پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ: حکومتِ پاکستان کسی بحران سے بچنے کے لیے خود تیل کا ذخیرہ کیوں نہیں کر سکتی؟

بی بی سی اردو  |  May 02, 2026

BBCپاکستان کے بڑے شہروں میں پیٹرول پمپس پر گاڑیوں کی طویل قطاریں دیکھی گئیں

حکومتِ پاکستان نے ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا۔ جمعرات کی شب پیٹرولیم ڈویژن سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق یکم مئی سے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں چھ روپے 51 پیسے کا اضافہ کیا گیا، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے فی لیٹر ہوگئی۔

اس کے علاوہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 19 روپے 39 پیسے کا اضافہ کیا گیا، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے فی لیٹر ہو گئی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول پرفی لیٹرلیوی 3 روپے 88 پیسے کم کردی گئی جبکہ ڈیزل پرفی لیٹر 28 روپے 69 پیسے لیوی عائد کی گئی۔ ڈیزل پر پہلے یہ لیوی صفر تھی۔

ایران کی اسرائیل اور امریکہ سے جنگ کے بعد سے تیل کی عالمی قیمتیں مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں اور پاکستانی حکام نے اس بحران کے بعد ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین ہفتہ وار کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف مزید جنگی کارروائیوں اور بحری ناکہ بندی کو طول دینے پر غور اور آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش کی وجہ سے جمعرات کو برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت تقریباً سات فیصد اضافے کے بعد 126 ڈالر سے اوپر چلی گئی تھی۔ یہ سنہ 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد کی بلند ترین سطح تھی۔

تاہم دن کے اختتام پرعالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت کم ہوکر 114ڈالر پر آ گئی جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 110 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر 104 ڈالر فی بیرل پر آ گیا تھا۔

جمعرات کو پاکستان میں شام سے ہی ملک کے بڑے شہروں میں پیٹرول پمپس پر گاڑیوں کی طویل قطاریں دیکھی گئیں جس کی وجہ قیمت میں اضافے کے علاوہ سوشل میڈیا پر پیٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال کی افواہیں بھی رہیں تاہم پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے بھی کہا گیا کہ یکم مئی سے پیٹرول پمپس کی بندش کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں اور پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی بلاتعطل جاری رہے گی۔

ایران امریکہ جنگ کے آغاز کے بعد سے پاکستان کے سرکاری حکام بارہا یہ واضح کر چکے ہیں کہ ملک کے پاس کسی بھی بحران اور ہنگامی صورتحال میں تیل کا 28 روز کا سٹاک موجود رہتا ہے مگر کیا یہ کافی ہے؟ یہی وہ سوال ہے جس نے ملک میں سٹریٹیجک ریزروز کی عدم موجودگی کے معاملے کو ایک بار پھر بحث کا موضوع بنا دیا۔

Getty Imagesپاکستانی حکام بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ ملک میں کسی بھی وقت 28 دن کے لیے درکار تیل کا ذخیرہ موجود رہتا ہے

پاکستان کے وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک بھی پاکستان میں تیل کے سرکاری وسائل نہ ہونے پر بات کر چکے ہیں۔ ایک نیوز چینل کو دیے انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’سٹریٹیجک ریزورز حکومت کی ملکیت میں ہوتے ہیں، اسے کسی بھی وقت ریلیز کر کے قیمت میں رد و بدل کیا جا سکتا ہے۔‘

انھوں نے تسلیم کیا کہ ’پاکستان کے پاس وسائل کی قلت ہے، اس لیے حکومت کے پاس سٹریٹیجک ریزورز نہیں مگر ریفائنریز اور او ایم سیز کو جو ہم نے لائسنسز دیے ہوئے ہیں، اس کے مطابق ہمارے پاس ایک ماہ سے زیادہ کا تیل موجود ہوتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ملک میں تیل کی سٹوریج سے متعلق ایک منصوبہ ترتیب دیا جا رہا ہے جس میں ’تمام وسائل کو میپ کیا جائے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ بیرون ملک تیل کی کمپنیاں جیسے آرامکو کے ساتھ مل کر ’ویئرہاؤس سکیم کو بھی اپ ڈیٹ کرنے جا رہے ہیں۔‘

ملک میں اس حوالے سے مختلف تجاویز زیرِ غور ہیں اور اگر مقامی ذرائع ابلاغ پر نظر دوڑائی جائے تو ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ پیٹرولیم ڈیویلپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) میں کچھ رقم اس مقصد کے لیے مختص کی جائے۔

آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ سٹریٹیجک آئل ریزروز کیا ہیں اور پاکستان کو دیگر ممالک کی طرح انھیں قائم کرنے میں کیا چیلنجز درپیش ہو سکتے ہیں۔

سٹریٹیجک آئل ریزورز کیا ہوتے ہیں؟

سٹریٹیجک آئل ریزروز یا سٹریٹیجک پیٹرولیم ذخائر وہ ہنگامی تیل کے ذخیرے ہوتے ہیں جو ممالک اس مقصد کے لیے محفوظ رکھتے ہیں کہ جنگ، قدرتی آفات، پابندیوں یا عالمی منڈی میں اچانک سپلائی میں رکاوٹ کی صورت میں توانائی کی فراہمی متاثر نہ ہو۔

اکثر خام تیل کی صورت میں یہ تیل پہلے ہی نکالا جا چکا ہوتا ہے اور ضرورت پڑنے پر فوری طور پر مارکیٹ میں لایا جا سکتا ہے۔

ان ذخائر کا تصور خاص طور پر 1970 کی دہائی کے تیل بحران کے بعد سامنے آیا، جس کے بعد بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے رکن ممالک کو لازم کیا کہ وہ کم از کم 90 دن کی درآمدات کے برابر تیل کا ذخیرہ رکھیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ قیمتوں میں شدید اُتار چڑھاؤ کو روکا جا سکے اور معیشت کو بڑے جھٹکے سے بچایا جا سکے۔

امریکہ، چین اور جاپان کے پاس دنیا کے بڑے سٹریٹیجک آئل ذخائر ہیں اور ماضی میں روس یوکرین جنگ سمیت کئی عالمی بحرانوں کے دوران ان ذخائر سے تیل جاری کیا جا چکا ہے تاکہ عالمی منڈی کو سہارا دیا جا سکے۔

مگر اب حالیہ ایران جنگ کے دوران بھی ان کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے کہ جب خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کے بعد تیل کی پیداوار متاثر ہوئی جبکہ آئل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

Getty Imagesکیا پاکستان کو واقعی سٹریٹیجک ریزروز کی ضرورت ہے؟

مشرق وسطیٰ کے بحران کے دوران پاکستانی حکام بارہا یہ تسلی دے چکے ہیں کہ ملک کے پاس کسی بھی وقت میں تیل کا 28 دن کا سٹاک موجود رہتا ہے مگر وہ اس وقت کمرشل ذخائر کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) میں توانائی کے شعبے کی محقق ڈاکٹر عافیہ ملک کا کہنا ہے کہ اصولاً صرف سٹریٹیجک ریزروز کا اختیار حکومت کے پاس ہوتا ہے جبکہ کمرشل ریزروز ریفائنریوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس ہی ہوتے ہیں جنھوں نے اس شعبے میں سرکایہ کاری کی ہوئی ہوتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس اس وقت 20 سے زیادہ دن کا ’امپورٹ کور‘ موجود ہے۔ تیل اور گیس کے محکمے اوگرا نے کمپنیوں کے لائسنسز میں یہ شرط شامل کی ہوئی ہے کہ ان کے پاس 20 روز کا سٹاک موجود ہونا چاہیے۔ یعنی یومیہ جتنا سٹاک نکل رہا ہے، وہ اسے پورا کر رہے ہوتے ہیں۔ اس تیل کی سٹوریج کے لیے ان کمپنیوں کے مارجن سے بھی کچھ حصہ خرچ ہوتا ہے۔

مگر سٹریٹیجک ریزروز کا مقصد سپلائی چین میں خلل یا بحران کی صورت سے نمٹنا ہے۔

ڈاکٹر عافیہ کے مطابق اگر یہ ریزروز خام تیل کی صورت میں ہوں تو انھیں ریفائنریوں کو آکشن کیا جاتا ہے اور اگر یہ پیٹرولیم مصنوعات کی صورت میں ہیں تو انھیں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو فروخت کیا جاتا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے اوپیک چھوڑنے کا اعلان کیوں کیا اور یہ تیل کی منڈیوں کو کیسے متاثر کرے گا؟’تین دن گزر گئے، ابھی تک کوئی کنواں نہیں پھٹا‘: کیا ایران میں تیل کے کنویں واقعی بند ہونے کے قریب ہیں؟عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمت، پاکستان حکومت کی مشکل اور اربوں کی سبسڈی: کیا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں مزید اضافہ ناگزیر ہے؟ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی قیمتیں: پاکستان میں ای بائیکس کی فروخت میں ’غیر معمولی‘ اضافہ

زاہد میر ملک میں تیل و گیس کے شعبے میں کئی دہائیوں تک مختلف کمپنیوں کے ساتھ وابستہ رہ چکے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں یہ بحث گذشتہ 30 سال سے ہو رہی ہے کہ آیا اس کی ضرورت ہے یا نہیں۔

لیکن وہ کہتے ہیں کہ اس کی اس لیے ضرورت ہے کہ پاکستان کی تیل کی درآمدات پر مشرق وسطیٰ پر بہت زیادہ انحصار ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس وقت تو پاکستان متحدہ عرب امارات میں فجیرہ بندرگاہ سے تیل کی درآمدات جاری رکھ پا رہا ہے، یعنی اس کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنا نہیں پڑتا یا سعودی عرب سے بحیرۂ احمر کی طرف سے تیل کی درآمدات جاری ہیں۔

لیکن اگر ان راستوں پر نئے چیلنجز پیدا ہوتے ہیں، جیسے بحیرہ احمر پر حوثیوں کے حملے، تو خام تیل درآمد کرنا ناممکن ہو سکتا ہے۔

اس صورت میں ان کے بقول پاکستان کو انٹرنیشنل مارکیٹ سے تیل خریدنا پڑے گا جس سے لاگت زیادہ آئے گی اور زیادہ وقت لگے گا۔ مثلاً امریکہ سے تیل لانے میں ایک ماہ اور نائیجریا سے 28 دن لگ سکتے ہیں۔

وہ اس جانب بھی اشارہ کرتے ہیں کہ جنگوں کی صورت میں بھی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر کے سپلائز کو روکا جاتا ہے، جیسے 1971 کی جنگ میں ہوا تھا۔

تو یہ ریزروز ایسے دنوں کے لیے ضروری ہیں تاکہ ’بحران میں بھی ریفائنریوں کو آپریٹ کیا جا سکے اور بڑھتی قیمت کو کنٹرول کیا جائے۔‘

وہ مثال دیتے ہیں کہ امریکہ کے پاس 800 ملین بیرل کے ریزروز ہیں جن کے ذریعے وہ قیمت میں تیزی کو کنٹرول کرتے ہیں۔

سٹریٹیجک ریزروز رکھنا کیوں مشکل ہے؟

ڈاکٹر عافیہ ملک بتاتی ہیں کہ پاکستان کے تناظر میں یہ اس لیے مشکل ہے کیونکہ اس کے لیے مہنگے انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔ اس وقت ملک میں سٹوریج کی تنصیبات ’صرف ریفائنریوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس ہیں۔‘

اس کے لیے ’سٹیبلائرز، احتیاطی تدابیر اور انفراسٹرکچر درکار ہے جو اسے مہنگا منصوبہ بنا دیتا ہے۔ اس کے لیے اربوں ڈالر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بعد مینٹیننس کی بھی لاگت آتی ہے۔ چونکہ پاکستان میں تیل کی مقامی پیداوار نہیں تو ان ریزروز کو بھرنے کے لیے وسائل چاہییں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ دنیا بھر میں ان ریزروز پر اس وقت تیزی سے کام کیا جاتا ہے جب عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں کم ہوں۔

Getty Images

ادھر زاہد میر کا کہنا ہے کہ چین اور انڈیا نے اپنی ضرورت کے مطابق ایسے ریزروز رکھے ہوئے ہیں اور انھیں زیرِ زمین یا ٹینکوں کے اندر یا نمک کی کانوں میں رکھا جاتا ہے۔

زاہد میر کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت کے پاس یقیناً اتنے وسائل نہیں کہ وہ سٹریٹیجک ریزروز قائم کر سکیں۔ یہ تجویز سامنے آئی ہے کہ اس کے لیے ایک سرکاری کمپنی بنائے جائے مگر ’مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں اس کا خیال صرف اسی وقت آتا ہے جب کوئی بحران پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد سب بھول جاتے ہیں۔‘

چونکہ یہ ریزروز کمرشل نہیں بلکہ سٹریٹیجک مقاصد کے لیے قائم کیے جاتے ہیں تو عام حالات میں ان سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

تیل کی صنعت کے ماہر کا کہنا ہے کہ اس کے لیے آئل پروڈیوسرز یا دیگر کمپنیوں کے ساتھ شراکت بھی قائم کی جا سکتی ہے۔ وہ انڈیا کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس نے بعض ریزروز کے لیے ایک کمپنی سے ہی شراکت کی ہوئی تھی اور حالیہ بحران کے دوران ملک کی ضرورت کو اسی سٹوریج فیسلٹی سے پورا کیا گیا۔

دریں اثنا پاکستان کے پاس یہ آپشن بھی موجود ہے کہ ان ریزروز کے لیے کسی دوست ملک سے مدد حاصل کی جائے۔

ڈاکٹر عافیہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے سٹریٹیجک ریزروز کسی دوسرے ملک میں بھی رکھوا سکتا ہے یا پھر کسی دوسرے کی کمپنی کو پاکستان میں اس شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دے سکتا ہے۔ یوں اس سٹوریج فسیلٹی کو پہلے پاکستان کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔

دوسری طرف زاہد میر کہتے ہیں کہ اصولاً یہ اضافی تیل اپنے ہی ملک میں موجود ہونا چاہیے کیونکہ مستقبل میں بھی مشرق وسطیٰ میں سپلائی چین میں خلل پیدا ہونے کا خدشہ برقرار ہے۔

Getty Images

مگر یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا سٹریٹجک ریزروز قائم کرنے کی بجائے ریفائنریز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو اپنا سٹاک بڑھانے پر آمادہ کیا جا سکتا ہے۔

اس پر ڈاکٹر عافیہ کہتی ہیں کہ ان کمپنیوں کے پاس لیکویڈٹی کے وسائل ہوتے ہیں اور حکومت کو مزید سٹوریج فسیلٹیز کے لیے انھیں مالی مراعات دینی پڑیں گی تاکہ وہ مزید سرمایہ کاری کر سکیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ کی بعض خبروں کے مطابق ایسی تجاویز بھی زیرِ غور ہیں کہ سٹریٹیجک ریزروز بنانے کے لیے پیٹرولیم ڈیویلپمنٹ لیوی یعنی پی ڈی ایل کو بڑھا دیا جائے تاہم ڈاکٹر عافیہ ملک اس تجویز سے اتفاق نہیں کرتیں اور ان کا کہنا ہے کہ موجودہ لیوی کو ہی استعمال کیا جانا چاہیے، نہ کہ ان کے لیے عوام پر مزید بوجھ ڈالا جائے۔

جبکہ زاہر میر کا کہنا ہے کہ اگر ملک میں ایک ماہ میں دو ارب لیٹر پیٹرول فروخت ہوتا ہے اور اس میں صرف پانچ روپے کا پی ڈی ایل بھی شامل کیا جائے تو اس سے 20 ارب روپے جمع کیے جا سکتے ہیں۔

’تو یہ تجویز ہے کہ آپ کو کہیں سے تو شروع کرنا ہے کیونکہ حکومت کے پاس تو اتنے پیسے نہیں کہ اس پر خرچ کر سکے۔‘

امریکہ کا 34 جہاز روک کر واپس بھیجنے کا دعویٰ: کیا ہرمز کی بحری ناکہ بندی ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لا سکتی ہے؟امریکہ کی جانب سے ایران کی ناکہ بندی: آبنائے ہرمز پر کنٹرول کس کا ہے اور بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟سستے تیل اور گیس کا دور ختم: ’تاریخ کا سب سے بڑا توانائی بحران‘ ایران جنگ ختم ہونے کے بعد طویل عرصے تک جاری رہے گا دنیا کے کسی بھی دوسرے خطے کے مقابلے میں خلیجِ فارس میں اتنا زیادہ تیل اور گیس کیوں موجود ہے؟1970 کی دہائی کا تیل بحران کیا تھا، اور کیا دنیا اس سے بھی بڑے بحران کی طرف بڑھ رہی ہے؟آبنائے باب المندب: 36 کلومیٹر چوڑے مگر مصروف ترین تجارتی راستے کی ممکنہ بندش دنیا کو کیسے متاثر کرے گی؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More