Getty Imagesاسامہ بن لادن کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈوز نے ایک آپریشن میں ہلاک کیا تھا
القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو امریکی فوجیوں نے دو مئی 2011 کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں کیسے ہلاک کیا، اس کی تفصیل کتابوں، مضامین اور فلموں کے ذریعے کئی بار سامنے آ چکی ہے۔
تاہم اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے فوراً بعد پاکستان میں اقتدار کی راہداریوں میں کیا چل رہا تھا، اس پر بہت کم بحث ہوئی ہے۔
حال ہی میں پاکستان کے منجھے ہوئے سیاستدان فرحت اللہ بابرکی ایک کتاب ’دی زرداری پریذیڈنسی، ناؤ اِٹ مسٹ بی ٹولڈ‘ شائع ہوئی، جو اُس وقت کے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے ترجمان تھے۔ اس کتاب میں انھوں نے ان دنوں کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔
کتاب کے مطابق دو مئی 2011 کی صبح ساڑھے چھ بجے صدر زرداری کے اے ڈی سی نے فرحت اللہ بابر کو فون کیا اور انھیں ایک اہم ملاقات کے لیے فوری طور پر ایوان صدر پہنچنے کو کہا۔
فرحت اللہ بابر لکھتے ہیں کہ ’صدر عام طور پر دوپہر کو دفتر پہنچتے تھے۔ یہ قدرے عجیب تھا کہ مجھے اتنی صبح فون کیا گیا۔ مجھے احساس ہوا کہ کچھ گڑبڑ ہے لیکن مجھے اندازہ نہیں ہو پایا کہ گڑبڑ کیا اور کہاں ہو سکتی ہے۔ میں نے وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور سیکریٹری خارجہ سلمان بشیر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن میں ناکام رہا۔‘
اِسی دوران بابر کو اُن کے موبائل پر کراچی سے صحافی مظہرعباس کی کال موصول ہوئی۔
فرحت اللہ بابر لکھتے ہیں کہ مظہر عباس نے فون پر کہا ’بابر صاحب، میرے خیال میں امریکیوں کو پتہ چلا ہے کہ اسامہ ایبٹ آباد میں چھپا ہوا ہے۔‘
’یہ الفاظ سنتے ہی مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ یہ میٹنگ اتنی صبح کیوں بلائی گئی تھی۔‘
سب سے پہلے کس کو پتہ چلا؟
اس کے بعد فرحت اللہ بابر کو معلوم ہوا کہ صدر کے اے ڈی سی سکواڈرن لیڈر جلال ایوان صدر سے واپسی کے بعد سے جاگ رہے تھے۔ انھیں صبح ڈھائی بجے معلوم ہوا تھا کہ ایبٹ آباد کے قریب ایک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ پاکستانی فضائیہ کے پائلٹ کے طور پر چند سوالات نے انھیں حیران کر دیا۔
پہلا یہ کہ ایبٹ آباد جیسے پہاڑی علاقے میں اتنی رات گئے ہیلی کاپٹر کیوں اڑ رہا تھا؟ دوسرا فضائیہ کے رکن کے طور پر وہ جانتے تھے کہ پاکستانی پائلٹس کو رات کے وقت ہیلی کاپٹر اڑانے سے منع کیا گیا ہے۔
سکواڈرن لیڈر جلال نے خود سے سوال کیا کہ اگر یہ پاکستانی ہیلی کاپٹر نہیں تھا تو کس کا ہیلی کاپٹر تھا؟ وہ پریشان ہو کر واپس اپنے دفتر چلے گئے۔ صبح کے تین بج رہے تھے۔ انھوں نے پاکستانی فضائیہ میں اپنے رابطوں کو فون کرنا شروع کر دیا۔
وہ صدر کے عملے میں پہلے شخص تھے جس کے علم میں یہ آیا کہ واقعہ کس قدر سنگین نوعیت کا تھا۔
آرمی چیف کی ایوان صدر کے لیے روانگیGetty Imagesفرحت اللہ بابر لکھتے ہیں کہ مظہر عباس نے فون پر کہا ’بابر صاحب، میرے خیال میں امریکیوں کو پتہ چلا ہے کہ اسامہ ایبٹ آباد میں چھپا ہوا ہے‘
لیکن اس کے باوجود انھوں نے صدر زرداری کے سامنے اپنے اس اندیشے کا ذکر نہیں کیا۔ وہ جانتے تھے کہ صدارتی محل کی ہاٹ لائن کی گھنٹی جلد ہی بجنے والی ہے۔ اور ان کا اندازہ درست تھا۔ ان کے دفتر کے فون کی گھنٹی بجی تو دوسری جانب آرمی ہاؤس کا آپریٹر لائن پر تھا۔
انھوں نے صدر مملکت کو بتایا کہ آرمی چیف جنرل اشفاق کیانی ایوان صدر کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ آرمی چیف نے اس سے قبل صدرزرداری سے ہاٹ لائن پر براہ راست بات کی تھی۔
فرحت اللہ بابر لکھتے ہیں کہ ’جب میں صبح سات بجے ایوان صدر پہنچا تو صدر کے عملے میں سے اُن کے اے ڈی سی جلال کے علاوہ کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ گارڈز اور معاونین کی سرگوشیوں سے مجھے احساس ہوا کہ کچھ غیر معمولی بات ہے۔ تب مجھے معلوم ہوا کہ امریکی صدر اوباما نے صدر آصف زرداری سے فون پر بات کی ہے۔‘
اوباما کی زرداری کو کالGetty Imagesاس فون کال کے بارے میں صدر اوباما نے اپنی سوانح عمری ’اے پرامسڈ لینڈ‘ میں لکھا کہ ’میرے لیے سب سے مشکل کام پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کو فون کرنا تھا‘
اس فون کال کے بارے میں صدر اوباما نے اپنی سوانح عمری ’اے پرامسڈ لینڈ‘ ' میں لکھا کہ ’میرے لیے سب سے مشکل کام پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کو فون کرنا تھا۔‘
’میں جانتا تھا کہ پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر انھیں اپنے ملک میں کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا، لیکن جب میں نے انھیں فون کر کے اعتماد میں لیا تو انھوں نے مجھے مبارکباد دی اور اپنی حمایت کی پیشکش کی۔‘
’انھوں نے کہا کہ نتیجہ کچھ بھی ہو، یہ اچھی خبر ہے۔‘ وہ یہ یاد کر کے قدرے جذباتی ہو گئے تھے کہ اُن کی اہلیہ بے نظیر بھٹو کو القاعدہ سے تعلق رکھنے والے انتہا پسندوں نے قتل کر دیا تھا۔
ایڈمرل مائیک مولن کا جنرل کیانی کو فون Getty Imagesایڈمرل مائیک مولن نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل کیانی کو بتایا کہ امریکہ نے اسامہ بن لادن پر حملہ کیا
صدر زرداری کو اوباما کے فون سے پہلے امریکی مسلح افواج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن پاکستان کے اُس وقت کے آرمی چیف جنرل کیانی کو صبح تین بجے فون کر چکے تھے۔ انھوں نے آرمی چیف جنرل کیانی کو بتایا کہ امریکہ نے اسامہ بن لادن پر حملہ کیا۔
اس کے فوراً بعد ایبٹ آباد میں آئی ایس آئی کے ایک کرنل نے اپنے باس جنرل پاشا کو فون کیا اور خبر کی تصدیق کی۔
سی آئی اے کے سابق سربراہ لیون پنیٹا اپنی سوانح عمری ’یونیفارم فائٹس‘ میں لکھتے ہیں کہ ’خبر سنتے ہی جنرل کیانی کا پہلا جملہ یہ تھا کہ یہ اچھا ہوا کہ آپ نے اسے گرفتار کر لیا۔‘
جس پر مائیک مولن نے کہا کہ ’اسامہ بن لادن مر چکا۔‘ کتاب کے مطابق یہ سُن کر اور یہ جان کر کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد کے اس گھر میں پچھلے پانچ سال سے رہ رہے تھے، جنرل کیانی قدرے گھبرا گئے۔
خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل آف پولیس سے کہا گیا کہ وہ خود کو اس معاملے سے دور رکھیں کیونکہ آئی ایس آئی پورے معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
سی آئی اے چیف کی آئی ایس آئی کے سربراہ سے بات چیتGetty Imagesصدر زرداری کو اوباما کے فون سے پہلے ایڈمرل مائیک مولن پاکستان کے اس وقت کے آرمی چیف جنرل کیانی کو صبح تین بجے فون کر چکے تھے
مائیک مولن کے فون کے بعد صدر اوباما نے صدر زرداری اور افغان صدر حامد کرزئی کو فون کیا۔ لیون پنیٹا نے آئی ایس آئی کے سربراہ احمد شجاع پاشا کو بھی ایسی ہی کال کی تھی۔
لیون پنیٹا لکھتے ہیں کہ ’اس وقت تک پاشا کو اپنے ذرائع سے یہ معلوم ہو چکا تھا۔‘
میں نے ان سے کہا ’ہم نے جان بوجھ کر آپ کی ایجنسی کو اپنی مہم سے دور رکھا تاکہ آپ پر ہمارے ساتھ تعاون کرنے کا الزام نہ لگایا جا سکے۔‘
’انھوں نے بہت مایوسی بھرے لہجے میں جواب دیا کہ ہمارے پاس کہنے کے لیے زیادہ کچھ نہیں۔ ہمیں خوشی ہے کہ آپ کو اسامہ بن لادن مل گیا۔‘
’ہمیں معلوم تھا کہ ہمارے دونوں ممالک کے درمیان دوستی اب پہلے جیسی نہیں رہے گی اور ہمارے تعلقات کشیدہ ہوں گے لیکن ہمیں اس طرح کے آپریشن کی یہی قیمت چکانی پڑی۔‘
پاکستانی وقت کے مطابق صبح 8:35 بجے صدر اوباما ٹیلی ویژن پر براہ راست نمودار ہوئے۔ انھوں نے یہ کہہ کر پاکستان کو مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ ’ہمیں امید ہے کہ پاکستان القاعدہ کے خلاف ہماری لڑائی میں ہماری حمایت جاری رکھے گا۔‘
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے سربراہ جنرل اطہر عباس نے جنرل کیانی اور پاشا سے بیان جاری کرنے کی اجازت مانگی لیکن انھیں اجازت نہیں دی گئی۔
دو مئی کی کہانی، اسامہ بن لادن کے پڑوسی کی زبانیسیٹلائٹ پر نظر آنے والا ’اسامہ بن لادن کا سایہ‘ اور کوریئر کی تلاش: نیٹ فلکس سیریز میں ایبٹ آباد آپریشن کی کہانیالقاعدہ رہنما کی گرفتاری:’اسامہ بن لادن کو تورا بورا سے فرار کروانے والے‘ امین الحق کون ہیں؟وہ رات جب اسامہ بن لادن وزیرستان کے ایک گھر میں رات کے کھانے پر آئےپاکستانی حکام کی کانفرنس
فرحت اللہ بابر کے ایوان صدر پہنچنے کے چند ہی منٹوں میں وزیراعظم، سیکریٹری خارجہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ بھی پہنچ گئے۔ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر جو کچھ دیر پہلے ہی غیر ملکی دورے سے واپس آئی تھیں، تھوڑی تاخیر سے آئیں۔
کانفرنس روم میں ملاقات 90 منٹ تک جاری رہی۔
فرحت اللہ بابر لکھتے ہیں کہ ’صدر زرداری مجھے ایک طرف لے گئے اور پوچھا کہ اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟‘ میں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جواب دیا کہ یہ یا تو ملی بھگت ہے یا نااہلی۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف کوئی کارروائی ہونی چاہیے۔‘
صدرزرداری نے اس بات کے جواب میں ایک لفظ نہیں کہا۔ پھر کچھ سوچنے کے بعد کہنے لگے ’اس پر بعد میں بات کریں گے۔‘
پاکستانی انتظامیہ کی خاموشی اور الجھنGetty Imagesواشنگٹن پوسٹ میں صدر زرداری کا ایک مضمون شائع ہوا جس کا عنوان تھا ’پاکستان نے اپنا کردار ادا کیا‘
پاکستان اور بیرون ملک میڈیا اس پورے معاملے پر پاکستانی حکومت کا ردعمل جاننا چاہتا تھا لیکن حکومت میں ایسا انتشار اور افراتفری مچی تھی کہ حکومت سے کوئی بھی سرکاری سطح پر ایک لفظ بھی کہنے کو تیار نہ تھا۔
ہر طرف الجھن کا ماحول تھا۔
فرحت اللہ بابر لکھتے ہیں کہ ’اس واقعے کے 14 گھنٹے بعد پہلا سرکاری ردعمل سامنے آیا جس میں کہا گیا کہ ’ہمارے پاس امریکہ سمیت مختلف انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ساتھ معلومات شیئر کرنے کا بہت موثر نظام ہے۔‘
فرحت اللہ بابر لکھتے ہیں کہ ’پاکستان نہ تو آپریشن کی کامیابی کا دعویٰ کر سکتا تھا اور نہ ہی کھلے عام اپنی انٹیلیجنس کی ناکامی اور فوج کی لاعلمی کا اعتراف کر سکتا تھا۔ یہ واضح تھا کہ پوری انتظامیہ کنفیوژن اور غیر فیصلہ کن حالت میں پھنسی ہوئی تھی، اندھیرے میں تیر چلانے کا ماحول تھا۔‘
فوج اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے تحفظ کی کوششGetty Imagesفرحت اللہ بابر لکھتے ہیں کہ ’اس واقعے کے 14 گھنٹے بعد پہلا سرکاری ردعمل سامنے آیا‘
فرحت اللہ بابر لکھتے ہیں کہ ’اب جب کہ امریکہ خفیہ طور پر بتائے بغیر پاکستان میں داخل ہوا تھا اوراسامہ بن لادن کو قتل کر دیا تھا، پاکستانی پریس ریلیز جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ انٹیلیجنس شیئر کرنے کی وجہ سے ایسا ہوا، کھوکھلا اور ناقابل یقین لگ رہا تھا۔ جھوٹ کا پلندہ بے نقاب ہونے کے بعد لوگ اس پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھے۔‘
انٹیلیجنس اور عسکری قیادت اس صورتحال کا سامنا کر رہی تھی کہ اس پر پورے معاملے میں ملوث یا نااہل ہونے کا الزام آسانی سے لگایا جا سکتا تھا۔
کچھ ریٹائرڈ جرنیلوں نے بعد میں یہ دعویٰ کر کے معاملے کو نیا موڑ دینے کی کوشش کی کہ پاکستانی فوج کی اعلیٰ قیادت کو اس آپریشن کا پہلے سے علم تھا اور وہ پاکستانی فوج کی تذلیل قبول کرنے کو تیار نہیں تھے۔
انھوں نے یہاں تک دعوے کیے کہ فوج کی اعلیٰ قیادت نے اس آپریشن میں امریکہ کے ساتھ تعاون کیا لیکن اس پر یقین کرنے والے بہت کم لوگ تھے۔
پاکستانی فوج کی ساکھ پر سوال
اس وقت کے امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے بھی اپنی سوانح عمری ’ڈیوٹی‘ میں لکھا کہ ’اس پورے واقعے میں پاکستانی فوج کو سب سے زیادہ شرمندگی ہوئی، جس طرح سے ہم نے یہ آپریشن پاکستانی سرحد کے اندر 150 میل اندر چھاؤنی کے عین وسط میں کیا اور اس سے پہلے کہ ان کی فوج کو اس کی کوئی جھلک ملتی، ہم بحفاظت باہر نکل آئے۔ یہ ان کے کردار کو داغدار کرنے کے لیے کافی تھا۔‘
پاکستان نے بعد میں جو تحقیقات شروع کیں اس کا مرکز یہ نہیں تھا کہ دنیا کا انتہائی مطلوب دہشت گرد پاکستان میں بغیر کسی پابندی کے کیسے رہ سکتا ہے بلکہ ان کا زور اس بات پر رہا کہ پاکستان میں کس نے اس آپریشن میں امریکہ کی مدد کی تھی۔
Getty Imagesباراک اوباما اور دیگر حکام نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا آپریشن براہ راست دیکھاصدر زرداری کا واشنگٹن پوسٹ میں مضمون
مئی کے آخر تک یہ طے پایا تھا کہ اس پورے واقعے میں آئی ایس آئی اور عسکری قیادت کے کردار کا دفاع کیا جائے گا۔
اس کی پہلی نشانی اس وقت سامنے آئی جب واشنگٹن پوسٹ میں صدر زرداری کا ایک مضمون شائع ہوا جس کا عنوان تھا ’پاکستان نے اپنا کردار ادا کیا۔‘
زرداری نے لکھا ’اگرچہ اتوار(دو مئی) کا آپریشن پاکستان اور امریکہ کا مشترکہ آپریشن نہیں تھا لیکن یہ دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط تعاون اور شراکت داری تھی جو اسامہ بن لادن کے خاتمے کا باعث بنی۔‘
’پاکستان کے لیے یہ بات باعث اطمینان ہو سکتی ہے کہ القاعدہ کے رہنما کی جلد شناخت ہونے سے ہمیں یہ دن دیکھنے کو ملا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اتنی ہی پاکستان کی بھی ہے جتنی امریکہ کی۔‘
فرحت اللہ بابر کا خیال ہے کہ یہ مضمون غیر ضروری تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’اس مضمون کے مصنف کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ اطمینان کا اظہار کرے اور اس کی اجازت کے بغیر پاکستانی سرزمین پر فوجی آپریشن کا کریڈٹ لے۔ یہ مضمون ایسی چیز کا دفاع کر رہا تھا جس کا دفاع نہیں کیا جا سکتا تھا۔‘
فرحت اللہ بابر لکھتے ہیں کہ ’میں نے اپنے لابسٹ کو ای میل بھیجی جس میں کہا گیا کہ کاش ہم صدر زرداری سے منسوب کسی امریکی اخبار میں اتنے حساس موضوع پر مضمون شائع کرنے سے پہلے ایک دوسرے سے مشورہ کر لیتے۔‘
مضمون میں تجویز کیا گیا کہ صدر زرداری امریکی رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یہاں تک کہ اس کے لیے اپنے ملک کے خلاف بھی چلے گئے تاہم ان کی ای میل کا جواب نہیں دیا گیا۔
خفیہ اداروں کی ناکامی چھپانے کی کوششGetty Imagesسینیٹر جان کیری نے پاکستان کا دورہ کیا تو جنرل کیانی دونوں ممالک سے مشترکہ بیان چاہتے تھے جس میں کہا جائے کہ امریکہ کو پاکستان پر اعتماد ہے۔
اسامہ بن لادن آپریشن کے بعد صدر زرداری کے پاس آئی ایس آئی اور فوج کا احتساب کرنے کا اچھا موقع تھا لیکن وہ اس امکان پر غور کرنے کو بھی تیار نہیں تھے۔
واشنگٹن پوسٹ میں زرداری کے مضمون میں ملکی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے احتساب پر ایک لفظ بھی نہیں تھا جو قابل غور ہے۔
آپریشن کے تین دن بعد پانچ مئی کو سیکریٹری خارجہ نے پہلی بار پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ پورے واقعہ کا جائزہ لیا جائے گا لیکن کوئی تحقیقات نہیں ہوں گی۔
نہ صرف تحقیقات کے امکان کو رد کیا گیا بلکہ انٹیلیجنس ایجنسیوں کی ناکامی کو یہ کہہ کر چھپانے کی کوشش کی گئی کہ ایسی ناکامیاں کوئی غیر معمولی بات نہیں۔
آپریشن کی تفصیلات جان بوجھ کر پاکستان سے چھپائی گئیں
سی آئی اے کے سربراہ لیون پنیٹا نے تین مئی کو ٹائم میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ نے جان بوجھ کر پاکستان کو بن لادن کے ٹھکانے کے بارے میں مطلع نہیں کیا کیونکہ اسے پاکستان پر بھروسہ نہیں تھا۔ ماضی کے تجربے سے پتہ چلتا ہے کہ جب بھی اسلام آباد کو کسی دہشت گرد کے بارے میں پیشگی اطلاع دی گئی اس نے اسے الرٹ کردیا۔‘
جنرل کیانی کو پنیٹا کی بے تکلفی پسند نہیں تھی۔ سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ سینیٹر جان کیری نے پاکستان کا دورہ کیا تو جنرل کیانی دونوں ممالک سے ایک مشترکہ بیان چاہتے تھے جس میں کہا جائے کہ امریکہ کو پاکستان پر اعتماد ہے۔
امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی نے تجویز پیش کی کہ مشترکہ بیان میں کہا جائے کہ اسامہ بن لادن آپریشن کو پاکستان کے عدم اعتماد کی وجہ سے نہیں بلکہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پاکستان سے چھپایا گیا تھا لیکن جان کیری نے صرف یہ کہنے پر اتفاق کیا کہ اسامہ آپریشن کو اوباما انتظامیہ کے کئی اہم لوگوں سے پوشیدہ رکھا گیا تھا۔
ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ پبلک نہیں کی گئی
سریم کورٹ آف پاکستان نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا حکم دے دیا۔ اس کمیشن کو ایبٹ آباد کمیشن کا نام دیا گیا۔
پاکستان کے صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف نے کمیشن کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا۔ صرف آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل پاشا اس کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔ اس کمیشن کی رپورٹ چار جنوری 2013 کو وزیراعظم پاکستان کے حوالے کی گئی۔
ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کو ٹاپ سیکرٹ رپورٹ قرار دیا گیا۔ اگرچہ یہ رپورٹ شائع نہیں کی گئی لیکن اس کی کاپی الجزیرہ کو دستیاب ہوئی تاہم اس کی اشاعت کے چند ہی منٹوں میں الجزیرہ کی ویب سائٹ پاکستان میں بلاک کر دی گئی۔
جب اسامہ بن لادن کو بندوق نہیں مگر بلڈوزر چلانا آتا تھا: ’اسامہ کا بیٹا ہونا بہت مشکل ہے، لوگ آج بھی ہم سے رابطہ کرنے سے ڈرتے ہیں‘وہ رات جب اسامہ بن لادن وزیرستان کے ایک گھر میں رات کے کھانے پر آئےدو مئی کی کہانی، اسامہ بن لادن کے پڑوسی کی زبانیاسامہ بن لادن کا ’محافظ‘ جرمنی میں مقیم ہےاسامہ بن لادن کی کتوں پر کیمیائی تجربے کرنے کی کہانی اُن کے بیٹے عمر بن لادن کی زبانیسیٹلائٹ پر نظر آنے والا ’اسامہ بن لادن کا سایہ‘ اور کوریئر کی تلاش: نیٹ فلکس سیریز میں ایبٹ آباد آپریشن کی کہانی