیں کر رہے تھے جن میں پالاؤ کے پرچم بردار سیٹّبیلو بھی شامل ہے اور انھیں 'ناکاره' بنا دیا گیا ہے۔ اس آئل ٹینکر کو بدھ کے روز امریکی افواج نے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں تین انڈین ملاح ہلاک ہو گئے۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ناکہ بندی کے آغاز کے بعد سے امریکی افواج نے 42 انسانی امداد کے جہازوں کو اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔

ادھر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بدھ کے روز دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے ایک 'خفیہ مشن' کے تحت 200 تجارتی جہازوں کو آبنائے سے گزرنے میں مدد فراہم کی۔

تاہم ایران کا اصرار ہے کہ یہ بحری گزرگاہ 'مکمل طور پر بند' ہے۔

کیا ٹرمپ اور مودی کے درمیان خوش کلامی تعلقات میں بہتری لا سکے گی؟ٹرمپ کی بے رخی کے بعد مودی کی نظریں چین پر: بدلتی صورتحال میں انڈیا کے پاس کیا راستے ہیں؟ٹرمپ، پوتن ملاقات اور انڈیا کا ’انتظار‘: ’لگتا ہے امریکی صدر دلی کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں‘آبنائے ہرمز میں امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر گرنے کے بعد پائلٹوں کو سمندری ڈرون کی مدد سے کیسے بچایا گیا؟لڑاکا طیارے، ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز: ایران جنگ میں امریکہ کے فضائی نقصانات سے متعلق کانگریس کی رپورٹ میں کیا ہے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More