’میں کسی سے کم نہیں ہوں‘: بورڈ امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے دماغی فالج کے شکار فیضان جو کبھی سکول نہ جا سکے

بی بی سی اردو  |  May 09, 2026

Sartaj Alam/BBCمحمد فیضان اللہ بچپن سے دماغی فالج کے مرض میں مبتلا ہیں جس کی وجہ سے ان کے ہاتھوں اور دیگر اعضاء کے پٹھے زیادہ فعال نہیں ہیں

سیریبرل پالسی (دماغی فالج) سے متاثر محمد فیضان اللہ کے دسویں جماعت کے بورڈ امتحان کے نتائج آنے پر سامنے آنے والی ایک ویڈیو نے سوشل میڈیا صارفین کے دل چھو لیے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فیضان دانتوں میں قلم دبا کر کاغذ پر لکھ رہے ہیں۔

فیضان اللہ بچپن سے ہی سیریبرل پالسی کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے ان کے ہاتھ اور پاؤں کام نہیں کرتے۔ اس کے باوجود خود اُن کے عزم، خاندان کی حوصلہ افزائی اور استاد کی رہنمائی نے انہیں تعلیم کے سفر سے جڑے رکھا۔

انڈین ریاست جھارکھنڈ کے ضلع گوڈا سے تعلق رکھنے والے فیضان اللہ نے دسویں جماعت کے بورڈ امتحان میں 93 فیصد سے زائد نمبر حاصل کر کے معذور افراد کے زمرے میں ٹاپ کیا۔ اگرچہ قواعد کے مطابق انھیں امتحان میں ایک رائٹر (لکھنے والے معاون) کی سہولت حاصل تھی، مگر اس کے باوجود انھوں نے زیادہ تر پرچے خود ہی لکھے۔

اپنی جسمانی معذوری کے باعث فیضان کبھی باقاعدہ طور پر سکول کی کلاسوں میں نہیں پڑھ سکے، تاہم گھر پر تعلیم حاصل کرتے رہے۔ بی بی سی نیوز ہندی سے گفتگو میں محمد فیضان اللہ نے کہا: ’میں کبھی سکول نہیں جا سکا۔ اب مجھے اس بات کا کوئی ملال نہیں، کیونکہ میرے نمبر خود ثابت کرتے ہیں کہ کم از کم تعلیم کے معاملے میں میں عام بچوں سے کم نہیں ہوں۔‘

پیدائش سے شروع ہونے والی مشکلات

فیضان اللہ کی زندگی میں مشکلات کا آغاز اُن کی پیدائش کے فوراً بعد ہی ہو گیا تھا۔ فیضان اللہ کا خاندان شیواجی نگر میں دو کمروں کے ایک گھر میں مقیم ہے۔ ان میں سے ایک چھوٹے کمرے کو دکان کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ دوسرے چھوٹے سے کمرے میں پورا خاندان رہائش پذیر ہے۔

خاندان کو فیضان اللہ کی بیماری کا احساس اس وقت ہوا جب وہ محض چھ ماہ کے تھے۔ ان کی دادی کو محسوس ہونے لگا تھا کہ بچے کے جسم میں بالکل بھی حرکت نہیں ہے۔ اُس وقت کو یاد کرتے ہوئے فیضان اللہ کے والد محمد انوار عالم غمگین لہجے میں کہتے ہیں: ’مقامی ڈاکٹر نے ہمیں بتایا کہ میرا بیٹا سیریبرل پالسی نامی بیماری سے متاثر ہے۔‘

محمد انوار عالم اس بیماری کے بارے میں بالکل ناواقف تھے، تاہم ڈاکٹر کی باتوں سے یہ واضح ہو گیا تھا کہ ان کے بیٹے فیضان اللہ پیدائش سے ہی ایک سنگین بیماری کا شکار ہیں۔ رشتہ داروں کے مشورے پر انوار عالم نے اپنے بیٹے کا علاج کولکتہ میں کروایا، مگر کوئی نمایاں بہتری نظر نہیں آئی۔

اس حوالے سے فیضان اللہ کی والدہ ناظمہ کہتی ہیں کہ ان کے لیے امید کی پہلی کرن اس وقت نظر آئی جب فیضان اللہ کسی دوسرے صحت مند بچے کی طرح مناسب عمر میں بولنے لگے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’فیضان نہ خود سے ہل سکتے تھے، نہ اٹھ سکتے تھے اور نہ ہی بیٹھ سکتے تھے۔ عمر کے ساتھ بہتری کے نام پر بس وہ بات چیت کرنے لگے تھے۔ ان کا عام بچوں کی طرح بات کرنا ہمارے لیے مستقبل کی ایک امید بن گیا۔‘

فیضان اللہ کا بولنا ان کے والدین کے لیے واقعی ایک امید بن گیا، اور محمد انوار عالم نے پانچ سال کی عمر سے انھیں آہستہ آہستہ زبانی طور پر پڑھانا شروع کیا۔ محمد انوار ایک نجی مدرسے میں بطور استاد کام کرتے ہیں۔

انھوں نے گھر پر ہی فیضان اللہ کو اردو، عربی، ہندی، انگریزی اور ریاضی کی ابتدائی تعلیم زبانی طور پر دینی شروع کی۔

جب فیضان اللہ آٹھ سال کے ہوئے تو ان کا داخلہ مقامی پرائمری سکول میں کرا دیا گیا، لیکن ہاتھ پاؤں کے کام نہ کرنے کی وجہ سے وہ روزانہ سکول نہیں جا پاتے تھے۔

اس کے بعد گھر پر ہی ایک مقامی استاد عادل حسین نے انھیں تعلیم دینا شروع کی۔

بطور استاد محمد انوار عالم بخوبی جانتے تھے کہ صرف زبانی تعلیم کافی نہیں ہوتی، مگر متعدد کوششوں کے باوجود وہ فیضان اللہ کو لکھنا سکھانے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے تھے۔

وہ بتاتے ہیں: ’جب فیضان اللہ کا داخلہ چھٹی جماعت میں اعلیٰ اُتکرمِت ودیالیہ، شیواجی نگر میں ہوا تو استاد جتیندر کمار بھگت ہمارے لیے کسی فرشتے سے کم ثابت نہیں ہوئے۔‘

قوت سماعت سے محروم ڈاکٹر: ’کہا جاتا تھا کہ میں آلہ سماعت کی آڑ میں نقل کرتی ہوں‘’معذوری ہی زندگی نہیں، زندگی کا حصہ ہے‘دونوں ٹانگوں اور ایک بازو سے محروم محمد حسنین جنھوں نے پنجاب پولیس میں شامل ہونے کا اپنا خوابپورا کیا’ڈاکٹروں نے کہا اس کے ہاتھ، پیر نہیں اسے پیٹ میں ہی ضائع کروا دیں‘Sartaj Alam/BBCفیضان اللہ اپنے والدین کے ساتھمنھ سے لکھنے کی مشق

دراصل جھارکھنڈ شکشا پریوجنا کے تحت پرکھنڈ وسائل مرکز، گوڈا میں معذور بچوں کو تعلیم دینے کے لیے خصوصی تعلیمی ماہر کے طور پر استاد جتیندر کمار بھگت کی تقرری ہوئی تھی۔

جتیندر کمار بھگت کہتے ہیں کہ ’جب مجھے معلوم ہوا کہ فیضان اللہ سکول کیوں نہیں آ پاتے، تو میں خود ان کے گھر چلا گیا۔ فیضان اللہ کا آئی کیو لیول، خود اعتمادی اور مضبوط ارادہ دیکھ کر میں بے حد متاثر ہوا۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’میں نے اسی وقت ٹھان لیا کہ فیضان اللہ کو ہر حال میں تعلیم دوں گا، اور اسی عزم کے ساتھ میں نے انھیں گھر جا کر پڑھانا شروع کیا۔‘

ان کے مطابق، فیضان اللہ کا بالکل نہ لکھ پانا سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ آغاز میں انھوں نے قلم کو دھاگے سے باندھ کر لکھوانے کی کوشش کی، مگر وہ اس میں بار بار ناکام رہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’سال 2022 میں میں نے پہلی بار قلم فیضان اللہ کے منھ میں، دانتوں کے درمیان پکڑا کر لکیر کھنچوانے کی کوشش شروع کی۔‘

آہستہ آہستہ یہ کوشش کامیاب ہونے لگی۔ وقت کے ساتھ فیضان اللہ نہ صرف لکھنے کے قابل ہوتے گئے بلکہ ان کی لکھائی میں بھی واضح بہتری آتی چلی گئی۔

فیضان اللہ خود اس بارے میں کہتے ہیں کہ ’آٹھویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے میری لکھائی اتنی بہتر ہو گئی تھی کہ اگر دو کاپیوں کا موازنہ کیا جائے تو کوئی یہ فرق نہیں بتا سکتا کہ کون سی کاپی میری ہے اور کون سی کسی عام طالب علم کی۔‘

آٹھویں بورڈ کے امتحان میں سکول ٹاپر

استاد جتیندر کمار بھگت کی سخت محنت اور فیضان اللہ کی لگن کا نتیجہ یہ رہا کہ انھوں نے آٹھویں کی بورڈ امتحان اور نویں کے امتحان خود لکھ کر سکول کے ہر کیٹیگری کے طلبہ کے درمیان ٹاپر بن گئے۔

ان نتائج کے بعد فیضان اللہ کے بڑھے حوصلے کو اور تقویت تب ملی جب سال 2025 کے فروری میں انھوں نے ’تعلیم کی اہمیت‘ پر ضلع تعلیمی محکمہ کی جانب سے منعقد تقریری مقابلے میں پہلا مقام حاصل کیا اور انعام میں انھیں لیپ ٹاپ ملا۔

فیضان اللہ کہتے ہیں، ’میری انگلیاں ادھر اُدھر نہیں ہوتیں، لیکن میری دو انگلیاں ٹچ کر سکتی ہیں، جو لیپ ٹاپ کے کی بورڈ کو استعمال کرنے کے لیے کافی ہیں۔‘

ایسے میں لیپ ٹاپ ملنے کے بعد فیضان اللہ نے ایم ایس ایکسل، پاور پوائنٹ اور اے آئی کا استعمال کرنا بھی سیکھ لیا۔

اب ان کی پڑھائی میں ٹیکنالوجی کی مدد ملنی شروع ہوئی۔

اس بارے میں وہ کہتے ہیں، ’میں این سی ای آر ٹی کے ہر ایک باب کی پی ڈی ایف کو چیٹ جی پی ٹی پر اپ لوڈ کر پرومپٹ دیتا کہ اس سے جڑے تمام سوالات فراہم کریں۔ پھر میں ان سوالات کو خود ہی حل کرتا۔‘

اس بارے میں ان کے استاد کہتے ہیں، ’یہ کچھ ایسا طریقہ نکلا جس سے وہ روز بروز آگے بڑھتا گیا۔‘

کچھ اس طرح تیاری کر فیضان اللہ کو دسویں جماعت کے دوران یہ احساس ہونے لگا کہ وہ بورڈ امتحان اچھے نمبر سے پاس کر سکتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں، ’جتیندر سر مسلسل ریویژن پر زور دیتے اور یاد کیے ہوئے جوابات کو مجھ سے دس دس بار لکھواتے تاکہ میں بھول نہ جاؤں۔‘

Sartaj Alam/BBCگذشتہ سال فروری میں فیضان اللہ نے ضلعی محکمہ تعلیم کے زیر اہتمام تقریری مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی

اس طرح کی امتحان میں وہ لوگ جو لکھنے میں معذور ہوتے ہیں، ان کے لیے رائٹر کی سہولت ہوتی ہے لیکن فیضان اللہ نے خود کو مکمل طور پر اس پر منحصر نہیں رکھا۔

وہ بتاتے ہیں کہ کئی مضامین میں جب وہ منھ سے لکھ کر تھک جاتے تھے تو تھوڑی دیر کے لیے رائٹر کا استعمال کرتے۔

آخر انھوں نے یہ فیصلہ کیوں کیا، اس پر وہ کہتے ہیں، ’بول بول کر لکھوانے میں وہ اطمینان نہیں ملتا جو خود لکھنے میں ہے۔ مثال کے طور پر ریاضی کے مضمون کو لیجیے، اس پیپر کو بول کر میں کیسے لکھواتا، اس لیے ریاضی کا پرچہ میں نے خود ہی لکھا۔‘

ریاضی مضمون میں 98 نمبر حاصل کرنے والے فیضان اللہ کی آنکھوں میں اب ایک طرف جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ و وزیر اعظم سے ملنے کی خواہش، تو دوسری طرف سول سروس کی امتحان پاس کرنے کی تمنا ہے۔

فیضان اللہ کی اس کامیابی پر ان کے سکول اعلیٰ اُتکرمِت ودیالیہ شیواجی نگر کی پرنسپل ایل ایف مرانڈی کہتی ہیں، ’یہ فخر کا لمحہ ہے کہ ایک طرف ہمیں فیضان اللہ جیسے طالب علم ملے تو دوسری طرف ان کو پانچ سالوں میں نکھارنے والے استاد جتیندر کمار بھگت کی خدمت ملی۔ دونوں ہی انمول ہیں، دونوں کے لیے نیک خواہشات۔‘

قوت سماعت سے محروم ڈاکٹر: ’کہا جاتا تھا کہ میں آلہ سماعت کی آڑ میں نقل کرتی ہوں‘’معذوری ہی زندگی نہیں، زندگی کا حصہ ہے‘دونوں ٹانگوں اور ایک بازو سے محروم محمد حسنین جنھوں نے پنجاب پولیس میں شامل ہونے کا اپنا خوابپورا کیا’ڈاکٹروں نے کہا اس کے ہاتھ، پیر نہیں اسے پیٹ میں ہی ضائع کروا دیں‘’دونوں بازو، ٹانگ کٹ گئی تو میں نے سوچا کیا وہ مجھے چھوڑ دے گی؟‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More