ہانگ کانگ یونیورسٹی میں شعبہ قانون میں فائنل ایئر کی طالبہ سیو کوانگ (فرضی نام) کو جب معلوم ہوا کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال کر کے ان کے چہرے کے ساتھ فحش تصاویر بنائی گئی ہیں تو انھیں اس بات پر پہلے تو یقین نہیں آیا اور بعد میں یہ غیریقینی کی کیفیت خوف میں بدل گئی۔
ان میں من گھڑت بکنی شاٹس سے لے کر پورے جسم کی عریاں اور واضح جنسی مناظر کی تصاویر شامل تھیں۔ انہیں معلوم تھا کہ یہ تصاویر اصلی نہیں لیکن ان کا اثر ویسا ہی تھا: ’ایسے جیسے لوگ میرا اصل جسم دیکھ رہے ہوں، جیسے برہنہ ہو کر سڑک پر چلنا۔‘
سیو کوانگ کم از کم ان 17 طالبات میں سے ایک تھیں جن کی سوشل میڈیا پر موجود تصاویر کا استعمال کر کے ان کے ایک ہم جماعت طالب علم نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے فحش تصاویر بناَئی تھیں۔ اس طالب علم کو ہم ’ایکس‘ کے نام سے مخاطب کریں گے۔
ان خواتین نے اس تکلیف دہ صورتحال، جسے ’این فولڈر‘ واقعہ کہا جاتا ہے، کو اپنے وقار، خود مختاری اور احساسِ تحفظ کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا، ایک ایسا معاملہ جس نے ہانگ کانگ کے قوانین میں ایک واضح خلا کو بےنقاب کیا۔
ایکس نے یونیورسٹی کے عملے کے سامنے تسلیم کیا تھا کہ یہ تصاویر انھوں نے ہی بنائی ہیں لیکن اس کے باوجود انھیں اب تک محدود نتائج کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ان پر کوئی قانونی الزامات عائد نہیں کیے گئے ہیں۔ اس کے برعکس متاثرین خود کو ایک قانونی اور ادارہ جاتی مشکل میں پاتے ہیں۔
متعدد فولڈرزPhoebe Kong/BBC News Chineseایمییلی مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی ان تصاویر پر نگاہ نہیں ڈالنا چاہتیں جن پر ان کا چہرہ لگایا گیا
ان خواتین کا کہنا ہے کہ انھیں پہلی بار ان کی تصاویر کے اس طرح استعمال کی اطلاع ایک اور طالبہ نے دی جو اس وقت ایکس کے ساتھ تعلق میں تھیں۔
بی بی سی نیوز چائینز نے اس خاتون سے رابطہ کیا اور انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ انھیں یہ تصاویر ایکس کے لیپ ٹاپ میں ان فولڈرز میں ملی تھیں جن پر خواتین کے ناموں کے لیبل موجود تھے، ان میں سے کچھ خواتین کو وہ بطور ہانگ کانگ یونیورسٹی کے شعبہ قانون کی طالبات کے طور پر جانتی تھی۔ ان میں ایمیلی، سیو کوانگ اور زے وئی شامل تھیں۔
دیگر متاثرین میں ایکس کے ماضی سے تعلق رکھنے والی خواتین اور لڑکیاں، جیسے کہ ایک سابقہ استاد، ایک ہم جماعت کی گرل فرینڈ اور بچپن کی ایک کلاس فیلو شامل تھیں۔
زندگی پر پڑنے والے اثراتPhoebe Kong/BBC News Chineseاس واقعے پر عوامی طور پر بات کرنے کے بعد تینوں خواتین میں گہری دوستی ہو گئی
ایمیلی اس واقعے سے پہلے ایکس کی دوست تھیں اور انھوں نے اس کے ساتھ گروپ پراجیکٹس پر کام کیا تھا اور وہ باہر بھی ساتھ جاتے تھے۔ اس واقعے کے منظر عام پر آنے کے بعد انھیں محسوس ہوا کہ انھیں دھوکہ دیا گیا اور ان کی بے حرمتی کی گئی۔ انھوں نے اس عمل کو بغیر رضامندی برہنہ کرنے کی ایک شکل قرار دیا، جہاں ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ان کے جسم پر کنٹرول حاصل کیا گیا۔
ان تین خواتین نے اس واقعے سے متعلق اپنے تعلیمی ادارے کو آگاہ کیا اور ان کلاسز میں بیٹھنے کی اجازت مانگی جن میں ایکس نہ ہوں، لیکن تعلیمی ادارے نے کوئی کارروائی نہیں کی جس کا مطلب یہ تھا کہ ایمیلی ایکس کا سامنا کرنے پر مجبور تھیں: ’جب بھی وہ پاس سے گزرتا تھا، میں چاہتی تھی کہ میں غائب ہو جاؤں۔‘
ڈیپ فیک کی اچھی اور بری باتیں: ڈیپ فیک کیا ہے اور اسے پکڑنا کتنا مشکل ہے؟رشمیکا مندانا کی وائرل ویڈیو: ڈیپ فیک کیا ہے اور اس کی شناخت کیسے کی جا سکتی ہے؟ڈیپ فیک: جب ایک ’دوست‘ نے ساتھ گزرے ہر لمحے کو پورن میں بدل دیاڈیپ فیک پورن: ’جب طلبا میری طرف دیکھتے ہیں تو میں سوچتی ہوں کہ کہیں انھوں نے میری تصویر تو نہیں دیکھ لی‘
ایک موقع پر وہ ایمیلی کے برابر میں بھی بیٹھا۔ اس کے کچھ ہفتوں بعد بلآخر لیکچرارز نے پوچھا کہ کیا متاثرہ طالبات دیگر کلاسز میں منتقل ہونا چاہتی ہیں۔
دوسری جانب وے زئی کے لیے سب سے پریشان کُن پہلو یہ تھا کہ ان کی عام سی تصاویر کو کیسے غلط استعمال کیا گیا۔ دوستوں کے ساتھ کھانے یا عام سے سوشل موقعوں پر لی گئی ان معصومانہ تصاویر میں ردِوبدل کیا گیا، یعنی ان کا چہرہ برقرار رکھا گیا لیکن پورے جسم پر فحش تصویر نگاری کی گئی۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اگر یہ تصاویر لیک ہو جاتیں تو لوگ یہ جاننے کی بھی زحمت نہ کرتے کہ یہ تصاویر اصلی ہیں یا جعلی۔‘
کچھ وقت کے لیے انھوں نے سوشل میڈیا کا استعمال بالکل ترک کر دیا لیکن ’جتنا میں اس بارے میں سوچتی تھی اتنا ہی مجھے لگتا تھا کہ اس سب کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آپ کو یہ تک نہیں پتا ہوتا کہ آپ ایسا ہونے سے کیسے روک سکتے ہیں۔‘
یونیورسٹی کا ردِعملPhoebe Kong/BBC News Chineseیہ خواتین یونیورسٹی کے ردِ عمل پر حیران ہیں
متاثرین نے مشترکہ طور پر ہانگ کانگ یونیورسٹی سے درخواست کی کہ ایکس کے خلاف انضباطی کمیٹی کی سماعت بلائی جائے۔ طالبات کے مطابق یونیورسٹی نے معاملے کی سنگینی کو تو تسلیم کیا لیکن قانونی صلاح لینے کے بعد نتیجہ اخذ کیا کہ موجودہ قوانین ایسے کسی رویے پر انضباطی کارروائی کی اجازت نہیں دیتے۔
اس کے بعد یونیورسٹی نے دو بیانات جاری کیے اور تصدیق کی کہ ایکس نے اپنے عمل کو تسلیم کیا اور انھیں ایک وارننگ لیٹر جاری کیا گیا ہے اور انھیں متاثرین سے معافی بھی مانگنی ہو گی۔
جب یونیورسٹی سے اس کیس میں ہونے والی پیشرفت کے حوالے سے پوچھا گیا، تو اس نے پرائیویسی اور رازداری سے متعلق خدشات کا ذکر کرتے ہوئے مزید تفصیلات دینے سے انکار کر دیا۔
اس فیصلے نے خواتین کو حیران کر دیا۔ وہ نشاندہی کرتی ہیں کہ نسبتاً معمولی تعلیمی بدانتظامی، جیسے حاضری میں جعلسازی، کو بھی باضابطہ طور پر نمٹایا جا سکتا ہے جبکہ اس معاملے کا ایکس کے تعلیمی ریکارڈ میں کوئی سرکاری اندراج نہیں ہوگا اور نہ ہی کوئی اور بامعنی نتائج سامنے آئیں گے۔
اب تک ہانگ کانگ پرائیویسی کمشنر (پی سی پی ڈی) کے دفتر، جو ڈیٹا کی خلاف ورزیوں کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے، وہ واحد ادارہ ہے جس نے اس معاملے میں مجرمانہ تحقیقات کا آغاز کیا۔ تاہم بعد میں اس نے بی بی سی نیوز چائنیز کو بتایا کہ اس کے پاس مزید کارروائی کے لیے کوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔
بی بی سی نیوز چائنیز نے فون، ٹیکسٹ میسجز، ای میل اور سوشل میڈیا کے ذریعے ایکس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
قانونی خلاPhoebe Kong/BBC News Chineseان خواتین کا کہنا ہے کہ موجودہ قوانین ڈیپ فیک تصاویر بنانے کے عمل سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتا
ہانگ کانگ کے قانون کے تحت چھپ کر ویڈیو بنانا اور بغیر اجازت نجی نوعیت کی تصاویر پھیلانا ایک مجرمانہ عمل ہے، تاہم اگر ان تصاویر کو شائع نہ کیا گیا ہو یا ان کی اشاعت کی دھمکی نہ دی گئی ہو تو صرف ڈیپ فیک تصاویر بنانا واضح طور پر ممنوع عمل نہیں۔
اس کے برعکس جنوبی کوریا، تائیوان اور برطانیہ نے مختلف درجات میں بغیر رضامندی کے ڈیپ فیک جنسی مواد کی تیاری کو جرم قرار دیا، چاہے اسے تقسیم یا شائع نہ بھی کیا گیا ہو۔
چین نے ڈیپ فیک جنسی مواد پر پابندی کا واضح طور پر ذکر نہیں کیا لیکن مصنوعی ذہانت کے استعمال کو ایسے مواد کی تخلیق کے لیے ممنوع قرار دیا ہے جو دوسروں کے حقوق کی خلاف ورزی کرے۔
امریکہ میں آن لائن پلیٹ فارمز پر یہ لازم ہے کہ وہ بغیر رضامندی بنائے گئے جنسی نوعیت کے مواد کے رپورٹ ہونے کے 48 گھنٹوں کے اندر اسے اپنے پلیٹ فارمز سے ہٹائیں۔
ہانک کانگ میں خواتین پر جنسی تشدد کے خلاف کام کرنے والی تنظیم کی افسر شیرل یپ کا کہنا ہے کہ یہ سب ترجیحات میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ یہاں ’بنیادی مسئلہ رضامندی کا ہے‘ نہ کہ نیت کا۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس بات کا واضح نفاذ بھی اتنا ہی اہم ہے۔
تنقید کا سامناPhoebe Kong/BBC News Chineseملائیشیا میں بھی ایسا ہی واقعہ رپورٹ ہو چکا
اس معاملے میں شامل طالبات کے لیے قانون کے ذریعے احتساب کے حصول کی مہینوں پر محیط کوششوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور اس نے قانونی نظام پر ان کے اعتماد کو متزلزل کر دیا۔
بالآخر اس معاملے نے انھیں عوام کے سامنے آنے اور اپنے کیس کی جانب توجہ مبذول کرانے پر مجبور کر دیا۔
اس معاملے کے منظرِ عام پر آنے کے بعد جہاں انھیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا، وہیں انھیں حمایت بھی ملی۔ ان پر شدت پسند فیمنسٹ، اخلاقی جنگجو اور ’خیالوں پر پہرا دینے والی پولیس‘ کی طرح برتاؤ کرنے کے الزامات عائد کیے گئے۔
دیگر لوگوں نے کہا کہ ایکس کا عمل بھلے سے غیر قانونی نہ سہی مگر غلط ضرور تھا لیکن سیو کوانگ اپنے معاملے کو گھریلو تشدد سے تشبیہہ دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ اگر وہ ماضی میں غیر قانونی نہیں تھا تو ’اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ درست تھا۔‘
دوسری جانب ایمیلی کہتی ہیں کہ یہ افسوسناک ہے کہ ’صحیح اور غلط کے ایک اخلاقی سوال کی غلط تشریح کر کے اسے مردوں اور خواتین کے درمیان جنگ بنایا جا رہا ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ان میں اس معاملے پر آواز اُٹھانے کا حوصلہ اس وقت پیدا ہوا جب انھوں نے ملائیشیا میں ایک سیکنڈری سکول کی طالبات کیبڑے پیمانے پر ڈیپ فیک تصاویر بنائے جانے سے متعلق سکینڈل کے بارے میں پڑھا۔ کم عمر متاثرین کے خاموش رہنے سے انکار نے انھیں احساس دلایا کہ وہ اکیلی نہیں ہیں۔
Phoebe Kong/BBC News Chineseخواتین کا کہنا ہے کہ وہ اپنی قانونی لڑائی جاری رکھیں گی
درحقیقت یہ کیس ایک وسیع تر عالمی رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ امریکی سائبر سکیورٹی کمپنی سکیورٹی ہیرو کی ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ 2019 سے 2023 کے دوران آن لائن ڈیپ فیک ویڈیوز کی تعداد میں پانچ گنا سے زیادہ اضافہ ہوا۔ ان میں تقریباً تمام مواد فحش نوعیت کا تھا اور تقریباً سب میں ہی خواتین کو دکھایا گیا تھا۔
ٹیکنالوجی میں پیش رفت کا مطلب یہ ہے کہ اب صرف چہرے کی ایک واضح تصویر کی مدد سے چند منٹوں میں حقیقت کے قریب ڈیپ فیک ویڈیوز تیار کی جا سکتی ہیں۔
بی بی سی نیوز چائنیز کے سوالات کے جواب میں ہانگ کانگ کی حکومت اور پولیس نے کہا کہ موجودہ قانون سازی اصولی طور پر آن لائن بھی لاگو ہوتی ہے اور حکام ٹیکنالوجی کے ارتقا کے ساتھ اس کی مؤثریت کا جائزہ لیتے رہیں گے۔
سیو کوانگ اور دیگر طالبات کے لیے صرف یہ ردِعمل کافی نہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی توجہ موجودہ قانون پر نہیں بلکہ اس پر ہے کہ یہ قانون کیسا ہونا چاہیے۔
یہ ایک ایسی لڑائی ہے جسے وہ جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
ایمیلی کا کہنا ہے کہ ’مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں ایک اضافی کورس پڑھ رہی ہوں، میں حقیقت میں عملی قوانین کے بارے میں پڑھ چکی ہوں۔‘
’میں نہیں چاہتی کہ لوگ مجھ بہادر پکاریں۔ اس معاملے میں، میں ایک متاثرہ لڑکی ہوں لیکن میں کمزور نہیں ہوں۔‘
مصنوعی ذہانت سے گمراہ کن ویڈیوز بنانے کی ’صنعت‘ کیسے پاکستانی نوجوانوں کی کمائی کا ذریعہ بنی’نیشنل کرش‘ گریجا اے آئی کے غلط استعمال کا نشانہ: ’میرا چہرہ چھوٹے کپڑے پہنی ایک خاتون کی تصویر پر تھا‘’ڈرائنگ رومز سے برہنہ جسموں تک سب دیکھنا پڑتا ہے‘: میٹا نے سمارٹ گلاسز کے مواد کا جائزہ لینے والی کمپنی کا معاہدہ کیوں منسوخ کیا؟’آپ کی تصاویر لیک ہو گئی ہیں‘: ٹیلی گرام پر ڈیپ فیک کی خفیہ دنیا جس نے خواتین اور بچوں کو شدید خوف میں مبتلا کر دیاڈیپ فیک پورن کے ’زندگی کو ہلا دینے والے‘ اثرات جو ہمیشہ کے لیے صدمہ بن جاتے ہیںڈیپ فیک پورنوگرافی: ’ میرا چہرہ پورن ویڈیو پر لگایا گیا تھا‘