کیا حالیہ دنوں میں پاکستان نے افغانستان کے کچھ علاقے پر قبضہ کر لیا ہے؟

بی بی سی اردو  |  Mar 29, 2026

ڈیورینڈ لائن کہلانے والی پاکستان افغان سرحد پر پکتیکا صوبے میں حال ہی میں ایک واقعہ پیش آیا ہے، جس سے قیاس آرائیاں پیدا ہوئی ہیں کہ پاکستان نے افغانستان کے کم از کم 12 کلومیٹر علاقے کو باڑ لگا کر ضم کر لیا ہے۔

تاہم طالبان کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ افغانستان کے سرحدی علاقے حکومت کی سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہیں اور اس نے کسی بھی پاکستانی پیش قدمی کی تردید کی ہے۔

سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اس ہفتے پاکستانی اکاؤنٹس پر ایک ویڈیو گردش کرتی رہی جس کا عنوان تھا ’پاکستان کا نقشہ پھیل رہا ہے۔‘

ویڈیو میں پاکستانی باڑ والے سرحدی مقامات کی تصاویر دکھا کر لکھا گیا ہے کہ ’پاکستانی فورسز نے سرحدی باڑ لگا کر افغان طالبان سے چھینی گئی زمین پر مستقل قبضہ کر لیا ہے۔‘

افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد کو ’ڈیورینڈ لائن‘ کہا جاتا ہے جسے افغان حکومتوں نے ماضی میں دونوں ممالک کی سرحد کے طور پر باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔ اگرچہ اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی تنظیمیں اس لائن کو دونوں ممالک کی سرحد تسلیم کرتی ہیں۔

BBCپاکستان نے باڑ لگا کر افغانستان کی سر زمین کا جو علاقہ گھیرا ہے، اسے چوکور نشان میں دکھا گیا ہےیہ علاقہ کہاں واقع ہے؟

پکتیکا صوبے کے جنوب مغرب میں پاکستانی سرحد کے ساتھ ایک علاقہ ہے۔ یہ ایک ایسے ابھار کی طرح لگتا ہے جو پاکستان کی طرف جا رہا ہے۔

گوگل ارتھ سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ گذشتہ چار سال سے اس علاقے پر دونوں ممالک کی سرحد کے درمیان باڑ لگی ہوئی ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد کے ساتھ باڑ لگا رہا ہے۔

یہ رقبہ کم از کم 32 مربع کلومیٹر ہے۔

جو کچھ تقریباً دو ہفتے پہلے ہوا وہ اس علاقے کے ایک درّے سے متعلق ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر دیکھا جا سکتا ہے کہ اس علاقے کو باڑ لگا کر افغانستان کی سر زمین سے الگ کر دیا گیا ہے۔

اگر ہم اس علاقے کو تصویر کی مدد سے سمجھنا چاہیں تو یوں تصور کریں کہ یہ خطہ تقریباً ایک بڑے ’ایل‘ کی شکل کا ہے جس کا رقبہ تقریباً 32 مربع کلومیٹر بنتا ہے اور لوہے کی باڑ نے اس کے نچلے اور اوپری حصے کو افغانستان کے علاقے سے جدا کر دیا ہے۔

’گوریلا جنگ کا وسیع تجربہ‘ رکھنے والے افغان طالبان کے پاس کون سے ہتھیار ہیں اور کیا وہ پاکستان کے خلاف روایتی جنگ کے متحمل ہو سکتے ہیں؟جب افغانستان سے پاکستان پر سکڈ میزائلوں کی بارش ہوئیپاکستان افغانستان کشیدگی اور ڈیورنڈ لائن کی دوسری جانب پھنسے شہری: ’حکومت چاہے تو یہ چند گھنٹوں میں واپس آ سکتے ہیں‘عسکری قوت کا موازنہ: پاکستان کو افغان طالبان پر کس حد تک فوجی برتری حاصل ہے؟

اگر ہم پاکستان کی ہزاروں کلومیٹر طویل سرحدی باڑ کو معیار بنائیں، جس میں باڑ کے مشرقی جانب کا علاقہ پاکستان جبکہ مغربی جانب کا علاقہ افغانستان شمار ہوتا ہے، تو حالیہ باڑ کے ذریعے پاکستان نے ’ایل‘ علاقے کو عملاً اپنی سر زمین میں شامل کر لیا ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس علاقے کو جدا کرنے والی باڑ 10 مارچ سے پہلے نظر نہیں آتی لیکن صرف تین دن بعد یہ باڑ واضح طور پر دکھائی دینے لگتی ہے۔

BBCیہ باڑ سرحدی علاقے میں چند ہی دنوں میں مکمل کی گئی ہے

اس خطے کا وہ حصہ جو اس نئی باڑ کے ذریعے پاکستان کی سمت میں کاٹا گیا ہے، اس کی لمبائی کم از کم 12 کلومیٹر ہے۔

ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا باڑ مکمل ہونے کے بعد اسی سرحدی علاقے کے ایک اور حصے میں ایک نئی باڑ بنائی گئی ہے۔

BBCایسا لگتا ہے کہ پاکستان نے دو مقامات پر سرحدی لائن سے کئی کلومیٹر اندر افغانستان کی سرزمین میں باڑ لگائی ہے

یہ نئی باڑ بالکل اسی ’ایل‘ شکل والے علاقے کے دہانے پر بنائی گئی ہے۔

یہ حصار افغانستان کی سر زمین میں سرحد سے ساڑھے 13 کلومیٹر سے زیادہ اندر کی جانب کھینچا گیا ہے۔

طالبان کی عبوری حکومت کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ڈیورینڈ لائن کے ساتھ واقع تمام علاقے سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہیں۔

وزارت کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سر زمین کے کسی بھی حصے کے بارے میں کسی کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔

آج بھی طالبان حکومت کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں طالبان مسلح افراد کے نائب سربراہ مالی خان صدیق بتا رہے ہیں کہ وہ پکتیکا صوبے کے ضلع تروی میں موجود ہیں۔

ویڈیو میں وہ افغانستان کی سر زمین کے اندر باڑ لگانے کے معاملے کو ’میڈیا کا پروپیگنڈا‘ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں: ’آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہماری فورسز ہر جگہ موجود ہیں۔ اگر بین الاقوامی میڈیا آنا چاہے تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں۔‘

افغانستان میں سوویت فوج کے خلاف سٹنگر میزائل کا پہلا حملہ کرنے والے ’انجینیئر غفار‘ جنھیں امریکیوں نے راولپنڈی میں تربیت دی’گوریلا جنگ کا وسیع تجربہ‘ رکھنے والے افغان طالبان کے پاس کون سے ہتھیار ہیں اور کیا وہ پاکستان کے خلاف روایتی جنگ کے متحمل ہو سکتے ہیں؟کابل کا ’مجاہدین بازار‘ جس کا کاروبار ہمیشہ جنگ کی مرہونِ منت رہاملا عمر: ایک آنکھ سے زخمی طالبان قائد کی خفیہ زندگی اور اسامہ بن لادن کو پناہ دینے کی کہانیسٹنگر میزائل: افغان جنگ کا فیصلہ کن ہتھیار جو روسی افواج پر قیامت بن کر ٹوٹا’آمدن کا 48 فیصد حصہ‘ سکیورٹی امور پر خرچ کرنے والی افغان طالبان حکومت کو پیسہ کہاں سے ملتا ہے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More