’بیوی اور ماں، مگر سرکاری طور پر کنواری‘: بہائیوں کی شادیاں رجسٹرڈ کیوں نہیں ہو رہیں؟

بی بی سی اردو  |  May 16, 2026

BBC

ایک مصری بہائی خاتون حنان نے تقریباً نصف صدی قبل ایک عرفی نکاح کے ذریعے شادی کی، کیونکہ مصری حکومت بہائیوں کے شادی کے معاہدوں کو، جن میں ان کے مذہب کا ذکر ہوتا ہے، تسلیم نہیں کرتی۔

کئی برسوں کی کوششوں کے بعد وہ اپنا نکاح رجسٹر کروانے میں کامیاب ہوئیں، مگر 2018 میں جب انھوں نے اپنی شناختی دستاویز کی تجدید کروائی تو انھیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ تمام سرکاری کاغذات میں ان کی ازدواجی حیثیت ’کنواری‘ کر دی گئی ہے۔

حنان نے عدالت سے رجوع کیا، مگر تقریباً آٹھ سال بعد مصر کی عدالتِ نقض، جو ملک کی اعلیٰ ترین عدالتی اتھارٹی ہے، نے ان کے نکاح کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، اور اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ مصری ریاست صرف تین آسمانی مذاہب یعنی اسلام، عیسائیت اور یہودیت کو تسلیم کرتی ہے۔

آج حنان کو مختلف سطحوں پر مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ سرکاری دستاویزات سے ان کی حیثیت بطور بیوی اور دو بچوں کی ماں ختم کر دی گئی ہے۔

بہائی مذہب ایک توحیدی اور خود مختار مذہب ہے جو انیسویں صدی میں ایران میں حسین علی مازندارانی، المعروف ’بہاء اللہ‘ کے ہاتھوں قائم ہوا، جنھیں ایرانی حکام نے سزائے موت سنائی اور 1850 میں تبریز شہر میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔

BBCپچھلے مہینے، مصر کی عدالت نے خاندانی عدالت کے اس فیصلے کو کالعدم کر دیا تھا جس میں دو بہائیوں کے درمیان طے شدہ شادی کے معاہدے کو درست قرار دیا گیا تھاکہانی کا آغاز

حنان کمال، جو ایک گھریلو خاتون ہیں، وہ اپنی شادی کے آغاز میں 1981 میں اپنے شوہر کے ساتھ کام کے لیے بیرون ملک گئیں، اور دونوں بہائی تھے۔

حنان نے بیرون ملک اپنے نکاح کی توثیق کروائی اور مصر واپس آنے پر اسے دوبارہ رجسٹر کروانے کی کوشش کی، مگر انھیں صرف ایسا نکاح نامہ حاصل کرنے کی اجازت دی گئی جس میں مذہب ’مسلمان‘ درج تھا۔

حنان نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ’ہم نے یہ نکاح نامہ لے لیا، ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ ہم نے بار بار اسے تبدیل کرنے کی کوشش کی مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا، یہاں تک کہ 2009 میں جب بہائیوں کو مذہب کے خانے میں صرف ایک ڈیش (-) لگانے کی اجازت ملی، تب میں ایک شناختی کارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی جس میں مذہب کے خانے میں ڈیش تھا اور اس پر میرے شوہر کا نام بھی درج تھا۔‘

لیکن 2018 میں جب انھوں نے اپنی شناختی دستاویز کی تجدید کروائی، تو حنان کی ازدواجی حیثیت دوبارہ ’کنواری‘ ہو گئی، اور ان کے شوہر کا شناختی کارڈ بھی اسی حیثیت کے ساتھ جاری ہوا۔

حنان مزید کہتی ہیں کہ ’ہم عدالت گئے، اور واقعی عدالت نے نکاح کو تسلیم بھی کر لیا، لیکن وزارتِ انصاف اور وزارتِ داخلہ نے اس فیصلے کے خلاف عدالتِ نقض میں اپیل دائر کی، جس نے اپنے حتمی فیصلے میں نکاح کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔‘

عدالتِ نقض نے اپنے حتمی اور ناقابلِ اپیل فیصلے میں کہا کہ بہائیوں کے درمیان شادی کو ثابت کرنا ’مستحکم نظاموں کے واضح خلاف‘ ہے، اور یہ کہ بہائیت کو کسی بھی سرکاری دستاویز میں مذہب کے طور پر درج نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے مزید کہا کہ ’مصری آئین میں دی گئی مذہبی آزادی اور اس عقیدے کے قانونی اثرات میں فرق ہے، اور چونکہ بہائیت آسمانی مذاہب سے باہر ہے اور اس پر عمل ریاست کے مستحکم نظاموں سے متصادم ہے، اس لیے اسے نہ تو سول دستاویزات میں اور نہ ہی کسی سرکاری ریکارڈ میں درج کیا جا سکتا ہے جہاں مذہب کا خانہ موجود ہو۔‘

حنان کا ماننا ہے کہ نکاح کی سرکاری طور پر عدم موجودگی ان کی زندگی کے کئی پہلوؤں کو متاثر کر رہی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اگر میرے شوہر کا انتقال ہو جائے تو میں وظیفہ حاصل نہیں کر سکوں گی، اور اگر میرے بچوں کو اپنے سرکاری کاغذات میں مدد کی ضرورت ہو تو میں یہ ثابت نہیں کر سکوں گی کہ میں ان کی والدہ ہوں، اس کے علاوہ سرکاری معاملات، بینکوں اور دیگر جگہوں پر مسلسل شرمندگی اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ ’یہ ایسی صورتحال ہے جس میں مجھے بالکل بھی تحفظ کا احساس نہیں ہوتا۔‘

BBCمصر میں بہائی شادی کے ایسے معاہدے کرنے سے قاصر ہیں جو ان کے مذہب کی عکاسی کرتے ہیں، اس لیے وہ غیر رجسٹرڈ روایتی مذہبی شادی کے معاہدوں کا سہارا لیتے ہیں’بہائی مذہب‘ کیا ہے اور قطر میں رہائی پانے والے اس کے رہنما کو سزا کیوں سنائی گئی تھی؟175 سالہ بہائی مذہب: امامِ غائب کے تصور سے جنم لینے والا ’خاموش عقیدہ‘ جو وحدت مذاہب کا پرچار کرتا ہے’میری بیوی سرکاری ریکارڈ سے غائب ہو گئی‘

احمد حلمی، ایک اور مصری بہائی، کو اپنے عرفی نکاح کو ثابت کرنے اور اپنے دو بچوں کے پیدائشی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں کئی سال لگے۔ تقریباً 15 سال بعد، خاندانی عدالت نے نکاح کو درست قرار دیا، مگر تقریباً تین سال قبل ان کے نکاح کی تفصیلات دوبارہ سرکاری کاغذات سے غائب ہو گئیں۔

مصر میں بہائی اپنے مذہب کے ساتھ نکاح کے معاہدے رجسٹر نہیں کر سکتے، اس لیے وہ مذہبی مگر غیر رجسٹرڈ عرفی نکاح کا سہارا لیتے ہیں، جس پر دونوں خاندانوں کے افراد دستخط کرتے ہیں، اور پھر عدالت کے ذریعے اسے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ان میں سے بہت سے لوگ نکاح کی توثیق کے لیے بیرون ملک سفر کرتے ہیں، جیسا کہ احمد نے کیا، جہاں انھوں نے 2004 میں نکاح کے بعد اسے رجسٹر کرانے کے لیے تیونس کا سفر کیا۔

لیکن احمد، جو بیرون ملک رہ رہے تھے، 2020 تک مصر میں اپنی شادی کو ثابت نہیں کر سکے، جب انھوں نے عدالت سے رجوع کیا اور نکاح کی تصدیق کا ابتدائی حکم حاصل کیا۔ وہ سرکاری نکاح سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے، مگر 2023 سے دوبارہ ان کے خاندان کی تفصیلات سرکاری ریکارڈ سے غائب ہونے لگیں۔

حلمی نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ’جب میں نے سنا کہ شناختی کارڈ کی تجدید کے وقت کئی بہائی خاندانوں کے ساتھ کیا ہوا، تو میں نے یہ یقینی بنانے کے لیے تلاش شروع کی کہ میری فیملی اب بھی سرکاری ریکارڈ میں موجود ہے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں ’جب میں مصر ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے اپنی فیملی کو تلاش کرتا ہوں تو وہ ظاہر نہیں ہوتی، کچھ وقت بعد صرف میرے بچوں کے نام ظاہر ہوئے، لیکن بیوی کا نام موجود نہیں تھا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’کسی نے میری بیوی کا نام ریکارڈ سے ہٹا دیا ہے۔‘

’مصر ڈیجیٹل پورٹل‘ مصری حکومت کے سرکاری پلیٹ فارمز میں سے ایک ہے، جس کے ذریعے شہری بعض سرکاری دستاویزات حاصل کر سکتے ہیں اور مختلف حکومتی خدمات تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔

BBCمصر میں بہائیوں نے بہائی عقیدے کو بطور مذہب ثابت کرنے والی سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے کئی قانونی لڑائیاں لڑی ہیں۔جاری قانونی تنازعات

گذشتہ بیس برسوں کے دوران، مصر میں بہائی افراد نے ایسی سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے کئی عدالتی تنازعات لڑے ہیں جن میں بہائیت کو مذہب کے طور پر تسلیم کیا جائے، جن میں سب سے نمایاں 2009 کا فیصلہ تھا، جب عدالت نے انہیں ایسے شناختی کارڈ جاری کرنے کی اجازت دی جن میں مذہب کے خانے میں صرف ایک ڈیش درج کیا جاتا ہے۔

اس فیصلے کو اس وقت ایک کامیابی سمجھا گیا، لیکن شادی کے معاہدوں کی توثیق اور سرکاری دستاویزات کے اجرا سے انکار کے حوالے سے شکایات جاری رہیں۔ تاہم، اس ماہ جاری ہونے والے عدالتِ نقض کے حتمی فیصلے میں کہا گیا کہ بہائیت کو کسی بھی سرکاری دستاویز میں مذہب کے طور پر درج کرنا جائز نہیں۔ اسی طرح، مصری حکومت بہائیوں کے لیے تدفین کے لیے زمین مختص کرنے سے بھی انکار کرتی ہے، سوائے قاہرہ کے علاقے البساتین میں ایک قبرستان کے۔

بہائی مصنفہ سوسن حسنی کہتی ہیں کہ ’بہائیوں میں اس وقت عمومی احساس کچھ بے چینی اور عدم اطمینان کا ہے، اور ہم ہمیشہ سرکاری اداروں تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ کوئی حل نکالا جا سکے، کیونکہ ہم بہ حیثیت بہائی قانون کے پابند ہیں۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ ’جب شناختی کارڈز میں ڈیش درج کرنے کی اجازت کا فیصلہ موجود ہے، تو لازماً ایسا قانون ہونا چاہیے جو اس ڈیش کو منظم کرے، اور معاملات کو اس طرح بے ترتیب حالت میں نہیں چھوڑنا چاہیے۔‘

’حاصل شدہ فوائد کا خاتمہ‘

وبی بی سی سے بات کرتے ہوئے، مصری انیشی ایٹو فار پرسنل رائٹس کی مذہبی امور کی افسر، مرینا سمیر نے کہا کہ مذہب کے بغیر شناختی کارڈ جاری کرنے کا حکم ’فائدہ کے طور پر اپنے معنی سے خالی ہو گیا ہے،۔

اور مزید کہتی ہیں کہ ’یہ فیصلہ اب امتیاز کے ایک آلے کے طور پر استعمال ہو رہا ہے، چاہے سماجی سطح پر ہو، جیسے بہائیوں کو ملازمت دینے سے انکار، یا سرکاری سطح پر۔‘

مارینا وضاحت کرتی ہیں کہ شادی کے معاہدوں کا بحران 2017 سے جاری ہے، اور بہت سے بہائی خاندان اپنے نکاح کے معاہدوں کی تصدیق کے لیے خاندانی عدالت سے رجوع کر چکے ہیں۔

ان میں سے کچھ کو نکاح کی تصدیق کے احکامات ملے، جن کے فیصلوں کی بنیاد امام ابو حنیفہ کے فقہی اصولوں کے مطابق نکاح کی شرائط پوری ہونے پر رکھی گئی، جو 2000 کے عائلی قوانین پر مبنی تھے، جبکہ دیگر عدالتوں نے ان معاہدوں کی توثیق سے انکار کر دیا۔

محققہ کہتی ہیں کہ ’عدالت کی جانب سے نکاح کے معاہدوں کی تصدیق اس حقیقت کو پیدا نہیں کرتی، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ افراد پہلے سے شادی شدہ ہیں، لیکن قانونی طور پر اس کی تصدیق ان کے حقوق کو محفوظ بناتی ہے‘ اور وہ وضاحت کرتی ہیں کہ نکاح کے عدم ثبوت کا اثر وراثت، پنشن اور صحت بیمہ میں اندراج، بینکوں اور اسکولوں میں بطور میاں بیوی معاملات، اور غیر مصری شریکِ حیات رکھنے والے بعض بہائی جوڑوں کے لیے قانونی رہائش کے دستاویزات حاصل کرنے اور بچوں کو شہریت دلوانے جیسے امور پر بھی پڑتا ہے۔

بہائی کیا ہے؟

بہائیت خدا کی وحدانیت، تمام ادیان کی وحدت اور پوری انسانیت کی وحدت پر زور دیتی ہے، اور یہ مانتی ہے کہ ’موسٰی، عیسیٰ، محمد، بدھ اور بہاء اللہ جیسے انبیاء ’مظاہرِ الٰہی‘ ہیں جو تاریخ کے مختلف ادوار میں انسانیت کی رہنمائی کے لیے ظاہر ہوتے ہیں۔‘

بہائی اپنے مذہبی اعمال اور عبادات، جیسے نماز اور مناجات، انفرادی طور پر یا نجی اجتماعات میں انجام دیتے ہیں، اور ان کے پاس مساجد یا گرجا گھروں کی طرح باقاعدہ عبادت گاہیں نہیں ہوتی۔

بہائیوں کی سب سے بڑی تعداد انڈیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں پائی جاتی ہے، جبکہ امریکہ اور کینیڈا میں بھی ان کی قابلِ ذکر موجودگی ہے۔

مصر میں بہائیت کی تاریخ 1868 تک جاتی ہے، جب انیسویں صدی کی ساٹھ کی دہائی میں ایرانی مہاجرین اور قالین کے تاجروں کے ذریعے اس کی تبلیغ شروع ہوئی۔

مصر میں بہائیوں کی تعداد کا کوئی سرکاری اندازہ موجود نہیں ہے، تاہم امریکی محکمہ خارجہ نے 2005 کی مذہبی آزادی کی رپورٹ میں ان کی تعداد ایک ہزار سے دو ہزار کے درمیان بتائی ہے۔

175 سالہ بہائی مذہب: امامِ غائب کے تصور سے جنم لینے والا ’خاموش عقیدہ‘ جو وحدت مذاہب کا پرچار کرتا ہے’بہائی مذہب‘ کیا ہے اور قطر میں رہائی پانے والے اس کے رہنما کو سزا کیوں سنائی گئی تھی؟‘ہمیں اپنے مردے دفن کرنے کے لیے جگہ دیں`‘ہمیں اپنے مردے دفن کرنے کے لیے جگہ دیں`احساسِ کمتری میں مبتلا اقلیتی برادری: ’تم بھی بڑے ہو کر جھاڑو ہی اٹھاؤ گے‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More