Getty Imagesکمشنر راولا کوٹ کے مطابق گذشتہ روز ہوئی پُرتشدد جھڑپوں میں کم از کم نو ہلاکتیں ہوئی ہیں
پاکستان نے زیر انتظام کشمیر کے ضلع راولا کوٹ میں حالات بدستور کشیدہ ہیں اور حال ہی میں کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکن بدستور احتجاج کر رہے ہیں۔
کمشنر راولا کوٹ سردار وحید خان نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ گذشتہ روز ہوئی پُرتشدد جھڑپوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کم از کم نو ہو چکی ہیں جس میں چار پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار جبکہ پانچ عام شہری شامل ہیں۔
سردار وحید خان کے مطابق مظاہرین کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (شیخ خلیفہ بن زاید ہسپتال) کے باہر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کارکن شاہ زیب کی میت کے ہمراہ دھرنا دیے ہوئے ہیں تاہم پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شہر میں پیٹرولنگ کر رہے ہیں۔
یاد رہے جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 9 جون (منگل) کو کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے سے متعلق اپنے مطالبے کے حق میں کشمیر بھر میں احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے اور اس ضمن میں راولا کوٹ میں صورتحال اُس وقت کشیدہ ہوئی جب شاہ زیب نامی نوجوان کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔
راولا کوٹ پولیس نے اس واقعے کی ایف آئی آر نامعلوم مسلح نقاب پوش افراد کے خلاف درج کی ہے تاہم مظاہرین کا الزام ہے کہ شاہ زیب پولیس کے ہاتھوں مارے گئے، تاہم پولیس اس کی تردید کرتی ہے۔
کمشنر راولا کوٹ کا کہنا ہے کہ ابتدائی پولیس رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں میں ایک سب انسپیکٹر کے رینک کا افسر بھی شامل ہے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ مظاہریناور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں 50 سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’مظاہرین ہسپتال کے باہر شاہ زیب کی لاش کو رکھ کر بیٹھے ہوئے ہیںاور ان کا مطالبہ ہے کہ جب تک عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیشن واپس نہیں لیا جاتا اس وقت تک وہ لاش کو نہیں دفنائیں گے۔‘
کمشنر راولاکوٹ کا کہنا تھا کہ ان جھڑپوں میں مجموعی طور پر 13 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں اور اُن کے دعوے کے مطابق ان اہلکاروں کو گولیاں لگنے کے باعث زخم آئے ہیں۔ ان کے مطابق ہلاک اور زخمی پولیس اہلکاروں کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس سے ہے۔
یاد رہے کہ کالعدم جموں و کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے نو جون کو احتجاج کی کال کے پیشِ نظر دارالحکومت مظفر آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے اور وہاں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق پولیس کی گاڑیوں اور مساجد سے انتظامیہ کی جانب سے اعلانات کروائے جا رہے کہ شہری دفعہ 144 کی پابندی کریں اور والدین اپنے بچوں کو باہر نہ نکلنے دیں۔
مظفر آباد میں سرکاری دفاتر آج کھلے ہوئے ہیں مگر وہاں حاضری نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ شہر میں واقع پیٹرول پمپ بند کروائے جا رہے ہیں۔
EPAمظفر آباد میں مساجد اور پولیس کی گاڑیوں سے اعلانات کروائے جا رہے ہیں کہ شہری دفعہ 144 کی پابندی کریں جس کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کا اجتماع ممنوع ہے
راولا کوٹ اور مظفر آباد میں انٹرنیٹ سروس بھی گذشتہ دو روز سے معطل ہے جبکہ ان شہروں میں پیرا ملٹری فورس اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
کمشنر راولاکوٹ کے مطابق ’جھڑپوں کے دوران جو سویلین زخمی ہوئے ہیں وہ شیلنگ کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ اس وقت وہاں پر حالات نارمل ہیں اور پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں رُکی ہوئی ہیں۔‘
یاد رہے کہ جمعہ کی شب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کے رہنماؤں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا تھا جس کے بعد سے اب تک درجنوں افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
کشمیر حکومت نے 12 نشستیں ختم کرنے کے مطالبے پر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی سپریم کورٹ سے رائے طلب کی تھی، جس پر عدالت نے قرار دیا کہ ان نشستوں کو ختم کرنے سے متعلق فیصلہ آئندہ اسمبلی ہی کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابات 27 جولائی کو ہوں گے اور اس ضمن میں الیکشن کمیشن نے شیڈول کا اعلان بھی کر دیا ہے۔
مظفر آباد کے ڈپٹی کمشنر منیر احمد قریشی نے بی بی سی کی نامہ نگار تابندہ کوکب کو بتایا تھا شہر میں ’اکثر بازار بند ہیں تاہم گروسری سٹورز اور کھانے پینے کے ہوٹلز کھلے ہیں۔ مجموعی طور پر شہر کی فضا پر امن ہے۔‘
Getty Imagesجمعے کی شب کالعدم قرار دی گئی جموں و کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے پاکستان میں مقیم مہاجرین کی 12 نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ کر رکھا ہے (فائل فوٹو)آئین میں ترمیم کا فیصلہ سڑکوں پر نہیں بلکہ منتخب ایوان میں ہونا چاہیے: سپریم کورٹ
اس سے قبل صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے دیتے ہوئے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ان نشستوں کے خاتمے یا اس ضمن میں کوئی اور اقدام کرنے کے لیے آئین کے سیکشن 33 میں ترمیم ناگزیر ہے۔
ریفرنس پر رائے دیتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ اس بارے میں ترمیم کا فیصلہ آئندہ انتخابات کے نتیجے میں بننے والی منتخب قانون ساز اسمبلی ہی کر سکتی ہے۔
عدالت کا کہنا ہے کہ انتخابات کا انعقاد حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہے اور سیاسی اختلافات انتخابات کے انعقاد میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔
اپنی رائے میں عدالت نے کہا کہ آئین میں ترمیم کا فیصلہ سڑکوں پر نہیں بلکہ منتخب ایوان میں ہونا چاہیے، اور کسی فرد کا اپنے حق کے لیے احتجاج دوسروں کے حقوق سلب کرنے کا باعث نہیں بننا چاہیے۔
’انڈیا گہری نظر رکھے ہوئے ہے‘: پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ’عوامی ایکشن کمیٹی‘ کو کالعدم قرار دینے کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟’ایک آئینی، قانونی مسئلے کو جذباتی مسئلہ بنا دیا گیا‘: پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ’مہاجرین مقیم پاکستان‘ کی 12 نشستوں کا تنازع کیا ہے؟فیصل ممتاز راٹھور: پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے نئے وزیرِاعظم کون ہیں؟کشمیر کو خصوصی حیثیت کیسے ملی اور اسے ختم کس بنیاد پر کیا گیا؟
عدالت نے مزید کہا کہ آئین میں تبدیلی کا راستہ ووٹ اور اس کے نتیجے میں وجود میں آنے والا منتخب ایوان ہے، سڑکوں پر مظاہروں کے ذریعے آئینی ترامیم نہیں کی جا سکتیں۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ احتجاج ایک جمہوری حق ہے، تاہم اس حق کے استعمال کے لیے سڑکوں کی بندش، جس سے عام شہری کی زندگی متاثر ہو یا ان کی نقل و حرکت میں رکاوٹ پیدا ہو، اس کی اجازت نہ قانون دیتا ہے اور نہ آئین۔
راولا کوٹ میں کشیدگی کے بعد رینجرز تعیناتGetty Images
راولا کوٹ میں کشیدگی کے بعد کشمیر پولیس کے علاوہ رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اہلکاروں کو بڑی تعداد میں تعینات کیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر منیر احمد قریشی نے سنیچر کو بی بی سی کو بتایا تھا کہ حکومت کی جانب سے کشمیر بھر میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال نہ کرنے کی ہدایات تو ہیں، تاہم ’ہماری اولین ترجیح لا اینڈ آرڈر کو قائم رکھنا ہے کہ اس لیے صورتحال دیکھ کر مظاہرین سے برتاؤ کیا جائے گا۔‘
رینجرز کے اہلکار راولا کوٹ کے حساس مقامات پر تعینات ہیں اور شہر میں گشت بھی کر رہے ہیں تاکہ امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنایا جا سکے۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن کے مطابق شاہزیب کی ہلاکت کے خلاف مظفر آباد اور کشمیر کے دیگر علاقوں میں تاجروں اور ٹرانسپورٹروں نے بھی ہڑتال کر رکھی ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ مظفر آباد سمیت کشمیر کے حساس مقامات پر رینجرز اور ایف سی کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ ان میں سپریم کورٹ کے علاوہ قانون ساز اسمبلی، ایوان صدر اور وزیر اعظم ہاؤس کی عمارتیں شامل ہیں۔
دوسری جانب جموں و کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں چھ جون کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی اور ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں شاہ زیب نامی شخص کی ہلاکت ہوئی ہے۔
کمیٹی کی جانب سے ایکشن کمیٹی کے کارکنوں کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے تمام افراد کو رہا کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
راولاکوٹ کے ایس ایس پی خاور شوکت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شاہ زیب کی ہلاکت کے بارے میں کہا کہ وہ اس کی تحقیقات کر رہے ہیں اور جب تحقیقات مکمل ہو جائیں گی تو پھر وہ اس واقعہ کے بارے میں تفصیلات شییر کریں گے۔
Getty Images’جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں‘
دوسری جانب اتوار کی دوپہر وفاقی وزیر پارلیمانی اُمور طارق فضل چوہدری نے اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ گذشتہ برس طے پانے والے معاہدے کی تقریباً تمام شقوں پر عمل درآمد ہو چکا ہے اور اب احتجاج کی کال دینا بلاجواز ہے۔
طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ گذشتہ برس وزیرِ اعظم کی ہدایت پر اعلی سطح کی کمیٹی بنائی گئی تھی جس نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کیے اور اُن کے بہت سے مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں پاکستان کے زیرِ انتطام کشمیر میں بجلی تین روپے فی یونٹ میں فراہم کی جا رہی ہے جبکہ آٹے پر بھی سبسڈی دی جا رہی ہے۔
طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ کسی بھی معاملے کا حل تشدد نہیں ہوتا، بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ 12 نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کی رائے بھی آ چکی ہے کہ آئینی ترمیم کے بغیر اس معاملے میں کچھ نہیں ہو سکتا، کیونکہ موجودہ اسمبلی کی مدت پوری ہو چکی ہے۔
گرفتاریاں اور کریک ڈاؤنGetty Imagesفائل فوٹو
دریں اثنا پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی پولیس کے مطابق مختلف علاقوں سے 72 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ مقامی پولیس کے مطابق مظفرآباد سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں اور کور کمیٹی کے ارکان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، ان میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رُکن انجم الزماں اور راجہ صہیب جاوید شامل ہیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے محکمہ داخلہ کے اہلکار کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو جب سے کالعدم قرار دیا گیا ہے اس کے بعد اس کمیٹی سے منسلک جن افراد کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے شیڈول ون میں شامل کیا گیا ہے، ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ہوم ڈپارٹمنٹ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا تھا کہ ڈھائی سو سے زیادہ ایسے افراد کی فہرست تیار کر لی گئی ہے جن کے بارے میں کہ بتایا جاتا ہے کہ وہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سرکردہ رہنما ہیں۔
اہلکار کے مطابق اس فہرست میں شامل افراد کو انسداد دہشت ایکٹ کے شیڈول ون میں ڈالا جائے گا جس کے مطابق ان افراد کی نہ صرف نقل و حرکت پر پابندی ہوگی بلکہ وہ اپنے بینک اکاونٹس بھی اجازت کے بغیر استعمال نہیں کر سکیں گے۔
’انڈیا گہری نظر رکھے ہوئے ہے‘: پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ’عوامی ایکشن کمیٹی‘ کو کالعدم قرار دینے کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟’ایک آئینی، قانونی مسئلے کو جذباتی مسئلہ بنا دیا گیا‘: پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ’مہاجرین مقیم پاکستان‘ کی 12 نشستوں کا تنازع کیا ہے؟پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں احتجاج کیوں ہو رہا ہے؟ ’پورا پاکستان ہمارے وسائل استعمال کرتا ہے، بدلے میں کچھ نہیں ملتا‘گلگت بلتستان کا لکی سیاسی سرکسگلگت بلتستان انتخابات پر انڈیا کے ’شدید احتجاج‘ پر پاکستان کا جواب: ’مضحکہ خیز دعوے حقیقت کو افسانے میں بدلنے کی کوشش ہیں‘پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مظاہرین کیا چاہتے ہیں اور احتجاج پرتشدد کیوں ہو گیا؟