امریکہ کی جانب سے ایران کی ناکہ بندی کی حکمت عملی ایک جُوا ہے، مگر کیا یہ کامیاب ہو سکے گی؟

بی بی سی اردو  |  Apr 14, 2026

Getty Imagesجنگ کے آغاز سے اب تک ایران خلیج کے راستے اپنی تیل و گیس کی مصنوعات کی برآمدات کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہے، جس سے اسے اربوں ڈالر کی آمدنی حاصل ہوئی

امریکی فوج کے پاس یقیناً یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ خلیج میں آنے جانے والے بحری جہازوں کی ناکہ بندی کر سکے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ اس اقدام کا مقصد کیا ہو گا؟

ریٹائرڈ امریکی ریئر ایڈمرل مارک مونٹگمری کہتے ہیں کہ ’میرے خیال میں یہ (ناکہ بندی) قابلِ عمل ہے۔ اور یہ اُس متبادل کے مقابلے میں یقیناً کم خطرناک ہے جس میں ایرانیوں کو آبنائے ہرمز سے زبردستی پیچھے دھکیلنا تھا یا قافلوں کی صورت میں تجارتی جہازوں کو سکیورٹی میں یہاں سے گزارا جاتا۔‘

امریکہ، ایران جنگ کی تازہ ترین صورتحال، بی بی سی اُردو کے لائیو پیج پر

آبنائے ہرمز کی بندش کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے حالیہ ہفتوں میں صدر ٹرمپ کی جانب سے جن آپشنز پر غور کیا گیا وہ نہایت خطرناک اور ممکنہ طور پر مہنگے ثابت ہو سکتے تھے۔ صدر ٹرمپ کے زیر غور آنے والے آپشنز جیسا کہ ایرانی جزیرہ خارگ پر قبضہ کرنا یا آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے والے تجارتی بحری قافلوں کو فوجی سکیورٹی میں وہاں سے بحفاظت گزروانا۔

ایسے کسی اقدام کا حصہ بننے والی امریکی افواج کو ایرانی میزائلوں، ڈرونز اور تیز رفتار کشتیوں کے حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی ممکنہ موجودگی خطرے کی مزید سنگین کر دیتی۔

اس کے برعکس، ناکہ بندی کی صورت میں امریکی جنگی جہاز نسبتاً محفوظ رہتے ہوئے خلیجِ عمان کے پانیوں میں گشت کر سکتے ہیں، ایرانی بندرگاہوں سے نکلنے والے جہازوں کی نگرانی کر سکتے ہیں اور جب چاہیں انھیں روک سکتے ہیں۔

ایڈمرل مونٹگمری نے کہا کہ ’یہ آپشن (ناکہ بندی) اختیار کرنے میں خطرہ آبنائے ہرمز جیسی انتہائی تنگ بحری گزرگاہ کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔‘

خصوصی فوجی دستوں، نیوی کے ہیلی کاپٹروں اور تیز رفتار کشتیوں کی دستیابی کے ساتھ، امریکی بحریہ کے پاس اس نوعیت کی کارروائی کے لیے درکار تمام وسائل موجود ہیں۔

Reuters’واشنگٹن ایران کے فولادی عزم اور مضبوط ارادے کو پوری طرح مدنظر رکھنے میں ناکام رہا ہے‘

وینزویلا اور کیوبا کے خلاف حالیہ بحری ناکہ بندیوں میں امریکہ نے اپنی ناکہ بندی کی اس صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا ہے جبکہ رواں برس جنوری کے آغاز میں شمالی بحرِ اوقیانوس میں کھلے سمندر میں روسی تیل بردار جہاز ’مارینیرا‘ کی ضبطی نے بھی یہ ثابت کیا کہ اس طرح کی کارروائیاں تقریباً دنیا کے کسی بھی حصے میں انجام دی جا سکتی ہیں۔

امریکی سینٹرل کمان (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے کی جانے والی تازہ ترین بحری ناکہ بندی ’ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں داخل ہونے یا وہاں سے روانہ ہونے والے تمام ممالک کے جہازوں پر بلاامتیاز نافذ کی جائے گی‘ تاہم ایران کے علاوہ دیگر ممالک کی بندرگاہوں کا استعمال کرنے والے جہازوں کو نہیں روکا جائے گا۔

سینٹکام کے مطابق انسانی بنیادوں پر امدادی سامان لے جانے والے جہازوں کو بھی راستہ فراہم کیا جائے گا، مگر یہ اجازت ’تلاشی کے عمل سے مشروط‘ ہو گی۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ کی یہ حکمتِ عملی مؤثر ثابت ہو گی؟

امریکہ-ایران مذاکرات: اب آگے کیا ہو گا؟دنیا کے کسی بھی دوسرے خطے کے مقابلے میں خلیجِ فارس میں اتنا زیادہ تیل اور گیس کیوں موجود ہے؟ایران جنگ اور لیگو: بی بی سی کو پروپیگنڈا ویڈیوز بنانے والے ایرانی شہری نے کیا بتایا؟امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کیا دنیا میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی ایک نئی دوڑ شروع کر سکتی ہے؟

منطق بظاہر واضح ہے۔ جنگ کے آغاز سے اب تک ایران خلیج کے راستے اپنی تیل و گیس کی مصنوعات کی برآمدات کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہے، جس سے اسے اربوں ڈالر کی آمدنی حاصل ہوئی جبکہ اسی دوران اس نے خلیج کے دیگر ممالک کو اُن کی تیل و گیس کی برآمدات سے روکنے میں کامیابی حاصل کی۔

ایک کامیاب امریکی بحری ناکہ بندی ایران کی برآمدات کو روک سکتی ہے،جس سے ایرانی حکومت کو انتہائی ضروری آمدنی سے محروم کیا جا سکتا ہے اور پہلے سے کمزور ایرانی معیشت کو مزید دباؤ میں لایا جا سکتا ہے۔

تاہم ایران، جو پہلے ہی امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایک ماہ سے زائد عرصے تک جاری حملوں کے باوجود غیر معمولی استقامت کا مظاہرہ کر چکا ہے، ممکن ہے یہ سمجھے کہ وہ اس نئے بحران کا بھی مقابلہ کر سکتا ہے، خصوصاً اس لیے کہ کسی نئی ناکہ بندی کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہو گا۔

امریکہ کے سابق خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ ڈیوڈ سیٹر فیلڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایران کا خیال ہے کہ وہ (امریکی ناکہ بندی کے ردعمل میں پڑنے والے) دباؤ کو متوازن کر سکتے ہیں، ایرانی خیال کر سکتے ہیں کہ ناکہ بندی کی صورت میں تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھیں گی اور اس صورتحال سے مجبور بالآخر خلیجی ریاستیں آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کروانے کے لیے امریکہ پر دباؤ ڈالیں گی۔‘

ان کے مطابق واشنگٹن ایران کے ’فولادی عزم اور مضبوط ارادے‘ کو پوری طرح مدنظر رکھنے میں ناکام رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اُن (ایران) کا خیال ہے کہ وہ جیت چکے ہیں۔ ایرانیوں کا ماننا ہے کہ وہ اپنے مخالفین کے مقابلے میں زیادہ عرصے تک اور زیادہ دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘

EPA’چین کے پاس وسیع سٹریٹجک ذخائر موجود ہیں، لیکن طویل مدت تک وہ ترسیل میں رکاوٹ کو کسی صورت برداشت نہیں کر سکتا‘

ادھر بحری جہاز رانی کے ماہرین ایرانی بندرگاہوں سے نکلنے والے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی محدود آمدورفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ امریکی ناکہ بندی کے ابتدائی عملی اثرات کیا سامنے آتے ہیں۔

بحری انٹیلیجنس تجزیہ کار مشیل ویز بوک مین کہتی ہیں کہ ’میں اِس وقت اُن جہازوں کو دیکھ رہی ہوں جو ابھی (آبنائے ہرمز سے) گزر رہے ہیں۔ اگر میں ایک کسی جہاز پر تعینات عملے کا رُکنہوتی،توموجودہ صورتحال پر شدید تشویش میں مبتلا ہوتی۔‘

’لائیڈز لسٹ‘ کے مدیرِ اعلیٰ رچرڈ میڈے کے مطابق ’گذشتہ رات صدر ٹرمپ کے (ناکہ بندی سے متعلق) ابتدائی اعلان کے فوراً بعد ہم نے چند جہازوں کو یو ٹرن لیتے ہوئے دیکھا۔‘

رچرڈ میڈے کا کہنا ہے کہ اس سے قبل کے 48 گھنٹے، فروری کے اختتام پر جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت کا مصروف ترین وقت تھے، جس دوران تقریباً 30 ایسے جہازروں کی نقل و حرکت ریکارڈ کی گئی جو اپنا خودکار شناختی نظام آن رکھ کر سفر کر رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’یوں لگ رہا تھا جیسے بہت سے جہاز جلد از جلد وہاں سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہوں۔‘

مگر ٹرمپ کے اعلان کے بعد اِس وقت نقل و حرکت نہایت محدود ہو چکی ہے۔

جنگ بندی بدستور برقرار رہنے کے باعث ایران کی جنگ فی الوقت دو متحارب بحری ناکہ بندیوں کی کشمکش میں بدل چکی ہے، جس کے بیچ عالمی معیشت بُری طرح پھنسی ہوئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق چین نے گذشتہ ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں ہونے والے طویل سفارتی مذاکرات میں ایران کو شریک ہونے پر آمادہ کرنے میں کردار ادا کیا، جس کے بعد واشنگٹن کو امید ہو سکتی ہے کہ اس کا تازہ اقدام بیجنگ کی جانب سے مزید دباؤ میں تبدیل ہو گا۔

چین ایران سے تیل درآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ اگرچہ اس کے پاس وسیع سٹریٹجک ذخائر موجود ہیں، لیکن طویل مدت تک ترسیل میں رکاوٹ وہ کسی صورت برداشت نہیں کر سکتا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا تازہ ترین اقدام ایک بڑا جُوا ہے جس کے اثرات آنے والے دنوں میں واضح طور پر محسوس کیے جا سکیں گے۔

امریکہ-ایران مذاکرات: اب آگے کیا ہو گا؟دنیا کے کسی بھی دوسرے خطے کے مقابلے میں خلیجِ فارس میں اتنا زیادہ تیل اور گیس کیوں موجود ہے؟ایران جنگ اور لیگو: بی بی سی کو پروپیگنڈا ویڈیوز بنانے والے ایرانی شہری نے کیا بتایا؟امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کیا دنیا میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی ایک نئی دوڑ شروع کر سکتی ہے؟امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کیسے کرے گی اور ایران پر اس کے اثرات کیا ہوں گے؟
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More