Getty Imagesپاکستان میں بجلی کی طلب فی الحال 18000 میگا واٹ ہے جبکہ اس کے مقابلے میں 13500 میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے اور 4500 میگا واٹ کا شارٹ فال ہے
’ایسا لگتا ہے کہ ہم دوبارہ 2011 کے سال میں داخل ہو گئے ہیں۔ وہ وقت یاد آ رہا جب ہر تھوڑی دیر بعد بجلی چلی جاتی تھی۔۔۔‘
’اگر اسلام آباد میں اتنی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کے دیگر حصوں کی صورتحال کیا ہو گی؟ کیا اندھیرے میں ڈوبا ہوا پاکستان ایک بار پھر واپس آ گیا ہے؟‘
’اِس وقت رات کے ڈیڑھ بج رہے ہیں۔ شام پانچ بجے کے بعد سے چار مرتبہ لوڈ شیڈنگ ہو چکی ہے اور ہر بار دورانیہ ایک گھنٹہ رہا۔ ہوٹل اور مارکیٹیں تو رات 8 اور 10 بجے بالترتیب بند ہو جاتی ہیں تو پھر آخر رات کے ایک بجے تک کے یہ پیک آورز کس کے لیے ہیں؟‘
یہ اور اس نوعیت کے دیگر گلے شکوے اور سوالات پاکستان کے سوشل میڈیا پر اب کافی عام نظر آ رہے ہیں اور اس کی وجہ ملک میں لوڈ شیڈنگ کی واپسی ہے۔
اگرچہ پاکستان میں اپریل کے مہینے میں عمومی طور پر موسم زیادہ گرم نہیں ہوتا اور بجلی کی طلب بھی کم رہتی ہے، تاہم اس کے باوجود ملک کے مختلف حصوں میں بجلی کی فراہمی کی صورتحال خراب ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس سے شہری اور دیہی علاقوں میں رہنے والے صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
بہت سے پاکستانی صارفین اس موقع پر سنہ 2011 کو یاد کر رہے ہیں جب ملک کو بدترین بجلی بحران کا سامنا تھا اور روزانہ دس سے 14 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی تھی۔
اگرچہ فی الحال صورتحال اتنی بُری نہیں مگر چونکہ گذشتہ کچھ برسوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ لگ بھگ ختم ہو گئی تھی، اسی لیے صارفین پر اب یہ صورتحال گراں گزر رہی ہے۔
’پیک ریلیف سٹریٹجی‘: حکومت لوڈ شیڈنگ کی کیا وجوہات بتا رہی ہے؟Getty Images
پاور ڈویژن کے حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ فی الوقت پاکستان میں بجلی کی طلب 18000 میگا واٹ ہے جبکہ اس کے مقابلے میں 13500 میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے، چنانچہ بجلی کی طلب اور رسد میں 4500 میگا واٹ کا فرق ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ آنے والے دنوں میں بجلی کی طلب میں اضافے کے باعث لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ مزید بڑھے گا۔
پاکستان میں پاور ڈویژن نے منگل کے روز ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے موجودہ صورتحال کی وضاحت کی ہے۔
پاور ڈویژن کے مطابق ’پاکستان میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ حکومت کی پیک ریلیف سٹریٹجی کا حصہ ہے‘ اور اگر اس ضمن میں بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو بجلی کے نرخوں میں پانچ سے چھ روپے فی یونٹ تک اضافہ ہو سکتا تھا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’ہمیں اس وقت سب سے بڑا چیلنج پیک آورز (شام پانچ بجے سے لے کر رات ایک بجے) کے دوران درپیش ہے جہاں بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے‘ جبکہ دوسری جانب اِن دنوں پانی سے چلنے والے بجلی گھروں کی پیداوار میں کمی ہے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ’پیک آورز (شام پانچ سے رات ایک بجے تک) میں سوا دو گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ کے ذریعے بجلی کی قیمت میں تقریباً تین روپے فی یونٹ اضافے کو روکا جا سکتا ہے تاہم فرنس آئل کے محدود استعمال کے باوجود تقریباً ڈیڑھ روپے فی یونٹ اضافے کا امکان برقرار ہے۔‘
پاور ڈویژن نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں یعنی ڈسکوز کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ ہر فیڈر کی لوڈ شیڈنگ کے اوقات صارفین کے ساتھ شیئر کریں۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت کی کوشش ہے کہ عوام عالمی حالات کے اثرات سے کم سے کم متاثر ہوں اور انھیں ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جائے۔
سستے تیل اور گیس کا دور ختم: ’تاریخ کا سب سے بڑا توانائی بحران‘ ایران جنگ ختم ہونے کے بعد طویل عرصے تک جاری رہے گا ’نیٹ بلنگ کا اطلاق صرف نئے صارفین پر، موجودہ سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ برقرار رہے گی‘بجلی کا وہ ’ایک اضافی یونٹ‘ جو آپ کے بل میں دوگنا اضافے کی وجہ بنتا ہےآئی پی پیز معاہدوں پر نظر ثانی: 137 ارب روپے کیسالانہ بچت کا دعوی لیکن بجلی کی فی یونٹ قیمت کتنی کم ہو گی؟
لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی یا لیسکو کی طرف جاری کردہ بیان پاور ڈویژن کی وضاحت سے تھوڑا مختلف ہے۔
لیسو کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’موجودہ ملکی توانائی اور طلب و رسد میں ممکنہ فرق کے پیش نظر لیسکو ریجن میں عارضی طور پر لوڈ مینجمنٹ کی جا رہی ہے۔ جیسے ہی بجلی کے کوٹہ میں بہتری آئے گی یا طلب و رسد کا فرق ختم ہو گا تو لوڈ مینجمنٹ کا سلسلہ فوری طور پر بند کر دیا جائے گا۔‘
تجزیہ کار کیا کہتے ہیں؟Getty Images
پاکستان میں بجلی کئی طریقوں سے پیدا کی جاتی ہے جس کے لیے ایل این جی، ہائیڈرو پاور، فرنس آئل، فاسل فیول، کوئلہ، ہوا، سولر اور بائیوگیس سمیت دیگر وسائل استعمال کیے جاتے ہیں۔
اس میں سے 46 فیصد بجلی پاکستان کے مقامی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے بنائی جاتی ہے جبکہ 54 فیصد کے لیے گیس، تیل اور کوئلہ دوسرے ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اپریل کے مہینے میں لوڈ شیڈنگ کی وجہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کے بیچ پاکستان میں درآمدی ایل این جی کی سپلائی کا بند ہونا ہے۔
پاور سیکٹر کے تجزیہ کار زیان بابر علی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز بند ہوئی تو قطر سے پاکستان آنے والی ایل این جی کی سپلائی معطل ہو گئی جبکہ پاکستان میں چار ہزار سے پانچ ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے مختلف پاور پلانٹس ایل این جی کا استعمال کرتے ہیں۔
ان کے مطابق اس صورتحال کے باعث بجلی طلب کے مطابق نہیں بن پا رہی اور اب اس کی رسد میں خلل واقع ہو رہا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اگرچہ پاکستان میں دیگر ذرائع جیسا کہ ڈیزل سے بھی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے تاہم ڈیزل کی زیادہ قیمت کی وجہ سے حکومت یہ ذریعہ استعمال نہیں کر رہی کیونکہ اس صورت میں بجلی مہنگی ہو گئی اور لامحالہ اس کا اثر عوام پر مہنگی بجلی کی صورت میں منتقل کرنا پڑے گا۔
زیان کے مطابق اپریل کے مہینے میں ملک میں پانی سے بجلی بنانے کی صلاحیت بھی کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہائیڈرو پاور ذرائع سے کم بجلی آتی ہے اور یہی صورتحال ملک میں لوڈ شیڈنگ کی وجہ بن رہی ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ آنے والوں دنوں میں بھی بجلی کی لوڈ شیڈنگ جاری رہے گی کیونکہ فی الحال ایل این جی سپلائی معطل ہے اور اگر آبنائے ہرمز آئندہ بھی بند رہی تو پاکستان میں گرمیوں میں بجلی کا بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
زیان کہتے ہیں کہ عموماً اپریل میں بجلی کی طلب 18000 میگاواٹ کے لگ بھگ ہوتی ہے تاہم حکومت مہنگی بجلی پیدا نہیں کر رہی جس کی وجہ سے یہ طلب پوری نہیں ہو رہی۔
تجزیہ کار محمد لقمان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں تقریباً 12 سے 13 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے جبکہ فی الحال ملک کی ضرورت 17 سے 18 ہزار میگا واٹ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اگر یہ شارٹ فال مزید بڑھا تو لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ابھی تو حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پیک آورز میں دو سے ڈھائی گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے مگر حقیقت میں بجلی اس سے کہیں زیادہ جا رہی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ایل این جی کی فراہمی میں رکاوٹ کی وجہ سے بھی بجلی کی فراہمی متاثر ہے جبکہ فرنس آئل پر چلنے والے پاور پلانٹ بھی بند ہیں۔
انھوں نے کہا ’موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ انرجی کرائسس تیزی سے بڑھ رہا ہے۔آنے والے دنوں میں یہ مسئلہ مزید بڑھ سکتا ہے کیونکہ گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ لوگ اے سی کا استعمال بھی زیادہ شروع کر دیں گے اور بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہو گا۔‘
کپیسِٹی پیمنٹ: حکومت نجی بجلی گھروں کو کروڑوں کی ادائیگیوں سے چھٹکارا پانے کے لیے کیا کر سکتی ہےگھریلو صارفین کے سولر پینل لگانے سے عام عوام پر مہنگی بجلی کا بوجھ کیسے پڑ رہا ہے؟جاپان کا زمین پر ’مصنوعی سورج‘ بنانے کا خواب، ’کم تابکاری زیادہ توانائی‘چناب پر 313 ارب روپے مالیت کے انڈین آبی منصوبے کی ماحولیاتی منظوری: اس منصوبے کے پاکستان پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟’گرین انرجی سپر پاور‘ چین نے امریکہ، روس اور مغرب کو کیسے پیچھے چھوڑا؟کیا چھت پر سفید رنگ کرنے سے گھر ٹھنڈا ہو سکتا ہے؟