جیفری ایپسٹین کے دو ساتھی، جنھیں آج بھی ان کی دولت اور رازوں کا کنٹرول حاصل ہے

بی بی سی اردو  |  Mar 12, 2026

BBC

جب ایف بی آئی نے جیفری ایپسٹین کے نیو یارک میں واقع بنگلے پر جولائی 2019 میں چھاپہ مار کر انھیں بچوں کو سیکس کے لیے سمگل کرنے کے جرم میں گرفتار کیا تو اسی دن سرکاری اہلکاروں نے ان کی ایک تجوری کو بھی کھولا تھا، جس میں ہیرے، نوٹوں کی گڈیاں، سی ڈیز اور ہارڈ ڈرائیوز موجود تھیں۔

ایف بی آئی کی دستاویزات کے مطابق لیکن وارنٹ میں ایک مسئلے کی وجہ سے وہ ان چیزوں کو اپنے ساتھ نہیں لے جا سکے تھے اور جب وہ نیا وارنٹ لے کر واپس آئے تو اس دوران اس تجوری کو خالی کیا جا چکا تھا۔

ایف بی آئی ایجنٹس نے دستاویزات میں لکھا کہ رچرڈ کان، جو سنہ 2005 سے ایپسٹین کے اکاؤنٹنٹ اور بُک کیپر تھے، نے بنگلے کے عملے کو ہدایت دی تھی کہ وہ دو سوٹ کیسوں میں تجوری کا سامان بھریں اور انھیں ان کے گھر پہنچا دیں۔

ایف بی آئی کی طرف سے کان کے اُس وقت کے وکیل سے بات چیت کے بعد کان اس بات پر راضی ہو گئے کہ وہ سوٹ کیس بغیر چھیڑ چھاڑ کے سرکاری اہکاروں کے حوالے کر دیں گے لیکن وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ ایجنٹس اُن کے گھر آئیں اور انھوں نے یہ بتانے سے بھی انکار کر دیا کہ انھیں یہ سامان ہٹانے کا حکم کس نے دیا تھا۔

تاہم ایپسٹین کے خلاف تحقیقات سے آگاہ ایک ذرائع نے ہمیں بتایا کہ ان کے علم میں یہ بات نہیں کہ کبھی کان سے جنسی مجرم ایسپٹین کے خلاف تحقیقات کے دوران تفتیش یا پوچھ گچھ کی گئی ہو۔

کان کے موجودہ وکیل نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ان کے مؤکل نے ایف بی آئی کے ساتھ مکمل تعاون کیا تھا۔

US Department of Justiceکان نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ انھیں تجوری سے یہ سامان ہٹانے کا حکم کس نے دیا تھا

کان اور ایپسٹین کے لیے طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے وکیل ڈیرن انڈائیک ایپسٹین کی جائیداد کے واحد منتظم ہیں، جو ان کی تمام دولت اور املاک پر اختیار رکھتے ہیں۔

یہ دونوں ہی کوئی مشہور نام نہیں لیکن وہ متاثرین کو ادا کیے جانے والے معاوضے اور دیگر خفیہ معلومات تک اختیار رکھتے ہیں، جو اب بھی ایپسٹین کی دستاویزات میں موجود ہیں۔ اس کا ذریعہ وہ معلومات ہیں جو ہاؤس اوور سائٹ کمیٹی کو فراہم کی گئی تھیں۔

ایپسٹین کے نیٹ ورک کے خلاف تحقیقات کے سلسلے میں کانگریشنل کمیٹی نے ان دونوں افراد کو طلب کیا۔ کان کو بدھ 11 مارچ اور انڈائیک کو جمعرات 19 مارچ کو کمیٹی کے سامنے پیش ہونا ہے۔

ہم نے ایپسٹین کے خلاف تحقیقات میں شامل افراد سے بات کی، متعدد عدالتوں کے مقدمات کی دستاویزات کا جائزہ لیا اور امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے ایپسٹین فائلز میں جاری کیا گیا تازہ ترین مواد کا تجزیہ کیا تاکہ یہ جان سکیں کہ ان دونوں افراد نے ایپسٹین کی زندگی میں اور ان کی موت کے بعد بھی مبینہ طور پر کیا کردار ادا کیا اور اب کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایپسٹین بچوں کی سیکس ٹریفکنگ سے متعلق ایک مقدمے میں سماعت کا انتظار کر رہے تھے اور انھوں نے اپنی موت سے صرف دو روز قبل انڈائیک اور کان کو اپنی جائیداد اور دولت کا مشترکہ منتظم مقرر کیا تھا۔ انھوں نے اپنی وصیت میں ترمیم کر کے اپنی تمام دولت ایک ایسے ٹرسٹ میں منتقل کر دی جس کا نام ان کے سالِ پیدائش پر رکھا گیا تھا اور جس کی نگرانی و انتظام یہ وکیل اور اکاؤنٹنٹ کریں گے۔

بطور منتظم انڈائیک اور کان نے متاثرین کو ادا کیے جانے والے معاوضے کے پیکج پر اتفاق کیا اور اُن شرائط کو شامل کیا جن کے تحت یہ رقوم قبول کرنے والے متاثرین اُن دونوں کے خلاف مزید قانونی کارروائی نہیں کر سکتے۔

ٹرسٹ کے منتظمین کی حیثیت سے یہ دونوں افراد تمام دعوے نمٹ جانے کے بعد بچ جانے والی رقم میں سے کروڑوں ڈالر بھی حاصل کر سکیں گے۔

ایپسٹین کی جائیداد کی اصل مالیت ابھی تک واضح نہیں تاہم متاثرین کی نمائندگی کرنے والی لا فرم ایڈورڈز ہینڈرسن کے مطابق ایپسٹین کی موت کے وقت ان کی جائیداد کی مالیت کا اندازہ تقریباً 635 ملین ڈالر لگایا گیا تھا۔

ایپسٹین کی جانب سے استحصال کا نشانہ بننے والی ایک خاتون نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ انڈائیک اور کان کو اس بارے میں جواب دینا چاہیے کہ وہ ایپسٹین کی ’سرگرمیوں‘ کے بارے میں کیا جانتے تھے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’جیفری بھی ایک انسان تھا، ایسا ممکن ہی نہیں کہ وہ یہ سب کچھ اکیلا کر سکے۔‘

’ہم ہمیشہ ہی کہتے ہیں کہ پیسے کا پیچھا کرو، ہے ناں؟ اگر آپ اس پیسے کا پیچھا کریں گے تو آپ کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ یہ سرگرمیاں کیسے کی جاتی تھیں۔‘

عدالتی دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا کہ انڈائیک اور کان یا اکثر دونوں کو ایپسٹین کے تقریباً تمام بینک اکاؤنٹس کے دستخطی اختیارات حاصل تھے، جس کا مطلب یہ تھا کہ انھیں مالی لین دین کی منظوری دینے کی بھی اجازت تھی۔

وہ ایپسٹین کی متعدد کارپوریشنز کو چلانے میں بھی مدد کرتے تھے۔ عدالتی دستاویزات میں الزام عائد کیا گیا کہ ان میں سے کچھ کارپوریشنز صرف سیکس ٹریفکنگ آپریشنز کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔

کان کے وکیل نے ہمیشہ بتایا کہ ’دعوؤں کی کوئی بنیاد نہیں‘ کیونکہ ایپسٹین کے کاروبار ان کی سرگرمیاں چھپانے کے لیے نہیں کھڑے کیے گئے تھے بلکہ ’تمام ہی اثاثوں کے ٹیکس فائل کیے گئے تھے اور ان کی ملکیت کو کبھی بھی نہیں چھپایا گیا۔‘

عدالتی میں جمع کروائی گئی دستاویزات کے مطابق کان اور انڈائیک کو ایپسٹین کی طرف سے مبینہ طور پر کروڑوں کا قرضہ ملا، جس سے متاثرین کو معاوضہ دیا گیا اور یہاں تک بیرون ملک سے لائی گئی خواتین کی زبردستی شادیاں بھی کروائی گئیں تاکہ انھیں امریکہ میں رہنے کی اجازت مل سکے۔

ایک مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سابق برطانوی سوشلائٹ اور ایپسٹین کی سزا یافتہ ساتھی گِزلین میکسل کے علاوہ کوئی بھی شخص انڈائیک اور کان کی طرح ایپسٹین کی سرگرمیوں کے لیے ناگزیر نہیں تھا اور نہ ہی مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔

رکنِ کانگرس اور اوور سائٹ کمیٹی کے ممبر سہاس سبرامنیم نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’ایپسٹین نے اپنے معاملات کس طرح چلائے اس بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے وہ دونوں شاید سب سے مناسب افراد ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’متاثرین نے ذکر کیا کہ ان افراد کو ایپسٹین کے جرائم کا علم تھا، صرف مالی معاملات کا ہی نہیں بلکہ سیکس کے لیے سمگلنگ کا بھی۔‘

انڈائیک اور کان نے ایپسٹین کے ساتھ اپنے تعلقات کے دوران کوئی بھی غلط کام کرنے کی تردید کی اور انھیں کسی قانونی الزام کا بھی سامنا نہیں۔

انڈائیک کے وکیل ڈینیئل وینر نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’کہیں پر بھی کسی بھی عدالت نے اب تک یہ نہیں کہا کہ انڈائیک اور کان نے کوئی غلط کام کیا۔‘

وکیل نے مزید کہا کہ ’کسی بھی خاتون نے کبھی ان دونوں افراد پر جنسی استحصال کرنے کا الزام نہیں عائد کیا اور نہ ہی یہ دعویٰ کیا کہ انھوں نے ایپسٹین کے خلاف الزامات ان کے گوش گزار کیے تھے۔‘

ایپسٹین کی طرف سے استحصال کا نشانہ بننے والی ایک خاتون نے ہمیں بتایا کہ وہ کانگرس کی کمیٹی میں ان افراد کی حاضری کا خیرمقدم کرتی ہیں کہ کیونکہ متاثرین ’طویل عرصے سے چیخ چیخ کر ان کا نام لے رہے تھے۔‘

’انھیں سب چیزوں کا حساب دینا ہوگا۔ میں امید کرتی ہوں کہ وہ پانچویں ترمیم کا سہارا نہیں لیں گے اور خاموش نہیں بیٹھیں گے کیونکہ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔‘

انڈائیک کے وکیل کے مطابق ایپسٹین کی جائیداد کے مشترکہ منتظمین کے طور پر انڈائیک اور کان نے ہاؤس اوور سائٹ کمیٹی کو ’ہزاروں صفحات پر مشتمل دستاویزات، تصاویر اور دیگر مواد‘ بھی فراہم کیا۔

لیکن کچھ اشیا، جن میں ایپسٹین کی سالگرہ کے پیغامات کی کتاب، مشترکہ منتظمین کی جانب سے پہلے سے کی گئی چھان پھٹک کے بعد فراہم کی گئی ہیں، جن کے بارے میں انڈائیک اور کان کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ متاثرین کی شناخت کے تحفظ کے لیے کیا گیا تھا۔

غلاف کعبہ: مذہب اسلام کے مقدس ترین مقام سے ’کسوہ‘ کے ٹکڑے جیفری ایپسٹین کو بھیجنے کا تنازع’میرے عرب چچا‘: ایپسٹین فائلز میں قطر اور اسرائیل کو قریب لانے کی کوششوں کا احوالترکی میں ایپسٹین کی ’مساج گرل‘: ڈی پی ورلڈ کے سربراہ کا استعفیٰ اور بدنام زمانہ جنسی مجرم سے مبینہ روابط کی کہانیجنسی مجرم جیفری ایپسٹین گرفتاری سے قبل مراکش میں ’بن النخیل‘ نامی محل کیوں خریدنا چاہتے تھے؟دولت کے رکھوالے

کان صرف ایپسٹین کے اکاؤنٹنٹ نہیں تھے۔ کمپنی کے کاغذات کے مطابق 2010 کی دہائی میں وہ نیویارک کی ایک ڈیزائن کمپنی کے مینیجر کے طور پر بھی کردار ادا کرتے تھے۔

تاہم عدالت میں جمع کروائے گئے دستاویزات میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہ کمپنی ایسی متعدد کمپنیوں کے ایک پیچیدہ جال کا حصہ تھی جو ایپسٹین نے متاثرین کو معاوضہ دینے اور خواتین کو استحصال کے لیے بھرتی کرنے والے افراد کو پیسے دینے کے لیے بنائی تھیں۔

یہ تفصیلات ورجن آئی لینڈ میں ایک مقدمے کے سلسلے میں جمع کروائی گئی مسخ شدہ دستاویزات سے حاصل ہوئی ہیں۔ یہ مقدمہ ’انسانی سمگلنگ اور مالی بدعنوانی‘ کی بنیاد پر ایپسٹین، انڈائیک اور کان کے خلاف دائر کی گیا تھا۔

یہ کیس سنہ 2022 میں اس وقت اختتام کو پہنچا جب ایپسٹین کی اسٹیٹ نے 105 ملین ڈالر رقم دینے اور ایک نجی جزیرے کی فروخت سے حاصل ہونے والی آدھی رقم دینے پر اتفاق کیا تھا۔

عدالتی دستاویزات میں الزام عائد کیا گیا کہ انڈائیک اور کان ایپسٹین کے 140 بینک اکاؤنٹس کا انتظام سنبھالنے میں بھی مدد فراہم کرتے تھے۔

US Department of Justiceعدالتی دستاویزات میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ انڈائیک اور کان نے امریکی ورجن آئی لینڈ میں رجسٹرڈ ایک کمپنی کا تین لاکھ ڈالر کے چیک کاٹنے کے لیے استعمال کیا

عدالتی دستاویزات کے مطابق ڈیزائن کمپنی کے ایک بینک اکاؤنٹ میں آنے والی تمام رقم ایپسٹین کے ذاتی اکاؤنٹس سے منتقل کی گئی تھی۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ دستاویزات پر ڈیزائن کمپنی کی مالک ایک خاتون تھی، جن کا ایپسٹین نے جنسی استحصال کیا تھا اور جنھیں پیسے اسی کمپنی کے ذریعے ملتے تھے۔

عدالت میں جمع کروائی گئی دستاویزات کے مطابق بینک کو دی گئی کچھ دستاویزت میں کان کا نام بھی بطور کمپنی کے ڈیزائنز موجود تھا لیکن مقدمے میں دعویٰ کیا گیا کہ کان کی جانب سے سامنے آنے والی ایک اور دستاویز سے پتا چلتا کہ وہ خاتون ایک بالکل غیر متعلقہ پیشے سے وابستہ تھیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی کے پاس انھیں تنخواہ دینے کی کوئی جائز وجہ نہیں تھی۔

کان کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل کے خلاف غیر قانونی یا خلافِ ضابطہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے دعوؤں کی کوئی بنیاد نہیں۔

ڈین رزمنا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کان ایپسٹین کے لیے اسی قسم کی اکاؤنٹنگ اور بُک کیپنگ کا کام کرتے تھے جو ہزاروں پیشہ ور افراد روزانہ اپنے مؤکلوں کے لیے کرتے ہیں۔‘

عدالتی دستاویزات میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ انڈائیک اور کان نے امریکی ورجن آئی لینڈ میں رجسٹرڈ ایک کمپنی کا تین لاکھ ڈالر کے چیک کاٹنے کے لیے استعمال کیا، جو کہ ایک نوجوان خاتون اور ایک امیگریشن کا کام کرنے وکیل کو دیے گئے تھے جو خواتین کو امریکہ میں قیام کے لیے مدد فراہم کرتے تھے۔

ڈین کہتے ہیں کہ کان نے ’ایپسٹین کی ایما پر کسی نوجوان خاتون یا وکیل کو چیک نہیں دیے کیونکہ ان کے پاس ایپسٹین کی موت سے کچھ دیر پہلے تک دستخط کرنے کے اختیارات نہیں تھے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ایپسٹین کے کارپوریٹ ادارے جائز کاروباری مقاصد کے لیے کام کرتے تھے، جیسے گھریلو عملے کی ملازمت، کسی مخصوص اثاثے سے متعلق اخراجات کی ادائیگی، خیراتی عطیات دینا اور یہ یقینی بنانا کہ ٹیکس مناسب طریقے سے ادا کیے جائیں۔‘

امریکی ورجن آئی لینڈ کی عدالت میں جمع کروائی گئی دستاویزات میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ انڈائیک نے سزا یافتہ جنسی مجرم کو فنڈز فراہم کرنے کے لیے متعدد مرتبہ پیسے نکالے، وہ بھی ایسے طریقے سے جس سے انھیں بینک کو آگاہ نہ کرنا پڑے۔

ایسپٹین نے جن خواتین کا جنسی استحصال کیا وہ کہتی ہیں کہ سزایافتہ جنسی مجرم انھیں اور دیگر متاثرین کو بھرتی کرنے والے افراد کو نقد رقم دیتا تھا۔

عدالتی دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا کہ ایک موقع پر انڈائیک دو چیک لے کر نیویارک کے ایک بینک گئے تاکہ نقد رقم نکال سکیں، جن میں سے 7,500 ڈالر ایپسٹین کے ایک ذاتی اکاؤنٹ سے اور 4,000 ڈالر انڈائیک کے کاروباری اکاؤنٹ سے نکلوائے گئے تھے۔

انھوں نے ایک چیک کو کیش کروایا اور دستاویزات کے مطابق کہا کہ وہ اگلے روز دوسرا چیک کیش کروانے واپس آئیں گے تاکہ ’تمام کاغذی کارروائی سے بچا جا سکے۔‘

عدالتی دستاویزات کے مطابق دو برس کے دوران انڈائیک نے ایپسٹین کے ایک اور ذاتی اکاؤنٹ کا استعمال کرتے ہوئے 45 مرتبہ چیک کیش کروائے اور ہر بار 7,500 ڈالر نکلوائے، جو بینک کی تیسرے فریق کی جانب سے نکلوائی جانے والی رقم کی مقررہ حد تھی۔

مقدمے میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ایک سال سے کم عرصے میں 97 مرتبہ 1,000 ڈالر ایک اے ٹی ایم سے نکالے گئے، جو انڈائیک کے لا فرم کے دفتر سے چند قدم کے فاصلے پر واقع ہے۔

لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ رقم کس نے نکالی تھی۔

مقدمے میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ انڈائیک اور کان نے ایپسٹین سے تعلقات کی سبب نمایاں مالی فائدہ اٹھایا۔ ورجن آئی لینڈز کے مقدمے کی غیر سنسر شدہ عدالتی دستاویزات کے مطابق سنہ 2011 سے 2019 کے درمیان ایپسٹین اور اس کی کمپنیوں نے انڈائیک کو 16 ملین ڈالر اور کان کو 10 ملین ڈالر ادا کیے۔

اس میں وہ قرضے بھی شامل ہیں جن کے بارے میں ایپسٹین کی وصیت میں کہا گیا تھا کہ انھیں ’معاف‘ کر دیا جائے، یعنی یہ قرضے منسوخ تصور کیے جائیں۔

دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا کہ ’یہ رقوم اس بات کا مزید ثبوت ہیں کہ وہ دونوں افراد (انڈائیک اور کان) جس کام میں ملوث تھے، اس کی نوعیت جائز نہیں تھی۔‘

انڈائیک کے وکیل ڈینیئل کہتے ہیں کہ ’انڈائیک اور کان ان تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہیں، جن میں کسی بھی قسم کی غلطی، ذمہ داری، بدعنوانی یا نقصان کے الزامات شامل ہیں۔‘

ایپسٹین فائلز میں شامل ایک دستاویز، جو بچوں کے ساتھ جنسی جرائم کے مجرم کی وصیت معلوم ہوتی ہے، میں لکھا ہے کہ انڈائیک اور کان بطور منتظمین ہر سال 250,000 ڈالر کے معاوضے کے بھی حقدار ہیں اور ان کی قانونی فیس بھی ان کی اسٹیٹ ہی برداشت کرے گی۔

لیکن کان کے وکیل نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’وصیت میں یہ درج ہے کہ جائیداد کے انتظام کے بدلے ہر ایک کو صرف ایک مرتبہ 250,000 ڈالر کی ادائیگی کی جائے گی۔‘

انڈائیک کے وکیل کہتے ہیں کہ منتظمین نے ’کبھی ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جس میں ان کے ذاتی مفادات کو مشترکہ منتظمین کے طور پر اپنی ذمہ داریوں پر فوقیت دی گئی ہو۔ وہ اب بھی جائیداد کا انتظام متعلقہ قوانین کے مطابق انجام دے رہے ہیں۔‘

زبردستی شادیاں

ایپسٹین بیرون ملک سے سمگل کر کے لائی گئی خواتین کی کسی امریکی شہری سے شادی کرنے کی حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے۔

ورجن آئی لینڈ کی عدالت میں دائر مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سنہ 2008 میں فلوریڈا میں ایک نابالغ کو جسم فروشی کی طرف راغب کرنے کا الزام ثابت ہونے اور سزا کے بعد ایپسٹین نے مشرقی یورپ سے خواتین بلوانے اور ان کا استحصال کرنے پر توجہ مرکوز کی، وہ خواتین جو ’تنہا تھیں، کسی پر انحصار کرتی تھیں یا کمزرو‘ تھیں۔

مارچ 2013 میں ایپسٹین نے ایک نامعلوم خاتون کو کی گئی ایک ای میل میں لکھا کہ ’وقت آ گیا ہے کہ آپ امریکہ میں کوئی گرل فرینڈ تلاش کر لیں۔ ہم جنس شادی گرین کارڈ حاصل کرنے کا سب سے تیز ذریعہ ہے۔‘

اسی سال ایک اور نامعلوم خاتون نے ایپسٹین کو ایک ای میل کی کہ ’ہم اب اپنا شادی کا لائسنس حاصل کرنے جا رہے ہیں، وہ پوچھ رہی ہے کہ کیا آپ سے ملاقات ممکن ہے؟ کیونکہ اس کے کچھ سوالات ہیں۔‘

بی بی سی نے ان دونوں خواتین کی شادی کا لائسنس دیکھا، ان میں سے ایک خاتون بعد میں سامنے آئی تھیں اور کہا تھا کہ ان کا بھی استحصال کیا گیا۔

یہ مقدمہ فریقین کے درمیان سیٹل ہو گیا تھا۔ اس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ انڈائیک اور کان نے ’جان بوجھ کر‘ امریکی اور غیر ملکی متاثرین کی شادیاں کروانے میں ’سہولت‘ فراہم کی تھی، یہ وہ لوگ تھے جنھیں ملک چھوڑنے کی کوشش پر ایپسٹین کے ٹریفکنگ آپریشن کی جانب سے ’ساکھ اور جسمانی نقصان کی‘ دھمکیاں دی تھیں۔

عدالت میں جمع کروائی گئی دستاویزات میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ انڈائیک اور کان نے قانونی اور اکاؤنٹنگ کے امور نبھا کر ایک ’ایسا فراڈ یقینی بنایا جو متاثرین کو ایپسٹین سے مزید جوڑ دے‘ اور انھیں متاثرین کو کنٹرول کرنے اور جنسی طور پراستحصال کرنے میں مدد دے۔

US Department of Justiceایک مقدمے میں الزام ہے کہ ایپسٹین کی سزا یافتہ ساتھی گِزلین میکسل کے علاوہ کوئی بھی شخص انڈائیک اور کان کی طرح ایپسٹین کی سرگرمیوں کے لیے ناگزیر نہیں تھا اور نہ ہی مرکزی حیثیت رکھتا تھا

عدالتی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ ایک امریکی خاتون، جن کا ایپسٹین نے بار بار استحصال کیا تھا اور جنھیں ان کے کاروباری ساتھی کے ساتھ سیکس پر مجبور کیا گیا تھا، کی زبردستی شادی کروائی گئی، جس میں انڈائیک نے مدد دی تھی۔

دستاویزات کے مطابق مقصد یہ تھا کہ مقدمے سے منسلک ایک اور خاتون کو امریکہ سے ڈی پورٹ ہونے سے روکا جائے اور امریکی ورجن آئی لینڈز کے اٹارنی جنرل نے الزام لگایا تھا کہ انڈائیک اور نیویارک کے ایک امیگریشن وکیل نے فوری طور پر اس کی امریکی امیگریشن حکام کے ساتھ ہونے والے انٹرویو کی تیاری میں مدد کرنا شروع کر دی تھی۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق کان نے امیگریشن کی کارروائی کے لیے ایک لیٹر آف ریفرنس فراہم کیا تھا۔ جب خاتون نے شادی ختم کرنے اور رخصت ہونے کی بات کی تو دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ انڈائیک نے اسے بار بار طلاق سے روکنے کی کوشش کی اور متنبہ کیا کہ اس صورت میں اسے ایپسٹین کے ساتھیوں کی حفاظت حاصل نہیں رہے گی۔

کان کے وکیل نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ان کے مؤکل کا خیال تھا کہ وہ اس کی مدد کر رہے ہیں، نہ کہ کسی جعلی عمل میں حصہ لے رہے ہیں اور خاتون اور ان کے ساتھی نے خط فراہم کرنے پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔ انڈائیک کے وکیل نے شادی سے متعلق الزامات پر کوئی خاص تبصرہ نہیں کیا۔

ایپسٹین اپنی مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے ایک دہائی سے زیادہ کے عرصے سے بین الااقوامی شہ سرخیوں میں ہیں لیکن اس کے باوجود بھی انڈائیک اور کان کے وکلا ان دونوں کے خلاف ’جان بوجھ کر خواتین کے استحصال اور سمگلنگ میں ایپسٹین کو مدد دینے‘ کے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

جائیداد کا انتظام

سنہ 2020 میں انڈائیک اور کان نے بطور مشترکہ منتظمین جیفری ایپسٹین وکٹم کمپنسیشن پروگرام (ای سی وی پی) پر اتفاق کیا، جس کے تحت متاثرین کو اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کے بدلے مالی انصاف طلب کرنے کا موقع ملا۔ ای سی وی پی کے مطابق خواتین کے دعوؤں کو ’ایپسٹین کی اسٹیٹ کی کسی بھی مداخلت سے محفوظ رکھنے‘ کے لیے ایک آزاد منتظم مقرر کیا گیا۔

مالی انصاف کے دعوؤں کی تعداد توقع سے دو گنا سے بھی زیادہ تھی۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق 136 خواتین کو ایپسٹین کی جائیداد سے مجموعی طور پر 121 ملین ڈالر کی ادائیگیاں کی گئیں۔ مزید 59 دعوے، جو دیگر متاثرین کی جانب سے تھے، 48 ملین ڈالر کی مجموعی رقم میں طے ہوئے۔

عدالتی دستاویزات میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ انڈائیک اور کان نے جائیداد سے فنڈز جاری کرنے کی منظوری دی تاکہ ’دیگر شریک ملزمان‘ کی قانونی فیس اور اخراجات ادا کیے جا سکیں۔

تاہم انڈائیک اور کان دونوں اس کی تردید کرتے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایپسٹین کے کسی بھی شریکِ کار‘ کی قانونی فیس ادا نہیں کی گئی۔

گذشتہ مہینے عدالت میں جمع کروائی گئی دستاویزات کے مطابق ایپسٹین کی اسٹیٹ نے ان متاثرین کو 35 ملین ڈالر ادا کیے تھے، جنھوں نے اس سے قبل کمپنسیشن پروگرام سے اتفاق نہیں کیا تھا اور انڈائیک اور کان پر مقدمہ دائر کر کے الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے ایپسٹین کو سیکس ٹریفکنگ میں سہولت فراہم کی تھی اور ’قانون کی پاسداری کے اوپر پیسے کو فوقیت دی تھی۔‘

کیپیٹل ہِل پر ان کی طے شدہ پیشیوں سے قبل انڈائیک کے وکیل کا کہنا ہے کہ ’انڈائیک اور کان مکمل طور پر ارادہ رکھتے ہیں کہ وہ (ہاؤس اوور سائٹ) کمیٹی کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھیں اور وہ اس بارے میں حقائق واضح کرنے کے منتظر ہیں کہ ایپسٹین کی بدعنوانی میں ان کی کوئی شمولیت نہیں تھی۔‘

اسی دوران ایک نامعلوم متاثرہ خاتون نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’جب اتنی بڑی رقوم کی بات ہو رہی ہو، تو کیا یہ پیسہ صحیح کام کرنے کی خواہش اور اس کی ضرورت پر حاوی ہو جاتا ہے؟‘

’مجھے اس سوال کا جواب نہیں معلوم اور یہ وہ بات ہے جس کا اخلاقی جواب انھیں خود ڈھونڈنا ہے۔ میں امید کرتی ہوں کہ وہ صحیح قدم اٹھائیں گے۔‘

اس خبر کے لیے اضافی رپورٹنگ پال میئرز نے کی ہے۔

’کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ شیطان ہیں؟‘ ایپسٹین سے سوالنئی ’ایپسٹین فائلز‘ اور مودی سے کانگریس کے تین سوال: ایلون مسک کی بے تابی اور بل گیٹس کی مبینہ بیماری، دستاویزات میں کیا کچھ ہے؟جنسی مجرم جیفری ایپسٹین گرفتاری سے قبل مراکش میں ’بن النخیل‘ نامی محل کیوں خریدنا چاہتے تھے؟ترکی میں ایپسٹین کی ’مساج گرل‘: ڈی پی ورلڈ کے سربراہ کا استعفیٰ اور بدنام زمانہ جنسی مجرم سے مبینہ روابط کی کہانیغلاف کعبہ: مذہب اسلام کے مقدس ترین مقام سے ’کسوہ‘ کے ٹکڑے جیفری ایپسٹین کو بھیجنے کا تنازعرومانوی مشوروں سے مالیاتی مدد تک: امیر اور طاقتور لوگ سزا یافتہ مجرم ایپسٹین کو انکار کیوں نہیں کر پاتے تھے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More