AFP via Getty Images
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق بحر اوقیانوس میں ایک کروز شپ پر ہنتا وائرس کے مشتبہ پھیلاؤ کے بعد تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ ہنتا وائرس کے دو کیسوں کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ مزید مشتبہ کیسز کی تحقیقات جاری ہیں۔
ڈبلیو ایچ او نے بی بی سی کو بتایا کہ مشتبہ ہنتا وائرس کیسز کی ’تفصیلی تحقیقات‘ جاری ہیں جن میں مزید لیبارٹری ٹیسٹنگ بھی شامل ہے۔
یہ پھیلاؤ ایم وی ہونڈیئس کروز شپ پر رپورٹ ہوا جو ارجنٹینا سے کیپ وردے جا رہی تھی۔
ہنتا وائرس کیا ہے؟
ہنتا وائرس ایسے وائرسز کو کہا جاتا ہے جو چوہوں میں پائے جاتے ہیں۔ یہ چوہوں کا پیشاب خشک ہونے کے بعد ان سے اٹھنے والے ذرات سے انسانوں میں منتقل ہوتے ہیں۔
امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے مطابق انفیکشن عموماً اس وقت ہوتا ہے جب چوہے کے پیشاب یا تھوک سے وائرس فضا میں شامل ہو جائے۔
اگرچہ یہ نایاب ہے تاہم یہ چوہے کے کاٹنے یا خراش کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے۔
یہ وائرس دو سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔
پہلی بیماری ہنتا وائرس پلمونری سنڈروم (ایچ پی ایس) ہے۔ اکثر یہ تھکن، بخار اور پٹھوں کے درد سے شروع ہوتی ہے جس کے بعد سر درد، چکر آنا، کپکپی اور پیٹ کے مسائل ہو سکتے ہیں۔ سی ڈی سی کے مطابق اگر سانس لینے میں دشواری کی علامات پیدا ہو جائیں تو اموات کی شرح تقریباً 38 فیصد ہو جاتی ہے۔
دوسری بیماری ہیموریجک فیور ود رینل سنڈروم (ایچ ایف آر ایس) ہے۔ یہ زیادہ شدید ہوتی ہے اور بنیادی طور پر گردوں کو متاثر کرتی ہے۔ بعد کی علامات میں کم بلڈ پریشر، اندرونی خون بہنا اور شدید گردوں کی ناکامی شامل ہو سکتی ہیں۔
موت کے منھ میں جاتے لوگوں کے آخری وقت کے ساتھی ’ڈیتھ ڈولا‘ کی بڑھتی مقبولیت کی وجہ کیا ہے؟’پوشیدہ سپرم‘ کی تلاش: نئی تکنیک ان مردوں کے لیے امید بن گئی جنھیں پہلے بانجھ قرار دیا گیا تھا’لوگ گھما پھرا کر یہ ہی سوال پوچھتے ہیں کہ اب تک بچہ کیوں نہیں ہوا‘: حمل نہ ٹھہرنے پر خواتین کو کن تلخ باتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہےصبح یا رات، ورزش کے لیے بہترین وقت کون سا ہے؟کیا ہنتا وائرس کروز شپ کے مسافروں میں پھیلا؟
بحرِ اوقیانوس میں ایک چھوٹے کروز جہاز پر ہنتا وائرس کے مشتبہ پھیلاؤ کے بعد تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ایک برطانوی شہری کی حالت تشویش ناک ہے اور وہ ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
ایم وی ہونڈیئس نامی جہاز کی آپریٹر ٹور کمپنی اوشن وائیڈ ایکسپیڈیشنز نے بتایا کہ ایک ڈچ میاں بیوی اور ایک جرمن شہری کی موت ہو چکی ہے تاہم اب تک اموات کی وجہ کا تعین نہیں ہو سکا ہے۔
ڈچ کمپنی کا کہنا ہے کہ 69 سالہ برطانوی شہری کے کیس میں ہنتا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ وہ اس وقت جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیرِ علاج ہیں۔
ایم وی ہونڈیئس کیپ وردے کے ساحل کے قریب موجود ہے اور اس پر 149 افراد سوار ہیں۔
اوشن وائیڈ ایکسپیڈیشنز کے مطابق جہاز پر عملے کے دو ارکان بھی ’شدید سانس کی علامات‘ میں مبتلا ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق بالترتیب برطانیہ اور نیدرلینڈز سے ہے اور دونوں کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔ کمپنی نے بتایا کہ تاحال یہ ثابت نہیں ہوا کہ ان دونوں میں ہنتا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے اور یہ بھی کہا کہ اس کے علاوہ کسی اور شخص میں علامات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
کمپنی کی جانب سے جاری کی گئی ٹائم لائن کے مطابق ایک مسافر جہاز پر ہی بیمار ہوا اور 11 اپریل کو اس کی موت ہو گئی۔
اس مسافر کی موت کی وجہ معلوم نہ ہو سکی اور 24 اپریل کو جب جہاز سینٹ ہیلینا پر لنگر انداز ہوا تو اس کی لاش جہاز سے اتار لی گئی۔
اس مسافر کی اہلیہ بھی سینٹ ہیلینا پر ہی جہاز سے اتری تھیں اور کمپنی نے کہا کہ اسے بتایا گیا کہ واپسی کے سفر کے دوران وہ بھی بیمار ہو گئیں اور بعد میں ان کی موت ہو گئی۔
کمپنی نے کہا کہ اس وقت یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ یہ دونوں اموات جہاز پر موجود موجودہ طبی صورتِ حال سے جڑی ہوئی ہیں یا نہیں۔
کمپنی کے مطابق 27 اپریل کو ایک اور مسافر، جو برطانوی شہری تھے، شدید بیمار ہو گئے اور انھیں جنوبی افریقہ لے جایا گیا۔
69 سالہ برطانوی شہری کی حالت جوہانسبرگ میں تشویشناک مگر مستحکم بتائی جا رہی ہے جہاں ان میں ہنتا وائرس کی ایک قسم کی تصدیق کی گئی ہے۔
دنیا بھر میں ہنتا وائرس کے کتنے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں؟
نیشنل انسٹیٹیوٹس آف ہیلتھ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال ایچ ایف آر ایس کے اندازاً ایک لاکھ پچاس ہزار کیسز رپورٹ ہوتے ہیں جن کا زیادہ تر تعلق یورپ اور ایشیا سے ہوتا ہے۔
ان میں سے نصف سے زیادہ کیسز عموماً چین میں سامنے آتے ہیں۔
امریکہ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 1993 سے، جب ہنتا وائرس کی نگرانی شروع کی گئی، 2023 تک ملک میں مجموعی طور پر 890 کیسز رپورٹ ہوئے۔
تاہم سیؤول وائرس، جو ہنتا وائرس کی بڑی اقسام میں سے ایک ہے اور نارویجن چوہوں میں پایا جاتا ہے جنھیں براؤن ریٹ بھی کہا جاتا ہے، دنیا بھر میں موجود ہے اور ان ملکوں میں امریکہ بھی شامل ہے۔
BBCاس کا علاج کیسے کیا جاتا ہے؟
ہنتا وائرس انفیکشنز کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں۔
سی ڈی سی علامات کے علاج کے لیے معاون نگہداشت کی سفارش کرتا ہے جس میں آکسیجن تھراپی، میکینیکل وینٹی لیشن، اینٹی وائرل ادویات اور حتیٰ کہ ڈائلیسز بھی شامل ہو سکتی ہے۔
شدید علامات والے مریضوں کو انتہائی نگہداشت کے یونٹس میں داخل کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
سنگین کیسز میں بعض مریضوں کو وینٹی لیٹر پر ڈالنا پڑ سکتا ہے۔
سی ڈی سی وائرس سے بچاؤ کے لیے گھروں اور کام کی جگہوں پر چوہوں سے رابطہ ختم کرنے کی بھی سفارش کرتا ہے۔
ادارہ یہ بھی تجویز کرتا ہے کہ گھروں میں چوہوں کی آمد ممکن بنانے والی جگہوں، جیسے تہہ خانے یا اٹاری، کو بند کیا جائے۔
چوہوں کی گندگی صاف کرتے وقت حفاظتی لباس پہننے کا مشورہ بھی دیا جاتا ہے تاکہ آلودہ ہوا کو سانس کے ذریعے اندر لینے سے بچا جا سکے۔
کیا حالیہ عرصے میں ہنتا وائرس کے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں؟
فروری 2025 میں آسکر ایوارڈ یافتہ اداکار جین ہیکمین کی اہلیہ بیٹسی اراکاوا ہنتا وائرس سے جڑی سانس کی بیماری کے باعث ہلاک ہو گئیں۔
طبی تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ اراکاوا کو ایچ پی ایس لاحق ہوا جو امریکہ میں سب سے عام قسم ہے اور یہی ان کی موت کا سبب بنا۔
ان کے گھر کے باہر موجود عمارتوں میں چوہوں کے گھونسلے اور کچھ مردہ چوہے پائے گئے جہاں سے ان کی لاش ملی تھی۔
پولیس ریکارڈز سے ظاہر ہوا کہ اراکاوا نے اپنی موت سے چند دن قبل انٹرنیٹ پر فلو اور کووڈ کی علامات کے بارے میں معلومات تلاش کی تھیں۔
موت کے منھ میں جاتے لوگوں کے آخری وقت کے ساتھی ’ڈیتھ ڈولا‘ کی بڑھتی مقبولیت کی وجہ کیا ہے؟’پوشیدہ سپرم‘ کی تلاش: نئی تکنیک ان مردوں کے لیے امید بن گئی جنھیں پہلے بانجھ قرار دیا گیا تھاکیا جانوروں کی کلیجی انسانی جگر کی خرابی دور کر سکتی ہے؟صبح یا رات، ورزش کے لیے بہترین وقت کون سا ہے؟’لوگ گھما پھرا کر یہ ہی سوال پوچھتے ہیں کہ اب تک بچہ کیوں نہیں ہوا‘: حمل نہ ٹھہرنے پر خواتین کو کن تلخ باتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے