نئے فیچرز کے نام پر گمراہ کرنے کا الزام، ایپل آئی فون کے خریداروں کو 25 کروڑ ڈالر ادا کیے جائیں گے

بی بی سی اردو  |  May 06, 2026

Getty Images

آئی فون کے بعض خریداروں نے ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا تھا جس میں یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس نے اپنی مصنوعات میں مصنوعی ذہانت سے جڑے کچھ نئے فیچرز کی تشہیر تو کی مگر دراصل ان کے ذریعے گمراہ کیا جا رہا ہے۔

تاہم اب ایپل نے مقدمہ دائر کرنے والے اِن خریداروں کے ساتھ تصفیہ کر لیا ہے اور انھیں مجموعی طور پر 25 کروڑ ڈالر ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

منگل کے روز کیلیفورنیا کی وفاقی عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویز کے مطابق ایپل نے کسی بھی غلطی کا اعتراف نہیں کیا تاہم اس معاہدے پر رضامندی ظاہر کی جس کے تحت گذشتہ سال دائر کیے گئے مقدمے کو نمٹا دیا جائے گا۔

اس مقدمے میں ایپل پر آئی فون کے اے آئی فیچرز سے متعلق جھوٹی تشہیر کا الزام عائد کیا گیا تھا جنھیں کمپنی نے ’ایپل انٹیلی جنس‘ کا نام دیا تھا۔ ایپل نے کہا تھا کہ ان فیچرز کے ذریعے وائس اسسٹنٹ ’سیری‘ میں بہتری آئے گی اور یہ ’اے آئی پرسنل اسسٹنٹ‘ میں بدل جائے گی، جو نہیں ہو سکا۔

خریداروں اور ایپل کے درمیان تصفیے کے مطابق جون 2024 سے مارچ 2025 کے درمیان آئی فون 15 اور آئی فون 16 خریدنے والے امریکی صارفین کو 25 سے 95 ڈالر کے درمیان رقوم ادائیگی کی جائے گی۔

کیا ساکٹ میں لگا موبائل چارجر واقعی آپ کے بجلی کے بل میں اضافے کا باعث بن رہا ہے؟’اے آئی نے کہا کہ لوگ مجھے قتل کرنے کے لیے آ رہے ہیں، میں ہتھوڑا اُٹھا کر جنگ کے لیے تیار ہو گیا‘مسک بمقابلہ آلٹمین: اوپن اے آئی اور ایکس کے مالکان کی آن لائن نوک جھوک عدالتی مقدمے میں کیسے بدلی؟صبح یا رات، ورزش کے لیے بہترین وقت کون سا ہے؟

ایپل کی ایک ترجمان نے کہا ہے کہ یہ مقدمہ ایپل انٹیلیجنس کے تحت جاری کیے گئے کئی فیچرز میں سے ’دو اضافی فیچرز کی دستیابی‘ پر مرکوز تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے اس معاملے کو اس لیے حل کیا تاکہ ہم اپنی اصل صلاحیت پر توجہ رکھ سکیں، یعنی اپنے صارفین کو سب سے جدید مصنوعات اور خدمات فراہم کرنا۔‘

EPA2024 میں ایپل کی مصنوعات میں مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں پر بات کرتے ہوئے ایپل کے سابق چیف ایگزیکٹو ٹم کُک

گذشتہ ہفتے آئی فون خریداروں کی جانب سے دائر کی گئی نظرثانی درخواست میں وکلا نے کہا تھا کہ نئے اے آئی فیچرز سے متعلق ایپل کی مارکیٹنگ ’جھوٹی تشہیر کے مترادف‘ تھی۔

وکلا نے دعویٰ کیا کہ ’ایپل نے ایسی اے آئی صلاحیتوں کی تشہیر کی جو اُس وقت موجود نہیں تھیں، اب بھی موجود نہیں اور ممکن ہے کہ دو یا اس سے زیادہ برسوں تک بھی موجود نہ ہوں تاہم انھیں انقلابی جدت کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ایپل نے یہ مہم خاص طور پر اے آئی کے حوالے سے اس لیے شروع کی تاکہ ٹیکنالوجی کی اس نئی دوڑ میں پیچھے رہ جانے کی تلافی کی جا سکے۔ مصنوعی ذہانت کی اس دوڑ کی قیادت اس وقت اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسی نئی کمپنیاں کر رہی ہیں۔

ایپل کے سبکدوش ہونے والے چیف ایگزیکٹو ٹم کُک پر برسوں یہ تنقید ہوتی رہی کہ وہ کمپنی کی مصنوعات میں خاطر خواہ جدت نہیں لا سکے۔

تاہم وکلا نے ایپل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے نیے فیچرز کی اس انداز سے تشہیر کی گئی کہ یہ آئی فون صارفین کو سیری کا ایک نیا اور بہتر ورژن فراہم کرے گی۔ ان کے مطابق ایپل نے کہا تھا کہ اسے ’ایک محدود وائس انٹرفیس سے مکمل ذاتی اے آئی اسسٹنٹ‘ میں تبدیل کر دیا جائے گا، جو کہ گمراہ کن تشہیر تھی۔

وکلا نے کہا کہ ’صارفین کو آئی فون 16 ’ایپل انٹیلیجنس‘ کے بغیر فراہم کیا گیا اور سیری کا بہتر فیچر کبھی متعارف ہی نہیں کرایا گیا۔‘

’اے آئی نے کہا کہ لوگ مجھے قتل کرنے کے لیے آ رہے ہیں، میں ہتھوڑا اُٹھا کر جنگ کے لیے تیار ہو گیا‘مسک بمقابلہ آلٹمین: اوپن اے آئی اور ایکس کے مالکان کی آن لائن نوک جھوک عدالتی مقدمے میں کیسے بدلی؟کیا ساکٹ میں لگا موبائل چارجر واقعی آپ کے بجلی کے بل میں اضافے کا باعث بن رہا ہے؟’تھوکے گئے متبرک پانی سے کینسر کا علاج‘: طبی سہولیات کی قلت سے مایوس افغان روحانی معالجین سے رجوع پر مجبورصبح یا رات، ورزش کے لیے بہترین وقت کون سا ہے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More