Getty Images
پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت نے ’عورت مارچ‘ کے لیے اجازت نامہ (این او سی) جاری کرتے ہوئے شرط عائد کی ہے کہ مارچ میں ’کالعدم یا ممنوعہ گروپ‘ شریک نہیں ہو گا جبکہ ’قابلِ اعتراض‘ لباس پہننے سے بھی گریز کیا جائے گا۔
سوشل میڈیا پر حکومت سندھ کے اس این او سی پر شدید تنقید کی جا رہی ہے جبکہ عورت مارچ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے ابھی این او سی پر دستخط نہیں کیے۔
عورت مارچ کی منتظم شیما کرمانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُنھیں واٹس ایپ کے ذریعے این او سی موصول ہوا تاہم اُنھوں نے کسی دستاویز پر دستخط نہیں کیے ہیں۔
شیما کرمانی کا کہنا تھا کہ اُنھیں حیرت ہے کہ مذاکرات کے دوران حکومت نے کسی شرط کی بات نہیں کی تھی کہ خواتین کا لباس بھی وہ طے کریں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ عورت مارچ کے منتظمین مشاورت کر رہے ہیں اور اس کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ کراچی پولیس نے منگل کی شام عورت مارچ کی آرگنائزر شیما کرمانی، منیزہ احمد، سفینہ جاوید اور شہزادی رائے سمیت کئی خواتین کارکنوں کو حراست میں لیا تھا، جو 10 مئی کو عورت مارچ کے حوالے سے پریس کانفرنس کرنے آئی تھیں تاہم انھیں کراچی پریس کلب کے اندر داخل نہیں ہونے دیا گیا تھا۔
خواتین پولیس اہلکاروں نے شیما کرمانی کے احتجاج کے باوجود انھیں ان کی گاڑی سے گھسیٹ کر نکالا تھا اور اپنی گاڑی میں بٹھا کر لے گئے تھے۔
اس دوران پولیس افسران کی نازیبا گفتگو اور گرفتاریوں پر شدید ردِعمل سامنے آیا تھا جس پر سندھ حکومت نے ڈی ایس پی صدر ناصر آفریدی، ایس ایچ او وومن حنا مغل اور ایس ایچ او آرٹلری میدان تھانہ ندیم حیدر کو معطل کر دیا تھا۔
لیکن اب سندھ حکومت کی جانب سے عورت مارچ کے لیے جاری کیے گئے این او سی پر بھی اعتراضات سامنے آ رہے ہیں۔
کراچی، لاہور، اسلام آباد سمیت پاکستان کے بڑے شہروں میں سنہ 2018 سے خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے آٹھ مارچ کو عورت مارچ کا اہتمام کیا جاتا ہے لیکن اس سال ماہ رمضان کی وجہ سے یہ دن نہیں منایا گیا تھا تاہم اس دن کو ماؤں کے عالمی دن کی مناسبت سے اس برس 10 مئی کو منانے کا اعلان کیا گیا۔
سندھ حکومت کے این او سی پر اعتراض
عورت مارچ کے منتظمین نے صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، صوبائی وزیر شاہینہ شیر علی سے ملاقات کی جس کے بعد سندھ اسمبلی میں دوبارہ ملاقات ہوئی اور جمعے کی شب این او سی جاری کیا گیا۔
این او سی کے مطابق ’تقریب کے دوران کسی بھی ریاست مخالف نعرے، بینرز، تقاریر یا سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہو گی، کسی بھی مذہب مخالف نعرے، پلے کارڈز یا قابل اعتراض ریمارکس کی اجازت نہیں دی جائے گی، بینرز یا فلیکسز پر کسی قسم کا نفرت انگیز، اشتعال انگیز، غیر اخلاقی یا سماج دشمن مواد ظاہر نہیں کیا جائے گا۔‘
اجازت نامے میں کہا گیا ہے کہ مارچ میںسی بھی کالعدم تنظیم یا ممنوعہ گروہ کی شرکت یا ان سے اظہار ہمدردی نہیں کیا جائے گا۔
این او سی میں ’بلوچ یکجہتی کمیٹی‘ (بی وائی سی) اور سندھی قوم پرست جماعت ’جئے سندھ قومی محاذ‘ کے حوالےدیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ نیٹکا کی ویب سائٹ کے مطابق ان دونوں جماعتوں کو کالعدم قرار نہیں دیا گیا۔
اجازت نامے میں ایک شق یہ بھی شامل ہے کہ مارچ میں کوئی بھی فرد ’قابلِ اعتراض لباس‘ نہیں پہنے گا تاہم یہ واضح نہیں کہ کس قسم کے لباس پر پابندی ہے جبکہ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ایل جی بی ٹی کیو کی کسی قسم کی تشہیر نہیں کی جائے گی۔
ایچ آئی وی میں مبتلا پاکستانی سیکس ورکرز: ’دوائی اور کنڈوم استعمال کر رہی ہوں تو پھیلاؤ کا خطرہ نہیں‘’اگلی صف میں مرد کھڑے ہوتے ہیں، پیچھے کھڑا ہونا معیوب سمجھا جاتا ہے‘: پاکستان میں خواتین کے لیے مساجد میں جگہ کیوں نہیں؟ہائیپوگیمی: وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہنر مند خواتین جو اپنے سے کم قابل مردوں سے رشتہ جوڑنے پر مجبور ہیں’ہم معجزہ ہیں‘: یہ جڑواں بہنیں چند منٹوں کے فرق سے پیدا ہوئیں، لیکن ان کے والد مختلف ہیں
سوشل میڈیا پر اس این او سی کو بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
لمز یونیورسٹی کی استاد اور ایکٹوسٹ ندا کرمانی نے ایکس پر لکھا کہ ’سندھ حکومت نے اب ایک مضحکہ خیز این او سی جاری کیا جس میں مارچ کے دوران کہی جانے والی باتوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں جن میں ریاست پر تنقید، بی وائی سی کی حمایت (حالانکہ یہ کوئی کالعدم تنظیم نہیں) اور یہاں تک کہ مارچ میں شریک افراد کی اخلاقی نگرانی کی کوششیں بھی شامل ہیں۔‘
زوھا ملک نامی صارف نے لکھا کہ ’اجازت نامے کی شق نمبر چھ میں نفرت انگیز، اشتعال انگیز، غیر اخلاقی یا سماج دشمن مواد سے آخر مراد کیا ہے؟ سماج دشمن مواد کی تعریف کون کرے گا؟ اور نمبر 9 میں قابلِ اعتراض لباس کیا ہوتا ہے؟ قابلِ اعتراض ہونے کا معیار کیا ہے اور اسے طے کون کرے گا؟‘
صحافی احمد نورانی نے لکھا کہ کیا بلوچ پاکستان کا حصہ نہیں؟ کیا بلوچ خاتون عورت نہیں؟ ریاست خود بلوچ عوام کو ہر اُس حق سے محروم کر رہی ہے جو باقی سب صوبوں کی عوام کو ملا اور پھر الزام اُن پر لگاتے ہیں۔
نغمہ شیخ نامی صارف نے ایکس پر بلاول بھٹو اور عورت مارچ کے منتظمین کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ بلاول بھٹو عورت مارچ کی قیادت سے ملاقاتیں اور اظہار یکجہتی کر چکے ہیں اور وہ قومی اسمبلی میں انسانی حقوق کمیٹی کے چیئرمین ہیں ان کی سندھ حکومت کیسے خواتین کے حقوق کو سلب کر رہی ہے.
عورت مارچ لاہور نے بھی کراچی کے منتظمین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے ملک میں باہر نکلنے کے لیے کسی سے اجازت کی ضرورت نہیں۔ ’یہ سڑکیں ہماری تھیں اور ہماری رہیں گی۔‘
منگل کو کیا ہوا تھا؟
خیال رہے کہ منگل کو سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں تھانہ صدر کے ڈی ایس پی ناصر آفریدی نے نامور کتھک ڈانسر اور عورت مارچ کی آرگنائزر شیما کرمانی سے ان کی گرفتاری سے قبل بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’آپ اونچی آواز میں بات کر رہی ہیں، گدھے جیسی آواز ہوتی ہے اونچی۔‘
اس کے بعد خواتین پولیس اہلکاروں نے شیما کرمانی کے احتجاج کے باوجود انھیں ان کی گاڑی سے گھسیٹ کر نکالا اور اپنی گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔
جب خواتین پولیس اہلکار شیما کرمانی کو گھسیٹ کر اپنی گاڑی میں بٹھا رہی تھیں تو وہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی خواتین رہنماؤں کو مخاطب کر کے کہہ رہیں تھیں: ’شہلا رضا، شیری رحمان، پولیس 75 سالہ عورت سے ایسے پیش آ رہی ہے، یہ طریقہ ہے ان لوگوں کا۔‘
اس واقعے پر شدید ردعمل سامنے آنے کے بعد سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار کی ہدایت پر ڈی ایس پی صدر ناصر آفریدی، ایس ایچ او وومن حنا مغل اور ایس ایچ او آرٹلری میدان تھانہ ندیم حیدر کو معطل کر دیا گیا تھا۔
Getty Images
شیما کرمانی اور دیگر حقوق نسواں کی کارکنوں کی گرفتاری پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور عام شہریوں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا تھا۔
نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹسنے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ کمیشن شیما کرمانی اور عورت مارچ کے دیگر منتظمین کی گرفتاری کی مذمت کرتا ہے اور پرامن احتجاج تمام شہریوں کا آئینی حق ہے۔
کمیشن کا کہنا تھا کہ ’یہ واقعہ کوئی الگ تھلگ زیادتی نہیں بلکہ ایک وسیع اور نہایت تشویشناک رجحان کا حصہ ہے، جس میں شہریوں کو اپنے حقوق کے اظہار کے لیے عوامی جگہوں سے منظم طریقے سے محروم کیا جارہا ہے۔‘
ایکس پر صحافی طوبیٰ سید نے لکھا تھا کہ ’پیپلز پارٹی کی جمہوریت کا عملی مظاہرہ۔ شیما کرمانی، جو 75 سال کی ہیں اور ملک کی نہایت معزز فنکار خواتین میں شمار ہوتی ہیں، ان کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جا رہا ہے جیسے وہ کوئی مجرم ہوں۔‘
آرٹسٹ اور ایکٹوسٹ لینا غنی لکھتی ہیں کہ ’یہ واضح طور پر خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش اور خواتین کی آواز دبانے کے لیے ریاستی اقدام ہے۔‘
اپنی رہائی کے بعد ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیما کرمانی نے سندھ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خواتین پر تشدد کیا گیا اور ایسا ایک ایسی جماعت کی حکومت کے دور میں ہو رہا ہے، جس کی ماضی میں سربراہ ایک خاتون رہی ہیں۔
ان کا اشارہ سابق وزیرِ اعظم بےنظیر بھٹو کی طرف تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’خواتین کو پنک سکوٹر دینے کا کیا فائدہ، جب انھیں اتنی آزادی بھی نہ ہو؟‘
بعد میں بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے شیما کرمانی نے دعویٰ کیا تھا کہ جب وہ تھانے پہنچے تو پولیس اہلکاروں کو کچھ پتا ہی نہیں تھا کہ انہیں کیوں لایا گیا۔
’تھانے کے اہلکار ہم سے پوچھ رہے تھے کہ آپ لوگوں نے کیا کیا، جو آپ کو یہاں لایا گیا؟ کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا، مکمل افراتفری تھی۔‘
Getty Imagesحکومت کا مؤقف
سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید کا کہنا تھا کہ خواتین کے ساتھ پولیس کا اس طرح کا رویہ کسی بھی طرح قابلِ قبول نہیں، نہ پیپلز پارٹی کے لیے اور نہ ہی حکومت کے لیے۔
’اگر کسی کے خلاف کوئی ٹھوس چیز ہے تو آپ اسے گرفتار کریں لیکن یہ کوئی طریقہ نہیں کہ کسی خاتون کو گاڑی سے گھسیٹا جائے۔‘
ریلی کی این او سی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے، جس کی وجہ سے ریلیوں اور جلوسوں پر پابندی ہے لیکن بعض صورتوں میں محکمہ داخلہ استثنیٰ بھی دیتا ہے جس طرح یوم مزدور پر ریلیاں نکالی گئی تھیں۔
صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار کا کہنا ہے کہ شہر میں دہشت گردی کے خدشات کی وجہ سے دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا ہے۔
کراچی میں ریلیوں کے شرکا پر تشدد کے واقعاتGetty Imagesکراچی پریس کلب کے باہر لاپتا بلوچ اور سندھی قوم پرست کارکنوں کی رہائی کے لیے آنے والے کارکنوں پر بھی تشدد اور گرفتاریوں کے واقعات پیش آچکے ہیں
کراچی میں انسانی حقوق، حقوق نسواں اور اقلیتی حقوق کی ریلیوں پر پولیس تشدد کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔
اس سے قبل گذشتہ برس پریس کلب پر ڈاکٹر شاہ نواز کنبھار کی پولیس تحویل میں ہلاکت کے خلاف ریلی کے شرکا پر بھی تشدد کیا گیا تھا۔
اس کے بعد تین تلوار پر روھڑی سے مبینہ طور پر اغوا ہونے والی بچی پریا کماری کی بازیابی کے لیے جاری احتجاج پر لاٹھی چارج کیا گیا۔
اس کے علاوہ کراچی پریس کلب کے باہر لاپتا بلوچ اور سندھی قوم پرست کارکنوں کی رہائی کے لیے آنے والے کارکنوں پر بھی تشدد اور گرفتاریوں کے واقعات پیش آچکے ہیں۔
فیصل آباد: ’شادی سے انکار‘ کی پاداش میں قابل اعتراض اور تضحیک آمیز ویڈیوز وائرل ہونے کے برسوں بعد خدیجہ کو انصاف مل گیا’اگلی صف میں مرد کھڑے ہوتے ہیں، پیچھے کھڑا ہونا معیوب سمجھا جاتا ہے‘: پاکستان میں خواتین کے لیے مساجد میں جگہ کیوں نہیں؟اسلام آباد میں عورت مارچ کے زیرِ حراست شرکا کی رہائی: ’20 قیدیوں کی گنجائش والے حوالات میں 80 افراد کو رکھا گیا‘سندھ کی خواتین فائر فائٹرز: ’ایمرجنسی میں جنس نہیں، صرف ذمہ داری دیکھی جاتی ہے‘مقتولہ کی سوشل میڈیا ریلز جن سے قاتل کو پتا چلا کہ وہ کہاں ہے: ’وہ اسی علاقے میں سابقہ بیوی کو تلاش کرتا‘خیبرپختونخوا میں لڑکیوں کے کالجز میں تقریبات کے دوران موسیقی، رقص اور موبائل فون پر پابندی کیوں عائد کی گئی؟