اسلام آباد میں ملازمت کرنے والے ہزاروں افراد کے لیے یہاں اپنا پہلا گھر بنانا کیوں ناممکن ہے؟ پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں کئی برسوں سے تعمیرات کے شعبے سے وابستہ سید اکبر حسین نے اس کا مختصر جواب دیا۔
وہ کہتے ہیں کہ ایک طرف سرکاری اداروں کے ذریعے بننے والی رہائشی سکیمز بظاہر امیر افراد کے لیے ہی تھیں اور دوسری طرف نجی ڈیویلپرز کی سوسائٹیاں سرمایہ کاری کا گڑھ بن گئیں۔ ان کے مطابق پراپرٹی کو آسان سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جاتا ہے، ’یعنی فائل خریدو اور قیمت بڑھنے کا انتظار کرو۔‘
یہ عمل ہاؤسنگ کے شعبے پر دباؤ کا باعث بنا ہے۔
لیکن حال ہی میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی ’اپنا گھر سکیم‘ کے تحت مڈل کلاس طبقے کے لیے پہلے سال میں 50 ہزار گھروں کی فراہمی کا وعدہ کیا گیا اور آئندہ چار سالوں میں 3.2 کھرب روپے کی سبسڈی کے ذریعے پانچ لاکھ گھروں کا ہدف طے کیا گیا۔
لیکن 2018 میں ایسا ہی ایک وعدہ ان کے پیشرو سابق وزیر اعظم عمران خان نے بھی کیا تھا جن کا اندازہ تھا کہ ’نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام‘ کے تحت پانچ سال میں 50 لاکھ سستے گھر فراہم کیے جا سکیں گے۔
عمران خان کی حکومت اپریل 2022 میں ختم ہو گئی تھی مگر تب تک محض کچھ ہزار گھر ہی بن سکے تھے۔
تو کیا اس بار آسان شرائط پر قرض دینے کی شہباز حکومت کی سکیم واقعی پاکستان میں ہاؤسنگ کے بحران کا حل ثابت ہو گی یا پھر یہ محض ایک سیاسی نعرہ ہے؟
50 لاکھ گھروں کا وعدہ لیکن صرف 22 ہزار گھر بن سکے
کراچی سکول آف بزنس اینڈ لیڈرشپ سے وابستہ انسائٹ لیب کے سربراہ مطاہر خان نے اس حوالے سے تحقیق کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ 50 لاکھ گھروں کے ہدف کے موازنے میں اس نیا پاکستان سکیم کے تحت 21 ہزار 980 گھر تعمیر ہوئے تھے اور ماضی کے بعض پراجیکٹس کی ری برانڈنگ کر کے انھیں اس سکیم میں بھی شامل کیا گیا تھا۔
’جہاں تک عمران خان دور کی مورگیج سکیم کا تعلق ہے تو مطاہر کے بقول 514 ارب روپے کی درخواستیں موصول ہوئی تھیں جن میں سے 235 ارب روپے کی درخواستوں کی منظوری ہوئی۔ بینکوں نے حقیقت میں 99 ارب روپے کے فنڈز کا اجرا کیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت 2020 سے 2021 کے دوران ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں زمین کی قیمتیں بڑھ گئی تھیں، تعمیرات کے شعبے کو سبسڈی جیسی مراعات اور ایمنسٹی بھی دی گئی تھی۔ مگر 99 ارب روپے کے فنڈز تو جاری ہوئے لیکن سستے ہاؤسنگ یونٹس کی قلت برقرار تھی۔‘
’اکثر گھر شہر میں تھے جہاں ان کی قیمتیں زیادہ تھیں حالانکہ سکیم کا مقصد نئے گھروں اور پراجیکٹس کی تعمیر کا تھا۔ اس لیے لوگوں کی اکثریت نے بنے بنائے گھر خریدے اور وہی لوگ ایسا کر سکتے تھے جن کے پاس انھیں خریدنے کی استطاعت تھی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’عمران خان دور کی سکیم میں تعمیرات (نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی) اور مورگیج (میرا پاکستان میرا گھر) دونوں پہلو شامل تھے۔ مگر نئی سکیم میں ہدف مورگیج کے ذریعے لاکھوں گھروں کی فروخت ہے۔‘
ایک طرف دونوں سکیمز میں شرح سود میں فرق ہے لیکن اصل فرق بینکوں اور حکومتوں کے عمل میں ہے۔ ’پچھلی سکیم میں سٹیٹ بینک سستا قرض دینے کے لیے پیسہ چھاپ رہا تھا لیکن اس بار مارک اپ کی سبسڈی حکومت اپنے بجٹ میں مختص کرے گی، وہ ایک حد سے زیادہ نہیں ہو گی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’شہباز دور کی ہاؤسنگ سکیم کی کامیابی دو چیزوں پر منحصر ہو گی۔ پہلی یہ کہ کیا بینکس اور تعمیرات کا شعبہ ہر سال سوا لاکھ گھروں کے لیے مورگیج سبسڈی ادا کر سکیں گے۔ اور دوسری یہ کہ ایک کروڑ روپے کی فنانسنگ حد کے ہوتے ہوئے گھر خریدا یا بنایا بھی جا سکتا ہے یا نہیں۔‘
مگر یہ ضرور ہے کہ پچھلی بار کے مقابلے اس بار گھروں کا ہدف 10 فیصد ہی ہے۔
پاکستان میں رہائشی پلاٹوں کے نام پر ’فائلوں‘ کا غیرقانونی کاروبار کیسے کیا جاتا ہے اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ حکومتِ پنجاب کی ’اپنی چھت اپنا گھر‘ سکیم: کیا 15 لاکھ روپے میں مکان بنایا جا سکتا ہے؟تعمیراتی شعبے کی لاگت میں بے تحاشا اضافہ، کیا پاکستان میں سستے گھر خواب بن چکے ہیں؟سونا، سٹاکس یا پلاٹ: پاکستان میں 2025 کے دوران کِن اثاثوں کی قدر میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا؟Getty Imagesاس بار ’اپنا گھر‘ سکیم سے کون سے لوگ فائدہ اٹھا پائیں گے؟
پلاٹس کی ہوشربا قیمتوں، ہائی رائز اپارٹمنٹس کی محدود آپشنز اور فنانسنگ کی حد کے باوجود بینکس اور بلڈرز اس سکیم کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔
پاکستان میں ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی (ایچ بی ایف سی) کے ریجنل ہیڈ نصر اللہ جان کا کہنا ہے کہ ’جب ان کا بینک مارکیٹ ریٹ پر گھروں کے لیے قرض دے رہا تھا تو ہر برانچ پر فٹ فال دو سے تین افراد کا تھا جو اب بڑھ کر چھ سے آٹھ ہو گیا ہے، یعنی لوگوں کی دلچسپی بڑھی ہے۔‘
اگرچہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایک سال میں 50 ہزاروں گھروں کا ہدف حاصل کرنا ممکن ہے تاہم انھوں نے کچھ چیلنجز کا بھی ذکر کیا۔ نصر اللہ جان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے لینڈ، ٹیکسیشن اور ٹرانسفرز کے شعبوں میں کچھ اصلاحات درکار ہوں گی تاکہ زیادہ سے زیادہ گھروں کی تعمیر اور خرید و فروخت ممکن ہو سکے۔
وہ سیلز ٹیکس کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ گھر بیچنے والے کو کیپیٹل گینز کی مد میں ’اچھا خاصا ٹیکس دینا پڑتا ہے اسی طرح خریداروں کو بھی گھروں کے ٹرانسفر کی مد میں اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں، جیسے این او سی، ٹرانسفر فیس اور پرمیشن ٹو مورگیج فیس وغیرہ۔‘
ان کی رائے میں ان ٹیکسز کو آسان اور کم کرنے کی ضرورت ہے، خاص کر ان لوگوں کے لیے جو پہلے ہی گھر مورگیج پر خرید رہے ہیں۔ ان کی تجویز ہے کہ ایسے کیسز میں ٹیکسز اور ٹرانسفر فیس پر بھی سبسڈی دینے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس جانب مائل ہوں۔
ایچ بی ایف سی کے ریجنل ہیڈ نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ چونکہ اسلام آباد، لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں زمین کی ویلیو بہت زیادہ ہے تو اس لیے فنانسنگ کے باوجود گھر کی خریداری میں کسٹمرز کو خود بھی بھاری رقم درکار ہوتی ہے۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس سکیم میں اپارٹمنٹ کی آپشن بہتر ہے۔
گھروں اور فلیٹس کی قیمتوں میں فرق بہت واضح ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اسلام آباد کے علاقے بی 17 میں 5 مرلہ گھر کی قیمتیں دو کروڑ 50 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہیں مگر بینک کی طرف سے تو صرف ایک کروڑ کی فنانسنگ ممکن ہے، یعنی بقیہ قیمت کا بندوبست خود خریداروں کو کرنا پڑے گا۔
’اگر گھر دو کروڑ کا بھی ہو تو بینک اور صارف کے درمیان 50، 50 فیصد ایکویٹی ہو جاتی ہے، یعنی صارف کو ایک کروڑ تو بینک سے مل جائے لیکن بقیہ ایک کروڑ اسے خود لانا پڑے گا جو کہ تنخواہ دار طبقے میں سبھی کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔‘
تاہم ان کے مطابق اگر کسی کے پاس اپنا پلاٹ ہے تو وہ بینک کی مدد سے اس پر تعمیر کروا سکتا ہے کیونکہ پانچ مرلہ ڈبل سٹوری گھر ایک کروڑ کے لگ بھگ میں بن سکتا ہے۔ مگر جن دیہی علاقوں میں زمین کی ویلیو اس قدر زیادہ نہیں وہاں گھروں کی خریداری بھی ممکن ہو سکتی ہے۔
پاکستان میں بلڈرز اور ڈیویلپرز کی ایسوسی ایشن (آباد) کے سینیئر وائس چیئرمین افضل حمید کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم کا ہمیشہ سے سبسڈائزڈ فنانسنگ کا مطالبہ رہا ہے۔ مگر انھوں نے سکیم میں موجود اس شرط سے اختلاف کیا جس میں پہلے 10 سال تک تو مارک اپ ریٹ پانچ فیصد برقرار رہے گا مگر اگلے 10 سال کے لیے مارکیٹ ریٹ وصول کیا جائے گا۔
افضل حمید کا کہنا تھا کہ اس سکیم کے ذریعے پراپرٹی کی قیمت کا 90 فیصد تک فنانس کروایا جا سکتا ہے تاہم اس کی حد ایک کروڑ روپے ہے ’جو کم از کم دو کروڑ روپے ہونی چاہیے تاکہ عام آدمی فلیٹ خریدنے یا گھر بنانے کے لیے اس سے واقعی فائدہ اٹھا سکے۔‘
’جب مہنگائی تیزی سے بڑھے تو تنخواہ دار اور کاروباری افراد کی بچت سکڑ جاتی ہے۔ وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے کہا کہ اگلے مرحلے میں ہم فنانسنگ کی حد کو دو کروڑ تک بڑھا دیں گے۔ ایک کروڑ میں نہ تو گھر کی تعمیر مکمل ہو سکتی ہے اور نہ ہی تین بیٹ رومز کا مناسب اپارٹمنٹ خریدا جا سکتا ہے۔‘
گھروں کے لیے تو فنانسنگ پہلے دن سے شروع ہو جاتی ہے لیکن ورٹیکل عمارتوں یعنی اپارٹمنٹ کی صورت میں صرف تکمیل شدہ پراجیکٹس پر فنانسنگ مل سکتی ہے جو بلڈرز کے بقول سکیم میں موجود ایک خامی ہے۔
آباد کے سینیئر وائس چیئرمین کا کہنا تھا کہ بلڈر کی ساری سرمایہ کاری عمارت کی تعمیر میں چلی جاتی ہے اور پراجیکٹ مکمل ہونے کے بعد اس کی قیمت قوت خرید سے باہر ہو جاتی ہے۔
ان کا خیال ہے کہ زیرِ تعمیر عمارتوں کے فلیٹس پر بھی پہلے دن سے فنانسنگ دستیاب ہونی چاہیے تاکہ مڈل کلاس کو اس کا فائدہ ہو اور پراجیکٹ بھی تاخیر کی بجائے اپنے وقت پر ڈیلیور ہو جائے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سکیم کے ذریعے تعمیرات کے شعبے کی پیداواری صلاحیت بڑھے گی، بے روزگاری میں کمی کے لیے مواقع پیدا ہوں گے اور تمام ٹرانزیکشنز ’وائٹ اکانومی میں بینکوں کے ذریعے ہوں گی۔‘
Getty Images’یہ سیاسی نعرے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں‘
سابقہ حکومت نے پانچ سال میں 50 لاکھ گھروں اور موجودہ حکومت نے چار سال میں پانچ لاکھ گھروں کا وعدہ کیا ہے۔ لیکن کیا یہ وعدے حقیقی طور پر قابل عمل ہوتے ہیں؟
مطاہر خان کی رائے میں مڈل کلاس لوگ سستے گھروں کے لیے قرض لینا چاہتے ہیں ’مگر یہ بہت مہنگا پڑتا ہے اسی لیے سابقہ اور حالیہ سکیمز میں مارک اپ کو فِکس رکھا گیا ہے۔‘ ان کے مطابق مورگیج سکیم کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ماہانہ قسط گھر کے موجودہ کرائے کے قریب ہو۔
مگر وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں ہاؤسنگ فنانس کی مارکیٹ ساڑھے 500 ارب روپے کے لگ بھگ ہے اور اس میں اکثریت بینکوں کے ملازمین کی ہے۔
ندیم الحق پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کے سابق وائس چانسلر ہیں اور اب بھی سوشیو اکنامک انسائٹس اینڈ اینالیٹکس (سیا) کے ڈائریکٹر ہیں۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا 50 لاکھ گھروں کا وعدہ ’احمقانہ‘ تھا کیونکہ اس کی کوئی بنیاد نہیں تھی اور نہ ہی اس پر عملدرآمد ممکن تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ گھروں کی قلت کی بات وہ حلقے کرتے ہیں جو دراصل قرضے دینا چاہتے ہیں تاہم مردم شماری اور دیگر ڈیٹا سے ظاہر ہے کہ ملک میں مسئلہ بے گھر ہونے کا نہیں بلکہ بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی کا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ایک خاندان کا اوسط سائز پانچ سے چھ ہے مگر ایک یا دو کمرے کے گھروں میں گزر کرنا پڑتا ہے۔
ندیم الحق کا کہنا تھا کہ ’ہر بچے کے لیے الگ کمرہ امریکہ اور برطانیہ میں بھی عام نہیں۔‘
’قلت گھروں کی نہیں بلکہ پلے گراؤنڈ، لائبریری اور پبلک سپیسز کی ہے۔‘
ان کی رائے میں مورگیج یعنی گھروں کے لیے قرض دینا پاکستان میں اس لیے مشکل ہے کیونکہ یہاں اوسط آمدن ہی بہت کم ہے۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ ایک کروڑ روپے پر ایک لاکھ روپے کی قسط دینے کی استطاعت کس کے پاس ہے؟
وہ کہتے ہیں کہ ایسی سکیمز صرف ’سیاسی نعرے‘ ہوتے ہیں۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کے شہری علاقوں میں زمین کے دام کہیں زیادہ ہیں جو شاید اپر مڈل کلاس کے لیے افورڈ کرنا بھی ممکن ہے۔ ’ایک گھر خریدنے کے لیے کروڑوں روپے کا سرمایہ درکار ہے۔ ان سیاسی نعروں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ’پلاٹستان‘ ہے جہاں کم قیمت ہاؤسنگ کے لیے ورٹیکل سٹرکچرز اور ہائی رائزز پر کام کرنا مشکل ہے۔ وہ اسلام آباد کے حوالے سے کہتے ہیں کہ یہاں ’سی ڈی اے پلاٹ بنا کر بیوروکریٹس، ججز، وکلا اور حتی کہ صحافیوں کو دیتا ہے۔ پلاٹ گھر بنانے کا سب سے دقیانوسی طریقہ ہے۔ کسی بھی بڑے ملک میں پلاٹ نہیں بلکہ فلیٹس ہوتے ہیں۔ مگر یہ صرف پلاٹ بنانا چاہتا ہے، یہ وہ نظام توڑنا ہی نہیں چاہتے۔‘
معاشی ماہرین کی تجویز ہے کہ لاکھوں گھروں کے وعدے کرنے کے بجائے پہلے ملک کی پیداواری صلاحیت اور فی کس آمدن میں اضافے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں رہائشی پلاٹوں کے نام پر ’فائلوں‘ کا غیرقانونی کاروبار کیسے کیا جاتا ہے اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ حکومتِ پنجاب کی ’اپنی چھت اپنا گھر‘ سکیم: کیا 15 لاکھ روپے میں مکان بنایا جا سکتا ہے؟تعمیراتی شعبے کی لاگت میں بے تحاشا اضافہ، کیا پاکستان میں سستے گھر خواب بن چکے ہیں؟سونا، سٹاکس یا پلاٹ: پاکستان میں 2025 کے دوران کِن اثاثوں کی قدر میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا؟تین ماہ میں 21 ارب ڈالر: غیر ملکی سرمایہ کار انڈیا کی سٹاک مارکیٹ سے اپنا پیسہ کیوں نکال رہے ہیں؟