امریکہ کی جانب سے ایران کی ناکہ بندی: آبنائے ہرمز پر کنٹرول کس کا ہے اور بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

بی بی سی اردو  |  Apr 15, 2026

BBC

امریکی سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی مکمل ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور ’مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی بحری برتری برقرار ہے۔‘

سینٹ کام کی جانب سے ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا: ’ایران کی اندازاً 90 فیصد معیشت کا انحصار سمندر کے راستے بین الاقوامی تجارت پر ہے۔ ناکہ بندی کے نفاذ کے 36 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں امریکی فوج نے سمندر کے ذریعے ایران میں آنے اور ایران سے جانے والی تمام معاشی تجارت مکمل روک دی ہے۔‘

سینٹ کام کے مطابق 10 ہزار سے زائد امریکی اہلکار درجنوں جنگی جہازوں اور طیاروں کی مدد سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی پر عمل کرا رہے ہیں۔ پہلے 24 گھنٹوں کے دوران کوئی بھی جہاز امریکی ناکہ بندی عبور نہ کر سکا، جبکہ چھ تجارتی جہاز امریکی افواج کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے خلیجِ عمان میں واقع کسی ایرانی بندرگاہ میں واپس چلے گئے۔

سینٹ کام کی جاری کردہ مزید تفصیلات کے مطابق امریکی بحریہ کے گائیڈڈ میزائل ڈیسٹرائرز اُن اثاثوں میں شامل ہیں جو ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کرا رہے ہیں۔ ایک عام ڈیسٹرائر پر 300 سے زائد بحری اہلکار تعینات ہوتے ہیں، جو جارحانہ اور دفاعی سمندری کارروائیاں انجام دینے میں اعلیٰ درجے کی تربیت رکھتے ہیں۔

ایکس پر جاری سینٹ کام کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے ساحلی علاقوں یا بندرگاہوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے ہر ملک کے جہاز پر ناکہ بندی کا نفاذ بلا امتیاز ہو گا۔ جبکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے وہ جہاز جن کی منزل یا روانگی کا مقام ایران نہیں ہے، انھیں نہیں روکا جائے گا۔

آبنائے ہرمز کے بحران میں بین الاقوامی سمندری قانون سے متعلق پانچ اہم نکات

ایران کا کہنا ہے کہ اسے اس تنگ گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کو منظم کرنے اور حتیٰ کہ ٹول وصول کرنے کا حق حاصل ہے، جبکہ امریکہ نے اس کے جواب میں بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس صورتحال کے عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں کیونکہ دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ یہاں ہونے والی کسی بھی پیش رفت کا براہِ راست اثر ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی اور عالمی توانائی کے تحفظ پر پڑتا ہے۔

اس تناظر میں سوال یہ ہے کہ آبنائے ہرمز پر اصل کنٹرول کس کا ہے اور بین الاقوامی قانون اس بارے میں کیا کہتا ہے؟

آبنائے ہرمز پر کنٹرول کس کا ہے؟

اپنے سب سے تنگ مقام پر آبنائے ہرمز تقریباً 33 کلومیٹر چوڑی ہے۔ ایک جانب ایران جبکہ دوسری جانب عمان واقع ہے۔ دونوں ممالک اپنی ساحلی حدود سے 12 بحری میل (تقریباً 22 کلومیٹر) تک علاقائی پانیوں پر اختیار رکھتے ہیں۔

اگرچہ ایران اور عمان کے علاقائی پانی آپس میں ملتے ہیں، تاہم آبنائے ہرمز کی شپنگ لینز کو ایک بین الاقوامی گزرگاہ (انٹرنیشنل سٹریٹ) قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کوئی بھی ملک اپنی مرضی سے اسے بند نہیں کر سکتا۔

کیا ایران ٹول وصول کر سکتا ہے؟

مختصر جواب ہے: نہیں۔

بین الاقوامی سمندری قانون کے تحت کسی بھی ملک کو صرف گزرنے کی بنیاد پر جہازوں سے فیس لینے کی اجازت نہیں ہوتی۔

دنیا کی دیگر اہم گزرگاہیں جیسے آبنائے ملاکا، باب المندب اور ڈینش سٹریٹ بھی بغیر کسی ٹول کے جہازوں کو گزرنے دیتی ہیں اور ایران تنازع سے پہلے آبنائے ہرمز میں بھی کوئی فیس لاگو نہیں تھی۔

تنازع کے دوران گزرگاہوں کا کیا ہوتا ہے؟

بین الاقوامی قانون واضح ہے کہ عالمی تجارتی راستوں کو حتیٰ کہ جنگ کے دوران بھی بند نہیں کیا جا سکتا۔

غیر فوجی جہاز علاقائی پانیوں سے محفوظ طریقے سے گزر سکتے ہیں، جبکہ تمام جہاز، بشمول فوجی، بین الاقوامی گزرگاہوں سے سفر کر سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سمندری قانون (UNCLOS) کے تحت کسی بھی ملک کو مکمل طور پر ایسی گزرگاہ بند کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اگرچہ ایران نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے، لیکن اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس کی پاسداری کرے گا۔

کیا بحری ناکہ بندی قانونی ہے؟

ناکہ بندیاں سمندری قانون کے تحت انتہائی سنجیدہ اقدام سمجھی جاتی ہیں۔ یہ قانونی ہو سکتی ہیں، لیکن صرف سخت شرائط کے تحت۔

ناکہ بندی کا باضابطہ اعلان ہونا چاہیے، اسے منصفانہ اور مسلسل نافذ کیا جانا چاہیے، اور اس کا ہدف شہری جہاز نہیں ہونے چاہیں۔ انسانی امداد لے جانے والے جہازوں کو بھی نہیں روکا جا سکتا۔

اگر ناکہ بندی ان ممالک کی تجارت کو متاثر کرے جو تنازع کا حصہ نہیں ہیں، جیسے سری لنکا یا بنگلہ دیش، تو وہ ممالک سفارتی یا قانونی سطح پر اس کے خلاف آواز اٹھا سکتے ہیں۔

بین الاقوامی سمندری قانون پر عمل درآمد کون کرتا ہے؟

دنیا میں سمندروں کی نگرانی کے لیے کوئی عالمی پولیس موجود نہیں ہے۔

عملی طور پر اس قانون کا نفاذ بحری طاقت، سفارتی اتحاد، اور سیاسی و بین الاقوامی دباؤ پر منحصر ہوتا ہے۔

اسی لیے کہا جاتا ہے کہ سمندری قانون اسی وقت مؤثر ہوتا ہے جب بڑی طاقتیں اس کا احترام کریں اور یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز کا موجودہ بحران اس بات کا حقیقی امتحان ہے کہ عالمی نظام کس حد تک مؤثر ہے۔

Getty Imagesجنگ کے آغاز سے اب تک ایران خلیج کے راستے اپنی تیل و گیس کی مصنوعات کی برآمدات کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہے، جس سے اسے اربوں ڈالر کی آمدنی حاصل ہوئی

امریکی فوج کے پاس یقیناً یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ خلیج میں آنے جانے والے بحری جہازوں کی ناکہ بندی کر سکے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ اس اقدام کا مقصد کیا ہو گا؟

ریٹائرڈ امریکی ریئر ایڈمرل مارک مونٹگمری کہتے ہیں کہ ’میرے خیال میں یہ (ناکہ بندی) اُس متبادل کے مقابلے میں یقیناً کم خطرناک ہے جس میں ایرانیوں کو آبنائے ہرمز سے زبردستی پیچھے دھکیلنا تھا یا قافلوں کی صورت میں تجارتی جہازوں کو سکیورٹی میں یہاں سے گزارا جاتا۔‘

امریکہ، ایران جنگ کی تازہ ترین صورتحال، بی بی سی اُردو کے لائیو پیج پر

آبنائے ہرمز کی بندش کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے حالیہ ہفتوں میں صدر ٹرمپ کی جانب سے جن آپشنز پر غور کیا گیا وہ نہایت خطرناک اور ممکنہ طور پر مہنگے ثابت ہو سکتے تھے۔ صدر ٹرمپ کے زیر غور آنے والے آپشنز جیسا کہ ایرانی جزیرہ خارگ پر قبضہ کرنا یا آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے والے تجارتی بحری قافلوں کو فوجی سکیورٹی میں وہاں سے بحفاظت گزروانا۔

ایسے کسی اقدام کا حصہ بننے والی امریکی افواج کو ایرانی میزائلوں، ڈرونز اور تیز رفتار کشتیوں کے حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی ممکنہ موجودگی خطرے کی مزید سنگین کر دیتی۔

اس کے برعکس، ناکہ بندی کی صورت میں امریکی جنگی جہاز نسبتاً محفوظ رہتے ہوئے خلیجِ عمان کے پانیوں میں گشت کر سکتے ہیں، ایرانی بندرگاہوں سے نکلنے والے جہازوں کی نگرانی کر سکتے ہیں اور جب چاہیں انھیں روک سکتے ہیں۔

ایڈمرل مونٹگمری نے کہا کہ ’یہ آپشن (ناکہ بندی) اختیار کرنے میں خطرہ آبنائے ہرمز جیسی انتہائی تنگ بحری گزرگاہ کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔‘

خصوصی فوجی دستوں، نیوی کے ہیلی کاپٹروں اور تیز رفتار کشتیوں کی دستیابی کے ساتھ، امریکی بحریہ کے پاس اس نوعیت کی کارروائی کے لیے درکار تمام وسائل موجود ہیں۔

Reuters’واشنگٹن ایران کے فولادی عزم اور مضبوط ارادے کو پوری طرح مدنظر رکھنے میں ناکام رہا ہے‘

وینزویلا اور کیوبا کے خلاف حالیہ بحری ناکہ بندیوں میں امریکہ نے اپنی ناکہ بندی کی اس صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا ہے جبکہ رواں برس جنوری کے آغاز میں شمالی بحرِ اوقیانوس میں کھلے سمندر میں روسی تیل بردار جہاز ’مارینیرا‘ کی ضبطی نے بھی یہ ثابت کیا کہ اس طرح کی کارروائیاں تقریباً دنیا کے کسی بھی حصے میں انجام دی جا سکتی ہیں۔

امریکی سینٹرل کمان (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے کی جانے والی تازہ ترین بحری ناکہ بندی ’ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں داخل ہونے یا وہاں سے روانہ ہونے والے تمام ممالک کے جہازوں پر بلاامتیاز نافذ کی جائے گی‘ تاہم ایران کے علاوہ دیگر ممالک کی بندرگاہوں کا استعمال کرنے والے جہازوں کو نہیں روکا جائے گا۔

سینٹکام کے مطابق انسانی بنیادوں پر امدادی سامان لے جانے والے جہازوں کو بھی راستہ فراہم کیا جائے گا، مگر یہ اجازت ’تلاشی کے عمل سے مشروط‘ ہو گی۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ کی یہ حکمتِ عملی مؤثر ثابت ہو گی؟

امریکہ-ایران مذاکرات: اب آگے کیا ہو گا؟دنیا کے کسی بھی دوسرے خطے کے مقابلے میں خلیجِ فارس میں اتنا زیادہ تیل اور گیس کیوں موجود ہے؟ایران جنگ اور لیگو: بی بی سی کو پروپیگنڈا ویڈیوز بنانے والے ایرانی شہری نے کیا بتایا؟امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کیا دنیا میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی ایک نئی دوڑ شروع کر سکتی ہے؟

منطق بظاہر واضح ہے۔ جنگ کے آغاز سے اب تک ایران خلیج کے راستے اپنی تیل و گیس کی مصنوعات کی برآمدات کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہے، جس سے اسے اربوں ڈالر کی آمدنی حاصل ہوئی جبکہ اسی دوران اس نے خلیج کے دیگر ممالک کو اُن کی تیل و گیس کی برآمدات سے روکنے میں کامیابی حاصل کی۔

ایک کامیاب امریکی بحری ناکہ بندی ایران کی برآمدات کو روک سکتی ہے،جس سے ایرانی حکومت کو انتہائی ضروری آمدنی سے محروم کیا جا سکتا ہے اور پہلے سے کمزور ایرانی معیشت کو مزید دباؤ میں لایا جا سکتا ہے۔

تاہم ایران، جو پہلے ہی امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایک ماہ سے زائد عرصے تک جاری حملوں کے باوجود غیر معمولی استقامت کا مظاہرہ کر چکا ہے، ممکن ہے یہ سمجھے کہ وہ اس نئے بحران کا بھی مقابلہ کر سکتا ہے، خصوصاً اس لیے کہ کسی نئی ناکہ بندی کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہو گا۔

امریکہ کے سابق خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ ڈیوڈ سیٹر فیلڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایران کا خیال ہے کہ وہ (امریکی ناکہ بندی کے ردعمل میں پڑنے والے) دباؤ کو متوازن کر سکتے ہیں، ایرانی خیال کر سکتے ہیں کہ ناکہ بندی کی صورت میں تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھیں گی اور اس صورتحال سے مجبور بالآخر خلیجی ریاستیں آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کروانے کے لیے امریکہ پر دباؤ ڈالیں گی۔‘

ان کے مطابق واشنگٹن ایران کے ’فولادی عزم اور مضبوط ارادے‘ کو پوری طرح مدنظر رکھنے میں ناکام رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اُن (ایران) کا خیال ہے کہ وہ جیت چکے ہیں۔ ایرانیوں کا ماننا ہے کہ وہ اپنے مخالفین کے مقابلے میں زیادہ عرصے تک اور زیادہ دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘

EPA’چین کے پاس وسیع سٹریٹجک ذخائر موجود ہیں، لیکن طویل مدت تک وہ ترسیل میں رکاوٹ کو کسی صورت برداشت نہیں کر سکتا‘

ادھر بحری جہاز رانی کے ماہرین ایرانی بندرگاہوں سے نکلنے والے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی محدود آمدورفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ امریکی ناکہ بندی کے ابتدائی عملی اثرات کیا سامنے آتے ہیں۔

بحری انٹیلیجنس تجزیہ کار مشیل ویز بوک مین کہتی ہیں کہ ’میں اِس وقت اُن جہازوں کو دیکھ رہی ہوں جو ابھی (آبنائے ہرمز سے) گزر رہے ہیں۔ اگر میں ایک کسی جہاز پر تعینات عملے کا رُکنہوتی،توموجودہ صورتحال پر شدید تشویش میں مبتلا ہوتی۔‘

’لائیڈز لسٹ‘ کے مدیرِ اعلیٰ رچرڈ میڈے کے مطابق ’گذشتہ رات صدر ٹرمپ کے (ناکہ بندی سے متعلق) ابتدائی اعلان کے فوراً بعد ہم نے چند جہازوں کو یو ٹرن لیتے ہوئے دیکھا۔‘

رچرڈ میڈے کا کہنا ہے کہ اس سے قبل کے 48 گھنٹے، فروری کے اختتام پر جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت کا مصروف ترین وقت تھے، جس دوران تقریباً 30 ایسے جہازروں کی نقل و حرکت ریکارڈ کی گئی جو اپنا خودکار شناختی نظام آن رکھ کر سفر کر رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’یوں لگ رہا تھا جیسے بہت سے جہاز جلد از جلد وہاں سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہوں۔‘

مگر ٹرمپ کے اعلان کے بعد اِس وقت نقل و حرکت نہایت محدود ہو چکی ہے۔

جنگ بندی بدستور برقرار رہنے کے باعث ایران کی جنگ فی الوقت دو متحارب بحری ناکہ بندیوں کی کشمکش میں بدل چکی ہے، جس کے بیچ عالمی معیشت بُری طرح پھنسی ہوئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق چین نے گذشتہ ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں ہونے والے طویل سفارتی مذاکرات میں ایران کو شریک ہونے پر آمادہ کرنے میں کردار ادا کیا، جس کے بعد واشنگٹن کو امید ہو سکتی ہے کہ اس کا تازہ اقدام بیجنگ کی جانب سے مزید دباؤ میں تبدیل ہو گا۔

چین ایران سے تیل درآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ اگرچہ اس کے پاس وسیع سٹریٹجک ذخائر موجود ہیں، لیکن طویل مدت تک ترسیل میں رکاوٹ وہ کسی صورت برداشت نہیں کر سکتا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا تازہ ترین اقدام ایک بڑا جُوا ہے جس کے اثرات آنے والے دنوں میں واضح طور پر محسوس کیے جا سکیں گے۔

امریکہ-ایران مذاکرات: اب آگے کیا ہو گا؟دنیا کے کسی بھی دوسرے خطے کے مقابلے میں خلیجِ فارس میں اتنا زیادہ تیل اور گیس کیوں موجود ہے؟ایران جنگ اور لیگو: بی بی سی کو پروپیگنڈا ویڈیوز بنانے والے ایرانی شہری نے کیا بتایا؟امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کیا دنیا میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی ایک نئی دوڑ شروع کر سکتی ہے؟امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کیسے کرے گی اور ایران پر اس کے اثرات کیا ہوں گے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More