کراچی میں منشیات فروشی کے ایک مبینہ منظم نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے دوران گرفتار کی گئی ملزمہ کو عدالت میں بغیر ہتھکڑی پیش کرنے پر تنازع کھڑا ہونے کے بعد جہاں معاملے کی تحقیقات جاری ہیں وہیں پاکستان کے ایوانِ بالا کی قائمہ کمیٹی برائے امورِ داخلہ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کے سربراہ کو اس کیس کے حوالے سے طلب کر لیا ہے۔
کراچی پولیس کے مطابق کوکین اور دیگر مہلک منشیات کی مبینہ سپلائر انمول عرف پنکی نامی اس خاتون کو ضلع وسطی کی پولیس اور ایک سویلین حساس ادارے کی مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ پولیس کو متعدد مقدمات میں مطلوب اور مفرور تھیں اور شہر میں منشیات کی سپلائی کے ایک مبینہ منظم نیٹ ورک کو چلا رہی تھی۔
پولیس کے اعلامیے کے مطابق ملزمہ سے ایک پستول، گولیاں، کروڑوں روپے مالیت کی کوکین، کیمیکلز اور دیگر نشہ آور مواد برآمد کیا گیا ہے۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمہ ڈی ایچ اے اور کلفٹن سمیت شہر کے دیگر علاقوں میں آن لائن آرڈرز پر رائیڈرز کے ذریعے منشیات سپلائی کرتی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ اپنے نیٹ ورک کو قانون نافذ کرنے والے اداروں سے محفوظ رکھنے کے لیے خواتین رائیڈرز بھی استعمال کرتی تھی۔
پولیس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ملزمہ کے خریداروں میں طلبہ و طالبات کے علاوہ بعض بااثر شخصیات بھی شامل تھیں، جبکہ وہ روزانہ لاکھوں روپے مالیت کی منشیات فروخت کرتی تھی۔
پولیس کے مطابق انمول عرف پنکی کے خلاف تھانہ گارڈن میں منشیات اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے مقدمات درج ہیں۔ منگل کو تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ سے چرس کے دو پیکٹ اور دیگر نشہ آور مواد برآمد ہوا ہے، جس کی مالیت پندرہ لاکھ روپے سے زیادہ بنتی ہے۔
Getty Imagesملزمہ کی عدالت میں پیشی
پولیس نے عدالت سے ملزمہ کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا بھی کی تھی۔ تاہم اس مقدمے نے اس وقت نیا رُخ اختیار کیا جب ملزمہ کو عدالت میں بغیر ہتھکڑی لگائے پیش کیے جانے کی ویڈیوز اور تصاویر سامنے آئیں۔
اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ملزمہ نے چہرے پر ماسک لگایا ہوا ہے اور چہرے پر دھوپ سے بچنے والا چشمہ بھی لگایا ہوا ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب وہ ہاتھ میں پانی کی بوتل اٹھائے عدالت میں داخل ہو رہی تھیں تو ان کے ہاتھ میں ہتھکڑی بھی نہیں تھی۔
اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا اور پولیس کے رویے پر سوالات بھی اٹھائے گئے۔
اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی وزیرِ داخلہ ضیا الحسن لنجار نے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے فوری رپورٹ طلب کی اور شفاف انکوائری کا حکم دے دیا۔
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ ملزمہ کو پروٹوکول کیسے دیا گیا اور اس میں کون کون اہلکار ملوث تھے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ پروٹوکول فراہم کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور واضح کیا کہ ’ایسا عمل کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ کوئی بھی مجرم قانون سے بالاتر نہیں اور ہر شخص کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ کیا جانا چاہیے۔‘
کراچی پولیس کے سربراہ آزاد خان نے ملزمہ کی عدالت میں پیشی کے موقع پر مروجہ ضوابط کار پر عمل نہ ہونے کے حوالے سے تحقیقاتی کمیٹی بنا دی ہے۔
اس پیشی کے بعد ایڈیشنل آئی جی کراچی نے متعلقہ افسران کے کردار کے تعین کے لیے انکوائری کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ملزمہ کے بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیشی کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
عدالت میں پیشی کے حوالے سے کمیٹی کی سربراہی ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کو سونپی گئی ہے جو تحقیقات کے بعد تین دن میں رپورٹ پیش کریں گے۔
ملزمہ کی گرفتاری اور عدالت میں پیشی کا معاملہ بدھ کو اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں بھی زیرِ بحث آیا۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق قائمہ کمیٹی نے انمول عرف پنکی کیس کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی اے این ایف کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا۔
کمیٹی کے چیئرمین فیصل سلیم کا کہنا تھا کہ ’ڈی جی اے این ایف آ کر بتائیں کہ انمول عرف پنکی کس کس کو منشیات سپلائی کر رہی تھی؟‘
کمیٹی کی رکن سینیٹر ثمینہ زہری کا کہنا تھا کہ ’صبح خبروں میں دیکھا وہ جرائم پیشہ خاتون دھڑلے سے عدالت جا رہی ہے۔ یہ چور، ڈاکو، منشیات فروش کھلے عام گھوم رہے ہیں اور ہم یہاں مرنے کے لیے بیٹھے ہیں۔‘
90 سالہ ماں نے منشیات کی سمگلنگ کے جرم میں قید بیٹے کی کمائی چھپانے میں کیسے مدد کی؟بلوچستان کے سرکاری مال خانے سے چھ من منشیات غائب: ’کھڑکی توڑ کر داخل ہونے والے چور صرف افیون اور چرس لے گئے‘ پاکستان سے برطانیہ سمگلنگ، کپڑوں میں چھپی ہیروئن اور پیسوں کا لالچ:21 سال قید کی سزا پانے والی سدرہ نوشین ’بڑی سازش کا مرکزی کردار تھیں‘جسوین سنگھا: کروڑ پتی خاندان کی اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکی کا پرتعیش پارٹیوں سے شروع ہونے والا سفر جس کا اختتام ’ڈرگ لارڈ‘ بننے پر ہواملزمہ کے خلاف مقدمات
پولیس حکام کے مطابق ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف مجموعی طور پر دس مقدمات درج ہیں اور وہ کافی عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس کی گرفتاری سے شہر میں منشیات کی سپلائی کے ایک بڑے نیٹ ورک کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے، جبکہ مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔
اس دوران سوشل میڈیا پر ایک آڈیو بھی وائرل ہوئی، جسے ملزمہ سے منسوب کیا جارہا ہے۔ اس آڈیو میں وہ پولیس کو گرفتاری کے لیے چلینج کر رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ: ’پندرہ سال سے میں نے تم لوگوں کی بری حالت کر رکھی ہے اور پتہ نہیں کہاں کہاں سے منہ اٹھا کر آ جاتے ہیں کہ ’پنکی کو پکڑوں گا، پنکی کو پکڑوں گا۔‘
’پھر دس سال، پانچ سال، چھ سال، سات سال، آٹھ سال، نو سال گزر جاتے ہیں، تم ریٹائر ہو جاتے ہو، پھر خود فون کر کے ہنستے ہو کہ یار اتنے سال پیچھے لگا رہا مگر پکڑ نہ سکا۔‘
بی بی سی اس آڈیو کے اصلی ہونے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
ملزمہ کے خلاف درج ایک ایف آئی آر میں سب انسپیکٹر غازی بشیر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ دوران گشت گارڈن ویسٹ کراچی مخبرِ خاص نے اطلاع دی کہ پنکی نامی منشیات فروش خاتون اپنے فلیٹ میں موجودمنشیات تیار کر کے فروخت کرتی ہیں، جس کے بعد مذکورہ فلیٹ پر پہنچ کر دستک دی تو ایک خاتون نے دروازہ کھولا اور اپنا نام انمول عرف پنکی دختر مراد بخش بتایا۔
Getty Images
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ فلیٹ کی تلاشی لینے پر ملزمہ کمرے کے اندر فرش پر منشیات تیار کرتی ہوئی پائی گئیں۔
ایف آئی آر کے مطابق پولیس نے اس کارروائی کے دوران ملزمہ کے گھر سے کوکین اور منشیات بنانے والے کئی کیمیکلز برآمد کیے ہیں، جبکہ ملزمہ کے گھر سے ایک بیگ سے ایک نائن ایم ایم پستول، ایک گلوک پستول اور دو میگزین بھی ملے ہیں۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمہ کے گھر سے ایک سکول بیگ بھی ملا ہے، جس میں نہ صرف ایک منشیات کا تھیلا ملا ہے بلکہ ایک ڈبّی بھی ملا ہے جس پر درج تھا: ’کوئین میڈم پنکی ڈان، نام ہی کافی ہے۔‘
ایف آئی آر میں مدعی کا کہنا ہے کہ ملزمہ سے جب اسلحے کا لائسنس طلب کیا گیا تو وہ پیش نہ کر سکی۔ ان کے مطابق برآمدہ منشیات کا کل وزن 1540 گرام اور دیگر خام مال کا وزن 6970 گرام ہے۔
دوسری جانب ملزمہ کے خلاف غیر قانونی اسلحے کی برآمدگی کا الگ سے مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ملزمہ کے خلاف منشیات فروشی کے علاوہ قتل کا ایک مقدمہ بھی سامنے آیا ہے۔
لیاری میں بغدادی پولیس نے ایک نامعلوم نوجوان کی لاش ملنے کے بعد ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا ہے جس میں مدعی محمد شیروز کا کہنا ہے کہ وہ سات مئی کو موٹرسائیکل پر حاجی پیر محمد روڈ سے گزر رہے تھے کہ وشو سکول کے قریب انہوں نے دیکھا کہ لوگوں کا ہجوم جمع ہے اور وہاں چھیپا ایمبولینس اور پولیس موجود ہے۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ فٹ پاتھ پر ایک 25 سے 30 سالہ نوجوان کی لاش پڑی تھی جس نے رنگین شرٹ اور چیک والا ٹراؤزر پہن رکھا تھا جسے مدعی نے چھیپا ڈرائیور کی مدد سے ایمبولینس میں رکھا اور بغدادی تھانے منتقل کیا۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ لاش کی جامہ تلاشی کے دوران اے ایس آئی محمد زاہد کو مقتول کی پتلون کی دائیں جیب سے ایک چھوٹی سنہری ڈبیہ ملی جس پر درج تھا ’ کوئین میڈم پنکی ڈان، نام ہی کافی ہے، انجوائے‘۔ درخواست گزار کے مطابق اس ڈبیہ پر دل کے نشان بنے ہوئے تھے اس میں نشہ آور چیز موجود تھی۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ مقامی طور پر معلومات کرنے پر مدعی کو پتہ چلا کہ انمول عرف پنکی نامی خاتون اس علاقے میں یہ نشہ فروخت کرتی ہے۔ مدعی محمد شیروز کے بیان کی روشنی میں پولیس نے موقف اختیار کیا ہے کہ متوفی کی موت انمول عرف پنکی کی جانب سے فراہم کردہ نشہ آور چیز کے باعث ہوئی ہے۔
دوسری جانب ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ساؤتھ نے بدھ کو ملزمہ کو منشیات، غیر قانونی اسلحہ اورنشہ استعمال کروانے کے باعث نوجوان کے قتل کے مقدمات میں تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
پولو کھیلنے کا شوق، لاہور میں ریستوران اور اشرافیہ کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا: ’منشیات کا سلطان‘ جو برسوں تک نظروں سے اوجھل رہاتاجروں کے بھیس میں چھپے سمگلر، پیسوں کا لالچ اور مافیا کا خوف: وہ ملک جہاں سے کیلوں کی برآمد کی آڑ میں دنیا کی 70 فیصد کوکین سمگل کی جاتی ہےسیکس میں لذت بڑھانے کی غرض سے منشیات کا استعمال: ’پہلے پہل تو خوشگوار آزادی کا احساس ہوا، مگر پھر میں زندہ لاش بن گیا‘دماغ کو مفلوج کرنے والا آئس کا نشہ: ’مجھے اپنی بیوی پر ہی شک ہو گیا کہ مخالفین نے اُسے مجھے مارنے کے لیے بھیجا ہے‘بیوی کی گاڑی میں بھنگ چھپا کر انھیں سزائے موت دلوانے کی کوشش جسے ایک کیمرے نے بے نقاب کیاکیم سیکس: ’جنسی لذت کے لیے آئس کا نشہ کرنے سے لطف تو دوبالا ہوا لیکن ہم تیزی سے کمزور پڑنے لگے‘