مشین گنز، خنجر اور سنائپر رائفلیں: وہ ہتھیار جو ایران میں احتجاجی مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد کے قتل میں استعمال ہوئے

بی بی سی اردو  |  Feb 10, 2026

Mamlekateتصدیق شدہ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے خلاف ہتھیار استعمال کیے

انتباہ: اس خبر میں تشدد کی ہولناک تفصیلات شامل ہیں جو بعض قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔

بی بی سی فارسی نے ایران میں حالیہ احتجاج کے دوران لی گئی سینکڑوں ویڈیوز اور تصاویر کا جائزہ لیا، جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز نے مشین گنز، سنائپر رائفلوں اور بندوقوں سمیت مختلف قسم کے ہتھیار استعمال کیے۔

جن 200 سے زیادہ شہروں میں احتجاج کیا گیا وہاں مظاہرین کو قتل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ اگرچہ ہلاکتوں کی درست تعداد واضح نہیں لیکن تصاویر، عینی شاہدین کے بیانات اور انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا کی رپورٹس میں جس درجے کی سفاکیت اور مہلک ہتھیاروں کا استعمال نظر آتا ہے اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ملک بھر میں ہزاروں مظاہرین مار دیے گئے ہیں۔

یہ مظاہرے معاشی مسائل کی وجہ سے شروع ہوئے تھے لیکن بعد میں شدت اختیار کر گئے۔ ان مظاہروں کو کچلنے کے لیے جس سطح کا تشدد کیا گیا وہ جدید ایرانی تاریخ میں پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔

پیام اخوان ایرانی نژاد کینیڈین شہری ہیں اور ہیگ میں قائم بین الاقوامی کرمنل کورٹ میں اقوام متحدہ کے وکیل استغاثہ رہے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ ’موجودہ زمانے کی ایرانی تاریخ میں یہ سب سے بڑی اجتماعی ہلاکتیں ہیں۔‘

ایرانی حکومت نے ان ہلاکتوں کا الزام ’فسادیوں اور دہشت گردوں‘ پر عائد کیا ہے۔

لیکن بی بی سی فارسی کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے خلاف مختلف قسم کے ہتھیار استعمال کیے۔ ان میں شامل ہیں:

مشین گنزسنائپر رائفلیںخود کار ہتھیاربندوقیں (شاٹ گنز)پستولیںچَھروں والی بندوقیںآنسو گیسٹوکے (خنجر سے مشابہت رکھنے والا بڑی جسامت کا تیز دھار ہتھیار)چاقولاٹھیاںڈنڈےنشانہ لگانے اور اندھا کرنے کے لیے سبز رنگ کی لیزرمشین گنزVahid Online / Fars News Agencyبی بی سی نیوز فارسی نے تہران کے صادقیہ چوک کی تصاویر کا پاسداران انقلاب کی تصاویر سے موازنہ کیا

تہران، اصفہان، یزدان شہر اور شہسوار جیسے شہروں کی ویڈیوز میں نظر آتا ہے کہ فوجی ٹرکوں پر بھاری اور درمیانی درجے کی مشین گنز نصب تھیں۔ بی بی سیفارسی نے ان ویڈیوز کی تصدیق کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ان مشین گنز کو ہجوم کا محاصرہ کرنے اور اس پر قابو پانے کے لیے استعمال کیا۔

واحد آن لائن ٹیلی گرام چینل نے آٹھ جنوری کی رات تہران کے صادقیہ چوک میں ایک سیاہ پک اپ ٹرک کی دو تصاویر شیئر کیں جس کے عقب میں مشین گن نصب تھیں۔

بی بی سی فارسی نے ان تصاویر کا موازنہ ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی فارس کی جانب سے شائع کردہ سنہ 2025 کی فوجی پریڈ کی تصاویر سے کیا۔ ان تصاویر میں نظر آنے والے پاسداران انقلاب کے پک اپ ٹرک اور ان پر نصب ہتھیار بھی ایسے ہی تھے۔

دفاعی انٹیلی جنس کمیٹی جینز سے تعلق رکھنے والے اسلحے کے ماہر امائل کوٹلارسکی نے اس ہتھیار کی شناخت ڈی ایس ایچ کے ایم ماڈل کے طور پر کی ہے، جو ایران میں لائسنس کے تحت تیار کیا جاتا ہے۔

Iran Internationalیزدان‌ شہر کے احتجاج کی ایک ویڈیو میں پک اپ ٹرک کے پچھلے حصے پر نصب مشین گن کے دہانے سے نکلتی چمک واضح نظر آتی ہے

ایران کے بین الاقوامی ٹیلی وژن نیٹ ورک نے نو جنوری کو یزدان شہر میں ہونے والے احتجاج کی ایک ویڈیو دکھائی۔ اس ویڈیو میں واضح نظر آتا ہے کہ مظاہرین پر مشین گن سے مسلسل فائرنگ کی جا رہی ہے۔ ویڈیو میں 46 ویں سیکنڈ پر بندوق کے دہانے سے نکلنے والی آگ نظر آتی ہے۔

تھیمز ویلی گنز ایک برطانوی کمپنی ہے جو عسکری اسلحے کا ماہرانہ تجزیہ کرتی ہے۔ اس کے نمائندے نے بھی بی بی سی فارسی کو بتایا کہ احتجاج کی ویڈیوز میں ڈی ایس ایچ کے مشین گنز سے لیس گاڑیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔

Mamlekateتصدیق شدہ ویڈیو میں ایک شخص کلاشنکوف اے کے 47 کی گولیوں کے خول دکھاتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے یہ مظاہرین پر فائر کیے

تصدیق شدہ ایک ویڈیو میں ایک شخص کلاشنکوف سے چلائے گئے دو خالی کارتوس اور ایک بڑا خالی خول دکھاتے ہوئے بتا رہا ہے کہ انھیں سکیورٹی فورسز نے تہران کے بہشت چوک میں مظاہرین پر برسایا۔

تھیمز ویلی گنز نے تصدیق کی کہ بڑا سیاہ خول ایسے خود کار ہتھیار کا ہے جسے فوجی آلات کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے اور اس پر موجود نشانات تصدیق کرتے ہیں کہ اسے چلایا گیا تھا۔

نمائندے نے بتایا کہ اس قسم کا گولہ بارود ’عمارتوں، گاڑیوں اور بکتر بند گاڑیوں جیسے مضبوط اہداف‘ کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

نمائندے نے کہا: ’یہ انسانوں کے خلاف استعمال کے لیے نہیں بنایا گیا۔ اس سے کسی انسان پر حملہ کیا گیا تو نتیجہ تباہ کن ہو گا۔‘

سنائپر رائفلیںObtained by BBC News Persianمشہد کی ایک ویڈیو جس کی بی بی سی فارسی نے تصدیق کی ہے

عینی شاہدین نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ جنوری کے احتجاج کے دوران سنائپر رائفلیں بڑے پیمانے پر استعمال کی گئیں اور تصدیق شدہ ویڈیوز سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے۔

بی بی سی فارسی نے شمال مشرقی شہر مشہد میں نو جنوری کو احتجاج کی ایک ویڈیو کی بھی تصدیق کی ہے۔ اس میں نظر آتا ہے کہ ہوٹل کی چھت پر دو افراد موجود ہیں۔ انھوں نے ویسا ہی سیاہ لباس پہن رکھا ہے جو پاسداران انقلاب سمیت دیگر سکیورٹی اداروں کے اہلکار بھی پہنتے ہیں۔

ایک شخص کے ساتھ ڈریگنوف سنائپر رائفل (ایس وی ڈی) دیوار کے سہارے رکھی ہے۔

ایران کے سرکاری ٹیلی وژن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں فرانزک ماہر نے تصدیق کی کہ مظاہرین کو سنائپرز نے قتل کیا۔ مغربی صوبے کردستان کے علاقے سقنز سے تعلق رکھنے والے ابراہیم پوراحمدیان آٹھ جنوری کو تہران میں ایک عمارت کی نگہبانی کر رہے تھے۔ ان کے رشتہ دار نے بی بی سیفارسی کو بتایا کہ ایک سنائپر نے ابراہیم کے سر میں گولی مار دی، وہ بھی ان کے بچے کے سامنے۔

’آپریشن بوٹ‘: جب امریکہ اور برطانیہ نے ایرانی حکومت کا تختہ الٹ دیاایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کون ہیں اور ان کا خاندان کتنا بااثر ہے؟’شیر اور سورج کو ہٹایا جائے‘: خمینی کی طرف سے ممنوعہ قرار دیا گیا جھنڈا جو ایرانی مظاہرین نے تھام لیاٹرمپ کے شکرگزار اور بادشاہت کی بحالی کے حامی: جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی کون ہیں؟

بی بی سی فارسی نے ابراہیم کی لاش کی تصاویر حاصل کی ہیں۔ ان سے بھی تصدیق ہوتی ہے کہ پیشانی کے وسط میں گولی کا ایک ہی نشان تھا۔

تھمیز ویلی گنز کے نمائندے نے وضاحت کی کہ کسی اونچے مقام پر چھپا ہوا سنائپر گولی چلائے تو لوگوں پر کیا نفسیاتی اثرات ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’غیر تربیت یافتہ شہریوں پر اس کا شدید اثر ہوتا ہے۔ زیادہ تر کو تو سمجھ ہی نہیں آتی کہ دور موجود ایک خطرہ جو نظر بھی نہیں آ رہا، اس پر رد عمل دینا کیا ہے۔ یہی خوف ہجوم میں پڑے پیمانے پر گھبراہٹ کو جنم دیتا ہے۔‘

کلاشنکوفBBCسڑکوں سے کلاشنکوف طرز کی رائفل میں استعمال ہونے والی گولیوں کے خالی خول ملے

کلاشنکوف ایسا ہتھیار ہے جو ایران میں تمام فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو جاری کیا جاتا ہے۔ بی بی سی فارسی نے کئی ویڈیوز کا تجزیہ کیا، جن میں پولیس اور پاسداران انقلاب کے اہلکاروں کو اے کے 47 کلاشنکوف اور اس کا ایرانی ساختہ کے ایل ماڈل استعمال کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

شمالی شہر امول سے سامنے آنے والی نو جنوری کی ایک ویڈیو میں نظر آتا ہے کہ سکیورٹی افسر مظاہرین کی طرف کلاشنکوف تان کر گولیاں برسا رہا ہے۔ بی بی سی فارسی نے سڑکوں سے ملنے والے خولوں کی خصوصی تصاویر حاصل کیں اور ان کا تجزیہ کیا۔ کوٹلارسکی نے تصدیق کی کہ یہ وہی 7.62x39 ملی میٹر گولیاں تھیں جو کلاشنکوف طرز کی رائفلوں میں استعمال ہوتی ہیں۔

شاٹ گنزVahid Onlineسات جنوری کی ابادان کی تصدیق شدہ فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران پولیس اہلکار سڑکوں پر بندوقوں کے ساتھ تعینات تھے

بی بی سی فارسی کی تحقیقات سے شاٹ گنز کے وسیع پیمانے پر استعمال کی بھی تصدیق ہوتی ہے۔

مغربی شہروں لوردیگان اور ابادان سے یکم اور سات جنوری کی دو تصدیق شدہ ویڈیوز میں نظر آتا ہے کہ احتجاج کے دوران ہاتھوں میں شاٹ گنز لیے پولیس اہلکار سڑکوں پر تعینات ہیں۔ کوٹلارسکی نے ان ویڈیوز میں متعدد ماڈلز کی شناخت کی، جن میں ایرانی ساختہ شاٹ گن بھی شامل ہے۔

Obtained by BBC News Persianسی ٹی سکین تصویر میں مشہد میں مظاہرہ کرنے والے ایک شخص کی دائیں آنکھ کے اندر پیوست دھاتی چَھرا واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ یہ خصوصی تصویر بی بی سی نیوز فارسی نے حاصل کی

جنوری میں شاٹ گنز کے وسیع استعمال کے نتیجے میں متعدد مظاہرین ہلاک ہوئے اور ہزاروں نہیں تو سینکڑوں کی آنکھوں پر مستقل زخم آئے۔ سنہ 2022 میں ’عورت، زندگی، آزادی‘ کے عنوان سے ہوئے مظاہروں میں بھی یہی دیکھا گیا۔

آنکھوں کے ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر غاصم فخرائی نے ایرانی طلبہ کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی کو بتایا کہ نو اور 10 جنوری کے درمیان تقریباً ایک ہزار مظاہرین تو آنکھوں کے اسپتال میں لائے گئے، دھاتی چھروں سے ان کی آنکھیں پھٹ گئی تھیں اور انھیں فوری سرجری کی ضرورت تھی۔

بی بی سی نیوز فارسی نے مشہد کے زخمی مظاہرین کے سی ٹی سکینز اور طبی ریکارڈ حاصل کیے ہیں۔ ایک میں واضح طور پر دھاتی چھرا آنکھ کے ٹشو میں پیوست نظر آتا ہے۔

پستولیں

کرمان شاہ سے آٹھ جنوری کی دو ویڈیوز میں سادہ لباس سکیورٹی اہلکار دو قسم کے پستولیں تھامے دیکھے جا سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بریٹا کے ماڈل 50 یا سی زیڈ 75 سے مشابہت رکھتی ہیں۔

ٹوکےVahid Onlineآٹھ جنوری کی تہران کی سی سی ٹی وی فوٹیج۔ سادہ لباس سکیورٹی اہلکار مظاہرہ کرنے والی خاتون پر ٹوکے سے حملہ کر رہا ہے

متعدد مظاہرین نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ ان پر چاقوؤں اور ٹوکوں (خنجر سے مشابہت رکھنے والا بڑی جسامت کا تیز دھار ہتھیار) سے حملہ کیا گیا۔ بی بی سی فارسی نے لاشوں کی جو تصاویر حاصل کیں ان میں بھی گولیوں کے ساتھ ساتھ ٹوکوں سے لگائے گئے زخم نظر آتے ہیں۔

تہران سے سامنے آنے والی ایک سی سی ٹی وی فوٹیج میں صاف نظر آتا ہے کہ سادہ لباس اہلکار رہائشی عمارت میں پناہ لینے والے افراد پر ٹوکوں سے حملہ کر رہے ہیں۔

دارالحکومت کی ایک اور ویڈیو آٹھ جنوری کی ہے۔ اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سادہ لباس پہنے اہلکار مظاہرہ کرنے والی ایک خاتون کے سر پر ٹوکے سے وار کر رہا ہے۔ اس دوران کئی سکیورٹی اہلکار فوجی وردیوں میں بھی نظر آتے ہیں۔

ڈنڈے

بی بی سی نیوز فارسی نے کریک ڈاؤن میں بچ جانے والوں کے انٹرویوز کیے اور ویڈیوز سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ لوگوں کو ڈنڈوں سے مارا گیا۔

بی بی سی فارسی نے تصدیق کی ہے کہ مظاہرہ کرنے والے ایک شخص ساغر سیف الٰہی فارس ڈنڈوں کے وار سے ہلاک ہو ئے تھے۔

ایک اور شخص علی طاہر خانی کو پہلے گولی ماری گئی لیکن ان کی موت گولی کے زخم سے نہیں ہوئی بلکہ بعد میں ڈنڈوں اور بندوق کے بٹوں کی ضربوں سے ہلاک ہوئے۔

خون آلود چہرے اور ناقابل شناخت لاشیں: ایران میں ہلاک ہونے والے سینکڑوں مظاہرین کی تصاویر میں بی بی سی نے کیا دیکھا؟’بیانیے کی جنگ‘: ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ’250‘ مساجد کیوں نذرِ آتش کی گئیں؟انقلاب ایران اور دو ہنگامہ خیز ہفتوں کی کہانی: آیت اللہ خمینی کے امریکہ سے خفیہ روابط اور ’وعدوں‘ کی روداد’مظاہرین کے پاس ایم فور رائفل، واکی ٹاکیز بھی تھیں‘: پاکستان آنے والے افراد نے ایران میں کیا دیکھا؟نہتے مظاہرین پر ’سیدھی فائرنگ‘: ایران میں سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کا آنکھوں دیکھا حال
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More