محمد رضوان کی مزاحمت لیکن بنگلہ دیش کا ٹیسٹ سیریز میں کلین سویپ: ’پاکستان ٹیم نے وہی کیا جس کے لیے یہ جانی جاتی ہے‘

بی بی سی اردو  |  May 20, 2026

Getty Imagesبنگلہ دیش نے 2024 میں بھی پاکستان کو ٹیسٹ سیریز میں دو، صفر سے شکست دی تھی

بنگلہ دیش نے سلہٹ ٹیسٹ میں پاکستان کو 78 رنز سے شکست دے کر دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں کلین سویپ کر دیا ہے۔ یہ بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلاف ٹیسٹ میچز میں مسلسل چوتھی کامیابی ہے۔ اس سے قبل 2024 میں پاکستان میں کھیلی جانے والی ٹیسٹ سیریز میں بھی بنگلہ دیش نے دو، صفر سے کامیابی حاصل کر کے کلین سویپ کیا تھا۔

سلہٹ ٹیسٹ کے پانچویں روز پاکستان کو ریکارڈ 437 رنز کے ہدف تک پہنچنے کے لیے 121 رنز جبکہ بنگلہ دیش کو تین وکٹیں درکار تھیں، محمد رضوان کا ساتھ دینے کے لیے ساجد خان کریز پر موجود تھے۔

دونوں بلے بازوں نے پراعتماد انداز میں بلے بازی کرتے ہوئے پاکستان کے سکور کو آگے بڑھایا۔ ساجد خان بھی جارحانہ موڈ میں نظر آئے اور تمام بولرز کے خلاف پراعتماد بیٹنگ کی۔

ایک وقت میں پاکستان کو میچ جیتنے کے لیے صرف 81 رنز درکار تھے اور اس کی تین وکٹیں باقی تھیں اور ایسا لگ رہا تھا کہ پاکستان یہ ہدف حاصل کر کے ٹیسٹ میچز کی تاریخ کا سب سے بڑا 437 رنز کا ہدف حاصل کر لے گا۔ لیکن ساجد خان بنگلہ دیشی سپنر تاج الاسلام کی گیند پر نجم الحسن شنتو کو کیچ تھما بیٹھے۔

ساجد خان کے پویلین لوٹتے ہی پاکستان کی بیٹنگ لائن لڑکھڑا گئی اور محمد رضوان بھی ایک بڑا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں شرف الاسلام کی گیند پر 94 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ مہدی حسن میراز نے اُن کا کیچ لیا۔

پاکستان کی آخری وکٹ بھی 358 رنز پر گری جب خرم شہزاد بھی بغیر کوئی رنز بنائے اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔

بنگلہ دیش کی جانب سے تاج الاسلام نے دوسری اننگز میں چھ وکٹیں حاصل کیں جبکہ پہلی اننگز میں بھی اُنھوں نے دو وکٹیں حاصل کی تھی۔

سلہٹ ٹیسٹ میں شکست پر کپتان شان مسعود نے کہا کہ ’ہم نے اس میچ میں بہت سی غلطیاں کیں، پہلی اننگز میں جب ہم نے 116 پر اُن کی چھ وکٹیں حاصل کیں تو ہمیں جلد اننگز کو سمیٹنا چاہیے تھا۔ پہلی اننگز میں 46 رنز کے خسارے میں جانا ہمارے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔‘

منگل کے روز چوتھے دن کے کھیل کا آغاز پاکستانی اوپنر اذان اویس اور عبد اللہ فضل نے کیا مگر 27 کے مجموعی سکور پر عبد اللہ فضل چھ رنز بنا کر ناہید رانا کی گیند پر آؤٹ ہو گئے، اُن کے بعد اذان اویس بھی 41 کے مجموعی سکور پر 21 رنز کی اننگز کھیل کر پویلین لوٹ گئے۔

دو وکٹ کے نقصان کے بعد بابر اعظم اور کپتان شان مسعود نے اچھی شراکت قائم کی تاہم بابر اعظم 52 گیندوں پر 47 رنز بنا کر تیج الاسلام کا شکار بن گئے جبکہ شان مسعود 71 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

شان مسعود کے آؤٹ ہو جانے کے بعد سلمان علی آغآ اور محمد رضوان نے اچھی بیٹنگ کی تاہم شان کو بھی تیج الاسلام نے ہی آؤٹ کیا۔ انھوں نے 71 رنز بنائے تھے۔

دوسرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن بنگلہ دیش کی ٹیم اپنی دوسری اننگز میں 390 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی تو پہلی اننگز کی 46 رنز کی برتری کی بدولت وہ مہمان ٹیم کو ایک ایسا ہدف دینے میں کامیاب رہی جس کا حصول آسان نہیں دکھائی دے رہا تھا۔

دوسری اننگز میں بنگلہ دیش کی جانب سے مشفق الرحیم 137 رنز کی اننگز کھیل کر ٹاپ سکورر رہے جبکہ ان کے علاوہ پہلی اننگز میں سنچری بنانے والے لٹن داس کے علاوہ اوپنر محمود الحسن جوائے نے نصف سنچریاں بنائیں۔

یہ مشفق الرحیم کی ٹیسٹ کرکٹ میں 14ویں سنچری تھی۔

پاکستان کے لیے شاہین آفریدی کی جگہ ٹیم میں جگہ بنانے والے خرم شہزاد سب سے کامیاب بولر رہے جنھوں نے اس اننگز میں بھی چار وکٹیں لیں اور میچ میں کل آٹھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

ان کے علاوہ سپنر ساجد خان نے تین، حسن علی نے دو جبکہ محمد عباس نے ایک بنگلہ دیشی کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

Getty Imagesپاکستان کی پہلی اننگز میں بابر اعظم کے سوا کوئی بھی بلے باز وکٹ پر زیادہ دیر رکنے اور بڑی شراکت قائم کرنے میں ناکام رہا تھا

سہلٹ ٹیسٹ میں پاکستان کے کپتان شان مسعود نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا تھا اور پاکستانی بولر سکور116 رنز تک پہنچنے تک چھ بنگلہ دیشی بلے بازوں کو پویلین بھیجنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ تاہم اس موقع پر لٹن داس نے 126 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو مشکلات سے نکالا تھا اور میزبان ٹیم 278 رنزکا مجموعہ بنانے میں کامیاب رہی تھی۔

اس کے جواب میں پاکستان کی پہلی اننگز میں بابر اعظم کے سوا کوئی بھی بلے باز وکٹ پر زیادہ دیر رکنے اور بڑی شراکت قائم کرنے میں ناکام رہا تھا۔ بابر اعظم نے 68 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔

ایک موقع پر ایسا لگ رہا تھا کہ بنگلہ دیش پہلی اننگز میں بڑی سبقت لینے میں کامیاب رہے گا لیکن لوئر آرڈر میں ساجد خان نے 28 گیندوں پر چار چھکوں کی مدد سے 38 رنز کی اننگز کھیل کر سکور 232 تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

بنگلہ دیش کی طرف سے ناہید رانا اور تیج الاسلام نے تین، تین جبکہ مہدی حسین میراج اور تسکین احمد نے دو، دو وکٹیں حاصل کی تھیں۔

Getty Images’اُمید کے بعد دل توڑنا پاکستان ٹیم کا ہی خاصا ہے‘

ٹیسٹ رینکنگ میں نویں نمبر پر موجود بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میں کلین سویپ شکست پر پاکستانی شائقین اور سپورٹس تجزیہ کار کرکٹ ٹیم کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

صحافی فیضان لکھانی نے لکھا کہ 2024 کے آغاز سے اب تک پاکستان نے 14 ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں اور ان میں سے 8 میں وہ دو بار اپوزیشن کو آؤٹ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ’یہ اس کہانی کو بیان کرتا ہے کہ پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کے بنیادی تقاضوں سے نا آشنا ہے جس میں 20 وکٹیں لینا ضروری ہوتا ہے۔ اس طرح کی صلاحیت کے ساتھ ٹیسٹ میچ جیتنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ ‘

صحافی انس ملک نے لکھا کہ پاکستان کی تین وکٹیں 358 کے سکور پر ہی گر گئیں اور یہ 78 رنز سے میچ ہار گیا۔ ’پاکستان ٹیم نے وہی کیا جس کے لیے جانی جاتی ہے، یعنی لڑ کر اُمید جگانا اور پھر شکست کا سامنا کرنا۔‘

عبدالغفار نامی صارف نے لکھا کہ بنگلہ دیش نے ’نہ صرف بلے اور گیند سے بلکہ ذہنی حربوں یعنی سلیجنگ اور جارحانہ انداز سے بھی پیچھے چھوڑ دیا۔‘

اُن کے بقول ’پاکستان کرکٹ ٹیم گذشتہ چار، پانچ سال کے دوران بہت دوستانہ اور آسان ٹیم بن گئی ہے۔ پاکستان کو کھیل میں جارحانہ انداز لانے کی ضرورت ہے ورنہ بہت سی شکستوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

سابق ٹیسٹ کرکٹر تنویر احمد نے ایکس پر لکھا کہ ’آپ انتظار کریں، ایک دن ہمیں یوگینڈا کو بھی برداشت کرنا پڑے گا۔‘

صحافی خاور گھمن نے ایکس پر لکھا کہ ’یہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی ایک نئی گراوٹ ہے۔ پہلے بنگلہ دیش نے پاکستان کو پاکستان میں دو کلین سویپ کیا اور اب اپنے گھر میں بھی پاکستان کو دو میچز میں شکست دی۔ بنگلہ دیش کے بولرز اور بلے بازوں کو اس کامیابی کا کریڈٹ جاتا ہے۔‘

انضمام نامی ایک ایکس صارف نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’سعود شکیل ایک بار پھر دباؤ میں ناکام ہو گئے اور سب سے غلط وقت پر اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’جب پاکستان کو رنز اور مضبوط شراکت کی ضرورت تھی، وہ ایک اور مایوس کن اننگز کھیل کر آؤٹ ہو گئے۔

عمران صدیقی نامی ایکس صارف نے تو سعود شکیل کی بنگلہ دیش کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں اننگز کے بعد ایک جائزہ پیش کر دیا انھوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’سعود شکیل نے اپنے پہلے 16 ٹیسٹ میچوں میں 55 کی اوسط سے رنز بنائے تھے، لیکن اپنے آخری سات ٹیسٹ میچوں میں ان کی اوسط صرف 21 رہی ہے۔ آخر اُن کی پرفارمنس کو کیا ہوا ہے وہ کیوں اچھی اننگز نہیں کھیل پا رہے؟‘

’پہلے ہی بتا دیں میری ضرورت ہے یا نہیں:‘ کوہلی کی 2027 کا ورلڈ کپ کھیلنے کی خواہش اور شکوہپاکستان سپر لیگ میں حیدرآباد کنگزمین کے تاریخی کم بیک اور راولپنڈیز کی ناکامی کی پیچھے چھپی کہانی’کسی پر الزام تراشی نہیں کروں گا، خود ذمہ داری قبول کروں گا‘: بنگلہ دیش کے خلاف تیسری شکست اور شان مسعود کی پریس کانفرنساذان اویس ڈیبو پر سنچری بنانے والے 14ویں پاکستانی کرکٹر: ’اُمید ہے پی سی بی اس ٹیلنٹ کو سنبھالے گا‘

حسن زاہد نامی ایک ایکس صارف نے سلمان کے لیے لکھی کہ ’پاکستان کے لیے یہ بہت بڑی نعمت ہے کہ اس کے پاس سلمان آغا جیسے مشکل وقت میں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑی موجود ہیں، خاص طور پر طویل فارمیٹس میں۔‘

تاہم پہلی انگز میں ساجد خان کی تعریف کرتے ہوئے احمد نامی صارف نے لکھا کہ سپنر کی بیٹنگ نے پاکستان کو کسی حد تک ریسکیو کیا۔

’تاہم باقی تمام بلے بازوں نے اوسط درجے کی کرکٹ کھیلی، غلط شاٹس کا انتخاب کیا۔ سوچیے اگر بابر اعظم صفر پر آؤٹ ہو جاتے تو پاکستان 150 رنز تک بھی نہیں پہنچتا۔‘

سابق ٹیسٹ کرکٹ فیصل اقبال نے پاکستان کھلاڑیوں پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’سینیئرز اتنی زیادہ کرکٹ کھیل چکے ہیں اور پھر بھی دباؤ کی صوتحال میں ناکارہ ہو جاتے ہیں اور اپنی وکٹس گنوا دیتے ہیں۔‘

ایک صارف نے لکھا کہ بابر اعظم نے دیگر سینیئر کھلاڑیوں کے مقابلے میں اچھی اننگز کھیلی۔ مرزا وقار نے مزید لکھا کہ ’اس ٹیسٹ میچ کے بعد شان مسعود کو ریٹائرمنٹ پر غور کرنا چاہیے، سلمان علی آغا کی تکنیک ٹھیک نہیں ہے اور وہ 20، 30 رنز کو 50، 60 رنز میں تبدیل نہیں کر پا رہے۔‘

محمد رضوان اور لٹن داس کے درمیان ہونے والی لفظی جنگ

میچ میں ایک مقام پر پاکستانی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان اور بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر لٹن داس کے درمیان سخت جُملوں کا تبادلہ اُس وقت ہوا کہ جب محمد رضوان نے میچ کے دوران ہی سکرین کے سامنے کھڑے ایک گراؤنڈ سٹاف کے رکن کو ہٹ جانے کا اشارہ کیا۔

جس پر لٹن داس نے اردو میں رضوان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کیا کر رہے ہو؟‘ جس پر رضوان نے کہا کہ ’وہ دیکھو، وہ دیکھو، وہ سامنے کھڑا ہے۔‘ اس کے جواب میں لٹن داس نے کہا کہ ’ادھر کیا دیکھ رہے ہو؟ یہاں بیٹنگ کرو۔‘ اس پر محمد رضوان غصے میں آگئے اور انھوں نے لٹن داس کو کہا کہ ’یہ تمہارا کام ہے، میرا کام ہے یا امپائر کا؟' جس کے جواب میں لٹن داس نے کہا کہ 'ففٹی ہو گئی ہے بس اب ایکٹنگ شروع ہو جائے گی۔‘

جس کے بعد امپائر نے دونوں کھلاڑیوں کے درمیان بیچ بچاؤ کروایا اور میچ دوبارہ شروع ہوا۔

عالمی مقابلوں میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت: انڈیا کو وضاحتی میمو کیوں جاری کرنا پڑا؟قیمتی گھوڑا، ڈربی میں ایک کروڑ انعام اور پُرخطر کھیل: لاہور ریس کلب کے ایک چیمپیئن جوکی کی کہانیکوچ سے مکالمہ اور پھر پی ایس ایل میں رنز کے انبار: بابر اعظم کی فارم میں واپسی کی کہانی صابن کی ٹکیہ سے بھی ہلکے جوتے جنھوں نے میراتھن کا عالمی ریکارڈ توڑنے میں مدد دی’آٹھ لاکھ روپے کا ایک رن‘: پی ایس ایل کی نیلامی میں کروڑوں روپے میں فروخت ہونے والے کرکٹرز کی کارکردگی کیسے رہی؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More