’جہنم برپا‘ کرنے کی دھمکیاں اور ’مذاکرات‘ پر ابہام: امریکہ کے 15 مطالبات اور تہران کی 5 شرائط کیا ہیں؟

بی بی سی اردو  |  Mar 26, 2026

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اُن کا ملک اس وقت امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے کسی قسم کے مذاکرات نہیں کر رہا ہے اور نہ ہی اس کا ارادہ رکھتا ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے دعوی کیا تھا کہ بات چیت ’جاری‘ ہے اور یہ ’نتیجہ خیز‘ ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ کی جانب سے بھجوائے گئے 15 نکات کا ذکر کرتے ہوئے تصدیق کی کہ امریکہ نے ’دوست ممالک‘ کے ذریعے ایران کو پیغامات بھجوائے ہیں، لیکن پیغامات کا یہ تبادلہ مذاکرات یا کوئی گفت و شنید نہیں ہے۔

یہ جنگ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں سے شروع ہوئی جس کے بعد ایران نے خلیج میں امریکی اتحادیوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کیا۔

ٹرمپ کے منصوبے میں کیا ہے؟

اسرائیل کے ’چینل 12‘ کے مطابق ایران کو جنگ بندی کے لیے کئی مطالبات پورے کرنا ہوں گے۔

چینل کے مطابق یہ وہی بنیادی مطالبات ہیں، جو جنگ شروع ہونے سے قبل امریکہ کی جانب سے دہرائے گئے تھے۔ ان میں ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے روکنا اور میزائل پروگرام کو ختم کرنا ہے۔

ایران مسلسل یہ کہتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا۔

تجاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کو چاہیے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیاروں کے حصول کا عزم نہ کرے۔ جوہری تنصیبات کو ختم کرنے کا عہد کرے اور اپنے پاس موجود یورینیم کو افزودہ نہ کرے اور اس معاملے پر عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون کرے۔

تجاویز کے مطابق ایران اپنے میزائل پروگرام کی رینج اور مقدار محدود کرنے پر رضامند ہو جبکہ علاقائی پراکسیز لبنان میں حزب اللہ، غزہ میں حماس اور یمن میں حوثی باغیوں کی مالی مدد بند کرے۔

تجاویز میں ایران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کا بھی کہا گیا ہے، تاکہ یہ ایک آزاد سمندری راہداری کے طور پر کام کر سکے۔

آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دُنیا میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے اور اس نے عالمی معیشت میں کساد بازاری کے خدشات کو بڑھایا ہے۔

Reutersصدر ٹرمپ کا اصرار ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، تاہم ایرانی وزیر خارجہ کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کر رہے ہیں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران یہ تمام مطالبات مان لیتا ہے تو پھر اس پر سے بین الاقوامی پابندیاں ہٹا دی جائیں گی۔

گذشتہ نومبر میں ایران کی جانب سے اس کے متعدد جوہری مراکز اور فوجی اڈوں پر اسرائیل اور امریکی بمباری کے بعد ایران نے جوہری تنصیبات کے معائنے کا عمل معطل کر دیا تھا۔

اس معاملے پر تفصیلات کی تصدیق کے لیے پوچھے گئے سوال پر وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے ان تجاویز کی مکمل تصدیق کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس میں سے کچھ درست ہیں، لیکن جو میڈیا میں کہانیاں سامنے آ رہی ہیں، وہ حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔‘

ایران کے وزیرِ خارجہ نے تصدیق کی تھی ملک کے سینئر رہنماؤں کو کچھ ’خیالات‘ پیش کیے گئے ہیں، تاہم اگر اس حوالے سے کسی پوزیشن لینے کی ضرورت محسوس ہوئی تو ضرور بتایا جائے گا۔

کیا ٹرمپ ایران جنگ سے نکلنے کی کسی حکمتِ عملی کے بہت قریب ہیں؟

امریکی صدر ایران جنگ کو ختم کرنے کے لیے کسی راستے کی تلاش میں بہت دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں، جسے وہ جنگ کو ’سمیٹنا‘ کہتے ہیں۔

لیکن اس جنگ سے باہر نکلنے کے لیے صدر ٹرمپ کی حکمت عملی واضح نہیں ہے اور امریکی صدر کے ملے جلے پیغامات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس بارے میں تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر سکے کہ کون سی حکمت عملی بہتر ہو گی۔ آیا اس جنگ کو جلد از جلد ختم کیا جائے یا ایران کے ساتھ بات چیت کے ذریعے کسی تصفیے تک پہنچا جائے۔

منگل کے روز، ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ امریکہ ایک ساتھ دونوں منصوبوں پر عمل کر سکتا ہے۔ چند گھنٹوں میں، پینٹاگون نے ایران میں زمینی فوج بھیجنے کا حکم دیا اور امریکی مذاکرات کاروں نے ایرانی حکومت کو ایک نیا 15 نکاتی منصوبہ بھیجا۔

بدھ تک، وائٹ ہاؤس ایران پر زور دے رہا تھا کہ وہ اس معاہدے کو قبول کر لے جبکہ یہ دھمکی دے رہا تھا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو اس ملک کو پہلے سے زیادہ سخت ضرب لگائیں گے، جس سے ٹرمپ کے ارادوں کے بارے میں مزید الجھن پیدا ہوتی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے صحافیوں سے گفتگو میں خبردار کیا تھا کہ ’صدر ٹرمپ کوئی جھوٹا دعویٰ نہیں کرتے وہ ایران پر ’جہنم برپا‘ کرنے کے لیے تیار ہیں اور اس معاملے پر ایران کو کوئی غلط اندازہ نہیں لگانا چاہیے۔‘

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے امکان نے نیتن یاہو کو مشکل میں ڈال دیا’برادر ملک‘ سے ’جوابی کارروائی‘ کی دھمکی تک: کیا ’بقا کی جدوجہد‘ میں ایران نے سعودی عرب سے طے پانے والا مصالحتی معاہدہ قربان کر دیا؟ایران سے جنگ میں ایف 35 کو نقصان: 77 ملین ڈالر کے جہاز میں خاص کیا ہے اور اب تک امریکہ کے کتنے طیاروں کو نقصان پہنچا ہے؟ٹرمپ کا ایران پر حملے کا پرل ہاربر سے موازنہ: ’جب جاپان کی مدد بھی درکار ہو تو لطیفے بنانے کا شاید یہ بہتر وقت نہیں تھا‘ایران کی جوابی تجاویز کیا ہیں؟

ایرانی وزیرِ خارجہ کی جانب سے مذاکرات سے متعلق بیان سے چند گھنٹے قبل ایران کے پریس ٹی وی نے ایک ’نامعلوم سینئر سکیورٹی اور سیاسی شخصیت‘ کا حوالہ دیتے ہوئے جنگ بندی کے لیے پانچ تجاویز پیش کی تھیں۔

ان تجاویز میں ’جارحیت اور ایرانی رہنماؤں کے قتل‘ کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کئی مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ وہ اس جنگ کے دوران ’آکٹوپس کا سر کاٹنے کا ارادہ‘ رکھتے ہیں۔ جنگ کے بعد پہلے دن سے لے کر اب تک سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی اعلی ایرانی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایران کی یہ بھی شرط ہے کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بھی کوئی طریقہ کار بنایا جائے، جس کے تحت ایران پر دوبارہ جنگ مسلط نہ کی جائے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ اس حوالے سے کیا ضمانتیں فراہم کی جا سکتی ہیں اور کون سے ممالک اس عمل کی نگرانی کریں گے۔

اقتصادی محاذ پر ایران جنگی نقصانات کے ازالے اور معاوضے کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز پر مکمل طور پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ تہران چاہتا ہے کہ اسرائیل خطے میں ایرانی اتحادیوں پر حملے بند کرے۔

اسرائیل نے حزب اللہ کے خلاف اپنی مہم کو تیز کرتے ہوئے منگل کو اعلان کیا ہے کہ اس کی فوج لبنان کے اندر وسیع بفر زون میں اس وقت تک رہے گی جب تک کہ شمالی اسرائیل پر حملے بند نہیں ہو جاتے۔

Reutersکیا جنگ کے ختم ہونے کا کوئی راستہ نظر آ رہا ہے؟

منگل کو صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران بات چیت کے لیے بے چین ہے اور ایرانی مذاکرات کاروں نے امریکہ کو ایک بہت ہی ’زبردست تحفہ‘ بھی دیا ہے۔

امریکی صدر نے اس ’تحفے‘ کو تیل اور گیس سے منسلک قرار دیا تھا، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی تھیں۔

جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات کی قیادت ٹرمپ کے مشرق وسطی کے لیے ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر کے داماد جیرڈ کشنر کریں گے۔

رپورٹ ہونے والی امریکی تجاویز اس امن منصوبے سے ملتی جلتی ہیں، جس نے غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان دو برس سے جاری جنگ کو ختم کیا تھا۔

اگر اس نوعیت کی تجاویز کو آگے بڑھانا ہے تو اس سے قبل جنگ بندی کا اعلان درکار ہو گا۔

اسرائیل کے ’چینل 12‘ کے مطابق اسرائیلی رہنما اس موقع پر ایران پر حملے روکنے پر خوش نہیں ہوں گے، بالکل اسی طرح جب اُنھوں نے غزہ میں جنگ بندی کے وقت اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

اسرائیل کے معاشی اُمور کے وزیر نیر برکات نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ بہت مشکل ہے کہ ایران، ٹرمپ کی شرائط کو تسلیم کر لے۔‘

Getty Imagesایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کی تجاویز پاکستان کی جانب سے ایران کو دی گئیں جبکہ ترکی اور مصر بھی جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں شامل ہیں۔

مصر کے وزیر خارجہ نے بدھ کے روز کہا کہ ان کا اپنے ایرانی ہم منصب عراقچی کے ساتھ بات ہوئی ہے۔

ٹرمپ نے یہ نہیں کہا کہ امریکہ کس سے بات کر رہا ہے، لیکن صرف یہ کہا ہے کہ وہ ’صحیح لوگ‘ ہیں۔

ایران کے نئے سپریم لیڈرمجتبی خامنہ ای اپنے والد پر ہونے والے حملے میں زخمی ہونے کے بعد سے اب تک عوامی سطح پر سامنے نہیں آئے۔ ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ان کوششوں سے آگاہ ہیں۔

موجودہ ایرانی قیادت امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت سے گریز کا تاثر دے رہی ہے۔

اسی اثنا میں امریکی فوجی بھی خطے میں بھیجے جا رہے ہیں، جس سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ شاید وہ آبنائے ہرمز کھلی رکھنے اور ایران کے کسی علاقے پر قبضے کے لیے استعمال میں لائے جائیں گے۔

’پاکستان کی ثالثی کامیاب رہی تو اس کی حیثیت بہت بڑھ جائے گی‘: ایران جنگ، اسلام آباد کی سفارت کاری اور دلی کے خدشاتامریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے امکان نے نیتن یاہو کو مشکل میں ڈال دیاپاکستان کی ثالثی اور خفیہ دورہ: جب امریکہ نے چین سے رابطے کے لیے اسلام آباد کی مدد حاصل کیپاکستان کی ایران اور امریکہ کو ثالثی کی پیشکش: کیا اسلام آباد جنگ رکوانے میں کامیاب ہو سکتا ہے؟پاکستانی قیادت کی ایرانی اور امریکی صدور سے گفتگو کے بعد مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More