سری لنکا کی آسٹریلیا کے بجائے ہیکرز کو قرض کی ادائیگی، ’سیلاب زدگان سے ہزار سوال اور ایک جعلی ای میل پر 25 لاکھ ڈالر بھیج دیے‘

بی بی سی اردو  |  Apr 25, 2026

Getty Images

سری لنکن حکام کی جانب سے آسٹریلیا کو واجب الادا قرض کی 25 لاکھ ڈالرز کی قسط اصل قرض دہندہ کے بجائے ہیکرز کو بھیجے جانے کے معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

یہ رقم آسٹریلیا اور سری لنکا کے درمیان جاری ایک قرض پرگرام کی ادائیگی کے لیے مختص تھی۔ یہ قرض پروگرام تمبر 2025 میں ختم ہونا تھا۔

حکام کا خیال ہے یہ رقم جنوری میں کسی وقت ہیکرز کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہوئی ہے تاہم اس بارے میں معلومات اب سامنے آرہی ہیں۔

جمعرات کے روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے سری لنکا کے وزیر خزانہ ہرشنا سوریاپروما نے دعویٰ کیا کہ اگرچہ سری لنکا کی جانب سے قرض کی ادائیگیاں کر دی گئی تھیں، تاہم سائبر کرمنلز نے مداخلت کرتے ہوئے اس رقم کو مطلوبہ وصول کنندہ کے بجائے کسی دوسرے بینک اکاؤنٹ میں ڈال دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ پبلک ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کے چار سینیئر افسران کو معطل کر دیا گیا ہے اور وہ غیر ملکی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مدد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تاحال اس بارے میں تفصیلات واضح نہیں ہیں کہ ہیکرز رقم کیسے چرانے میں کامیاب ہوئے۔ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ ہیکرز نے قرض کی ادائیگی کے لیے ای میل پر مبنی ہدایات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تھی اور ادائیگی اپنے اکاؤنٹس کی جانب موڑ دی تھی۔

سری لنکن حکام 25 لاکھ ڈالر کی چوری کا علم اس وقت ہوا جب آسٹریلوی قرض دہندہ نے شکایت کی کہ انھیں قرض کی ادائیگی موصول نہیں ہوئی۔

Getty Imagesسری لنکا کے وزیر خزانہ ہرشنا سوریاپروما کا کہنا ہے کہ پبلک ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کے چار سینیئر افسران کو معطل کر دیا گیا ہے

نائب وزیر خزانہ انیل جیانتھا فرنینڈو نے کہا کہ ہیکرز کتنے بڑے پیمانے پر یہ کارروائیاں کر رہے تھے اس کا اندازہ اس وقت ہوا جب سائبر کرمنلز نے انڈیا کو کی جانے والی ایک اور ادائیگی اپنے اکاؤنٹس کی جانب موڑنے کی کوشش کی۔

کولمبو میں آسٹریلوی ہائی کمشنر میتھیو ڈک ورتھ کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کو واجب الادا ادائیگیوں میں ہونے والی بے ضابطگیوں کے متعلق علم ہے۔

انھوں نے ایکس پر جاری ایک بیان میں لکھا ہے کہ ’سری لنکن حکام اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور آسٹریلوی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں جو تحقیقات میں مدد کر رہے ہیں۔‘

یہ سائبر حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب سری لنکا کے مرکزی بینک اور وزارت خزانہ نے رواں سال کے آغاز میں مقامی اخبارات میں ایک اشتہاری مہم شروع کی تھی، جس میں عوام کو سائبر مجرمان کی جانب سے فراڈ کی کوششوں کے متعلق خبردار کیا گیا تھا۔

آسٹریلیا، چین اور برازیل کے ’جعلی تھانے‘: فراڈ کا مرکز جہاں ’بیت الخلا جانے کے لیے اندراج ہوتا تھا‘’فون ہیکنگ اور لندن میں حملہ‘: سعودی حکومت کو محمد بن سلمان پر طنز کرنے والے یوٹیوبر کو 30 لاکھ پاؤنڈ ادا کرنے کا حکم پرانے مگر آزمودہ حربے استعمال کرتے ہوئے کرپٹو مجرموں نے 70 کروڑ ڈالر کیسے چوری کیے؟’سِم سویپ اٹیک‘: جعل سازوں کا وہ ہتھیار جس کے ذریعے وہ منٹوں میں آپ کو جمع پونجی سے محروم کر سکتے ہیںچوری کے متعلق معلومات عام کیسے ہوئیں؟

بی بی سی سنہالہ 22 اپریل 2026 کو فری لائرز تنظیم کے صدر کی طرف سے سری لنکن پارلیمنٹ کے سپیکر کو ایک خط بھیجا گیا جس میں انھیں مطلع کیا گیا کہ ایسی معلومات سامنے آئی ہیں کہ دسمبر 2025 اور جنوری 2026 کے درمیان 25 لاکھ ڈالر قرض کی قسط اصل قرض دہندہ کی جگہ ہیکرز کو کر دی گئی ہیں۔

فری لائرز نے اپنے خط میں کہا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے 24 مارچ 2026 یا اس کے آس پاس ایک ’ٹیکنیکل کمیٹی‘ تشکیل دی گئی اور اس واقعے کے سلسلے میں وزارتِ خزانہ کے دو ڈپٹی ڈائریکٹرز، دو ڈائریکٹرز اور کمپیوٹر ڈویژن کے ایک سربراہ کو پہلے ہی معطل کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ کچھ عرصہ قبل تک سری لنکا کا مرکزی بینک غیر ملکی کرنسی کے قرضوں، قسطوں اور قرضوں پر سود کی ادائیگی کا ذمہ دار تھا۔ تاہم نئے فنانس ایکٹ کی منظوری کے بعد یہ ذمہ داری محکمہ خارجہ اور پبلک ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کو منتقل کر دی گئی۔ مذکورہ ادائیگی سے متعلق دستاویزات اسی محکمے نے تیار کیے تھے اور ادائیگی بھی اسی محکمے نے کی تھی۔

خط میں دعویٰ کیا گیا ہے وزارتِ خزانہ کا ایک ڈپٹی سیکریٹری، ایک اکاؤنٹنٹ، اور ایک کمپیوٹر افسر اکیلے 25 لاکھڈالر کی ادائیگی نہیں کر سکتے اور ڈپٹی سیکریٹری اور ٹریژری سیکریٹری کو بھی تحقیات میں شامل کرنا چاہیے۔

تنظیم نے اپنے خط میں سپیکر سے درخواست کی ہے کہ وہ ایک مناسب طریقہ کار کے ذریعے اس معاملے کی باضابطہ تحقیقات کرائیں۔

Getty Imagesسیلاب متاثرین کو معاوضہ دیتے ہوئے ہزار سوال اور ایک جعلی ای میل پر 25 لاکھ ڈالر ادا کر دیے

اس واقعہ کے حوالے سے میڈیا سے بات کرتے ہوئے سری لنکا میں اپوزیشن لیڈر ساجیت پریماداسا کا کہنا تھا کہ ملک کی مالی سلامتی کو لے کر ایک سنگین مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے۔

’کوئی ہیکر کسی کسی دوسرے ملک کو کی جانے والے قرض کی ادائیگی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا؟ سادہ لفظوں میں کہا جائے تو ایک سائبر مجرم نے ہمارے ملک کے خزانے سے 25 لاکھ امریکی ڈالر چرائے ہیں۔‘

ایم پی نمل راجا پاکسے نے حکومت پر وزارت خزانہ کو لوٹنے کا الزام لگایا ہے۔

’یہ الزام نہیں، حکومت نے دن دیہاڑے وزارت خزانہ پر ڈاکہ ڈالا ہے۔ اب وہ بھی اس جیب کترے کی طرح حرکت کر رہے ہیں جو کسی کی جیب کاٹنے کے بعد خود چور چور چلا کر لوگوں کو کسی بے گناہ کے پیچھے لگا دیتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت ’طوفان اور سیلاب سے متاثرہ کسی شخص کو معاوضہ دیتے ہوئے ہزار سوال پوچھتے ہیں لیکن جب وزارت خزانہ میں ایک جعلی ای میل آتی ہے تو وہ 25 لاکھ ڈالر ادا کرتے ہیں۔‘

حکومتی مؤقف

وزیر خزانہ ہرشنا سوریاپروما کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے متعلق معلومات کے غیر ضروری افشا کیے جانے کی صورت میں سائبر ملزمان کو اپنی حکمت عملی تبدیل کا موقع مل سکتا تھا۔

ان کے مطابق ’جیسے ہی ہمیں اس بارے میں اطلاع ملی، ہم نے مالی جرائم کے حوالے سے سی آئی ڈی اور مرکزی بینک کے فنانشل انٹیلی جنس یونٹ کو آگاہ کیا کہ ہمارے سسٹم میں داخل ہر کر ہیکرز نے ایسا جرم کیا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ وزارت خزانہ نے اس معاملے کی باضابطہ تحقیقات کے لیے دو ڈپٹی ٹریژری سیکرٹریز پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی جس میں وزارت خزانہ کے اعلیٰ ترین حکام شامل تھے۔

وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر ہم نے پہلے ہی ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی کی ہے۔‘

رشوت، بدعنوانی اور بھتہ وصولی کے الزامات: سائبر کرائم سے نمٹنے کا پاکستانی ادارہ کن مشکلات کا شکار ہے؟او ٹی پی: آپ کے فون پر موصول ہونے والا کوڈ کیسے ہیک ہوتا ہے اور کیا اسے روکنا ممکن ہے؟’دولت کی دیوی‘: چینی خاتون نے فراڈ کے ذریعے اربوں ڈالر کی کرپٹو کرنسی کیسے حاصل کی اور ان کی گرفتاری کیسے عمل میں آئی؟’تمھیں دوبارہ کام کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی:‘ جب بی بی سی کو ہیک کروانے کےلیے رپورٹر کو بھاری رشوت کی پیشکش ہوئی’میں لڑکی بن کر امریکی مردوں سے دوستی کرتا تھا‘: پنجاب کے نوجوان جنھیں ’ہنی ٹریپ‘ کے لیے استعمال کیا گیا’ڈیجیٹل حراست‘ کی آڑ میں ساڑھے چھ لاکھ روپے کا فراڈ، معمر خاتون کی موت کے بعد بھی دھوکے باز فون پر پیغام بھیجتے رہے
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More