’مجھے بہت شرمندگی محسوس ہوتی تھی‘: خواتین کی زیادہ بڑی چھاتیاں صحت کو کیسے متاثر کر سکتی ہیں؟

بی بی سی اردو  |  Feb 10, 2026

Raquelراکیل کہتی ہیں کہ اپنے پہلے دو بچوں کو دودھ پلانے کے بعد اُن کی چھاتی مزید بڑی ہو گئی تھی

’میں کندھے جھکا کر چلتی تھی تاکہ یہ ظاہر نہ ہو کہ میری چھاتیاں زیادہ بڑی ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ اس وقت میں کس قدر شرمندہ محسوس کرتی تھی۔‘

ارجنٹینا کی ایک یونیورسٹی کی پروفیسر راکیل نے سنہ 2010 میں اپنی چھاتیاں چھوٹی کروانے کی سرجری کروائی۔ اب 52 برس کی عمر میں وہ کہتی ہیں کہ اس فیصلے نے انھیں ایک ایسی ’آزادی کا احساس‘ دیا جو پہلے کبھی نہیں ملا تھا۔

دنیا کے کئی حصوں میں بڑی چھاتیوں کو پُرکشش سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت اکثر مختلف ہوتی ہے ۔۔ یہ خواتین کی صحت اور معیارِ زندگی کے لیے سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق بڑی چھاتیاں مختلف علامات کا باعث بن سکتی ہے جن میں دائمی کمر درد، سر درد، ناقص جسمانی ساخت، سُن ہونا، نیند میں خلل اور ذہنی صحت کے مسائل شامل ہیں۔

پُرکشش لگنے کے لیے دینا بھر میں کاسمیٹک سرجری اور ایستھیٹک پروسیجرز کا سہارا کچھ عرصے پہلے تک تو صرف سلیبرٹیز (مشہور شخصیات) لیا کرتے تھے لیکن اب یہ عام لوگوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے، جن میں پاکستانیوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔

انٹرنیشنل سوسائٹی آف ایسیتھٹک پلاسٹک سرجری کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2024 میں دنیا بھر میں چھ لاکھ 52 ہزار سے زائد خواتین نے چھاتیاں چھوٹی کروانے کی سرجری کروائی۔

سب سے زیادہ آپریشن برازیل میں ریکارڈ کیے گئے، جہاں ایک لاکھ 15 ہزار 647 خواتین نے یہ سرجری کرائی۔ اس کے بعد امریکہ کا نمبر آتا ہے جہاں67 ہزار 478 خواتین اس عمل سے گزریں۔ 38 ہزار 780 فرانسیسی اور 32 ہزار 68 جرمن خواتین نے بھی چھاتیاں چھوٹی کروانے کے لیے سرجری کرائی۔ ترکی کی 25 ہزار 334 اور انڈیا کی 22 ہزار 400 خواتین بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

BBC/Getty Imagesبعض خواتین کے لیے بڑی چھاتی روزمرہ مشکلات کا باعث بن سکتی ہے

راکیل بتاتی ہیں کہ نوعمری سے ہی اُنھیں بڑی چھاتیوں کی وجہ سے دائمی کمر درد کا سامنا رہا۔ لیکن ارجنٹینا میں بڑی چھاتی کو اکثر ایک نعمت سمجھا جاتا ہے۔

’زیادہ تر لوگ، خاص طور پر خواتین، آپ کو کہتی ہیں کہ آپ خوش قسمت ہیں۔ مگر میں خوش قسمت کہاں تھی۔ میں نے بہت تکلیف سہی ۔۔ بطور لڑکی، بطور عورت اور بطور ماں۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ آج بھی کمر درد اُنھیں اس اندازِ سے چلنے کی وجہ سے ہوتا ہے جو انھوں نے اپنے جسم کو چھپانے کے لیے اپنایا تھا۔

راکیل ایک سرگرم شخصیت تھیں، یوگا، ورزش اور جم جانے سے لطف اندوز ہوتی تھیں۔ لیکن وقت کے ساتھ بڑی چھاتیوں کا دباؤ اُنھیں ورزش سے دور لے گیا۔

برٹش ایسوسی ایشن آف ایسیتھٹک پلاسٹک سرجنز کی صدر ڈاکٹر نورا نیوجنٹ کے مطابق حرکت میں رکاوٹ اور ورزش میں مشکلات اُن عام مسائل میں شامل ہیں جو چھاتی چھوٹی کرنے کی سرجری کروانے والی خواتین بیان کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’عقلی اعتبار سے بڑی چھاتیاں بھاری ہوتی ہیں، جو جسم کو آگے کی طرف کھینچتی ہیں اور کمر و گردن پر مسلسل دباؤ ڈالتی ہے‘

ان کے مطابق ’یہ ورزش کو بھی غیر آرام دہ بنا دیتی ہے اور موزوں، سہارا دینے والی برا تلاش کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔‘

راکیل کہتی ہیں کہ انھیں اپنی چھاتیوں کو سہارا دینے کے لیے دو یا تین برا پہننے پڑتے تھے۔ اور موزوں برا تلاش کرنا اُن کے لیے اضافی مالی دباؤ بھی تھا۔

’ارجنٹینا میں بڑی چھاتیوں کے لیے بننے والی برا بہت مہنگی تھیں۔‘

’اب میں آزاد محسوس کرتی ہوں‘Raquelراکیل کہتی ہیں کہ ڈاکٹروں نے اُن کی چھاتیوں سے ڈھائی کلو وزن کم کیا

برطانیہ میں ڈاکٹر نورا نیوجنٹ کے مطابق اُن کے زیادہ تر مریضوں کی ہر چھاتی سے 500 سے 800 گرام تک وزن کم کیا جاتا ہے، اگرچہ بعض اوقات اس سے زیادہ بھی نکالا جاتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ کبھی کبھار یہ جسمانی وزن کے لحاظ سے زیادہ نہیں ہوتا، لیکن ایک چھوٹے حصے کے لیے یہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

راکیل کے معاملے میں ڈاکٹروں نے مجموعی طور پر اُن کی چھاتیوں سے ڈھائی کلو وزن نکالا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’سرجری کے بعد مجھے یاد ہے کہ جب میں نے زمین سے کوئی چیز اٹھانے کی کوشش کی تو ایسا لگا جیسے یہ ایک نیا جسم ہے۔ مجھے بے حد آزادی کا احساس ہوا۔‘

برا کیسی ہونی چاہیے؟

برطانیہ کی پروفیسر جوآنا ویک فیلڈ-سکر جب اپنے ڈاکٹر کے پاس دائمی چھاتیوں سے جڑے درد کے بارے میں علاج کے لیے گئیں تو انھیں مشورہ دیا گیا کہ ایک موزوں برا ہی کافی ہے۔

بایومکینکس کی ماہر ہونے کے ناطے انھوں نے تحقیق شروع کی کہ اچھی برا کو مؤثر بنانے والے عوامل کیا ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے احساس ہوا کہ ہمیں دراصل بہت کم معلوم ہے کہ ہمیں برا کی ضرورت کیوں ہے، اس کے فوائد کیا ہیں اور یہ کس طرح کام کرنی چاہیے۔ برا کو زیادہ تر فیشن آئٹم سمجھا گیا، نہ کہ ایک ایسا لباس جو صحت کے لیے فائدہ مند ہو۔ اس پر مجھے واقعی مایوسی ہوئی۔‘

ان کی طرف سے سنہ 2005 میں برطانیہ کی یونیورسٹی آف پورٹسماؤتھ میں بریسٹ ہیلتھ پر ایک تحقیقی گروپ قائم کرنے کے پیچھے بھی یہی محرک تھا۔

ان کی ٹیم نے چار بڑے نقصانات کی نشاندہی کی جو غلط فٹنگ برا پہننے سے ہو سکتے ہیں: درد، جلد اور ٹشوز کو نقصان، سانس لینے اور دل کی دھڑکن کے وقفے میں تبدیلی، اور جسمانی سرگرمی میں رکاوٹ۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اگر چھاتیاں بھاری ہوںتو یہ سانس لینے کے انداز کو بدل سکتی ہے، زمین پر دباؤ ڈالنے کی قوت کو متاثر کر سکتی ہے اور مجموعی طور پر جسمانی افعال پر اثر ڈالتی ہے۔‘

UEFA/UEFA via Getty Imagesیونیورسٹی آف پورٹسماؤتھ کی ٹیم نے انگلینڈ کی ویمنز فٹبال ٹیم ’لائنیسز‘ کو اُن کے لیے موزوں برا منتخب کرنے میں مدد دی

کئی برسوں کی تحقیق اور تجربات کے بعد یونیورسٹی آف پورٹسماؤتھ کی ٹیم نے یہ دریافت کیا کہ ہر طرح کی ورزش کے دوران چھاتیاں ’آٹھ کے ہندسے‘ کی شکل میں حرکت کرتی ہیں۔

ماہرین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ درد کم کرنے کی اصل کنجی حرکت کو سست کرنا ہے، نہ کہ یہ دیکھنا کہ چھاتیاں کتنی حرکت کرتی ہیں۔

اس ٹیم نے اب انگلینڈ کی ویمنز فٹبال ٹیم ’لائنیسز‘ اور دنیا کے چند بہترین گالف کھلاڑیوں سمیت اعلیٰ درجے کے ایتھلیٹس کے ساتھ کام کیا ہے تاکہ اُن کے لیے بہترین ممکنہ برا تیار کی جا سکے۔

پروفیسر ویک فیلڈ-سکر کہتی ہیں کہ ’ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایف اے اور ورلڈ رگبی جیسے ادارے خواتین ایتھلیٹس کی صحت کے منصوبوں پر سرمایہ لگا رہے ہیں اور یہ رجحان صرف پچھلے پانچ برسوں میں سامنے آیا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’یہ نسبتاً نیا رجحان ہے، لیکن یہ خوش آئند ہے کہ ہم یہ تبدیلی دیکھ رہے ہیں۔‘

ایک اچھی برا کا راز کیا ہے اور یہ آپ کی صحت کے لیے اہم کیوں ہے؟بڑھتا اعتماد یا طبی خدشات: خواتین اپنے بریسٹ امپلانٹس کیوں نکلوا رہی ہیں؟14 سالہ لڑکی کی پلاسٹک سرجری کے بعد موت اور والدین کی گرفتاری جس پر میکسیکو میں نئے خدشات جنم لے رہے ہیںخواتین میں بیضے محفوظ کروانے کا بڑھتا رجحان: ’جب میں نے والد کو اپنا فیصلہ بتایا تو وہ زور زور سے ہنسنے لگے‘’مریض اچھی زندگی گزارنا چاہتے ہیں‘

بڑی چھاتی کے بوجھ کو معاشرہ کس طرح دیکھتا اور سمجھتا ہے، یہ ایک ایسا مسئلہ تھا جس کا سامنا راکیل کو بھی کرنا پڑا۔

وہ کہتی ہیں کہ چھاتی چھوٹی کرنے کی سرجری کے بعد اُنھیں اپنے ساتھیوں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور اکثر لوگ اُن کی محرکات کو غلط سمجھتے تھے۔

ان کے مطابق ’میرا خیال ہے کہ زیادہ تر لوگوں نے اسے جمالیاتی معاملہ سمجھا، نہ کہ صحت کا مسئلہ‘۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے یاد ہے کہ جب میں نے یہ سرجری کروائی تو ایک خاتون نے کہا اب تمھیں اپنا پیٹ بھی نکلوانا چاہیے۔۔ جیسے لپوسکشن‘۔

ایسے ردِعمل کے باوجود راکیل کہتی ہیں کہ انھیں کوئی پچھتاوا نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں بہت خوش ہوں اور اب جب کہ میں مینوپاز میں ہوں، مجھے نہیں معلوم کہ بڑی چھاتیوں کے ساتھ میں کیسے زندگی گزار سکتی۔ میں اپنے آپ کو اُس جسم کے ساتھ نمٹتے ہوئے سوچ بھی نہیں سکتی‘۔

برٹش ایسوسی ایشن آف ایسیتھٹک پلاسٹک سرجنز کی صدر ڈاکٹر نورا نیوجنٹ کے مطابق چھاتی چھوٹی کرنے کی سرجری کروانے والے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ لوگ اپنی صحت اور خود نگہداشت پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یقیناً اب اس رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے، اور یہ صرف خواتین تک محدود نہیں بلکہ تمام مریض اچھی زندگی گزارنا چاہتے ہیں‘۔

’یہ لازمی طور پر کمال کی تلاش نہیں بلکہ صحت اور فلاح کی جستجو ہے‘۔

’خوبصورت‘ نظر آنے کے لیے کاسمیٹک سرجری: ’مجھے لگا تھا کہ شاید چہرے پر بال آنا کم ہو جائیں گے‘وہ کاسمیٹک سرجری جس کا استعمال عورتوں سے زیادہ مرد کر رہے ہیں’میری بھاری چھاتیاں اذیت کا باعث ہیں مگر میں انھیں کم نہیں کروا سکتی‘ بڑھتا اعتماد یا طبی خدشات: خواتین اپنے بریسٹ امپلانٹس کیوں نکلوا رہی ہیں؟’سینے سے بھاری بوجھ اُتر گیا‘: کیا چھاتی کا سائز بڑھانے والے بریسٹ امپلانٹس صحت کے لیے خطرناک ہیں؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More