طیارہ ساز کمپنیاں ایشیا کے انتہائی امیر افراد کو پُرتعیش جہازوں کے ذریعے کیسے اپنی جانب متوجہ کر رہی ہیں؟

بی بی سی اردو  |  Feb 10, 2026

بڑی بیضوی کھڑکیوں اور نظروں کو بھا جانے والے پروں کے ساتھ ’گلف سٹریم‘ نامی کمپنی کا ’جی 700‘ طیارہ سنگاپور میں منعقد ہونے والے ایئرشو میں حصہ لینے والے طیاروں میں سب سے دلکش نظر آ رہا تھا۔

ایشیا کے سب سے بڑے ایوی ایشن اور دفاعی تجارتی میلے میں شامل مسافر طیاروں اور فوجی جہازوں سے دور، رن وے کے ایک نسبتاً پرُسکون گوشے میں کھڑا ’جی 700‘ جیٹ حاضرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رہا تھا۔

اس ایئرشو کو دیکھنے کے لیے آنے والے افراد سخت گرمی کے باوجود اُس وقت کے منتظر تھے کہ کب اُن کی باری آئے گی اور وہ اس دلکش جہاز میں داخل ہو کر اسے اندر سے دیکھ سکیں گے۔

حاضرین کی اس پرائیوٹ جیٹ میں دلچسپی اس بات کا ثبوت تھی کہ دنیا کے نمایاں ترین پرائیویٹ جیٹ ساز اداروں کی پراڈکٹس میں میں دلچسپی بدستور برقرار ہے۔

اس جیٹ کو اندر سے دیکھنے کے منتظر افراد کی لائن انتہائی آہستگی سے آگے بڑھ رہی تھی۔ جو لوگ اندر موجود تھے وہ اس کی فروخت اور خصوصیات کی بابت عملے سے دریافت کر رہے تھے۔

جہاز کے اندر قدم رکھتے ہی اس کی کشش مزید واضح ہو جاتی ہے۔ اس کی پینورامک کھڑکیوں سے اندر آنے والی سورج کی روشنی جہاز میں موجود ہلکے رنگ کی چمڑے کی سیٹوں اور پالش شدہ فرنیچر پر منعکوس ہوتی ہے۔

یہاں موجود عملہ جہاز کے اس حصے کو ’لیونگ ایریا‘ قرار دیتا ہے جہاں ایک کیبن میں صوفے اور ٹی وی کنسول موجود ہے جبکہ طیارے کے عقبی حصے میں بیڈ روم ہے اور عملے کی جانب سے بتایا گیا کہ یہ ’گرینڈ سوئٹ ود شاور‘ ہے۔

یہ طیارہ محض عیش و عشرت کی نہیں بلکہ فضائی صنعت میں جاری ایک وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ جہاں کمرشل ایئر لائنز زیادہ سے زیادہ مسافروں کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک لے جانے کی دوڑ میں سبقت حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں، وہیں پرائیویٹ جیٹ بنانے والی کمپنیاں ایک مختصر مگر نہایت مالدار طبقے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

اور اعداد و شمار اس رجحان کی توثیق کرتے ہیں۔ ایوی ایشن انٹیلیجنس کمپنی ’ونگ ایکس‘ کے مطابق سنہ 2025 میں دنیا بھر میں پرائیویٹ طیاروں نے تقریباً 37 لاکھ پروازیں کیں، جو سنہ 2024 کے مقابلے میں پانچ فیصد زیادہ اور کورونا کی عالمی وبا سے پہلے کے دور سے 35 فیصد زیادہ ہیں۔

اسی عرصے میں دنیا بھر میں انتہائی مالدار افراد (ایسے افراد جن کی مجموعی دولت کی مالیت تین کروڑ ڈالر سے زائد ہے) کی تعداد میں بھی 70 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

گلف سٹریم کے سربراہ برائے گوبل سیلز (عالمی فروخت) سکاٹ نیل کے مطابق ’ہم دیکھ رہے ہیں کہ بڑی کمپنیاں اور مالدار افراد نجی طیاروں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اب بہت سی کمپنیاں عالمی سطح پر کاروبار کر رہی ہیں اور ان کمپنیوں کے نمائندوں کو دنیا کے مختلف حصوں کا سفر کرنا پڑتا ہے، جس کا سب سے مؤثر طریقہ بزنس ایئرکرافٹ ہے۔‘

Getty Imagesفرانس کی ڈیسو ایوی ایشن، جو اپنے فوجی جہازوں کے لیے مشہور ہے، اب اپنے فالکن بزنس جیٹس کے پروگرام کو فروغ دے رہی ہے

پرائیوٹ طیارے بنانے والی کمپنی ’گلف سٹریم‘ اس معاملے میں تنہا نہیں۔ ’ڈیسو‘، ’بمبارڈیئر‘، ’ایمبریئر‘ اور ٹیکسٹرون ایوی ایشن وغیرہ نامی بڑی کمپنیاں سبھی اس میدان میں مقابلہ کر رہی ہیں۔ تاہم ماحولیاتی خدشات کے باعث پرائیوٹ طیارے استعمال کرنے کے بڑھتے رجحان پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔

طیارہ ساز کمپنیاں اس موقع کو بڑے کاروباری امکان کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ کمرشل ایئر لائنز عموماً نہایت کم منافع کی بنیاد پر چلتی ہیں اور ’انٹرنینشل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن‘ کے مطابق یہ منافع مجموعی اخراجات کے بعد محض دو سے چار فیصد ہوتا ہے۔

جبکہ پرائیویٹ جیٹس اگرچہ کم تعداد میں ہوتے ہیں مگر یہ انتہائی زیادہ قیمت پر فروخت ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ پرائیوٹ طیاروں کے پرزہ جات اور دیکھ بھال (مینٹیننس) بھی آمدنی کا ذریعہ ہیں۔

فرانس کی ڈیسو ایوی ایشن، جو اپنے فوجی جہازوں کے لیے مشہور ہے، اب اپنے فالکن بزنس جیٹس کے پروگرام کو فروغ دے رہی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ جنگی جہازوں کے لیے تیار کردہ ٹیکنالوجی بزنس جیٹس کی کارکردگی اور اور ان کو آرام دہ بنانے میں استعمال ہوتی ہے۔ ان کے مطابق ان کے نجی طیاروں کے بڑے خریدار کارپوریشنز، حکومتیں اور مالدار افراد ہیں۔

نجی طیاروں کی قیمت لاکھوں ڈالر ہو سکتی ہے مگر ڈیسو کمپنی کے سول ایئرکرافٹ شعبے کے سربراہ کارلوس برانا کے مطابق اتنی زیادہ قیمت کے باوجود ’بار بار سفر کرنے والے صارفین کے لیے پرائیویٹ جیٹ زیادہ سودمند ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ وہ وقت کے ساتھ فرسٹ کلاس ٹکٹوں پر زیادہ خرچ کرنے کے بجائے ایک جیٹ خرید کر کم خرچ کرتے ہیں۔‘

دنیا میں نجی جیٹ طیارے استعمال کرنے والوں کی تعداد کیوں بڑھ رہی ہے؟کیا امریکی قانون صدر ٹرمپ کو قطر کی جانب سے 40 کروڑ ڈالر کے لگژری جہاز کا تحفہ قبول کرنے کی اجازت دیتا ہے؟

اُن کے مطابق زیادہ تر پرائیوٹ جیٹس کے خریدار عیش و عشرت کے بجائے وقت بچانے اور اپنی کارکردگی بڑھانے کے نظریے کے تحت پرائیوٹ جیٹس کی خریداری کے خواہاں ہوتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میری خواہش ہے کہ میں ایک منزل سے دوسری منزل تک وقت ضائع کیے بغیر اور تیزی سے پہنچوں اور میرا وقت سٹاپ اوورز یا کنکٹنگ فلائٹس میں ضائع نہ ہو۔ اور یہی اصل چیز ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ طیارہ بنانے والی کمپنیاں اپنے صارفین کے سفر کو آرام دہ بنانے اور اس میں تھکن کم کرنے کی غرض سے نمایاں خصوصیت متعارف کروا رہی ہیں۔ بہتر کیبن پریشر، کم شور اور نفیس اندرونی ڈیزائن کے ذریعے طویل پروازوں کو کم تھکا دینے والا بنایا جا رہا ہے۔

بعض جیٹس کیبن پریشر کو زمین پر موجود دباؤ کے قریب تر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ مسافر طویل پرواز کے بعد کم تھکن محسوس کریں۔

اور نجی جیٹ طیاروں کی اس فروغ پاتی صنعت کا ایک اہم حصہ ایشیا ہے۔

الٹن ایوی ایشن کنسلٹنسی کی ایک رپورٹ، جو سنگا پور ایئرشو سے قبل جاری کی گئی ہے، کے مطابق سنہ 2025 میں ایشیا پیسیفک خطے میں بین الاقوامی فضائی ٹریفک میں آٹھ فیصد اضافہ ہوا جو عالمی سطح پر ہونے والے 6.8 فیصد اضافے سے زیادہ ہے۔

سنہ2015 کے بعد سے ایئر لائنز نے دنیا بھر میں 600 سے زائد نئے روٹس شامل کیے ہیں، جن کی بدولت دنیا کے ان حصوں تک رسائی بہتر ہوئی ہے جہاں پہلے اس نوعیت کی سہولت موجود نہیں تھی۔

گلف سٹریم سے منسلک سکاٹ نیل کے مطابق ’ایشیا، خاص طور پر جنوب مشرقی ایشیا میں اِس وقت ہم بہت مصروف ہیں۔ یہاں ہمارا مارکیٹ شیئر بڑھ رہا ہے۔ ہم اس خطے میں زیادہ نجی طیارے فروخت کر رہے ہیں، ویتنام، سنگاپور، انڈونیشیا، ملائیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ہماری سرگرمیاں نمایاں ہیں۔‘

ڈیسو کمپنی نے انڈیا، تھائی لینڈ اور لاؤس جیسے ممالک میں اپنے طیاروں کی بڑھتی ہوئی مانگ کی نشاندہی کی ہے۔ انڈونیشیا اور فلپائن جیسے ممالک میں، جہاں کئی ہوائی اڈوں پر موجود رن ویز چھوٹے ہیں، وہاں چھوٹے بزنس جیٹس اُن مقامات تک پہنچ سکتے ہیں جہاں بڑے کمرشل طیارے نہیں جا سکتے۔

چین، جو ایک وقت میں ایشیا میں سب سے بڑا پرائیویٹ جیٹس کا بیڑا رکھتا تھا، ڈیسو کے مطابق حالیہ برسوں میں یہاں فروخت سست روی کا شکار ہوئی ہے۔ تاہم کارلوس برانا کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے چینی کمپنیاں عالمی سطح پر فروغ پائیں گی، نجی جیٹس کی مانگ دوبارہ بڑھے گی کیونکہ ان بڑی عالمی کمپنیوں کو کمرشل پروازوں کے مقابلے میں تیز اور براہِ راست سفر کی ضرورت ہو گی۔

ایشیا پیسیفک خطہ بزنس جیٹس کے لیے اب بھی ترقی پذیر مارکیٹ ہے، لیکن یہ عالمی بیڑے کا بہت چھوٹا حصہ ہے۔ اس کے برعکس امریکہ تقریباً 70 فیصد عالمی بزنس ایوی ایشن مارکیٹ پر قابض ہے۔

یہ تبدیلی تنقید کا باعث بھی بنی ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ مالدار خریداروں کے ایک چھوٹے سے گروہ پر توجہ مرکوز کرنے سے بڑے پیمانے پر مارکیٹ نظرانداز ہو جاتی ہے اور اس سے کورونا وبا کے بعد سے جاری سپلائی چین کے مسائل حل نہیں ہوتے۔

اس معاملے میں ماحولیاتی خدشات بھی نمایاں ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نجی جیٹس سب سے زیادہ کاربن پیدا کرنے والے سفری ذرائع میں شمار ہوتے ہیں۔

گلف سٹریم کا کہنا ہے کہ اس کے نئے طیارے 100 فیصد پائیدار ایوی ایشن فیول پر پرواز کر سکتے ہیں، جبکہ ڈیسو فی الحال 50-50 مکسچر کی حمایت کرتا ہے۔ تاہم پائیدار ایوی ایشن فیول کی فراہمی پوری صنعت کے لیے ایک چیلنج ہے کیونکہ اس کی پیداوار محدود ہے اور یہ روایتی فیول کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگا ہے۔

طیارہ ساز کمپنیاں زور دیتی ہیں کہ نئے طیارے کہیں زیادہ ایندھن بچاتے ہیں اور بغیر رُکے طویل فاصلے طے کر سکتے ہیں، جس سے مجموعی کاربن کے اخراج میں کمی آتی ہے۔

گلف سٹریم کے نیل کے مطابق ’صرف ون جنریشن طیاروں کے ذریعے ہم نے ایندھن کی کھپت میں 35 فیصد کمی کی ہے۔ ہم پائیدار ایوی ایشن فیول کے اولین علمبرداروں میں سے ہیں اور کارکردگی و ماحولیاتی بہتری میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

اور یہ معاملہ نجی جیٹس تک محدود نہیں بلکہ کمرشل ایئر لائنز بھی اب زیادہ مالدار مسافروں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

تائیوان کی ’سٹارلکس‘، جو خود کو لگژری کیریئر قرار دیتی ہے، سستی ٹکٹوں اور مسافروں سے کھچا کھچ بھری کیبنز سے ہٹ کر ایک نئے ماڈل کی طرف بڑھ رہی ہے۔

Getty Images’سٹارلکس‘ مسافر طیارے کا اندرونی منظر

سٹارلکس نے اپنی فرسٹ کلاس، بزنس کلاس اور پریمیم اکانومی کیبنز کو وسعت دی ہے اور سنگاپور ایئر شو میں اپنی فلیگ شپ ایئربسA350 1000پر یہ اپ گریڈز پیش کیے ہیں۔

اب مسافروں کو بڑی ٹی وی سکرینز تک رسائی دی ہے جبکہ نشستیں عام طیاروں کے مقابلے میں زیادہ کشادہ اور آرام دہ ڈیزائن کی گئی ہیں۔

واضح ہے کہ نجی طیارہ ساز کمپنیاں اور کمرشل ایئر لائنز دونوں ہی سہولت، آرام اور مکمل طور پر لگژری سفر کے تجربے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

دنیا میں جیسے جیسے انتہائی مالدار افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے، اعلیٰ درجے کے فضائی سفر کی اس مانگ میں فی الحال کسی کمی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔

دنیا میں نجی جیٹ طیارے استعمال کرنے والوں کی تعداد کیوں بڑھ رہی ہے؟کیا امریکی قانون صدر ٹرمپ کو قطر کی جانب سے 40 کروڑ ڈالر کے لگژری جہاز کا تحفہ قبول کرنے کی اجازت دیتا ہے؟دبئی کی ’اونچائی‘ کا راز کیا ہے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More