راولپنڈی میں نوجوان کے قتل اور لاش کو گلیوں میں گھسیٹے جانے کا واقعہ: پیسوں کا لین دین جو دو ہلاکتوں کا سبب بنا

بی بی سی اردو  |  May 11, 2026

راولپنڈی میں ایک نوجوان کے قتل اور اس کی لاش کو موٹر سائیکل سے باندھ کر گلیوں میں گھسیٹنے کا واقعہ پیش آیا ہے جس کے بعد صوبائی پولیس کے سربراہ نے ملزمان کی گرفتاری کا حکم دے دیا ہے۔

مقتول زین شاہ کو جمعے کے روز راولپنڈی کے علاقے دھمیال میں قتل کیا گیا تھا اور مقامی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ان کی لاش کو گلیوں میں گھسیٹا بھی گیا تھا۔

پولیس کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں۔ دوسری طرف ملزمان کے رشتہ داروں نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے ان کے گھروں پر چھاپے مار کر ان کے گھر کی خواتین کو بھی تھانے میں بند کر دیا ہے۔

قتل کا واقعہ کیسے پیش آیا؟

راولپنڈی پولیس کے مطابق زین شاہ کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کو مبینہ طور پر موٹر سائیکل سے باندھ کر محلے میں گھیسٹنے کا واقعہ ایک اور قتل کا شاخسانہ تھا، جو کہ زین شاہ کے قتل والے دن ہی رونما ہوا تھا۔

پولیس کے مطابق دھمیال میں جمعے کو ہی زین شاہ کے ساتھیوں نے مبینہ طور پر فائرنگ کرکے ایک دُکاندار سراج محسود کو قتل کردیا تھا، جس کے بعد ’سراج محسود کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے زین کو موٹر سائیکل پر اغوا کیا گیا اور پھر اسے نامعلوم مقام پر لے جا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ زین کی ہلاکت تشدد کے باعث ہوئی جس کے بعد ملزمان نے ان کی لاش کی بےحرمتی بھی کی۔

زین شاہ کے قتل کے بعد ہسپتال کی انتظامیہ نے ان کی پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ مقدمے کی تفتیش کرنے والی پولیس ٹیم کے حوالے کردی ہے۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق زین شاہ کی موت تشدد کی وجہ سے ہوئی جبکہ مقتول کی لاش پر گھیسٹے جانے کے سبب خراشیں بھی موجود ہیں۔

پولیس کے مطابق قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں آٹھ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ مرکزی ملزمان وزیرستان فرار ہو گئے ہیں۔

ایف آئی آر میں کیا کہا گیا ہے؟

دونوں نوجوانوں کے قتل کے الگ، الگ واقعات راولپنڈی کے علاقے دھمیال میں پیش آئے تھے۔

پہلا قتل سراج محسود کا ہوا تھا، جس کی ایف آئی آر ان کے والد کی مدعیت میں درج ہے۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ وزیرستان کا رہائشی سراج محسود چکری روڈ پر واقع کریانے کی دوکان پر کام کرتا تھا اور اس کا 24 سالہ نوجوان زین شاہ کے ساتھ پیسوں کا لین دین تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق قتل کے روز زین شاہ سودا سلف لینے کے لیے سراج کی دُکان پر آیاتوپیسوں کے مطالبے پر دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور بات ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ تاہم وہاں پر موجود افراد نے یہ معاملہ رفع دفع کروا دیا۔

اسلام آباد میں پراپرٹی ڈیلر کے اغوا اور قتل کے بعد پولیس ملزمان تک کیسے پہنچی؟لاہور میں اپنے ہی تین کم عمر بچوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار ماں پانچ روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالےچارسدہ میں مولانا ادریس کی ’ٹارگٹ کلنگ‘ کے خلاف خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں احتجاجی مظاہرے، ملزمان کی تلاش جاریخدا کی بستی میں ’غیرت‘ کے نام پر میاں، بیوی اور دو بچوں کا قتل جس کی ’اطلاع مبینہ قاتلوں نے خود دی‘

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ جب سراج اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلح کرنے کے لیے زین شاہ کے گھر گئے تو وہاں پر موجود زین اور دیگر ساتھیوں نے دوبارہ سراج محسود سے گالم گلوچشروع کردی، جس کے بعد زین شاہ کے ساتھی عون چوہدری نے فائرنگ کر دی اور محسود سینے پر گولی لگنے سے مارا گیا۔

مقامی پولیس کے مطابق سراج محسود کے قتل کے بعد مقتول کے چند ورثا اس کی لاش کو لے کر اپنے علاقے چلے گئے، جبکہ کچھ نے زین شاہ اور اس کے ساتھیوں سے بدلہ لینے کی ٹھانی۔

اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ملزمان زین شاہ کے گھر کے قریب گھات لگا کر بیٹھ گئے اور جب زین شاہ گھر سے باہر نکلے تو انھیں اسلحے کے زور پر اغوا کر لیا۔

پولیس اہلکار کے مطابق تفتیش کے دوران حاصل سی سی ٹی وی فوٹیج سے معلوم ہوا ہے کہ ملزمان مقتول زین شاہ کو مختلف مقامات پر لے جاتے رہے، جہاں مبینہ طور پر انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہسراج محسود کے قتل اور زین شاہ کے قتل کے مقدمے میں زیر حراست ملزمان سے تفتیش کی جارہی ہے تاہم ابھی تک ان ملزمان کو متعلقہ عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ہے۔

دوسری جانب سراج محسود کے رشتہ داروں نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے زین شاہ کے قتل کے مقدمے میں تحقیقات کے لیے ان کے قبیلے سے تعلق رکھنے والی خواتین کو بھی تھانے میں بند کیا ہوا ہے۔

تاہم راولپنڈی پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پولیس کسی خاتون کو پکڑ کر تھانے میں لے کر نہیں آئی تاہم انھوں نے تصدیق کی کہ پولیس نے قتل کے دونوں واقعات میں کچھ افراد کو حراست میں لیا ہوا ہے۔

’اے آئی نے کہا کہ لوگ مجھے قتل کرنے کے لیے آ رہے ہیں، میں ہتھوڑا اُٹھا کر جنگ کے لیے تیار ہو گیا‘’بھوتوں کے ڈر‘ سے 34 برس پرانے قتل کا راز کھل گیاجب ویٹرس کے طور پر کام کرنے والی دو سہیلیوں کو پتا چلا کہ وہ آپس میں بہنیں ہیںقتل کے بعد شوہر کو کچن میں دفنا کر خاتون دو ماہ تک وہیں کھانا بناتی رہیسرگودھا میں احمدی ڈاکٹر کا قتل: ’دھمکیاں ملنے کے باوجود وہ لوگوں کی خدمت میں مصروف رہتے تھے‘’یقین نہیں آ رہا بہو نے میرے بیٹے کو قتل کر دیا‘: وہ واردات جس میں ’خاوند نے بیوی کو خود گولی مارنے کو کہا‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More