Getty Images
آپ کے وزن اور چہرے کے تاثرات سے لے کر آپ کی منزل تک، جدید گاڑیاں آپ کے بارے میں حیران کن حد تک معلومات جمع کرتی ہیں۔
ان میں سے کچھ معلومات تو آپ کے انشورنس کے اخراجات میں بھی اضافہ کر سکتی ہیں۔ تاہم، آپ کچھ آسان اقدامات کر کے اس بات کو محدود کر سکتے ہیں کہ وہ آپ کے بارے میں کتنی معلومات جمعکریں۔
ایک وقت تھا جب گاڑیاں آزادی کی علامت سمجھی جاتی تھیں۔ مجھے پہلی بار اپنے خاندان کی پرانی ٹویوٹا کی چابیاں ملیں، تو وہ ایک اہم مرحلہ تھا، یہ اس بات کی نشانی تھی کہ میں اب والدین کی نگرانی سے نکل کر ایک ایسی دنیا میں قدم رکھ رہا ہوں جہاں وقت اور فیصلے میرے اپنے ہیں۔
مگر اب حالات بدل چکے ہیں۔
آج کل کی گاڑیاں دراصل پہیوں پر چلنے والے کمپیوٹرز ہیں، اور بڑی کمپنیاں ان کے ذریعے آپ کی ذاتی زندگی کی چھوٹی چھوٹی معلومات جمع کر کے منافع کما رہی ہیں۔
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ڈرائیونگ آپ کو تنہائی اور آزادی دیتی ہے، تو دوبارہ سوچ لیجیے۔ اور ایسا لگ رہا ہے کہ یہ صورتحال مزید خراب ہونے والی ہے۔
اگر آپ کار کمپنیوں کی پرائیویسی پالیسیز کا بغور جائزہ لیں، تو وہ خود یہ بات تسلیم کرتی ہیں۔ وہ جو معلومات اکٹھی کرتی ہیں، ان میں آپ کی درست لوکیشن، آپ کہاں جاتے ہیں، گاڑی میں آپ کے ساتھ کون ہے، کیا سن رہے ہیں، اور کیا آپ سیٹ بیلٹ باندھتے ہیں یا نہیں، یہاں تک کہ آپ کتنی تیزی سے گاڑی چلاتے ہیں یا کتنی زور سے بریک لگاتے ہیں۔۔۔ سب شامل ہو سکتا ہے۔
کچھ گاڑیاں تو ایسی معلومات بھی جمع کرتی ہیں جن کا آپ نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا، جیسے آپ کا وزن، عمر، نسل، اور چہرے کے تاثرات۔ کیا آپ ناک صاف کرتے ہیں؟
کچھ گاڑیوں میں اندرونی کیمرے لگے ہوتے ہیں جو ڈرائیور پر نظر رکھتے ہیں۔ اور زیادہ تر گاڑیاں انٹرنیٹ سے منسلک ہوتی ہیں جو یہ تمام ڈیٹا آپ کی لاعلمی میں منتقل کرتی رہتی ہیں۔
یہ صرف رازداری کا مسئلہ نہیں، یہ آپ کے مالی معاملات کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
انشورنس کمپنیاں گاڑیوں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی بڑی خریدار ہوتی ہیں اور اس کی بنیاد پر کچھ لوگوں سے زیادہ رقم وصول کرتی ہیں۔ اور یہ بھی واضح نہیں کہ آپ کی معلومات کہاں جا رہی ہیں۔
کچھ کار کمپنیاں تسلیم کرتی ہیں کہ وہ آپ کا ڈیٹا فروخت کرتی ہیں، لیکن یہ نہیں بتاتیں کہ خریدار کون ہے۔
اس کے علاوہ، یہ سب کچھ حد تک خوفناک بھی محسوس ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، زیادہ تر صارفین کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں کہ یہ سب ہو رہا ہے۔
Getty Images
واشنگٹن ڈی سی میں بروکنگز انسٹیٹیوٹ کے سینئر فیلو ڈیریل ویسٹ کہتے ہیں کہ ’لوگ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ ان کی گاڑی کتنے قسم کے ڈیٹا پوائنٹس جمع کرتی ہے اور انھیں دوسروں تک پہنچاتی ہے، چاہے وہ گاڑی بنانے والی کمپنی ہو یا تیسری پارٹی کی ایپلی کیشنز‘
’اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی زندگی کو تقریباً ہر لمحے کے حساب سے دوبارہ ترتیب دیا جا سکتا ہے۔‘
کیا اب آپ کو بے چینی محسوس ہو رہی ہے؟
امریکہ میں ایک وفاقی قانون جلد ہی اس ڈیٹا کی مقدار میں اضافہ کرنے والا ہے جو آپ کی گاڑی آپ کے بارے میں جمع کر سکتی ہے۔ جلد ہی امریکی کار کمپنیوں کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ گاڑیوں میں انفرا ریڈ بایومیٹرک کیمرے اور دیگر نظام نصب کریں، جو آپ کی جسمانی حرکات، آنکھوں کی حرکت اور رویے کے مختلف پہلوؤں کو مانیٹر کریں گے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آپ نشے میں ہیں یا ڈرائیونگ کے لیے بہت زیادہ تھکے ہوئے ہیں۔
تاہم، اس کے ساتھ ہی یہ آپ کی صحت اور عادات سے متعلق ایک بالکل نیا اور وسیع ڈیٹا بھی جمع کرے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ اس معلومات کے استعمال پر کار کمپنیوں کے لیے کوئی واضح پابندیاں موجود نہیں ہیں۔
یقیناً اس کے کچھ فوائد بھی ہیں۔ انٹرنیٹ سے منسلک گاڑیاں زیادہ سہولت فراہم کر سکتی ہیں، اور ان میں موجود سینسرز ڈرائیونگ کو محفوظ اور آرام دہ بنا سکتے ہیں۔ انشورنس کمپنیاں بھی ممکن ہے کہ آپ کو کم فیس چارج کریں اگر وہ آپ کو ایک اچھا ڈرائیور سمجھیں۔
لیکن چونکہ آٹو موبائل کمپنیاں اپنے ڈیٹا کے دائرے کو مزید وسیع کرنے جا رہی ہیں، اس لیے یہ ایک نہایت اہم وقت ہے کہ ہم سمجھیں کہ گاڑی کے اندر درحقیقت کیا ہو رہا ہے اور اس کے آپ کی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایلون مسک: ’ٹیسلا کی کاروں پر چین کی جاسوسی ثابت ہو جائے تو کمپنی بند کردوں گا‘سی سی ٹی وی فوٹیج کے غلط استعمال کو روکنے کی استدعاواٹس ایپ تک کیسے پابندیوں کے باوجود کروڑوں لوگ خفیہ طریقوں سے رسائی حاصل کر رہے ہیں’اینڈروئڈ فون صارف کی لوکیشن گوگل کو بھیجتا ہے‘ڈیٹا کی سپر ہائی وے
اگر آپ کی گاڑی نسبتاً نئی بھی ہے تو بہت امکان ہے کہ وہ اس نظام کا حصہ ہو۔
کنسلٹنگ فرم مکینزی کے مطابق، 2021 میں سڑکوں پر موجود تقریباً 50 فیصد گاڑیاں انٹرنیٹ سے منسلک تھیں، اور اندازہ ہے کہ 2030 تک یہ تعداد بڑھ کر 95 فیصد ہو جائے گی۔
اگر آپ کی گاڑی انٹرنیٹ سے جڑی ہوئی ہے تو رازداری ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر آپ کو لازماً توجہ دینی چاہیے۔
کار کمپنیاں اس وقت بھی آپ کی نگرانی کر سکتی ہیں جب آپ اپنا فون گاڑی کے انفوٹینمنٹ سسٹم سے جوڑتے ہیں یا ڈرائیونگ سے متعلق مخصوص ایپس استعمال کرتے ہیں۔ کچھ ڈرائیور انشورنس کمپنیوں کے ٹیلی میٹرکس سسٹم بھی استعمال کرتے ہیں، جو ممکنہ رعایت کے بدلے آپ کی ڈرائیونگ عادات کی نگرانی کرتے ہیں۔
2023 میں فائر فاکس براؤزر بنانے والی کمپنی موزیلا نے 25 کار برانڈز کی پرائیویسی پالیسیز کا تجزیہ کیا۔
ہر ایک برانڈ موزیلا کے مقرر کردہ پرائیویسی اور سکیورٹی معیار پر پورا اترنے میں ناکام رہا۔ موزیلا کے مطابق، گاڑیاں ’رازداری کے حوالے سے اب تک کی سب سے خراب پروڈکٹ کیٹیگری‘ ثابت ہوئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، کار کمپنیاں یہ حق محفوظ رکھتی ہیں کہ وہ آپ کا نام، عمر، نسل، وزن، مالی معلومات، چہرے کے تاثرات، نفسیاتی رجحانات اور دیگر تفصیلات جمع کریں۔
مثال کے طور پر، کیا کی (Kia) کی پرائیویسی پالیسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی آپ کی ’جنسی زندگی‘ اور عمومی صحت سے متعلق معلومات بھی جمع کر سکتی ہے۔
تاہم، کیا کے ترجمان جیمز بیل کے مطابق کمپنی نے حقیقت میں کبھی بھی ڈرائیورز کی جنسی زندگی یا صحت سے متعلق معلومات جمع نہیں کیں۔
ان کے بقول یہ تفصیلات صرف اس لیے پالیسی میں شامل ہیں کیونکہ کمپنی کیلیفورنیا کی "حساس ڈیٹا" کی تعریف کو بیان کر رہی ہے۔
بیل کا کہنا ہے کہ کیا کی پرائیویسی پریکٹس شفاف ہیں اور کمپنی صرف اسی صورت میں انشورنس کمپنیوں کے ساتھ ڈیٹا شیئر کرتی ہے جب ڈرائیور خود اجازت دے۔ تاہم، کمپنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس قسم کا ’حساس ڈیٹا‘ جمع کرتی ہے۔
Getty Images
ان میں سے کچھ باتوں کا تصور کرنا شاید مشکل ہو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ گاڑیاں مختلف قسم کے سینسرز سے بھری ہوتی ہیں۔۔۔ سیٹوں میں، ڈیش بورڈ میں، انجن میں، سٹیئرنگ وہیل میں، اور تقریباً ہر جگہ۔
مثال کے طور پر، بہت سی گاڑیوں میں اندرونی اور بیرونی کیمرے موجود ہوتے ہیں۔ اگر آپ ایک جدید گاڑی کے اندر کوئی بھی کام کر رہے ہیں، تو غالب امکان ہے کہ کمپنیاں اس کے بارے میں جاننے کا کوئی نہ کوئی طریقہ رکھتی ہوں۔
موزیلا کی تحقیق کے مطابق 19 کار کمپنیوں نے یہ تسلیم کیا کہ وہ آپ کا ڈیٹا فروخت کر سکتی ہیں اور حقیقت میں ایسا ہو بھی رہا ہے۔
مثال کے طور پر، امریکہ میں ریاستی اور وفاقی اداروں نے جنرل موٹرز (GM) کے خلاف کارروائی کی کیونکہ اس پر الزام تھا کہ وہ صارفین کی اجازت کے بغیر گاڑیوں کی لوکیشن کا ڈیٹا فروخت کر رہی تھی۔
اسی طرح امریکی سینیٹرز نے ہونڈا اور ہنڈائی پر بھی ایسے ہی الزامات عائد کیے ہیں اور یہ صرف وہ مثالیں ہیں جن کے بارے میں عوام کو علم ہے۔
موزیلا کی کار ریسرچ کی سربراہی کرنے والی پرائیویسی ماہر جین کالٹریڈر کہتی ہیں کہ ’یہ کمپنیاں آپ کے بارے میں جمع کی گئی تمام معلومات جو کہ بہت زیادہ ہوتی ہیں، استعمال کرتے ہوئے یہ اندازہ لگاتی ہیں کہ آپ کون ہیں، آپ کی ذہانت کتنی ہے، آپ کی نفسیاتی پروفائل کیا ہے، اور یہاں تک کہ آپ کے سیاسی نظریات کیا ہیں۔‘
وہ مزید کہتی ہیں کہ ’یہ وہ پہلو ہیں جن کے بارے میں عام لوگ سوچتے بھی نہیں۔‘
کالٹریڈر کے مطابق، اس بات پر تقریباً کوئی واضح اصول یا قوانین موجود نہیں کہ یہ ڈیٹا کون خرید سکتا ہے یا اسے کس مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس معلومات کو آپ کو مختلف چیزوں کی تشہیر (مارکیٹنگ) کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، کمپنیاں اسے ملازمت کے فیصلوں میں بھی بروئے کار لا سکتی ہیں، اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی بعض اوقات بغیر وارنٹ کے کار کا ڈیٹا حاصل کر لیتے ہیں۔
ایک بار جب یہ معلومات آپ کی گاڑی سے باہر چلی جاتی ہے، تو پھر آپ کا اس بات پر کوئی کنٹرول نہیں رہتا کہ وہ کہاں پہنچتی ہے۔
Getty Imagesیہ صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے
یہ معاملہ صرف کمپنیوں کی جانب سے آپ کی ذاتی زندگی میں جھانکنے تک محدود نہیں ہے۔
مثال کے طور پر، جنرل موٹرز (GM) نے ڈرائیورز کی معلومات ایک کمپنی لیکسس نیکسس (LexisNexis) کو فروخت کی، جو ایک ڈیٹا بروکر ہے اور صارفین کے بارے میں معلومات خرید و فروخت کرتا ہے۔
ایک ڈرائیور نے جب اس ڈیٹا کی نقل حاصل کی تو انکشاف ہوا کہ لیکسس نیکسس کے پاس اس کے بارے میں 130 صفحات پر مشتمل معلومات موجود تھیں، جن میں چھ ماہ کے دوران اس اور اس کی بیوی کے ہر سفر کی تفصیل درج تھی۔
اس شخص نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ جب اس کی انشورنس کی لاگت میں 21 فیصد اضافہ ہوا تو ایک انشورنس ایجنٹ نے اسے بتایا کہ اس ڈیٹا نے اس اضافے میں کردار ادا کیا۔ لیکسس نیکسس نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن (FTC) نے اس پر کارروائی کی، جس کے نتیجے میں جنرل موٹرز کو پانچ سال کے لیے گاڑیوں کا ڈیٹا فروخت کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ تاہم، اس مدت کے بعد کمپنی دوبارہ یہ عمل شروع کر سکتی ہے، بشرطیکہ وہ ڈرائیورز کی واضح اجازت حاصل کرے اور دیگر شرائط پر عمل کرے۔ دوسری جانب، لیکسس نیکسس اور دیگر کمپنیاں اب بھی وہ گاڑیوں کا ڈیٹا فروخت کر رہی ہیں جو انھیں دیگر کار ساز کمپنیوں اور ڈرائیونگ ایپس سے حاصل ہوتا ہے۔ اس معاملے پر جنرل موٹرز اور لیکسس نیکسس نے بھی کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
انشورنس کمپنیوں، کار ساز اداروں اور ڈیٹا بروکرز کے درمیان اس نوعیت کے معاہدے کافی عام ہیں، اور جب تک یہ سب کچھ ان پرائیویسی پالیسیز میں درج ہوتا ہے جن سے آپ اتفاق کرتے ہیں، یہ قانونی طور پر جائز سمجھا جاتا ہے۔
کنزیومر فیڈریشن آف امریکہ سے تعلق رکھنے والے محقق مائیکل ڈی لونگ کے مطابق: "انشورنس کمپنیاں صارفین کا بے پناہ ڈیٹا جمع کر رہی ہیں، خاص طور پر ڈرائیونگ سے متعلق معلومات، اور اسے استعمال کر کے لوگوں سے زیادہ پریمیم وصول کرنے، کوریج سے انکار کرنے یا صارفین کو مختلف زمروں میں تقسیم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔"
کار کمپنیاں کہتی ہیں کہ وہ آپ کو ٹریک کرنے سے پہلے آپ کی اجازت حاصل کرتی ہیں۔ عملی طور پر، اس کا مطلب عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ جب آپ اپنی گاڑی کے انفوٹینمنٹ سسٹم یا اس سے منسلک ایپس سیٹ اپ کرتے ہیں، تو آپ فارم اور پرائیویسی پالیسیز سے اتفاق کرتے ہیں۔ کچھ گاڑیوں میں یہ پیغامات ہر بار انجن اسٹارٹ کرتے وقت ظاہر ہوتے ہیں۔ کیا آپ نے انہیں پڑھا؟ یقیناً نہیں۔
امریکہ میں قومی سطح پر کوئی جامع پرائیویسی قانون موجود نہیں ہے۔ مختلف ریاستوں میں کچھ حفاظتی قوانین ضرور ہیں، مگر وہ ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہیں اور ماہرین کے مطابق ناکافی ہیں۔
یورپ، بشمول برطانیہ، میں صورتحال کچھ بہتر ہے، جہاں حساس معلومات کے لیے خصوصی تحفظات موجود ہیں، اور صارفین کو اپنے ڈیٹا تک رسائی اور اسے حذف کروانے کے حقوق حاصل ہیں۔ تاہم، وہاں بھی یہ مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوا۔
جین کالٹریڈر کہتی ہیں کہ ’یورپ میں بھی لوگ پرائیویسی پالیسیز کے پابند ہیں۔ اور آپ کو یہ امید رکھنی پڑتی ہے کہ قوانین پر عمل بھی ہوگا اور ان کا نفاذ بھی، لیکن گاڑیوں کے معاملے میں ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا۔‘
یہ مسئلہ نیا نہیں ہے، لیکن اس بات کے واضح اشارے موجود ہیں کہ یہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ امریکی قانون کے مطابق، آنے والے چند سالوں میں کار ساز کمپنیوں کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ نئی مسافر گاڑیوں میں ’خراب ڈرائیونگ کی روک تھام کی جدید ٹیکنالوجی‘ نصب کریں۔
اس ٹیکنالوجی کا مقصد انفرا ریڈ کیمرے یا دیگر نظاموں کے ذریعے یہ یقینی بنانا ہے کہ اگر کوئی شخص نشے میں ہو، تھکا ہوا ہو یا ڈرائیونگ کے قابل نہ ہو تو وہ گاڑی نہ چلا سکے۔
مسئلہ یہ ہے، جیسا کہ جین کالٹریڈر اور دیگر ماہرین کا کہنا ہے، کہ اس قانون میں اس بات سے متعلق کوئی شق شامل نہیں کہ ان نظاموں کے ذریعے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا کیا ہوگا۔
امریکہ کی نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن (NHTSA)، جو اس قانون کے نفاذ کی ذمہ دار ہے، کے ترجمان کے مطابق، "ادارہ ہر ممکن ذریعہ استعمال کرتے ہوئے نشے کی حالت میں ڈرائیونگ سے ہونے والی اموات کو کم کرنے کے لیے پرعزم ہے‘، اور ادارہ رازداری جیسے ’اہم اور پیچیدہ مسائل‘ پر بھی کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
امکان ہے کہ اس قانون کا نفاذ تاخیر کا شکار ہو جائے کیونکہ ٹیکنالوجی ابھی مکمل طور پر تیار نہیں، مگر پرائیویسی کے حامی افراد پہلے ہی خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔
کالٹریڈر کہتی ہیں کہ ’ہمیں سڑکوں سے نشے میں ڈرائیورز کو ہٹانا ضروری ہے، اور یہ بہترین ہوگا اگر اس بات کی ضمانت ہو کہ ڈیٹا کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہو رہا۔‘
وہ مزید کہتی ہیں کہ گاڑیوں میں ڈیٹا جمع کرنے والی بہت سی نئی ٹیکنالوجیز کو ’محفوظ ڈرائیونگ‘ کے نام پر متعارف کروایا جا رہا ہے۔ اس سے آٹو انڈسٹری کو ایسی معلومات حاصل ہو سکتی ہیں جو دراصل طبی نوعیت کی ہوں، مگر ان کے تحفظ کے لیے کوئی مناسب نظام موجود نہ ہو۔
دیگر پرائیویسی مسائل کی طرح، گاڑیوں کے ڈیٹا کا مسئلہ بھی ایسا نہیں جسے مکمل طور پر ختم کیا جا سکے، تاہم آپ کچھ اقدامات ضرور کر سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر، مائیکل ڈی لونگ کے مطابق، ’اگر آپ کو اپنی رازداری کے بارے میں کوئی خدشہ ہے تو انشورنس کے ٹیلی میٹرکس پروگرام میں شامل نہ ہوں۔‘
ان کے مطابق اس کے خطرات خاصے زیادہ ہیں جبکہ فائدہ یقینی نہیں۔ میری لینڈ ریاست کی ایک تحقیق کے مطابق 31 فیصد ڈرائیورز کی انشورنس لاگت میں کمی آئی، مگر 24 فیصد کے اخراجات بڑھ گئے جبکہ 45 فیصد کے لیے کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
برطانیہ، یورپی یونین اور امریکہ کی کچھ ریاستوں میں آپ کو یہ حق حاصل ہے کہ آپ کمپنیوں سے اپنے بارے میں جمع شدہ ڈیٹا کی کاپی طلب کریں، اس کے فروخت یا شیئر کیے جانے سے انکار کریں، اور یہاں تک کہ اسے حذف کرنے کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیں۔
کچھ کار کمپنیاں ایسے پرائیویسی سیٹنگز بھی فراہم کرتی ہیں جنہیں آپ تبدیل کر کے ڈیٹا کے جمع اور شیئر ہونے کو محدود کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے اپنی گاڑی کے انفوٹینمنٹ سسٹم اور متعلقہ موبائل ایپس کی سیٹنگز چیک کریں۔ کنزیومر رپورٹس نے اس حوالے سے ایک مفصل گائیڈ بھی جاری کی ہے جو مزید رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
کالٹریڈر کے مطابق یہ اقدامات مددگار تو ہو سکتے ہیں، لیکن یہ صارف کی ذمہ داری نہیں ہونی چاہیے کہ وہ اپنی پرائیویسی کے تحفظ کے لیے اتنی محنت کرے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’جب تک پورا نظام تبدیل نہیں ہوتا، جب تک ہم اپنے ڈیٹا کے مالک نہیں بنتے اور اس پر ہمارا کنٹرول نہیں ہوتا، اور جب تک کمپنیاں اسے استعمال کرنے سے پہلے ہم سے اجازت لینے کی پابند نہیں ہوتیں، تب تک یہ مسئلہ مزید سنگین ہوتا جائے گا۔‘
عالمی آٹو انڈسٹری پر غلبہ حاصل کرتی چین کی ’سستی اور بہتر‘ الیکٹرک گاڑیاں، مگر مغربی دنیا اِن سے خوفزدہ کیوں ہے؟ایلون مسک: ’ٹیسلا کی کاروں پر چین کی جاسوسی ثابت ہو جائے تو کمپنی بند کردوں گا‘’جب آپ نیٹ فلکس دیکھتے ہیں تو نیٹ فلکس آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے‘: امریکہ میں سٹریمنگ کمپنی پر جاسوسی کا الزام’اینڈروئڈ فون صارف کی لوکیشن گوگل کو بھیجتا ہے‘واٹس ایپ تک کیسے پابندیوں کے باوجود کروڑوں لوگ خفیہ طریقوں سے رسائی حاصل کر رہے ہیںسی سی ٹی وی فوٹیج کے غلط استعمال کو روکنے کی استدعا