زندگی کے آخری لمحات میں کسی شخص کا ہاتھ تھامنے سے زیادہ بامعنی چیز رِیٹا بال کے لیے کوئی اور نہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ لمحہ بالکل خالص ہوتا ہے جب آپ اس زندگی کو دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔‘
بال کئی بار کسی شخص کی آخری سانس کے وقت ان کے ساتھ موجود رہی ہیں۔
پچھلے تین برسوں سے بال لندن میں تربیت یافتہ ’ڈیتھ ڈولا‘ (زندگی کے آخری لمحات میں معاون) کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ آخری وقت کی ساتھی کے طور پر وہ این ایچ ایس کے لیے کیئر ہومز میں انفرادی خاندانوں اور رضاکاروں کی مدد کرتی ہیں۔
بال کے مطابق لوگ اکثر ان سے پوچھتے ہیں کہ جب ان کے پیارے موت کے عمل سے گزر رہے ہوں تو وہ کیا کرنے کی ’اجازت‘ رکھتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’جب میں کہتی ہوں کہ انھیں تھامنا، بوسہ دینا، موسیقی چلانا، ان سے بات کرنا بالکل ٹھیک ہے تو مجھے لوگوں میں حقیقی سکون محسوس ہوتا ہے۔‘
آپ نے شاید اُن مڈ وائف یا دائی کے بارے میں سنا ہو جو ماؤں کو حمل اور زچگی کے مرحلے میں مدد دیتی ہیں۔ لیکن ’ڈیتھ ڈولا‘ جنھیں بعض اوقات ’سَول مڈوائف‘ بھی کہا جاتا ہے، گذشتہ 10 برسوں میں مقبول ہو رہی ہیں۔
’اینڈ آف لائف ڈولا‘ یوکے کی چیف ایگزیکٹو ایما کلیئر کہتی ہیں کہ 2025 میں ان کی تنظیم میں 114 ڈولا شامل ہوئیں جو پچھلے برسوں کے مقابلے میں بڑی تعداد ہے۔
حال ہی میں نِکول کڈمین اور روبی ویکس سمیت بعض مشہور شخصیات نے اعلان کیا ہے کہ وہ ’ڈیتھ ڈولا‘ بننے کی تربیت لے رہی ہیں، جبکہ ڈیوِنا مک کال کا کہنا ہے کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد ایسا کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
Rita Ballرِیٹا بال لوگوں کے ساتھ ان کی زندگی کے آخری مہینوں اور آخری لمحات میں کام کرتی ہیں
ایک خاتون کیمرے کی طرف مسکراتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ان کے سیاہ بال پیچھے بندھے ہوئے ہیں۔ وہ جامنی کارڈیگن اور سرخ و سفید ٹائی ڈائیڈ ٹاپ پہنے ہوئے ہیں۔
بال کہتی ہیں کہ بعض اوقات ’کسی کی موت کے بعد خاموشی بہت وسیع ہو سکتی ہے'، لیکن ڈولا سوگواروں کے ساتھ بیٹھ کر اُن آخری دنوں کی باتیں دہرا سکتی ہیں۔‘
کلیئر کے مطابق تربیت کے درجے پر منحصر ہوتا ہے کہ ایک ڈولا کی فیس 25 پاؤنڈ سے 45 پاؤنڈ فی گھنٹہ ہو سکتی ہے۔ تاہم کچھ لوگ اپنی خدمات بلا معاوضہ بھی پیش کرتے ہیں۔
ڈیون میں رہنے والی فینی بیہرنز نے اپنے شوہر کی کینسر سے وفات سے 10 ماہ پہلے ’ڈیتھ ڈولا‘ سارہ پارکر سے رابطہ کیا۔
بیہرنز کہتی ہیں کہ ’سارہ اس وقت میرے ساتھ انتہائی شاندار تھیں جب میں ان کے کچن میں بس روتی ہی جا رہی تھی۔‘
’یہ ناقابلِ یقین تھا کہ میں کسی ایسے شخص سے بات کر سکی جو خاندان کا فرد نہیں تھا، جو براہِ راست شامل نہیں تھا اور جو بس وہاں موجود رہ سکتا تھا جب میں غم کے بوجھ تلے بکھر رہی تھی۔‘
موت کب اور کیسے ہو گی، پتا چل جائے تو انسان کیا کرے گا؟موت سے چند لمحے قبل انسانی آنکھ کیا دیکھتی ہے؟موت کا شعوری تجربہ کرنے والے لوگ جنھیں ’جسم میں واپس لوٹنے کا احساس ہوا‘ کیا موت سے نجات ممکن ہے؟
ڈولا نے بیہرنز کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنے مرنے والے شوہر سے مشکل سوالات پر بات کریں جن میں یہ بھی شامل تھا کہ وہ کہاں دفن ہونا چاہتے ہیں اور ان کی آخری رسومات کیسی ہوں۔
اُنھوں نے تدفین سے متعلق انتظامات اور موت کے اندراج میں بھی ان کی رہنمائی کی۔
بیہرنز کہتی ہیں کہ ’وہ مجھے یہ یاد دلانے میں بھی اچھی تھیں کہ میں اپنا خیال رکھوں اور صرف دوسرے شخص کی ضروریات میں گم نہ ہو جاؤں۔‘
اگرچہ پارکر زیادہ تر بیہرنز کے لیے مدد کا ذریعہ بنیں، وہ ان کے شوہر کی بھی مدد کرتی رہیں۔ بیہرنز کو یاد ہے کہ پارکر نے آخری دنوں میں جسم کےشٹ ڈاؤن ہونے کے عمل کی نہایت احتیاط سے وضاحت کی۔
بیہرنز کہتی ہیں کہ ’کسی ایسے شخص کے ساتھ ہونا جو اس عمل سے بہت مانوس ہو، جو حقیقت پسند بھی ہو اور ہمدرد بھی یہ واقعی مددگار ثابت ہوتا ہے۔‘
’اگرچہ یہ درد ختم نہیں کرتا، مگر کسی حد تک اسے معمول کا حصہ بنا دیتا ہے۔‘
BBCایک ڈولا نے فینی بیہرنز کو ان کے شوہر کی زندگی کے آخری مہینوں میں جذباتی اور عملی مدد فراہم کی
دیگر ڈولا کی طرح کلیئر کا بھی ماننا ہے کہ آج کے لوگوں نے ’موت کے بارے میں بہت سا علم کھو دیا ہے۔ ان کے مطابق زیادہ تر لوگوں کا تصورِ فلموں میں اموات کے ڈرامائی مناظر یا اچانک ہونے والی اموات سے بنتا ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ جب ڈولا جسمانی طور پر مرنے کے عمل کی اتنی تفصیل سے وضاحت کرتی ہیں جتنی لوگ چاہتے ہیں، تو اس سے خوف کم ہوتا ہے اور وہ وقت مہیا ہوتا ہے جسے زیادہ بامعنی طور پر گزارا جا سکتا ہے۔
مثال کے طور پر پارکر بتاتی ہیں کہ جب لوگ مر رہے ہوتے ہیں تو ان کے جسم کا درجۂ حرارت اور سانس لینے کا انداز بدل جاتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’آخر میں ڈیتھ ریٹل ہو سکتا ہے، یعنی سخت سانس لینے کی آواز جو کمرے میں موجود لوگوں کے لیے خوفناک ہو سکتی ہے۔‘
’اگر آپ پہلے ہی بتا دیں کہ ایسا ہو سکتا ہے، تو اسے قبول کرنا قدرے آسان ہوتا ہے۔‘
کینسر خیراتی ادارے ملبرری سینٹر میں بھی کام کرنے والی سَول مڈوائف کرسٹا ہیوز کہتی ہیں کہ مرنے والے شخص کے ساتھ مضبوط رشتہ بنانا ضروری ہے تاکہ وہ اپنے آخری لمحات اپنی مرضی کے مطابق گزار سکیں۔
ہیوز کہتی ہیں کہ ’جب کوئی پیدا ہوتا ہے تو وہ محبت بھرے ہاتھوں میں آتا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ وہ محبت بھرے ہاتھوں ہی میں دنیا سے رخصت ہو سکے۔‘
ہیوز کو ایک ایسے شخص کا واقعہ یاد ہے جو باغ میں مرنا چاہتا تھا لیکن درکار طبی مداخلت کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو سکا۔
اُنھوں نے تصاویر اور لیونڈر آئل لا کر پرندوں کی آوازیں چلا کر اور لیونڈر کے کھیتوں میں چہل قدمی کی منظر کشی کر کے اس کے لیے ایک خیالی باغ تخلیق کیا۔
’ڈیتھ ڈولا‘ اکثر موت کے بعد بھی مدد فراہم کرتی ہیں۔ بال کے مطابق وہ خاندانوں کی جانب سے میت گھروں کا دورہ کر کے پیغامات پہنچا چکی ہیں اور یادگاری تقاریب کے انعقاد میں بھی مدد کر چکی ہیں۔
دیگر لوگ کمیونٹی میں شعور اجاگر کرنے میں وقت صرف کرتے ہیں، جن میں چائے اور کیک کے ساتھ ’ڈیتھکیفے‘ منعقد کر کے کھل کر گفتگو کرتے ہیں۔
Parkerپارکر نے ڈولا بننے سے پہلے بطور میڈیکل ڈاکٹر تربیت حاصل کی تھی
یونیورسٹی آف گلاسگو میں زندگی کے آخری لمحات کی محقق اور اینڈ آف لائف ڈولا انٹرنیشنل ریسرچ گروپ کی بانی، میرین کراوژک کہتی ہیں کہ زندگی کے آخری لمحات کے دوران کسی فرد کی نگہداشت کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق اب کم لوگ مختصر متعدی بیماریوں یا حادثاتی اموات کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ زیادہ لوگ طویل عرصے تک زندگی کو محدود کرنے والی بیماریوں کے ساتھ جیتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’اب ہماری زندگی کے ہر پہلو میں طرزِ زندگی کے انتخاب کی توقعات موجود ہیں جس میں اپنی موت کو خود ترتیب دینے کی صلاحیت بھی شامل ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ اگرچہ بعض افراد کے لیے ’ڈیتھ ڈولا‘ اس میں مددگار ہو سکتی ہیں، مگر یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے کیونکہ برطانیہ میں نہ تو اس کا کوئی ضابطہ ہے اور نہ ہی لازمی تربیت۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ’ڈیتھ ڈولا‘ کو صحت کے نظام میں شامل کیا جانا چاہیے جبکہ دیگر سمجھتے ہیں کہ ان کی فراہم کردہ سروس الگ ہی رہنی چاہیے۔
لیکن کراوژک کے مطابقحقیقت یہ ہے کہ مناسب اختتامی حیات کی نگہداشت ایک پوسٹ کوڈ لاٹری ہے اور ڈولا اس نگہداشت کے خلا کو پُر کرنے میں مدد کر سکتی ہیں۔
خیراتی تنظیم سو رائیڈر کے چیف میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر پال پرکنز کہتے ہیں کہ صحت کا نظام ’مریضوں کے لیے نیویگیٹ کرنا مشکل ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب وہ تشخیص سے جڑے تمام جذبات سے گزر رہے ہوں۔‘
ان کا ماننا ہے کہ مرنے والے افراد کو ’ممکنہ حد تک بہترین معیارِ زندگی‘ حاصل کرنے میں مدد دی جانی چاہیے، تاکہ وہ ان لوگوں کے ساتھ وقت گزار سکیں جو انھیں خوشی دیتے ہیں۔
More weekend picksموت سے چند لمحے قبل انسانی آنکھ کیا دیکھتی ہے؟موت سے لڑتے افراد کی خواہشات پوری کرنے والا ایمبولینس ڈرائیور’بے خوابی اور جلد موت میں کوئی تعلق نہیں‘موت کا شعوری تجربہ کرنے والے لوگ جنھیں ’جسم میں واپس لوٹنے کا احساس ہوا‘ وہ شخص جس کی زندگی ’40 منٹ کی موت‘ اور ایک معجزے نے بدل دیمرنے سے قبل چند افراد کو اپنے وہ پیارے کیوں دکھائی دیتے ہیں جو پہلے ہی مر چکے ہوتے ہیں؟ قریب المرگ افراد کے تجربات