ایران کے رہبرِ اعلیٰ کا عہدہ کیا ہے اور اس کا انتخاب کیسے ہوتا ہے؟

بی بی سی اردو  |  Mar 01, 2026

Getty Images

جمعے کو تہران پر امریکی و اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والے ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای ملک کی سب سے طاقتور شخصیت تھے۔

ایران کے آئین میں رہبر اعلیٰ کا عہدہ سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد آیت اللہ خمینی کی قیادت میں تخلیق کیا گیا تھا اور وہ تین دسمبر 1979 کو ملک کے پہلے رہبرِ اعلیٰ مقرر ہوئے تھے۔

آیت اللہ خمینی ساڑھے نو برس تک اس عہدے پر فائز رہے اور 1989 میں ان کی وفات کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کو ملک کا دوسرا رہبرِ اعلیٰ چنا گیا اور وہ 28 فروری 2026 کو اپنی موت تک ساڑھے 36 برس یہ ذمہ داری نبھاتے رہے۔

Getty Imagesمجلسِ رہبری اور رہبر اعلیٰ کا انتخاب

ایران میں 88 علما کا ایک ادارہ جسے 'مجلسِ رہبری' کہا جاتا ہے رہبر اعلیٰ کا انتخاب کرتا ہے۔ ہر آٹھ سال بعد ایران کے لاکھوں شہری اس ادارے کے اراکین کو منتخب کرتے ہیں۔ آخری بار ایسا سنہ 2016 میں ہوا تھا۔

لیکن مجلسِ رہبری کے کسی امیدوار کو پہلے شوریٰ نگہبان نامی کمیٹی کی منظوری درکار ہوتی ہے جس کے اراکین کا انتخاب بالواسطہ یا بلاواسطہ موجودہ رہبر اعلیٰ کرتے ہیں۔

یہ ظاہر ہے کہ سپریم لیڈر کا اثر و رسوخ شوریٰ نگہبان اور مجلسِ رہبری پر بھی ہوتا ہے۔ گذشتہ تین دہائیوں کے دوران آیت اللہ علی خامنہ ای نے ان کمیٹیوں میں قدامت پسند اکثریت کو یقینی بنایا تھا۔

ایران اس وقت دنیا میں اہل تشیع آبادی کی اکثریت والا سب سے طاقتور ملک ہے اور ملک کے آئین کے مطابق سپریم لیڈر صرف ایک آیت اللہ بن سکتا ہے، جو اہل تشیع کا مذہبی رہنما ہوتا ہے۔

تاہم جب علی خامنہ ای کا انتخاب ہوا تھا تو وہ آیت اللہ نہیں تھے۔ اس سلسلے میں قانون بدلے گئے تھے تاکہ وہ یہ عہدہ سنبھال سکیں۔

Getty Imagesایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کون ہیں اور اُن کا خاندان کتنا بااثر ہے؟’تہران وہی کر رہا ہے جس کا اس نے وعدہ کیا‘: ایران مشرق وسطیٰ کے ممالک پر میزائل حملوں سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟’تہران وہی کر رہا ہے جس کا اس نے وعدہ کیا‘: ایران مشرق وسطیٰ کے ممالک پر میزائل حملوں سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟’وار آف چوائس‘:امریکہ اور اسرائیل ایک ’موقع‘ دیکھ رہے ہیں جسے وہ ہاتھ سے نہیں جانے دیں گےرہبرِ اعلیٰ کے عہدے کی اہمیت

ایران کے آئین کے آرٹیکل 57 کے مطابق 'اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کے تین ادارے ہیں، مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ۔ اور یہ تینوں ادارے ولایت امر اور امت کی رہبریت کی نگرانی میں آئین کی مختلف شقوں کے مطابق کام کرتے ہیں۔'

اگرچہ ایران کی سیاست میں تنوّع ہے لیکن ملکی سلامتی اور انقلاب اسلامی کے وجود کو پہلے دن ہی سے مبینہ خطرات کے خدشات کی وجہ سے رہبر اعلیٰ کا منصب عوامی اور سیاسی تحریکوں کا محور بنا رہا ہے۔

حالانکہ آئین میں رہبر کی بھی نگرانی کی گنجائش موجود ہے اور اختلافِ رائے بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن رہبر کو انقلاب اسلامی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور اس کی مخالفت کو انقلاب سے بغاوت تصور کیا جاتا ہے۔

ایرانی آئین کے آرٹیکل 91 کے تحت رہبرِ اعلیٰ 'شوریٰ نگہبان' کے 12 میں سے 6 ارکان کو نامزد کرتے ہیں اور آرٹیکل 157 کے تحت چیف جسٹس کا تقرر بھی کرتا ہے۔

آرٹیکل 110 اسےاختیار دیتا ہے کہ وہ 'مجمع تشخیص مصلحت نظام' سے مشاورت کر کے ایران کی عمومی حکمت عملی تشکیل دے۔ اس کے علاوہ حکومت کے پورے نظام کی نگرانی کرے۔

ریفرنڈم کرانے کا اختیار بھی رہبر کے پاس ہے۔ وہی پاسدارانِ انقلاب سمیت ایران کی تمام مسلح افواج کے سربراہوں کی تقرری کرتا ہے اور صرف رہبر ہی اعلان جنگ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

صدر مملکت کے انتخابات کے بعد کامیاب امیدوار کا تقررنامہ بھی رہبر کی جانب سے جاری کیا جاتا ہے۔ رہبر کے پاس صدر کو برطرف کرنے کا بھی اختیار ہے لیکن یہ تبھی ممکن ہے اگر چیف جسٹس صدر کو کسی جرم کا مرتکب پائے یا پارلیمان نے صدر کو آرٹیکل 89 کے مطابق نا اہل قرار دے دیا ہو۔

اگر حکومت کے مختلف اداروں کے درمیان اختلاف پیدا ہوجائے تو رہبر سے رجوع کیا جاتا ہے۔ تاہم آئین کی تشریح کے لیے 'شورایٰ نگہبان' سے رجوع کیا جاتا ہے۔ ایران کے سرکاری براڈکاسٹنگ کے ادارے کا سربراہ بنانے کا اختیار بھی ان کے پاس ہے۔ رہبر عدلیہ سے سزا پانے والوں کو معاف کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ رہبر اپنے اختیارات کسی اور کو بھی تفویض کر سکتا ہے۔

آئین کے آرٹیکل 60 کے مطابق، انتظامیہ کے تمام اختیارات صدر اپنے وزارا کی مدد کے ساتھ استعمال کرنے کا حق رکھتا ہے سوائے ان انتظامی اختیارات کے جو آئین نے رہبر کے لیے مخصوص کیے ہیں۔ تاہم عملاً ایسا ہوتا رہا ہے کہ رہبر مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کے اختیارات صدر کو تفویض کردیتا ہے۔

Getty Imagesرہبر اعلیٰ اور ایران کی مسلح افواج

ایران کی مسلح افواج میں سپاہِ پاسداران انقلاب، اور اس کے بری، بحری اور فضائیہ کے دستوں کے علاوہ القدس نامی سٹریٹجک فورس بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایران کی روایتی مسلح افواج بھی جنھیں 'ارتشِ ایران' (مسلح افواجِ ایران) کہا جاتا ہے وہ بھی ایران کی کی کل فوجی طاقت کا حصہ ہیں۔ ان تمام مسلح افواج کے سپریم کمانڈر رہبرِ اعلیٰ ہیں اور وہی ان کے سربراہو ں کا تقرر کرتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ ایران میں رضاکاروں کی تعداد ایک کروڑ سے بھی زیادہ ہے جسے 'بسیج' کہا جاتا ہے۔ اس کے قیام کا اعلان آیت اللہ خمینی نے کیا تھا اور اس کا مقصد 'انقلابِ اسلامی کو محفوظ بنانا تھا'۔ یہ 'نیروی مقاومت بسیج' کے نام سے بھی جانی جاتی ہے لیکن اس کا سرکاری نام 'سازمان بسیج مستضعفین' ہے۔

ابتدا میں تو یہ ایک آزاد ادارہ تھا لیکن بعد میں اسے پاسدارن انقلاب کا حصہ بنا دیا گیا۔ اس کے سربراہ کی تقرری بھی رہبر کرتے ہیں۔ بسیج کی انتظامیہ کا ایک سٹاف ہے جسے ریاستی ملازم کے طور پر تنخواہ ملتی ہے لیکن اس کے عام رضاکار بغیر تنخواہ کے کام کرتے ہیں۔‎

Getty Imagesآیت اللہ علی خامنہ ای کا جانشین کون ہو سکتا ہے؟

علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد یہ سب سے اہم سوال ہے کہ ان کا جانشین کسے مقرر کیا جائے گا۔

علی خامنہ ای اپنے پیشرو امام خمینی کی طرح اپنے حامیوں کے علاوہ زیادہ وسیع پیمانے پر اتحاد قائم نہیں کر سکے تھے لیکن انھیں ایرانی فورس پاسداران انقلاب کے اہم کمانڈرز کی حمایت حاصل رہی۔

اس لیے قومی امکان ہے کہ ملک کے نئے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب میں بھی پاسداران انقلاب کی قیادت کا اثر شامل رہ سکتا ہے۔

علی خامنہ ای کی زندگی میں بعض لوگوں کا خیال تھا کہ ان کے نزدیک دو امیدوار اہم تھے جن میں ان کے بیٹے مجتبی خامنہ ای اور عدلیہ کے سربراہ ابراہیم رئیسی شامل تھے۔ ان میں سے ابراہیم رئیسی 2024 میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کون ہیں اور اُن کا خاندان کتنا بااثر ہے؟’تہران وہی کر رہا ہے جس کا اس نے وعدہ کیا‘: ایران مشرق وسطیٰ کے ممالک پر میزائل حملوں سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟’وار آف چوائس‘:امریکہ اور اسرائیل ایک ’موقع‘ دیکھ رہے ہیں جسے وہ ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے’400 سیکنڈ میں تل ابیب‘: عالمی پابندیوں کے باوجود ایران نے ’اسرائیل تک پہنچنے والے‘ ہائپرسونک میزائل کیسے بنائے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More