فٹبال ورلڈ کپ: امریکی ویزا کی انوکھی شرط، ایرانی ٹیم کو درپیش چیلنج اور ایک تاریخی موقع

بی بی سی اردو  |  Jun 08, 2026

جب گزشتہ سال 25 مارچ کو ایران نے فٹبال ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا تو شاید کسی کو بھی ان مسائل کا اندازہ نہیں تھا جو سامنے آنے والے تھے۔ تقریبا ایک سال بعد اس عالمی ٹورنامنٹ میں ایران کی شرکت سب سے پیچیدہ کہانی بن چکی ہے کیوں کہ ایران ایک ایسے میزبان ملک میں کھیل رہا ہے جس نے اسرائیل سے مل کر ایران پر حملے کیے جن میں ملک کے رہبر اعلیٰ بھی ہلاک ہوئے اور یہ تنازع اب تک جاری ہے۔

جنگ کے سائے میں ایران کی فٹبال ٹیم کو متعدد مسائل کا سامنا رہا بشمول امریکہ سفر کے لیے ویزا کے حصول کا۔ ایران کی ٹیم اس ٹورنامنٹ کے لیے کوالیفائی کرنے والی ابتدائی ٹیموں میں شامل تھی لیکن اس کے اراکین کو امریکہ کا ویزا گزشتہ جمعے کے دن ملا ہے۔ ایرانی دستے کے کئی اراکین، جن میں ایرانی فٹبال فیڈریشن کے سربراہ مہدی تاج شامل ہیں، کو ویزا نہیں دیا گیا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کھلاڑیوں اور ضروری عملے کو ویزا جاری کیا جا چکا ہے تاہم یہ بھی کہا گیا کہ ’ایرانی ٹیم کو اس بات کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ امریکی نظام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ میں جھوٹے بہانوں سے دہشت گرد داخل کرے۔‘

میکسیکو میں ایرانی سفیر ابولفضل کا کہنا ہے کہ ایرانی ٹیم کو بتایا گیا ہے کہ ویزا شرائط کے تحت کھلاڑی امریکی سرزمین پر میچ کے دن ہی داخل ہو سکیں گے اور انھیں اسی دن ملک سے نکلنا ہو گا۔

ایران کی ٹیم ایسے میں مکسیکو میں ہی مقیم ہے جبکہ پہلے طے شدہ شیڈول کے مطابق اسے امریکی ریاست ایریزونا میں قیام کرنا تھا۔ لیکن ایرانی ٹیم گروپ مرحلے میں تینوں میچ امریکہ میں کھیلے گی جن میں نیوزی لینڈ اور بیلجیئم کے خلاف لاس اینجیلیس جبکہ مصر کے خلاف سیئیٹل میں میچ طے ہیں۔

40 سال کا تناؤ

ایران اور امریکہ کے تعلقات چار دہائی قبل انقلاب ایران کے وقت خراب ہوئے تھے جب تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کرنے والے مظاہرین نے عملے کو یرغمال بنا لیا تھا۔ دونوں ملکوں کے بیچ باضابطہ سفارتی تعلقات ختم ہو گئے تھے۔

ایسے میں فٹبال کا میدان دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست تعلق کی وجہ بنا جس میں سب سے مشہور مقابلہ 1998 کے ورلڈ کپ میں فرانس میں ہوا جب ایران نے امریکہ کو دو ایک سے شکست دی۔ اس میچ کی سیاسی اہمیت کی وجہ سے پوری دنیا کی توجہ حاصل رہی اور ورلڈ کپ کی تاریخ کا یادگار مقابلہ بن گیا تھا۔

میچ شروع ہونے سے پہلے ایرانی کھلاڑیوں نے امریکی ٹیم کے اراکین کو امن کی نشانی کے طور پر سفید گلاب کے پھول پیش کیے تھے۔ 2022 میں دونوں ٹیموں کا ایک بار پھر قطر میں آمنا سامنا ہوا تو امریکہ نے ایک صفر سے ایران کو شکست دی۔

حالیہ ٹورنامنٹ میں بھی یہ امکان موجود ہے کہ ایران اور امریکہ کا میچ ہو سکتا ہے۔ ورلڈ کپ کے موجودہ فارمیٹ کے تحت ناک آؤٹ مرحلے میں دونوں ٹیمیں مدمقابل ہو سکتی ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ جنگ کے تناظر میں اس میچ کی اہمیت کافی زیادہ ہو گی۔

فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے 104 میچ کب اور کہاں، کہاں ہوں گے’منظور گیند پھینک‘: جب پاکستانی ہاکی ٹیم کی ’ڈبل اٹیک حکمت عملی سیکھ کر‘ ارجنٹینا فٹبال کا عالمی چیمپیئن بنا’وہ جیتنے کے لیے نہیں کھیلتا‘ کے طعنے کے باوجود رونالڈو اپنے آخری ورلڈ کپ میں پرتگال کی ’اُمیدوں کا مرکز‘تہران: امریکی سفارتخانے میں یرغمال بنائے گئے 52 امریکیوں کی 444 روز بعد رہائی کیسے ممکن ہوئی؟فٹبال: وہ کھیل جو کبھی ایران کو متحد رکھتا تھا

ایران کی قومی فٹبال ٹیم اور ایرانی عوام کے درمیان تعلق اس بار ماضی کے مقابلے میں پیچیدہ دکھائی دیتا ہے۔

روایتی طور پر ایران کی فٹبال ٹیم ایک ایسا ادارہ رہا ہے جو سیاسی اور معاشرتی تقسیم کے باوجود سب حلقوں کی جانب سے حمایت حاصل کرتا رہا۔ دو ہزار چودہ اور دو ہزار اٹھارہ کے عالمی ٹورنامنٹ کے دوران ٹیم کو وسیع پیمانے پر عوامی حمایت ملی تھی۔

تاہم دو ہزار بائیس میں قطر میں ہونے والے ورلڈ کپ سے قبل جب ملک میں مظاہرے شروع ہوئے جب ایک خاتون کی پولیس حراست میں ہلاکت ہوئی تو معاملات بدل گئے تھے اور ایرانی فٹبال ٹیم نے خود کو ایک سیاسی بحث کا مرکز پایا۔

کچھ ایرانی توقع کر رہے تھے کہ ٹیم کے کھلاڑی بھی مظاہرین سے اظہار یکجہتی کریں گے جبکہ چند کا اصرار تھا کہ کھلاڑیوں کو سیاست سے دور رہنا چاہیے۔ دو ہزار چھبیس کا ورلڈ کپ بھی حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف کریک ڈاون کے چھ ماہ بعد ہو رہا ہے جس کے دوران انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

چند شائقین ٹیم کو سیاسی اختلافات کے باوجود قومی فخر کی علامت سمجھتے ہیں۔ لیکن دوسری جانب ایسا حلقہ بھی ہے جو اب پہلے سے زیادہ تنقید کر رہا ہے اور سمجھتا ہے کہ کھلاڑی اور ٹیم ریاستی اداروں سے اتنا قریب ہیں کہ انھیں سیاسی اسٹیبلشمنٹ سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔

اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ٹیم کی حمایت کم ہوئی ہے۔ فٹبال ایران میں سب سے مقبول کھیل ہے اور لاکھوں لوگ امریکہ میں ٹیم کی مصروفیات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ایرانی ٹیم کی کوشش ہو گی کہ اس بار وہ کچھ ایسا کر پائیں جو وہ پہلے کبھی نہیں کر سکے۔ سات بار ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے کے باوجود ایران گرVپ مرحلے سے آگے نہیں جا سکا ہے۔

لیکن اس بار 48 ٹیموں کے ہوتے ہوئے زیادہ مواقع ہیں اورایران اس بار ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی کو ممکن سمجھ رہا ہو گا۔

فٹبال ورلڈ کپ اکثر اپنے زمانے کی سیاسی حقیقتوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود سفارتی تنہائی، عسکری تنازع، ویزا کی غیر یقینی اور اپنے ہی ملک میں سیاسی تقسیم کی وجہ سے بٹی ہوئی حمایت کے بیچ کسی بھی ملک کی ٹیم کے لیے اتنے مسائل شاید ہی کسی اور ٹیم کو ماضی میں پیش آئے ہوں۔

’وہ جیتنے کے لیے نہیں کھیلتا‘ کے طعنے کے باوجود رونالڈو اپنے آخری ورلڈ کپ میں پرتگال کی ’اُمیدوں کا مرکز‘پہلا فیفا ورلڈ کپ: تاریخی گول، طوفان، بحری سفر اور 13 ٹیموں کی شرکت کی کہانیفٹبال ورلڈ کپ 2026 کے 104 میچ کب اور کہاں، کہاں ہوں گے’منظور گیند پھینک‘: جب پاکستانی ہاکی ٹیم کی ’ڈبل اٹیک حکمت عملی سیکھ کر‘ ارجنٹینا فٹبال کا عالمی چیمپیئن بناتہران میں یرغمال امریکیوں کی بازیابی کا امریکی مشن کیسے ناکام ہواتہران: امریکی سفارتخانے میں یرغمال بنائے گئے 52 امریکیوں کی 444 روز بعد رہائی کیسے ممکن ہوئی؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More