EPAمُجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی وفات کے بعد سپریم لیڈر بننے کے بعد سے عوام میں نظر نہیں آئے
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے ابتدائی حملوں کے بعد سے ایک ہی سوال منڈلا رہا ہے کہ آخر ایران میں اختیار کس کے پاس ہے؟
28 فروری کو جنگ کے پہلے دن اپنے والد علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد مُجتبیٰ خامنہ ای نے رہبر اعلیٰ کا کردار سنبھال لیا ہے۔ ایران کے نظام میں یہ منصب فیصلہ کن سمجھا جاتا ہے۔ جنگ، امن اور ریاست کی سٹریٹجک سمت سمیت تقریباً ہر اہم معاملے پر آخری فیصلہ رہبر کے پاس ہوتا ہے۔
لیکن عملی طور پر صورتحال کہیں زیادہ مبہم ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی قیادت کو ’منقسم‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ امریکہ تہران کی جانب سے ایک ’ایک جیسی تجاویز‘ کا منتظر ہے۔
اتحاد یقینی طور پر ایرانی قیادت کے ذہن میں تھا جب اُنھوں نے جمعرات کی رات ایرانی شہریوں کے موبائل فون پر ایک پیغام بھیجا جس میں کہا گیا کہ ’ایران میں نہ کوئی سخت گیر ہے اور نہ ہی اعتدال پسند۔ صرف ایک قوم ہے اور ایک راستہ ہے۔‘
غیر مرئی رہنما
اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مُجتبیٰ خامنہ ای عوام میں نظر نہیں آئے۔ چند تحریری بیانات کے سوا، جن میں ایک یہ اصرار بھی شامل ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہی ہے، ان کی روزمرہ معاملات میں گرفت کے واضح شواہد بہت کم ہیں۔
ایرانی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ وہ ابتدائی حملوں میں زخمی ہوئے تھے لیکن اس بارے میں تفصیلات محدود رکھی گئی ہیں۔ نیو یارک ٹائمز نے ایرانی ذرائع کے حوالے سے اس ہفتے رپورٹ کیا کہ انھیں متعدد زخم آئے ہوں گے، جن میں چہرے کے زخم بھی شامل ہیں جن کی وجہ سے ان کے لیے بولنا مشکل ہو گیا ہے۔
یہ غیر موجودگی اہم ہے۔ ایران کے سیاسی نظام میں اختیار صرف ادارہ جاتی نہیں بلکہ نمائشی بھی ہوتا ہے۔ علی خامنہ ای تقاریر، نپی تلی عوامی موجودگی اور مختلف دھڑوں کے درمیان ثالثی کے ذریعے اپنے عزائم واضح کرتے تھے۔ یہ عمل اب بڑی حد تک غائب ہے۔
اس کا نتیجہ تشریحی خلا کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ بعض کا مؤقف ہے کہ جنگ کے دوران مُجتبیٰ خامنہ ای رہبر کے منصب پر فائز ہوئے، لہذا انھیں اپنا اختیار مستحکم کرنے کا موقع ہی نہیں ملا۔
بعض مبصرین اُن کے زخموں سے متعلق رپورٹس کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور سوال اٹھاتے ہیں کہ آیا وہ نظام کو فعال طور پر چلانے کے قابل بھی ہیں یا نہیں۔ دونوں صورتوں میں، جنگ سے پہلے کی نسبت فیصلے میں مرکزیت کم دکھائی دیتی ہے۔
’ٹرمپ نے خود کو ایک کونے میں لا کھڑا کیا ہے جہاں سے نکلنے کا راستہ وہ ڈھونڈ نہیں پا رہے‘ایران امریکہ سے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے گریزاں کیوں ہے؟کیا روایتی طاقتوں کا زوال پاکستان جیسی ’درمیانی طاقتوں‘ کو عالمی منظرنامے پر آگے لا رہا ہے؟مذاکرات کی شرط: ایران کے دنیا بھر میں منجمد اثاثوں کی مالیت کیا ہے؟سفارتی راستے کھلے ہیں، مگر بمشکل
بظاہر نظر آتا ہے کہ سفارت کاری حکومت کے پاس ہے۔ صدر مسعود پزشکیان کی نگرانی میں وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں تہران کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ کوئی بھی حکمت عملی طے نہیں کر پا رہا۔
عراقچی کی اتھارٹی اس حقیقت سے بھی مزید مشکوک ہو جاتی ہے کہ ایرانی وفد کی قیادت پارلیمان کے سپیکر محمد قالیباف کرتے ہیں۔
عراقچی کا کردار بظاہر احکامات دینے سے زیادہ اعلانات پر مبنی ہی نظر آتا ہے۔ آبنائے ہرمز کھولنے یا بند ہونے سے متعلق اُن کا یو ٹرن یعنی پہلے اُنھوں نے بحری آمدورفت کی بحالی کا اشارہ کیا اور پھر اس کی فوری تردید کر دی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی کنٹرول کے مقابلے میں سفارتی فیصلوں کی اہمیت کتنی کم ہے۔
دوسری جانب مسعود پزشکیان نے نظام کی مجموعی سمت کے ساتھ خود کو ہم آہنگ رکھا ہوا ہے، مگر اس کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کرتے نظر نہیں آتے۔ ایک نسبتاً اعتدال پسند شخصیت سمجھے جانے کے باوجود اُنھوں نے اب تک کوئی آزاد موقف اپنانے سے گریز کیا ہے۔
اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کا تعطل بھی اسی نکتے کو تقویت دیتا ہے۔ سفارتی چینلز کھلے ہونے کے باوجود، نظام یا تو ارادے سے محروم دکھائی دیتا ہے یا عزم ظاہر کرنے سے گریزاں ہے۔
EPAفوج کا بڑھتا ہوا دائرہ اختیار
آبنائے ہرمز پر کنٹرول ایران کے لیے دباؤ کا سب سے فوری ذریعہ ہے۔ لیکن اس کی بندش کے فیصلے سفارتی ٹیم کے بجائے پاسداران انقلاب کے پاس ہیں، جس کی قیادت احمد وحیدی کر رہے ہیں۔ اس سے حقیقی طاقت ان ہاتھوں میں چلی جاتی ہے جو بند دروازوں کے پیچھے عمل کرتے ہیں۔
گذشتہ بحرانوں کے برعکس، اس وقت کوئی ایک ایسا نمایاں چہرہ نہیں جو واضح طور پر فیصلے کر رہا ہو۔ اس کے بجائے ایک خاص طریقہ کار نظر آتا ہے کہ یعنی پہلے کارروائی بعد میں پیغام رسانی اور اس میں بھی بسا اوقات یکسانیت نظر نہیں آتی۔
چاہے آبنائے ہرمز کی بندش نافذ کرنا ہو یا خلیج بھر میں اہداف کو نشانہ بنانا، پاسدارانِ انقلاب کی کارروائیاں بحران کی رفتار طے کرتی نظر آتی ہیں۔ سیاسی اور سفارتی محاذ پر ایرانی قیادت رہنمائی کے بجائے بظاہر ان فیصلوں کی پیروی کرتی نظر آتی ہے۔
ضرروی نہیں ہے کہ یہ انتظامی کمزوریوں کی علامت ہو، لیکن اس یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ پاسداران انقلاب کی عملی خود مختاری وسیع ہوئی ہے۔
قالیباف کا آگے آنا
اسی ابہام میں محمد باقر قالیباف سامنے آتے ہیں۔ پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر اور موجودہ سپیکرِ پارلیمان کے طور پر، وہ اس وقت کے سب سے نمایاں چہروں میں سے ایک بن کر ابھرے ہیں۔
پارلیمان کے اندر اور قدامت پسند حلقوں میں مذاکرات کی مخالفت اب بھی مضبوط ہے۔ سخت گیر بیانیہ مزید شدت اختیار کر چکا ہے، جہاں ریاستی میڈیا اور عوامی مہمات مذاکرات کو دشمنوں کے سامنے کمزوری کی علامت کے طور پر پیش کر رہی ہیں۔
لہٰذا قالیباف کی پوزیشن نازک ہے، وہ سرگرم تو ہیں مگر واضح طور پر بااختیار نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے اقدامات مُجتبیٰ خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق ہیں، مگر براہِ راست ہم آہنگی کے شواہد کم دکھائی دیتے ہیں۔ ایک ایسے نظام میں جو اوپر سے آنے والے اشاروں پر منحصر ہو، یہ ابہام معنی خیز ہے۔
Reuters ’نظام ٹوٹ پھوٹ سے بچ رہا ہے‘
ان تمام معاملات کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایک ایسا نظام سامنے آتا ہے جو کام تو کر رہا ہے، مگر مربوط انداز میں نہیں چلایا جا رہا۔
رہبر اعلیٰ کی اتھارٹی موجود ہے، مگر واضح طور پر استعمال میں نہیں۔ صدارت ہم آہنگ ہے، مگر قیادت نہیں کر رہی۔ سفارت کاری سرگرم ہے، مگر فیصلہ کن نہیں۔
اس سے یہ نہیں سمجھا جا سکتا کہ ریاستی ڈھانچہ منہدم ہو گیا ہے، ایرانی حکومت بدستور قائم ہے۔ لیکن اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نظام آبنائے ہرمز کی بندش کو حکمت عملی میں ڈھالنے میں مشکل محسوس کر رہا ہے۔ یہ بیک وقت کئی محاذوں پر کارروائی کر سکتا ہے، مگر اپنے ہی مراکزِ طاقت کو واضح سمت دینے میں دشواری محسوس کرتا ہے۔
اور ایران کے سیاسی ماڈل میں، ہم آہنگی اشاروں کے ذریعے برقرار رکھی جاتی ہے۔ فی الحال، نظام دباؤ کے باوجود کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے اور کسی نمایاں ٹوٹ پھوٹ سے بچ رہا ہے۔
امریکہ کا 34 جہاز روک کر واپس بھیجنے کا دعویٰ: کیا ہرمز کی بحری ناکہ بندی ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لا سکتی ہے؟ایران امریکہ سے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے گریزاں کیوں ہے؟یورینیم کی افزودگی کا وہ ’خطرناک لمحہ‘ جب یہ مواد تباہ کُن جوہری ہتھیار میں بدل جاتا ہےایران کی امریکہ اور اسرائیل سے جنگ کے دوران القاعدہ کی ’غیرمعمولی‘ خاموشی کیا ظاہر کرتی ہے؟کیا روایتی طاقتوں کا زوال پاکستان جیسی ’درمیانی طاقتوں‘ کو عالمی منظرنامے پر آگے لا رہا ہے؟