آبنائے ہرمز میں امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر گرنے کے بعد پائلٹوں کو سمندری ڈرون کی مدد سے کیسے بچایا گیا؟

بی بی سی اردو  |  Jun 10, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر آبنائے ہرمز میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر مار گرانے کے الزام بعد امریکی فوج نے ایران پر نئے حملوں کا آغاز کیا اور کہا ہے کہ ایران میں تقریبا 20 اہداف کو نشانہ بنانے کے بعد یہ کارروائی مکمل کی جا چکی ہے۔

ان حملوں کے ردعمل میں ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے بھی جوابی کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران اردن، کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے منگل کو کہا تھا کہ ’غیر منصفانہ ایرانی جارحیت کے جواب میں شروع ہونے والی کارروائی متناسب جواب تھا۔‘ ان حملوں کے دوران آبنائے ہرمز میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا تھا جب امریکہ نے الزام عائد کیا کہ ایران نے ایک اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’دونوں پائلٹ محفوظ ہیں اور زخمی نہیں ہوئے۔ لیکن امریکہ اس حملے کا جواب ضرورت کے تحت دے گا۔‘

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق مار گرائے جانے والے اپاچی ہیلی کاپٹر کے پائلٹوں کو ایک سمندری ڈرون کی مدد سے نکالا گیا اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس قسم کی کارروائی میں ایسے ڈرون کے استعمال کی امریکی فوج نے پہلی بار عوامی سطح پر تصدیق کی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے ایک ڈرون سے اس ہیلی کاپٹر پر حملہ کیا تھا۔ لیکن امریکہ میں بی بی سی کے شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز کو امریکی حکام نے بتایا ہے کہ اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا ایرانی کارروائی ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا یا نہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ پائلٹوں کو نکالنے کی کارروائی میں بحری کمانڈ کو فضائیہ کی مدد بھی حاصل رہی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سینٹکام کے ترجمان نے بتایا کہ پائلٹوں کو ایک ایسے ڈرون کی مدد سے نکالا گیا جو بحرین میں موجود ٹاسک فورس 59 استعمال کر رہی تھی۔ یہ یونٹ چند سال قبل ہی شروع کی گئی تھی۔

ترجمان نے بتایا کہ اس یونٹ کا مقصد مشرق وسطی میں بحری سکیورٹی کو بہتر بنانا ہے جس کے لیے وہ کئی ایسے نظام استعمال کر رہی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ڈرون نے پائلٹوں کو پانی میں ہی ایک اور مقام تک پہنچایا جہاں سے انھیں ایک ہیلی کاپٹر میں بٹھا لیا گیا اور محفوظ مقام پر پہنچا دیا گیا۔

سرونک ٹیکنالوجیز کے مطابق ’کورسیئر‘ نامی یہ سمندری ڈرون تقریبا 24 فٹ کا ہے جو ایک تیزرفتار کشتی کے ڈیزائن پر بنایا گیا ہے اور ایک ہزار پاؤنڈ تک وزن لے جا سکتا ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 35 ناٹ ہوتی ہے اور یہ ایک ہزار ناٹیکل میل تک سفر کر سکتا ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر: آٹھ ممالک میں 20 امریکی فوجی مقامات پر ایرانی حملے اور کروڑوں ڈالر کا نقصانایران کے ڈرونز نے دنیا میں طاقت کے تصور کو کیسے بدلا؟ایرانی کشتیوں کے ’مچھر بیڑے‘ نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کو کیسے مشکل میں ڈالا؟لڑاکا طیارے، ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز: ایران جنگ میں امریکہ کے فضائی نقصانات سے متعلق کانگریس کی رپورٹ میں کیا ہے؟

ایرانی میڈیا نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی تھی۔ نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی نے بتایا تھا کہ ایران نے اس ہیلی کاپٹر کو مار گرانے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

تاہم اس واقعے کے چند گھنٹوں کے بعد ہی امریکی سینٹرل کمانڈ نے ردعمل میں کارروائیوں کا اعلان کیا اور امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق ان حملوں میں ایرانی دفاعی نظام اور ریڈار کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق بندر عباس سمیت سرک اور قشم میں دھماکے سنائی دیے۔

ٹرمپ نے اے بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے امریکی حملوں کی ذمہ داری ایران پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے جو کیا، یہ اس کا جواب ہے، انھوں نے جو ہمارے ہیلی کاپٹر کے ساتھ کیا اور میرا ماننا ہے کہ جواب مضبوط اور طاقتور ہونا چاہیے اور یہ ایسا ہی ہے۔‘

امریکی ایوان نمائندگان کے سپیکر مائیک جانسن کے مطابق وہ اس وقت صدر ٹرمپ کے ساتھ ہی تھے جب ایران پر حملے کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ’ایسا کرنا ضروری تھا۔‘

ایران کی جانب سے امریکی حملوں کے فوری بعد وزیر خارجہ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک ’کسی حملے یا دھمکی کو جواب دیے بغیر نہیں جانے دے گا۔‘ ایرانی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’میدان جنگ میں شکست کے باوجود امریکہ نے ہمارے عزم کو آزمانے کا راستہ چنا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے خطے سے نکل جائیں۔‘

ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی حملے کے جواب میں بحرین اور اردن میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک امریکی ایم کیو نائن ریپر ڈرون گرانے کا دعوی بھی کیا گیا ہے۔ ایکسیوس کے مطابق امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ بحرین، کویت اور اردن کی جانب کم از کم چار بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے گئے جن کا ہدف ان ممالک میں موجود امریکی اڈے تھے۔

ایران کے خلاف امریکی کارروائی کا امکان اس وقت سے شروع ہو گیا تھا جب اسرائیلی فوج نے منگل کو جنوبی لبنان میں حملے کیے۔ تہران نے خبردار کیا تھا کہ جنوبی لبنان پر حملوں کا جواب دیا جائے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ اراگچی نے منگل کو کہا تھا کہ ’ایرانی سرزمین کے قریب غیر ملکی فوج اپنی انسانی غلطیوں کی وجہ سے مسلسل خطرے میں ہے، حادثات کی شکل میں یا فائرنگ کی زد میں ممکنہ طور پر نشانہ بن سکتی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’خطرہ کم کرنے کے لیے بہترین حل یہ ہے کہ وہ واپس چلے جائیں۔‘

اس سے پہلے باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ ’ہم سفارت کاری کی زبان کو ترجیح دیتے ہیں لیکن ہم دیگر زبانیں بھی روانی سے بول سکتے ہیں۔ اپنا وعدہ توڑیں اور ہم وہ زبان استعمال کریں گے جو ہم سب سے بہتر بول سکتے ہیں۔‘

یاد رہے کہ اس سے پہلے اسرائیل اور ایران بھی ایک دوسرے پر حملے کر چکے ہیں جس کے بعد دونوں نے یہ کارروائی روکنے کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ نے دونوں ممالک سے کہا تھا کہ وہ لڑائی بند کر دیں کیوں کہ امریکہ اور تہران کے درمیان مذاکرات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

لڑاکا طیارے، ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز: ایران جنگ میں امریکہ کے فضائی نقصانات سے متعلق کانگریس کی رپورٹ میں کیا ہے؟ایرانی کشتیوں کے ’مچھر بیڑے‘ نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کو کیسے مشکل میں ڈالا؟سیٹلائٹ تصاویر: آٹھ ممالک میں 20 امریکی فوجی مقامات پر ایرانی حملے اور کروڑوں ڈالر کا نقصانایران کے ڈرونز نے دنیا میں طاقت کے تصور کو کیسے بدلا؟اسرائیل کے خلاف حملوں سے ایران کیا حاصل کرنا چاہتا تھا؟
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More