’سیکس کرنسی‘: بچوں کی پیدائش کے بعد میاں، بیوی ایک دوسرے سے محبت کیسے قائم رکھ سکتے ہیں؟

بی بی سی اردو  |  Feb 10, 2026

Getty Imagesابتدائی برس عام طور پر نئے والدین کے لیے سب سے مشکل ہوتے ہیں

ریبیکا گذشتہ دس برسوں سے اپنے شوہر کے ساتھ رہ رہی ہیں لیکن پچھلے تین سالوں میں تین بچوں کی پیدائش کے بعد وہ ان سے ’دور‘ ہوگئی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہم صرف ساتھ رہ رہے ہیں، ہم ایک جوڑا نہیں ہیں بلکہ صرف والدین ہیں۔‘

متعدد دیگر والدین کی طرح ان دونوں کو بھی ساتھ وقت گزارنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

ریبیکا کہتی ہیں کہ ’ہمارے بچے بہت چھوٹے ہیں اور بہت توجہ کے طالب رہتے ہیں اور ایسے میں پانچ منٹ نکالنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ دن ختم ہونے تک ہم دونوں ہی بہت تھک چکے ہوتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ان کا اپنے شوہر کے ساتھ رشتہ اس وقت تبدیل ہوا جب ان کے گھر پہلے بچے کی پیدائش ہوئی۔

’جب ہم نے پہلے بچے کی منصوبہ بندی کی تو ہمیں معلوم تھا کہ ہماری زندگی میں تبدیلی آئے گی لیکن ہم نے اس معاملے کی سنگینی کو نہیں سمجھا اور ہمیں امید نہ تھی کہ اتنا سب کچھ تبدیل ہو جائے گا۔‘

ریبیکا کے لیے صورتحال اس لیے بھی مشکل تھی کہ وہ پہلے مستقل ملازمت کیا کرتی تھیں اور اب صرف ایک ماں بن کر رہ گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں اکثر اپنے شوہر کے ساتھ اپنے جذبات شیئر کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔

’ان (شوہر) کی زندگی اب بھی ان ہی کی زندگی ہے۔ انھیں نظر آتا ہے کہ گھر پر میرے لیے صورتحال کتنی مشکل ہے، انھیں معلوم ہے کہ اس سے ہمارا رشتہ متاثر ہو رہا ہے لیکن وہ اس پر کبھی بات نہیں کرتے۔ ‘

Getty Imagesکیٹ موئل کہتی ہیں کہ والدین بننے کے بعد رشتوں میں تبدیلی آنا بالکل معمول کی بات ہے

سائیکوسیکچوئل اور ریلیشن شپ تھراپسٹ کیٹ موئل کہتی ہیں کہ والدین بننے کے بعد رشتوں میں تبدیلی آنا بالکل معمول کی بات ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’کوئی بھی چیز آپ کو والدین بننے کے لیے تیار نہیں کر سکتی۔ آپ سوچتے ہیں کہ آپ ایک جوڑے کے طور پر ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں اور پھر اچانک وہ سب کچھ جو آپ سمجھتے تھے کہ آپ کسی کے بارے میں جانتے ہیں، ختم ہو جاتا ہے۔‘

’میں 13 برس کی عمر میں حاملہ تھی لیکن اس شخص سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی‘سیکس میں کمی اور بات چیت سے گریز: کیا آپ کا رشتہ بھی آپ کو تھکا رہا ہے؟’رومانوی تعلق کے بغیر جنسی آزادی کی اجازت‘: اوپن ریلیشن شپ جس نے ایک ڈاکٹر کی زندگی بدل دیجب 30 سیکنڈ کی ویڈیو نے نئے نویلے جوڑے کی شادی کی خوشی کو میمز میں بدل دیا

ابتدائی برس عام طور پر نئے والدین کے لیے سب سے زیادہ مشکل ہوتے ہیں اور مطالعات ظاہر کرتے ہیں کہ بچے کی پیدائش کے بعد پہلے تین سالوں میں رشتوں میں عدم اطمینان اکثر سب سے زیادہ ہوتا ہے۔

کیٹ کہتی ہیں کہ اپنے رشتے کو بہتر بنانے کے لیے تبدیلیاں کرنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ بچوں کی پیدائش سے پہلے کی زندگی کو واپس لایا جائے، بلکہ اس کا مقصد خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھالنا ہونا چاہیے۔

’زندگی دوبارہ پھر کبھی ویسی نہیں ہوگی جیسی کہ پہلی تھی لیکن اب ہمیں اس کے بارے میں ایک نئے انداز سے سوچنا چاہیے۔‘

گلے لگنے اور بوسوں کے لیے وقت نکالیں

کیٹی مشورہ دیتی ہیں کہ چھوٹی چھوٹی باتوں کے بارے میں سوچیں جیسے آنکھوں کا ملنا یا لمس، جو آپ دن کے دوران ایک ساتھ وقت گزارتے ہوئے کر سکتے ہیں تاکہ آپ کو دوبارہ محسوس ہو کہ آپ ایک جوڑا ہیں۔

’ہم اپنی دنیا میں اسے ’سیکس کرنسی‘ کہتے ہیں، جس کا مطلب ہے ایک دوسرے کا ہاتھ دبانا، گلے لگانا، بوسہ دینا یا کوئی بھی چیز جو آپ کو ایک دوسرے سے جُڑا ہوا محسوس کروائے۔‘

’اور جب ہمیں ایسے مواقع ملیں تو باقی سب کام کچھ چھوڑ دیں اور صرف اسی کو ترجیح دیں۔‘

کیٹ کہتی ہیں کہ ایسے چھوٹے چھوٹے اقدامات آپ کے رومانوی رشتے کو بہتر بنانے میں بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ایک بوسہ یا ایک لمس کبھی کبھار رشتے کو مضبوط کرنے کے لیے کسی پُل کا کام کر سکتا ہے۔

جذبات کا کھل کر اظہار کریں

کیٹ یہ بھی تجویز کرتی ہیں کہ کسی پُرسکون لمحے میں ایمانداری سے یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ ہمارا رشتہ کس طرح چل رہا ہے۔

’یہ توجہ ہی وہ چیز ہے جس کی ہمیں اکثر کمی محسوس ہوتی ہے۔ ہم خود کو الگ سا محسوس کرتے ہیں اور پھر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارا ساتھی بھی الگ محسوس کرتا ہے اور یوں ہمارے درمیان ایک خلا پیدا ہو جاتا ہے۔‘

کیٹ کہتی ہیں کہ دوستیوں اور خاندانوں کی طرح آپ کو اپنے رشتے کی بھی مسلسل پرورش کرنی چاہیے، ایسا نہ ہو کہ آغاز میں آپ اس پر بہت توجہ دیتے ہوں اور بعد میں یہ توجہ بالکل غائب ہو جائے۔

بچوں کی عدم موجودگی میں ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزاریں

ریلیشن شپ کوچ اور مصنف سیم اوون کہتی ہیں کہ بچوں کی پیدائش کے بعد ’اکثر دوبارہ ایک دوسرے کو جاننے کی ضرورت‘ ہوتی ہے اور اس کے بعد اکیلے باہر جانا اور بچوں کے علاوہ دیگر موضوعات پر بات کرنا مدد گار ثابت ہوسکتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ آپ مساج ڈیٹس پر جا سکتے ہیں، کسی ہوٹل میں قیام کر سکتے ہیں جہاں بچوں کی دیکھ بھال کی سہولت ہو، کوئی کھیل کھیل سکتے ہیں یا پھر ساتھ مل کر مزیدار سا کھانا بھی بنا سکتے ہیں۔

’یہ کوششیں عادات میں تبدیل ہو جاتی ہیں اور پھر یہ آپ کے رشتے کا مستقل حصہ بن جاتی ہیں۔‘

سیم کے مطابق جسمانی قربت بھی اہم چیز ہے۔

’یہ ایک ایسی گوند ہے جو آپ کے رشتے کو جوڑے رکھتی ہیں، اس سے آپ کے درمیان بات چیت بہتر ہوتی ہیں اور تنازعات میں کمی آتی ہے۔‘

Getty Imagesریلیشن شپ کوچ اور مصنف سیم اوون کہتے ہیں کہ بچوں کی پیدائس کے بعد 'اکثر دوبارہ ایک دوسرے کو جاننے کی ضرورت' ہوتی ہے

سی بیبیز پیرنٹنگ ہیلپ لائن سے اپنے رشتے کے بارے میں بات کرنے کے بعد ربیکا کہتی ہیں کہ وہ اور ان کے شوہر نے اپنے رشتے کو بہتر بنانے کے لیے کئی مختلف چیزیں کی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ اب وہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ مل کر کھانا کھائیں اور وہ بھی فون استعمال کیے بغیر اور ان کے مطابق اس سے بات چیت زیادہ آسانی سے اور بغیر کسی خلل کے جاری رہتی ہے۔

وہ اس بات کو بھی یقینی بناتے ہیں بچوں کے سونے ک بعد انھیں تنہائی میں کچھ وقت میسر آئے اور اکثر وہ کوئی فلم یا ٹی وی دیکھتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ اب انھیں ساتھ آرام کرنے کے لیے وقت مل جاتا ہے۔

ریبیکا کہتی ہیں کہ ’رشتوں پر محنت کرنی پڑتی ہے۔ اگر آپ دونوں ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو آپ ہمیشہ ایک دوسرے تک واپس پہنچنے کا راستہ ڈھونڈ لیں گے۔ مشکل بات چیت سے نہ گھبرائیں اور مضبوطی سے اپنے رشتے میں قائم رہیں۔‘

’خاموش رہ کر میں اُس کی اے ٹی ایم مشین بن گئی‘: مصر میں شوہر اپنی شریک حیات کو نجی تصاویر کے ذریعے کیوں بلیک میل کر رہے ہیں؟طالبان کی قید میں خفیہ فون کالز، جن کی بدولت مسلمان لڑکے اور یہودی لڑکی کی محبت زندہ رہی’لِونگ اپارٹ ٹوگیدر‘: کیا شادی شدہ افراد ایک دوسرے سے دور رہ کر بھی اچھی ازدواجی زندگی گزار سکتے ہیں؟ساس اور داماد کے ’ناجائز‘ تعلق کی کہانی جو ایک وائرل فلم بن گئیبیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ: جب چار سال بعد شادی کی تقریب میں موجود اجنبی کی شناخت ہوئیکینیڈا کا جھانسہ دے کر مبینہ طور پر 12 نوجوانوں سے ڈیڑھ کروڑ روپے کا فراڈ: ’پیسے نہ دیے تو منگنی نہیں ہو گی، میں نے دو ایکڑ زمین بیچ دی‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More