اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے الزام عائد کیا ہے کہ کئی ممالک بوٹ فارمز اور جعلی پتوں (ایڈریس) کے ذریعے منظم انداز میں سوشل میڈیا کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اِس حکمت عملی کا مقصد امریکی عوام میں اسرائیل کی حمایت کو کمزور کرنا اور امریکہ، اسرائیل اتحاد کو نقصان پہنچانا ہے۔
اس کی مثال دیتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ ’آپ اس نوعیت کا ٹیکسٹ میسج سُنتے ہیں کہ میں ٹیکساس (امریکہ) سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں نے ہمیشہ اسرائیل کو سپورٹ کیا، لیکن اب میں اُن (اسرائیل) کے اقدامات سے سخت ناخوش ہوں اور اسرائیل کے خلاف ہو رہا ہوں۔‘
نتن یاہو نے کہا کہ جب اس پیغام کی حقیقت جانچنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اِس کا ایڈریس ’پاکستان کی کسی بیسمنٹ‘ (تہہ خانہ) کا نکلتا ہے۔
پاکستان نے تاحال اسرائیلی وزیر اعظم کے اس دعوے پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے یہ دعویٰ بی بی سی کے امریکہ میں پارٹنر ادارے ’سی بی ایس نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا ہے۔
پروگرام ’60 منٹس‘ کے میزبان میجر گیرٹ نے نتن یاہو سے سوال کیا کہ امریکہ میں نوجوان صارفین سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز سے متاثر ہو رہے ہیں اور نتیجتاً، بہت سے نوجوان سخت مؤقف اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں اور اسرائیل کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے بعض اوقات انھیں ’غیر مہذب‘ یا ’وحشیانہ‘ جیسے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں، خصوصاً غزہ اور لبنان کے حوالے سے۔
میجر گیرٹ نے استفسار کیا کہ اس پس منظر میں یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ آیا اسرائیل سوشل میڈیا کے اس میدان میں اپنی پوزیشن کھو رہا ہے، اور کیا رائے عامہ کی اس جنگ میں اسے واقعی چیلنجز کا سامنا ہے؟
اس سوال کا براہ راست جواب دینے سے قبل نتن یاہو نے چند تمہیدی جملے کہے۔
انھوں نے کہا کہ غزہ اور لبنان میں عام شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے گئے، لاکھوں افراد کو متنبہ کرنے کے لیے انھیں ٹیکسٹ پیغامات بھیجے گئے، فون کالز کی گئیں اور پمفلٹس و اشتہاری مواد تقسیم کیا گیا تاکہ وہ محفوظ علاقوں کی جانب منتقل ہو جائیں جبکہ حماس اور حزباللہ نہ صرف اپنے شہریوں کو خطرے سے دور نہیں کرتے بلکہ بعض مواقع پر انھیں جان بوجھ کر خطرے میں رکھتے ہیں۔
Getty Images
نتن یاہو کا مزید کہنا تھا کہ ان حالات کے باوجود شہری ہلاکتیں ناگزیر طور پر پیش آتی ہیں، تاہم جدید شہری جنگوں کی تاریخ میں عام شہریوں اور جنگجوؤں کے درمیان ہلاکتوں کا تناسب نسبتاً کم ترین سطح پر ہے۔ کسی بھی صورتحال کو 'نسل کشی' قرار دینے کے لیے ایک پیمانہ یہ بھی ہوتا ہے کہ جنگجو اور غیرجنگجو ہلاکتوں کا تناسب کیا ہے، اور ان کے مطابق یہ تناسب موجودہ تنازع میں جدید شہری جنگوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہے، جس کی وجہ انھوں نے اسرائیل کی جانب سے احتیاطی اقدامات کو قرار دیا۔
اس کے بعد بات کو آگے بڑھاتے ہوئے، نتن یاہو نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بننے والا تاثر ان تمام (اسرائیلی) کوششوں کو پش پشت ڈال دیتا ہے۔
’دوسرے الفاظ میں ہم نے امریکہ میں اسرائیل کے لیے حمایت میں گراوٹ دیکھی ہے، یہ رجحان (گراوٹ) تقریباً اسی رفتار سے بڑھا ہے جس رفتار سے سوشل میڈیا کا پھیلاؤ ہوا ہے۔ بہت سے ممالک ہیں جنھوں نے بوٹ فارمز اور جعلی پتوں (ایڈریسز) کے ذریعے امریکی عوام میں اسرائیل کے لیے ہمدردی کو کمزور کرنے اور امریکہ، اسرائیل اتحاد کو توڑنے کی کوشش کی گئی، کیونکہ یہ ممالک سمجھتے ہیں یہ اُن کے مفاد میں ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اس حکمتِ عملی کو نہایت چالاکی سے بروئے کار لایا جاتا ہے۔
اس کی مثال دیتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ ’آپ اس نوعیت کا ٹیکسٹ میسج سُنتے ہیں کہ میں ٹیکساس (امریکہ) سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں نے ہمیشہ اسرائیل کو سپورٹ کیا، لیکن اب میں اُن (اسرائیل) کے اقدامات سے سخت ناخوش ہوں اور اسرائیل کے خلاف ہو رہا ہوں۔‘
نتن یاہو کہتے ہیں کہ جب اس پیغام کی حقیقت جانچنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کا ایڈریس پاکستان کی کسی بیسمنٹ (تہہ خانہ) کا نکلتا ہے۔
نتن یاہو نے مزید کہا کہ یہ وہ چیز ہے جو ہمیں شدید نقصان پہنچاتی ہے۔
’جب ہم سات محاذوں پر میں روایتی فوجی جنگ لڑ رہے تھے، تو ہم آٹھویں محاذ پر مکمل طور پر غیر محفوظ تھے، جو میڈیا کی جنگ تھی، دراصل سوشل میڈیا کی جنگ۔‘
’اور آپ جانتے ہیں، ہم مصروف رہے ہیں۔ اس لیے ہم یہ نہیں دیکھ سکے کہ جب وہ ہم پر ایف 35 کے برابر حملے کر رہے ہیں، تو ہم ان کا مقابلہ پولش گھڑ سواروں کی فوج کے ساتھ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
’تو میرا خیال ہے کہ ہمیں اس محاذ پر بھی شامل ہونا ہو گا، سینسرشپ کے ذریعے نہیں بلکہ ایسے طریقے تلاش کر کے جو جمہوریتوں کے لیے قابلِ اطلاق ہوں۔ ہم وہ نہیں کر سکتے جو یہ آمرانہ حکومتیں کرتی ہیں، لیکن ایسے طریقے تلاش کرنا ہوں گے جن سے سوشل میڈیا پر نوجوان امریکیوں کے دل و دماغ کی جنگ لڑی جا سکے۔ اور یہ ہمیں کرنا ہو گا۔ بالکل۔ ہمیں ایک مسئلہ درپیش ہے۔ میں اسے تسلیم کرتا ہوں اور ہمیں اپنے معاملات درست کرنے ہوں گے۔‘
اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جو بھی ایسا کر رہے ہیں ’وہ صرف اسرائیل پر حملہ نہیں کر رہے، وہ امریکہ پر حملہ کر رہے ہیں، وہ امریکہ کے اندر دراڑیں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ صرف امریکہ اور اسرائیل کے درمیان نہیں، بلکہ امریکیوں اور امریکیوں کے درمیان بھی۔‘
اس موقع پر پروگرام کے میزبان نے وضاحت کے لیے پوچھا کہ کیا اسرائیلی وزیر اعظم غیر ملکی حکومتوں کے تحت کام کرنے والے بوٹ فارمز کی بات کر رہے ہیں؟ نتن یاہو کا جواب تھا: ’بہت بڑے (بوٹ فارمز)، وہ آپ کی یونیورسٹیوں اور تعلیمی نصاب تک پہنچ رہے ہیں، ہر طرح کے طریقے استعمال کر رہے ہیں۔‘
’پاکستان پر بھروسہ نہیں کر سکتے‘: جنگ بندی کے لیے اسلام آباد کی کوششوں پر اسرائیل سے اُٹھتی آوازیںپاکستانی اور اسرائیلی مندوبین میں تکرار، نیتن یاہو کے پیغام میں پاکستان کے ذکر کی گونج سلامتی کونسل میںٹرمپ کو چھت سے اُتارنے کے بدلے پاکستان کو کیا انعام ملے گا؟حملوں کی تصاویر پر پابندی اور فوج کی منظوری سے رپورٹنگ: اسرائیل، ایران اور خلیجی ریاستیں میڈیا اور انٹرنیٹ کو کیسے کنٹرول کر رہی ہیں؟
امریکہ کے محکمۂ انصاف نے جولائی 2024 میں اپنی ایک پریس ریلیز میں بوٹ فارمز کی تعریف کچھ یوں کی تھی کہ ’بوٹ فارم ایک ایسا جدید سافٹ ویئر پیکیج ہوتا ہے جس کے ذریعے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جعلی اکاؤنٹ بنائے جا سکتے ہیں۔ ان بوٹ فارمز کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ان میں مصنوعی ذہانت شامل کی جاتی ہے، جیسا کہ تصاویر تیار کرنے یا خود کار طور پر متن تخلیق کرنے کی صلاحیت۔‘
سادہ الفاظ میں بیان کیا جائے تو بوٹ فارم ایسے منظم نیٹ ورکس کو کہا جاتا ہے جہاں ہزاروں جعلی یا خود کار سوشل میڈیا اکاؤنٹس (جنھیں بوٹس کہا جاتا ہے) ایک ساتھ، ایک ہی ہدایت کے تحت کام کرتے ہیں تاکہ کسی خاص خبر، خیال، ہیش ٹیگ یا بیانیے کو مصنوعی طور پر مقبول دکھایا جا سکے۔
Getty Imagesاسرائیلی وزیر اعظم نے مزید کیا کہا؟
لگ بھگ ایک گھنٹے پر محیط اس انٹرویو کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اہم اہداف حاصل ہونے کے باوجود ایران کے ساتھ جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی کیونکہ اس کا جوہری مواد ابھی موجود ہے اور ’اس کی یورینیم افزودہ کرنے والی تنصیبات بھی ابھی ختم کی جانی ہیں۔‘
اسرائیلی وزیر اعظم نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس وقت ایران کی حکومت سنہ 1979 کے بعد سب سے کمزور حالت میں ہے۔
انھوں نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائی اور غزہ میں حماس کو غیر مسلح کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
بنیامین نیتن یاہو کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ایران میں حکومت ختم ہوتی ہے تو اس کے بنائے پراکسی نیٹ ورکس حماس، حزب اللہ اور حوثیوں کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔
پروگرام 60 منٹ کے میزبان میجر گیرٹ نے اپنے سوالات کے دوران امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کا حوالہ دیا، جس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے حالات سازگار ہیں اور امریکہ، اسرائیل کے مشترکہ حملے کے نتیجے میں وہاں کی حکومت ختم ہو سکتی ہے۔
بنیامین نیتن یاہو نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کی یقین دہانی نہیں کرائی تھی بلکہ ’ہم دونوں (یعنی اسرائیل اور امریکہ) نے اتفاق کیا تھا کہ صورتحال غیر واضح ہے اور خطرہ موجود ہے۔‘
اسرائیل امریکہ سے ہر سال 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد لیتا ہے، انٹرویو میں اسرائیلی وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ وہ اس امداد کو کم کر کے 'صفر' پر لے جانا چاہتے ہیں۔
’پاکستان پر بھروسہ نہیں کر سکتے‘: جنگ بندی کے لیے اسلام آباد کی کوششوں پر اسرائیل سے اُٹھتی آوازیں’اسرائیل دہشتگردوں کے خلاف اپنا دفاع کرے گا‘: پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے بیان پر اسرائیل کا ردِعملایرانی سفارت خانوں نے دورانِ جنگ ’ایکس‘ کو ہتھیار کیسے بنایا؟ایران جنگ اور لیگو: بی بی سی کو پروپیگنڈا ویڈیوز بنانے والے ایرانی شہری نے کیا بتایا؟امریکہ اور ایران کے درمیان پانچ بڑے اختلافات کیا ہیں؟’اگر وہ زندہ ہیں تو ہم انھیں مار دیں گے‘: نیتن یاہو کی ویڈیو میں ’چھ انگلیاں‘، موت کی افواہیں اور تہران کی دھمکی