پلٹن گراؤنڈ میں ہتھیار ڈالنے سے جرنیلوں کے کیمپ تک: انڈین جیلوں میں قید 93 ہزار پاکستانیوں کی واپسی کی کہانی

بی بی سی اردو  |  Mar 29, 2026

Getty Imagesپاکستانی فوجی 16 دسمبر 1971 کو ہتھیار ڈالنے کے بعد ڈھاکہ میں ایک عارضی جیل کیمپ میں

نو ماہ تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد پاکستانی فوج کے مشرقی علاقے کے اس وقت کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی نے 16 دسمبر 1971 کی سہ پہر ڈھاکہ کے پلٹن گراؤنڈ میں بنگلہ دیش اور انڈیا کی مشترکہ افواج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

مجموعی طور پر ان پاکستانیوں کی تعداد 93 ہزار تھی جن میں سے تقریباً 80 ہزار پاکستان کی فوج اور نیم فوجی دستوں کے ارکان تھے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد کسی جنگ میں اتنی بڑی تعداد میں فوجیوں کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کا یہ پہلا واقعہ تھا۔

ان جنگی قیدیوں کی ایک بڑی تعداد کو ابتدائی طور پر ڈھاکہ چھاؤنی سمیت بنگلہ دیش کے مختلف مقامات پر حراست میں لیا گیا تھا۔ بنگلہ دیش کی اس وقت کی عارضی حکومت انھیں قید میں رکھنا چاہتی تھی اور ان پر مقدمہ چلانا چاہتی تھی۔

لیکن ایسا نہ ہو سکا اور ہتھیار ڈالنے کے چند روز کے اندر ان پاکستانی جنگی قیدیوں کو زمینی اور فضائی راستے سے انڈین جیلوں میں بھیج دیا گیا۔

ڈیڑھ سال سے زائد عرصے تک انڈیا میں حراست میں رکھنے کے بعد انھیں 1973 کے اواخر میں پاکستان بھیجنے کا عمل شروع ہوا۔

قیدیوں کی منتقلی اپریل 1974 میں آخری جنگی قیدی کے طور پر لیفٹیننٹ جنرل نیازی کی پاکستان واپسی کے ساتھ ختم ہوئی۔

لیکن انھیں انڈیا کیوں لیجایا گیا؟ اور بعد میں بغیر مقدمہ چلائے واپس بھیجنے کی کیا وجہ تھی؟

Reutersشیخ مجیب الرحمٰن 1974 میں سہ فریقی معاہدے پر دستخط کے بعد دہلی گئے تو دائیں طرف بنگلہ دیش کے اس وقت کے وزیر خارجہ ڈاکٹر کمال حسین تھےجنگی قیدیوں میں کون شامل تھا؟

سنہ 1971 میں جن 93 ہزار پاکستانیوں کو جنگی قیدی بنایا گیا تھا ان میں سے سبھی فوج کے رکن نہیں تھے۔ ان میں سول انتظامیہ کے اہلکار اور ملازمین اور ان کے خاندان کے افراد بھی شامل تھے۔

محققین کے مطابق ان جنگی قیدیوں میں سے تقریباً 80 ہزار فوجی، نیم فوجی اور پولیس فورسز کے ارکان تھے۔

بقیہ 13 ہزار شہری تھے جن میں مقامی انتظامیہ کے اہلکار، سفارت کار اور ان کے خاندان کے افراد شامل تھے۔

اس وقت جن اعلیٰ فوجی افسران کو جنگی قیدی بنایا گیا تھا، ان میں اُس وقت مشرقی پاکستان کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی اور مشرقی پاکستان حکومت کے فوجی مشیر میجر جنرل راؤ فرمان علی شامل تھے۔

ریئر ایڈمرل محمد شریف، ایئر کموڈور انعام الحق، میجر جنرل محمد جمشید اور پاک فوج کے تعلقات عامہ کے افسر میجر صدیق سالک بھی جنگی قیدی بننے والوں میں شامل تھے۔

AFP via Getty Imagesبنگلہ دیش کو آزاد کرانے کی جان لیوا جدوجہد مسلسل نو ماہ تک جاری رہیڈھاکہ سے انڈیا منتقلی

ہتھیار ڈالنے کے بعد کے دنوں میں پاکستانی فوج کی ایک بڑی تعداد بنگلہ دیش میں موجود رہی۔ ملک کی اس وقت کی عبوری حکومت انھیں ملک میں ہی رکھنا چاہتی تھی اور خصوصی عدالتیں بنا کر جنگی جرائم کے ملزمان کا ٹرائل مکمل کرنا چاہتی تھی۔

لیکن جنگ زدہ، نو آزاد ملک خود خوراک اور کپڑوں کی کمی سمیت مختلف بحرانوں میں پھنسا ہوا تھا اور یوں 93 ہزار جنگی قیدیوں کی رہائش اور خوراک کی ذمے داری اُٹھانا آسان نہیں تھا۔

اس کے علاوہ بنگلہ دیش کے عوام میں پاکستانی افواج کے خلاف شدید غصہ پایا جاتا تھا۔ اس کے نتیجے میں جنگی قیدیوں کی حفاظت کے بارے میں بھی تشویش پیدا ہو گئی تھی۔

لیکن 16 دسمبر 1971 کے ہتھیار ڈالنے کے دستاویز میں باضابطہ طور پر اس بات کی ضمانت دی گئی کہ ہتھیار ڈالنے والے تمام افراد کے ساتھ جنیوا کنونشنز کے مطابق عزت اور احترام کے ساتھ برتاؤ کیا جائے گا اور ان کی حفاظت اور بہبود کو یقینی بنایا جائے گا۔

انھیں یقین دہانیوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہتھیار ڈالنے کے محض ایک ہفتے بعد ہی پاکستانی قیدیوں کی انڈیا منتقلی کا عمل شروع کر دیا گیا۔ انھیں بنیادی طور پر زمینی اور ہوائی راستے سے انڈیا لیجایا گیا۔

ان میں سے اہم قیدیوں کو ہوائی جہاز اور عام قیدیوں کو ٹرک اور ٹرین کے ذریعے انڈیاکی مختلف جیلوں میں قائم کیے گئے کیمپوں میں بھیجا گیا۔

BHARATRAKSHAK.COM 16 دسمبر 1971 کو ڈھاکہ میں پاکستانی فوجیوں کے ہتھیار ڈالنے کا منظرتم کہاں قید تھے؟

ہتھیار ڈالنے والے پاکستانی فوجیوں کو کولکتہ، جبل پور، آگرہ، رانچی اور بہار سمیت انڈیا کے مختلف حراستی کیمپوں میں رکھا گیا۔

لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی کو کولکتہ اور جبل پور کی جیلوں میں رکھا گیا جس کا ذکر اُنھوں نے اپنی کتاب ’دی بیٹریئل آف ایسٹ پاکستان‘ میں بھی کیا ہے۔

اس کتاب میں جنرل نیازی نے لکھا کہ 20 دسمبر 1971 کو انھیں اور دیگر پاکستانی فوجی افسران کو ہوائی جہاز سے کولکتہ پہنچایا گیا۔ وہاں انھیں فورٹ ولیم کے ایک سرکاری کوارٹر میں رکھا گیا۔

جنرل نیازی نے اپنی کتاب میں لکھا کہ ’ہمارے رہائشی کوارٹرز ایک نئی تعمیر شدہ تین منزلہ عمارت میں تھے۔‘ تاہم اُن کے بقول وہ وہاں زیادہ دیر نہیں ٹھہرے اور کچھ ہی روز بعد انھیں اور دیگر پاکستانی فوجی افسران کو جبل پور جیل کیمپ نمبر ایک میں منتقل کر دیا گیا جو انڈین ریاست مدھیہ پردیش میں واقع ہے۔

مشرقی پاکستان سے آخری پرواز: سرینڈر سے انکار کرنے والے پاکستانی فوجی اور ڈھاکہ سے فرار کی کہانیشملہ معاہدہ: ذوالفقار علی بھٹو کی ’چالاکی‘ اور اندرا گاندھی کی ’سیاسی غلطی‘25 مارچ کی ’تاریک رات‘ اور ’آپریشن سرچ لائٹ‘: بنگلہ دیشی وزیر اعظم کا پیغام پاکستان میں بھی زیرِ بحثجب ایک نہتے پاکستانی فوجی پائلٹ نے 55 مسلح انڈین فوجیوں کو ’حاضر دماغی سے‘ قیدی بنا لیا

جنرل نیازی نے کتاب میں لکھا کہ ’یہ کیمپ جرنیلوں کے کیمپ کے نام سے جانا جاتا تھا۔‘

کیمپ کے بارے میں اُنھوں نے مزید لکھا کہ ’ہمارے کیمپ کو چاروں طرف سے تقریباً 50 گز اُونچی خاردار باڑ سے بند کر دیا گیا تھا، تاکہ کوئی بھی کیمپ میں داخل نہ ہو سکے اور نہ ہی اندر سے باہر جا سکے۔‘

اُنھوں نے مزید لکھا کہ کیمپ کے چاروں کونوں پر 30 فٹ اُونچی چار گارڈ پوسٹیں لگائی گئی تھیں۔ ان میں سرچ لائٹس لگائی گئی تھیں، جس کی وجہ سے رات کے وقت یہ علاقہ روشن رہتا تھا۔ ایک پنجابی سپاہی 24 گھنٹے کیمپ میں گشت کرتا تھا، اس کے ساتھ ایک آلسیشین نسل کتا بھی ہوتا تھا۔ کیمپ کے اندر اور باہر سکیورٹی موجود تھی۔‘

BBCپاکستانی جنرل نیازی نے ڈھاکہ میں مشترکہ افواج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے

پاکستانی فوج کے لیفٹیننٹ شجاعت لطیف کو ہتھیار ڈالنے کے بعد انڈیا میں آگرہ جیل میں قید کیا گیا تھا۔ یہ بعدازاں کرنل کے رینک پر ریٹائر ہوئے تھے۔

سنہ 2015 میں بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں اُنھوں نے انڈیا کی حراست میں اپنے تجربات سے آگاہ کیا تھا۔

کرنل لطیف نے بتایا کہ ’ڈھاکہ سے کولکتہ لے جانے کے بعد پہلے ٹرک اور پھر ٹرین کے ذریعے اُنھیں آگرہ لے جایا گیا۔‘

کولکتہ سے تقریباً 30 گھنٹے کے ٹرین کے سفر کے بعد لطیف ہزاروں پاکستانی فوجیوں اور اہلکاروں کے ساتھ آگرہ پہنے۔

کرنل لطیف نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمیں بتایا گیا کہ ہم سیدھے پاکستان جا رہے ہیں۔ آگرہ میں ایک سٹاپ اوور ہو گا۔ پھر وہ ہمیں پاکستان لے جائیں گے۔ ہم خوش تھے۔‘

لیکن اُن کے بقول آگرہ پہنچنے کے بعد انھیں وہاں ایک حراستی کیمپ میں لے جایا گیا۔

کرنل لطیف نے کہا کہ ’اس سال بہت سردی تھی۔ میرے پاس صرف ایک کپڑا تھا۔ پہلی رات ہمیں ایک بیرک سے دوسری بیرک میں منتقل کیا جا رہا تھا۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ وہاں کئی مہینوں کی قید کے بعد کرنل شجاعت اور ان کے کچھ ساتھی بے صبرے ہو گئے اور آگرہ جیل سے فرار ہونے کا منصوبہ بنایا۔

انڈین حکام نے اس منصوبے کو محسوس کرتے ہوئے بعد میں انھیں آگرہ سے رانچی جیل میں منتقل کر دیا۔

آگرہ سے رانچی جاتے ہوئے پاکستانی فوج کے کچھ اہلکاروں نے ٹرین کی کھڑکی کی لوہے کی جالی کاٹ کر فرار ہونے کی کوشش کی۔

’ہماری یونٹ کے ایک افسر نے جسم میں ایک چھوٹی سے آری چھپائی ہوئی تھی، اس سے ہم نے ٹرین کی کھڑکی کے تار کو کاٹنا شروع کیا۔ رات نو بجے ہم نے اسے کاٹنا شروع کیا۔ صبح تین بجے کے قریب ہم کھڑکی توڑنے میں کامیاب ہو گئے، میں کھڑکی سے گر کر ٹرین کے باہر لٹک گیا۔ پھر میں نے اپنا ہاتھ چھوڑ دیا۔ اس کے بعد مجھے اور کچھ یاد نہیں۔‘

Bettmann Archive/Getty Imagesڈھاکہ میں انڈین فوجی پاکستانی فوجیوں کے ہتھیار ڈالنے کے بعد ان کے حوالے کیے گئے ہتھیاروں کا معائنہ کر رہے ہیںقیدیوں کے لیے سفارتکاری

بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بڑی تعداد میں ان جنگی قیدیوں کے ذریعے انڈیا اور بنگلہ دیش نے پاکستان سے اپنے مطالبات منوانے کے لیے انھیں ’آلے‘ کے طور پر استعمال کیا۔

جنگ میں شکست کے چند ہی دنوں کے اندر، پاکستان میں قیدیوں کی رہائی اور ان کی وطن واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج شروع ہو گیا۔ اس صورتحال میں پاکستان نے مختلف سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے انڈیا سے قیدیوں کی رہائی کی کوششیں شروع کر دیں۔

پاکستان نے انڈیا پر جنیوا کنونشن پر عمل نہ کرنے کا الزام لگایا جس میں جنگی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔

دوسری جانب انڈیا نے کہا کہ یہ معاملہ صرف ان پر منحصر نہیں ہے۔ جنگی قیدیوں کی رہائی کے لیے بنگلہ دیش کی رضامندی بھی درکار ہے۔

دریں اثنا نئے آزاد بنگلہ دیش نے اعلان کیا کہ وہ جنگی قیدیوں کے معاملے پر اس وقت تک کوئی بات چیت نہیں کریں گے جب تک کہ ملک کے بانی صدر شیخ مجیب الرحمان کو پاکستانی جیل سے رہا نہیں کر دیا جاتا۔

ایسے میں آٹھ جنوری 1972 کو پاکستان نے شیخ مجیب الرحمان کو پاکستانی جیل سے رہا کر دیا۔

انڈین سفارت کار ششانک ایس بنرجی نے ایک مضمون میں لکھا کہ 1971 میں پاکستان کے ہتھیار ڈالنے کے بعد اندرا گاندھی کی سب سے بڑی تشویش شیخ مجیب الرحمن کی حفاظت تھی۔

اُن کے بقول بنگلہ دیشی رہنما کی رہائی اور بحفاظت واپسی میں پاکستانی جنگی قیدیوں نے اہم کردار ادا کیا۔ تاہم سابق پاکستانی سفارت کار سیموئل مارٹن برک کے مطابق انڈیا جنگی قیدیوں کو اپنے ساتھ رکھ کر مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتا تھا۔

ان کا خیال ہے کہ اسی تناظر میں 1972 میں شملہ معاہدہ ہوا تھا۔

Getty Images 1972 میں پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اس وقت کی انڈیا کی وزیر اعظم اندرا گاندھی سے ملنے شملہ گئےشملہ معاہدہ

سن 1971 میں بنگلہ دیش کی جنگ آزادی کے آخری مرحلے میں انڈیا اور پاکستان براہ راست جنگ میں ملوث ہو گئے تھے۔

جولائی 1972 میں اُس وقت کی انڈین وزیر اعظم اندرا گاندھی اور پاکستان کے صدر ذوالفقار علی بھٹو نے انڈین ریاست ہماچل پردیش کے شہر شملہ میں ملاقات کرکے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔

یہ معاہدہ ’شملہ معاہدہ‘ کہلایا۔

اس تاریخی معاہدے میں انڈیا اور پاکستان نے جن بنیادی نکات پر اتفاق کیا ان میں شامل تھا کہ دونوں ملک اپنے تمام تنازعات اور اختلافات کو آپس میں بات چیت کے ذریعے حل کریں گے اور کسی تیسرے فریق کو اس میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

جموں و کشمیر کی سیز فائر لائن یا جنگ بندی لائن کو اب سے لائن آف کنٹرول یا ایل او سی کہا جائے گا اور کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر اس لائن کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ (اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ یہ مستقل سرحد نہیں تاہم ایل او سی کو عملی طور پر سرحد ہی تصور کیا جائے گا)۔

انڈیا اپنی تحویل میں موجود 93 ہزار پاکستانی جنگی قیدی واپس بھیجے گا۔

پاکستان انڈیا کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا پابند ہو گا اور بنگلہ دیش کی خودمختاری کو تسلیم کرے گا۔

بنیادی طور پر اس معاہدے کے نتیجے میں ہی پاکستانی جنگی قیدیوں کی وطن واپسی ممکن ہو سکی۔

OXFORD UNIVERSITY PRESSلیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی کی کتاب ’دی بیٹریئل آف ایسٹ پاکستان‘دہلی معاہدہ

شملہ معاہدے کے تناظر میں بنگلہ دیش نے جنرل نیازی سمیت جنگی جرائم کے الزام میں نامزد 195 اہم ملزموں کو چھوڑ کر باقی تمام جنگی قیدیوں کو وطن واپس بھیجنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔

اگست 1973 میں بنگلہ دیش، انڈیا اور پاکستان کے درمیان دہلی میں ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

معاہدے میں کہا گیا تھا کہ جنگی جرائم کے 195 ملزموں کے علاوہ تمام پاکستانی جنگی قیدی انڈیا سے پاکستان واپس بھیج دیے جائیں گے۔

دوسری جانب، پاکستان میں گرفتار یا پھنسے ہوئے بنگلہ دیشی بھی اپنے وطن واپس بھیجے جائیں گے۔

اسی طرح، بنگلہ دیش میں پھنسے ہوئے اُردو بولنے والے بہاری افراد کی بھی پاکستان واپسی کا انتظام کیا جائے گا۔

اس معاہدے کے نتیجے میں 93 ہزار کے قریب پاکستانی قیدیوں کی وطن واپسی ممکن ہو سکی۔

ستمبر 1973 میں جنگی قیدیوں کی منتقلی کا عمل شروع ہوا۔

بعد میں پاکستان کی طرف سے جنرل نیازی سمیت 195 جنگی مجرموں کو بھی واپس بھیجنے کے لیے دباؤ ڈالا جانے لگا۔

بنگلہ دیش کو تسلیم کیے جانے کے بعد، شیخ مجیب الرحمان کی حکومت بھی بالآخر ان کو واپس بھیجنے پر راضی ہو گئی۔

اس کے بعد اپریل 1974 میں انڈیا نے آخری جنگی قیدی کے طور پر جنرل نیازی کو واہگہ بارڈر کے راستے پاکستانی فوج کے حوالے کر دیا۔

مشرقی پاکستان سے آخری پرواز: سرینڈر سے انکار کرنے والے پاکستانی فوجی اور ڈھاکہ سے فرار کی کہانیضیا الرحمان: جب فوجی افسروں کے ہاتھوں قتل ہونے والے بنگلہ دیش کے سابق صدر کی لاش قبر سے نکالی گئی جب ایک نہتے پاکستانی فوجی پائلٹ نے 55 مسلح انڈین فوجیوں کو ’حاضر دماغی سے‘ قیدی بنا لیا’پاکستان کی دوست‘ خالدہ ضیا کی وفات: بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم کون تھیں؟جنرل نیازی: انڈیا کے سامنے ہتھیار ڈالنے والا جرنیل یا دھرتی کا ’بہادر سپوت‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More