امریکہ اور اسرائیل نے کئی ایرانی رہنما ہلاک کیے، تو اب ٹرمپ بات کس سے کر رہے ہیں؟

بی بی سی اردو  |  Mar 26, 2026

Getty Images

اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائيل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کو اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی سینیئر ایرانی عہدیدار کو نشانہ بنائے اور اس کے لیے مزید کسی منظوری کی ضرورت نہیں ہوگی۔

یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب چند روز قبل ایران کے اعلیٰ سکیورٹی اہلکار علی لاریجانی اور انٹیلی جنس وزیر اسماعیل خطیب اُن ایرانی شخصیات کی فہرست میں شامل ہوئے جنھیں اسرائیل کی دفاعی افواج نے حالیہ عرصے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

جمعرات کو بھی اسرائیل نے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے سربراہ علی رضا تنگسیری کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

کاٹز کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو اور میں نے آئی ڈی ایف کو اختیار دیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے سینیئر ایرانی عہدیدار کو ختم کر دے جس کے بارے میں انٹیلی جنس اور آپریشنل عمل مکمل ہو چکا ہو، اور اس کے لیے کسی اضافی منظوری کی ضرورت نہیں ہوگی۔‘

لیکن ایران کے اقتدار کے ڈھانچے میں یہ عہدیدار کتنے اہم تھے اور اب موثر طور پر کون ملک کا انتظام سنبھال رہا ہے؟

اس تحریر میں ایرانی قیادت کے ارتقائی عمل پر ایک نظر ڈالی گئی ہے۔

BBCسابقہ رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای (ہلاک)IRANIAN LEADER PRESS OFFICE / HANDOUT via Gettyآیت اللہ علی خامنہ ای نے تین دہائی تک ایران پر حکومت کی

28 فروری کو ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت بہت سے لوگوں کے لیے ایک حیران کن واقعہ تھا۔ اسی روز امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر اپنے حملوں کا آغاز کیا تھا۔

86 سالہ خامنہ ای نے تین دہائیوں سے زائد عرصے تک ایران پر حکومت کی۔ وہ پہلے ایرانی رہبر اعلیٰ روح اللہ خمینی کے جانشین بنے تھے، جنھوں نے 1979 میں اسلامی جمہوریہ ایران کی بنیاد رکھی تھی۔

خامنہ ای ایک انتہائی طاقتور دفتر کے سربراہ تھے۔ وہ ملک کے سربراہِ مملکت بھی تھے اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر بھی، جن میں ایلیٹ فورس پاسدارانِ انقلاب بھی شامل ہے۔

اگرچہ وہ کسی بھی عوامی پالیسی کو ویٹو کر سکتے تھے اور خود اہم سرکاری عہدوں کے لیے امیدواروں کا انتخاب کر سکتے تھے، تاہم وہ مکمل طور پر آمر نہیں تھے۔

وہ ایران کے پیچیدہ نظام میں ایک مرکزی حیثیت رکھتے تھے اور ہمیشہ اندرونی سیاست سے بالاتر رہنے کا تاثر دیتے تھے۔ وہ ایران کے اصلاح پسندوں اور قدامت پسندوں کے درمیان جاری رسہ کشی کو ایک فاصلے سے دیکھتے تھے۔

لیکن خامنہ ای شاذونادر ہی کسی اختلافِ رائے کو حد سے بڑھنے دیتے یا ایسی پالیسیوں کو پنپنے دیتے جن سے وہ متفق نہ ہوں۔

موجودہ رہبر اعلیٰ مجتبی خامنہ ای (زندہ)NurPhoto via Getty Imagesمجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران جنگ میں مارے گئے اپنے شہریوں کے ’خون کا بدلہ‘ لے گا۔

8 مارچ 2026 کو اپنے والد کے جانشین کے طور پر نامزد کیے جانے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای کو نہ ہی عوام میں دیکھا گیا ہے، نہ فلمایا گیا ہے اور نہ ہی اُن کی کوئی تصویر سامنے آئی ہے۔

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے بغیر کوئی ثبوت فراہم کیے یہ کہا کہ نئے رہبر اعلی 28 فروری کو تہران پر ہونے والے ان حملوں میں ’زخمی اور غالباً بگڑے ہوئے چہرے‘ کے ساتھ بچ نکلے تھے۔ یہ وہی حملہ تھا جس میں ان کے والدین اور بھائی ہلاک ہوئے۔

12 مارچ کو رہبر اعلی کے طور پر اپنے پہلے خطاب میں مجتبیٰ خامنہ ای نے یہ عہد کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی بحری ٹریفک کے لیے بند رکھا جائے گا۔ اس کے نتیجے میں دنیا کی 20 فیصد تیل کی رسد رک سکتی ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی حکومت ’جنگ میں مارے گئے شہریوں کے خون کا بدلہ لینے سے دستبردار نہیں ہوگی۔‘

20 مارچ کو سرکاری ٹی وی نے ان کا ایک اور تحریری پیغام نوروز کے تہوار کے موقع پر نشر کیا۔ یہ اُن کے والد کے نوروز پیغامات سے بالکل مختلف انداز تھا جو ہمیشہ روایتی طور پر کیمرے کے سامنے بیٹھ کر خطاب کرتے تھے۔

سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی (ہلاک)COURTNEY BONNEAU/Middle East Images/AFP via Getty Imagesایران کے خبر رساں ادارے علی لاریجانی کو آیت اللہ علی خامنہ ای کا مشیر بتاتے تھے

17 مارچ 2026 کو تہران کے نواحی علاقے میں امریکی و اسرائیلی حملے میں اپنے بیٹے اور اپنے ایک نائب کے ساتھ ہلاک ہونے والے 68 سالہ علی لاریجانی سب سے سینئر ایرانی عہدیدار ہیں، جنھیں خامنہ ای کے بعد قتل کیا گیا۔

پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر لاریجانی نے پہلی بار اس وقت ملک میں نمایاں مقام حاصل کیا جب وہ ایک دہائی تک اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ کے سربراہ رہے۔ 2004 میں وہ خامنہ ای کے سکیورٹی مشیر بنے۔

2005 سے 2007 تک انھوں نے مغرب کے ساتھ ایران کے جوہری مذاکرات کار کے طور پر خدمات انجام دیں۔

لیکن اُس وقت کے صدر محمود احمدی نژاد کے ساتھ اختلافات کے باعث انھیں اس منصب سے ہٹا دیا گیا۔ بعد ازاں وہ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر بنے۔ اس عہدے پر وہ 12 سال تک فائز رہے جو ملک کی تاریخ میں سب سے طویل مدت ہے۔

لاریجانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں بھی خامنہ ای کے نمائندے تھے اور سمجھا جاتا ہے کہ انھوں نے سکیورٹی فورسز، بشمول بسیج نیم فوجی فورس، کی جانب سے دسمبر 2025 اور جنوری 2026 میں ایران بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں پر غیر معمولی کریک ڈاؤن کی نگرانی کی۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق اس دوران کم از کم 6508 مظاہرین مارے گئے اور 53000 کو گرفتار کیا گیا تھا۔

دفاعی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی (ہلاک)Anadolu via Getty Imagesریئر ایڈمرل علی شمخانی اس سے پہلے سپریم قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں

خامنہ ای کے قریبی مشیر، ایران کی سکیورٹی اور جوہری پالیسی کے اہم ترین کرداروں میں سے ایک اور ایران کے واحد ریئر ایڈمرل علی شمخانی 28 فروری کو تہران پر ہونے والے حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔

جون 2025 کی 12 روزہ ایران۔اسرائیل جنگ کے دوران گھر پر ہونے والے ایک حملے میں وہ بچ گئے تھے۔

1980 کی دہائی میں ایران۔عراق جنگ کے دوران شمخانی پاسدارانِ انقلاب کے سب سے اہم کمانڈروں میں شمار ہوتے تھے۔

گذشتہ چار دہائیوں کے دوران انھوں نے کئی کلیدی عہدوں پر خدمات انجام دیں، جن میں وزیرِ پاسدارانِ انقلاب، وزیرِ دفاع، بحریہ کے کمانڈر اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری کے عہدے شامل ہیں۔ حالیہ برسوں میں انھوں نے عوامی احتجاج کے خلاف کریک ڈاؤن میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔

پاسداران انقلاب کے کمانڈر اِن چیف میجر جنرل محمد پاکپور (ہلاک)Morteza Nikoubazl/NurPhoto via Getty Imagesایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق میجر جنرل محمد پاکپور 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے تہران پر کیے گئے حملوں میں ہلاک ہوئے

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق میجر جنرل محمد پاکپور بھی 28 فروری کو تہران پر ہونے والے حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔

وہ 16 سال تک پاسدارانِ انقلاب کی زمینی افواج کے کمانڈر رہے۔ اپنے پیشرو حسین سلامی کی 12 روزہ جنگ میں ہلاکت کے بعد انھیں کمانڈر اِن چیف کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔

صدر مسعود پزشکیان (زندہ)IRANIAN PRESIDENCY / HANDOUT via Gettyجولائی 2024 کو ہونے والے ایران کے صدارتی انتخاب میں مسعود پزشکیان نے تین کروڑ سے زائد ووٹوں میں سے 53.3 فیصد ووٹ حاصل کیے۔

اصلاح پسند سیاستدان مسعود پزشکیان کو 6 جولائی 2024 کو ایران کا صدر منتخب کیا گیا تھا۔ وہ 12 مذہبی علما اور ماہرِ قانون پر مشتمل شورائے نگہبان کی جانچ پڑتال کے عمل سے گزر کر اہل قرار پائے تھے۔

71 سالہ سابق ہارٹ سرجن اور ایرانی پارلیمنٹ کے رکن ایران کی بدنام زمانہ اخلاقی پولیس کے ناقد رہے ہیں اور انھوں نے ’اتحاد و یکجہتی‘ کے وعدے اور ایران کی ’دنیا سے تنہائی کے خاتمے‘ کے عزم کے باعث وسیع توجہ حاصل کی۔

11 مارچ 2026 کو پزشکیان نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کرتے ہوئے خطّے میں ’امن کے لیے ایران کے عزم‘ کو دہرایا۔

پانچ دن بعد انھوں نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی حمایت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم توقع کرتے ہیں کہ عالمی برادری اس جارحیت کی مذمت کرے اور حملہ آوروں کو بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنے پر مجبور کرے۔‘

ایران جنگ پر شرطیں: جب علی خامنہ ای کی ہلاکت کی پیش گوئی سے کچھ افراد نے ہزاروں ڈالر کمائےایران سے جنگ میں ایف 35 کو نقصان: 77 ملین ڈالر کے جہاز میں خاص کیا ہے اور اب تک امریکہ کے کتنے طیاروں کو نقصان پہنچا ہے؟’انھیں روکنا بہت ہی مشکل ہے‘: کلسٹر بموں والے ایرانی میزائلوں سے اسرائیلی پریشان علی خامنہ ای ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے باز رکھ رہے تھے، انھیں قتل نہیں کیا جانا چاہیے تھا: جو کینٹپارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قاليباف (زندہ)Morteza Nikoubazl/NurPhoto via Getty Imagesمحمد باقر قالیباف نے ایرانی صدارت کے لیے اب تک چار مرتبہ انتخاب لڑا ہے

اگرچہ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے پاسدارانِ انقلاب کا یونیفارم ترک کر کے سول لباس اختیار کر لیا ہے تاہم وہ اب بھی ایک سخت گیر مزاج رکھتے ہیں اور حکومت کی بھرپور حمایت میں آواز بلند کرتے رہے ہیں۔

ایک تربیت یافتہ پائلٹ ہونے کے ناطے وہ انتہائی پر پُرجوش سمجھے جاتے ہیں اور اب تک چار مرتبہ ایرانی صدارت کے لیے انتخاب لڑ چکے ہیں۔

64 سالہ قالیباف اب جنگی کوششوں کی قیادت میں ایک کلیدی کردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے بعد انھوں نے ایکس پر لکھا کہ ’آنکھ کے بدلے آنکھ کا اصول نافذ ہو چکا ہے اور تصادم کی ایک نئی لہر شروع ہو گئی ہے۔‘

24 مارچ 2026 کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے قالیباف نے ایکس پر لکھا کہ ’امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے اور جعلی خبریں مالی اور تیل کی منڈیوں میں ہیرا پھیری اور اس دلدل سے بھاگنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں جس میں امریکہ اور اسرائیل پھنسے ہوئے ہیں۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’ایرانی عوام حملہ آوروں کے لیے شرمناک سزا کا مطالبہ کرتے ہیں۔ تمام ایرانی عہدیدار اس ہدف کے پورا ہونے تک اپنے رہبر اعلی اور قوم کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔‘

بسیج فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل غلام رضا سلیمانی (ہلاک)

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق بسیج فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل غلام رضا سلیمانی 17 مارچ کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔

پولیس چیف بریگیڈیئر جنرل احمد رضا رادان (زندہ)Morteza Nikoubazl/NurPhoto via Getty Imagesجنگ کے آغاز پر بریگیڈیئر جنرل احمد رضا رادان نے کہا تھا کہ مظاہرین کو دشمن تصور کیا جائے گا

پولیس چیف بریگیڈیئر جنرل احمد رضا رادان سخت سماجی ضابطوں کے نفاذ اور اختلافِ رائے کو دبانے کے ذمہ دار ہیں۔

سنہ 2023 میں انھوں نے نور پلان متعارف کرایا۔ اس کے تحت حجاب قوانین کے خلاف ورزی کرنے والی خواتین کی نشاندہی کر کے انھیں سزا دینے کے لیے نگرانی والے کیمرے اور سمارٹ ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے۔

حجاب قوانین کی خلاف ورزی پر سزاؤں میں گاڑیاں ضبط کرنا اور کاروبار بند کر دینا بھی شامل ہے۔

حال ہی میں بریگیڈیئر جنرل احمد رضا رادان نے حکومت مخالف مظاہروں پر سخت موقف اختیار کیا۔ جنگ کے آغاز پر انھوں نے خبردار کیا کہ ’دشمن کی درخواست پر‘ سڑکوں پر نکلنے والے ہر شخص کو ’دشمن‘ ہی تصور کیا جائے گا۔

چیف جسٹس غلام حسین محسنی اجئی (زندہ)

جنوری میں ایران کے سخت گیر چیف جسٹس غلام حسین محسنی اجئی نے خبردار کیا تھا کہ جنگ سے قبل ہونے والے مظاہروں کے دوران تشدد کے مرتکب افراد کے خلاف کسی قسم کی ’نرمی‘ نہیں برتی جائے گی۔

وزیر داخلہ بریگیڈیئر جنرل اسکندر مؤمنی (زندہ)

اگست 2024 سے وزیر داخلہ کے طور پر خدمات انجام دینے والے بریگیڈیئر جنرل اسکندر مؤمنی کی پاسداران انقلاب اور پولیس کمانڈ میں انتہائی گہری جڑیں ہیں۔

قدس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قانی (زندہ)Fatemeh Bahrami/Anadolu via Getty Imagesسنہ 2012 میں امریکی محکمۂ خزانہ نے بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قانی پر پابندیاں عائد کی تھیں

ایرانی میڈیا بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قانی کو ’جنرل آف دی لیوانٹ‘ (یعنی شام کے خطے کا جرنیل) کہتا ہے۔ یہ سنہ 2020 میں پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ بنائے گئے۔

سنہ 2012 میں امریکی محکمۂ خزانہ نے ان پر پابندیاں عائد کی تھیں کیونکہ وہ مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ میں قدس فورس کے عناصر کو مالی امداد اور اسلحے کی ترسیل کی نگرانی کر رہے تھے، خصوصاً گیمبیا میں۔

وزیرِ انٹیلیجنس اسماعیل خطیب (ہلاک)ABEDIN via EPAاسماعیل خطاب 18 مارچ کو اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوئے

ایران کے سابق مرحوم صدر ابراہیم رئیسی نے سنہ 2021 میں اسماعیل خطیب کو ملک کا وزیر دفاع مقرر کیا تھا۔

انھوں نے اسلامی فقہ کی تعلیم علی خامنہ ای سمیت کئی بلند مرتبہ علما سے حاصل کی اور وہ وزارتِ انٹیلی جنس اور رہبرِ اعلیٰ کے دفتر میں مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے۔

18 مارچ 2026 کو ایرانی صدر پزشکیان نے کہا کہ اسرائیل کے فضائی حملے میں اسماعیل خطیب کے ’بزدلانہ قتل‘ نے ایران کو ’گہرے سوگ میں‘ مبتلا کر دیا ہے۔

ایرانی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف میجر جنرل عبدالرحیم موسوی (ہلاک)Anadolu via Getty Imagesمیجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے 12 جون 2025 کو ہلاک کیے گئے میجر جنرل محمد باقری کی جگہ سنبھالی

28 فروری کو تہران پر ہونے والے حملوں میں ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف میجر جنرل عبدالرحیم موسوی بھی ہلاک ہوئے۔

انھوں نے گذشہ برس 12 روز تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران 12 جون کو ہلاک کیے گئے میجر جنرل محمد باقری کی جگہ یہ عہدہ سنبھالا تھا۔

مصلحت نظام کونسل کے سربراہ صادق لاریجانی (زندہ)

علی لاریجانی کے بھائی صادق لاریجانی مصلحت نظام کونسل کے سربراہ ہیں۔ یہ پارلیمان اور آئینی نگران ادارے گارڈین کونسل کے درمیان مصالحت کرانے والے آخری ادارہ ہے۔

وزیر خارجہ عباس عراقچی (زندہ)Karim JAAFAR / AFP via Getty Imagesعباس عراقچی بارہا کہہ چکے ہیں کہ یہ جنگ ایران نے شروع نہیں کی

اطلاعات کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی اور مشرق وسطیٰ کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کے درمیان رابطے ہوئے ہیں۔ تاہم ان دونوں کے درمیان ہوئی گفتگو کو بہت ابتدائی نوعیت کی قرار دیا جا رہا ہے۔

15 مارچ 2026 کو وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سی بی ایس نیوز سے گفتگو میں کہا تھا کہ ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جنگ میں ’کبھی بھی جنگ بندی کی درخواست نہیں کی۔‘

ان کا کہنا تھا: ’یہ جنگ صدر ٹرمپ اور امریکہ نے اپنی مرضی سے شروع کی اور ہم اپنا دفاع جاری رکھیں گے۔‘

وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل عزیز نصیر زادہ (ہلاک)

28 فروری کو تہران پر ہونے والے حملوں میں وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل عزیز نصیر زادہ بھی ہلاک ہو گئے تھے۔

ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے سے کیا حاصل ہوا؟

جنگ شروع ہونے کے چند ہی دن بعد امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ جنرل ڈین کین نے بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل کا منصوبہ ایرانی قیادت کو ’بد حواس اور پریشان‘ کرنا تھا۔

جنگ کے آغاز پر ایرانی حکومت کی تبدیلی کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایک مقصد کے طور پر بیان کیا گیا۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک ویڈیو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانیوں سے کہا کہ وہ ’اپنی حکومت پر قبضہ کر لیں۔‘

یہی پیغام اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی 19 مارچ کو دہرایا، جب انھوں نے ایرانی عوام سے کہا کہ وقت کے تقاضے کے مطابق وہ ’اٹھ کھڑے ہوں۔‘

تاہم ایرانی ثقافت میں شہادت کو مذہبی اور سیاسی طور پر ایک بلند مقام حاصل ہے۔ ایسے میں ایران کے سینیئر رہنماؤں کی ہلاکت پر زوال کے بجائے تسلسل کا بیانیہ پیش کیا جا رہا ہے۔

مثال کے طور پر، سرکاری ٹیلی ویژن پر علی خامنہ ای کی موت کا اعلان کرتے ہوئے آبدیدہ نشر کار نے کہا: ’وہ شہادت کا میٹھا اور پاکیزہ جام پی کر آسمانوں کے سب سے اعلیٰ بادشاہ کے پاس چلے گئے۔‘

اس کے بھی دو ہفتے بعد علی لاریجانی کی موت کی خبر دیتے ہوئے ایران کی قومی سلامتی کونسل(ایس این ایس سی) نے کہا: ’شہیدوں کی پاکیزہ روحوں نے خدا کے صالح خادم، شہید ڈاکٹر علی لاریجانی کی پاک روح کو اپنے اندر سمو لیا۔ ایران اور اسلامی انقلاب کی ترقی کے لیے عمر بھر جدوجہد کے بعد، بالآخر ان کی دیرینہ خواہش پوری ہوئی۔ انھوں نے خدا کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے شہادت کا مرتبہ پایا۔‘

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے امکان نے نیتن یاہو کو مشکل میں ڈال دیاجنگ کے دوران ایران کی حمایت میں عربی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کیوں بڑھتے جا رہے ہیں؟ٹرمپ کے اعلان سے چند منٹ پہلے تیل کے تاجروں کی شرطیں، کروڑوں کا منافع اور سوالاتوہ چیز جو خلیجی ممالک کو ایران کے خلاف جوابی کارروائیوں سے روک رہی ہےکیا ایرانی میزائل واقعی لندن، پیرس اور برلن تک پہنچ سکتے ہیں؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More